تصوف اور قرآن - مدثرریاض

عموما تصوف کے بارے میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ شاید تصوف اسلام میں کوئی نیا تصور ہے یا پھر اسے بعد میں داخل کیا گیا ہے. یہاں میں قرآن حکیم کی آیات سے آپ کے سامنے تصوف کی ترکیب اور اس کا دستور العمل کو قرآن حکیم کی آیات سے آپ کے سامنے واضح کروں گا باقی فیصلہ قارئین خود کریں کہ اس الزام میں کتنی صداقت ہے.تصوف کے اجزائے ترکیبی تین ہیں.کامل توحید، تقوی اور محبت باری تعالی

1)کامل توحید
انبیاء کی پوری دعوت کا مقصد توحید باری تعالی ہے. پورا قرآن درس توحید کا سبق دیتا ہے اور تصوف کی پہلی جزو توحید باری کا مکمل اقرار ہے."وہی اول ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے" (57:3)

2) تقوی
توحید کے بعد جس بارے میں قرآن نے سب سے زیادہ تاکید کی ہے وہ تقوی ہے. آغاز قرآن میں ہی اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ کتاب ہداہت ہے متقین کے لیے. اسی طرح دوسری جگہ پر ارشاد باری ہے"بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی اور محسن ہیں. "(128:16)

3)کامل محبت
ہماری ساری عبادات، معاملات اور اخلاقیات کا مقصد خدا کی محبت اور اس کا قرب ہے. تصوف کا سارا دار و مدار خدا کی محبت ہے. ہمارا ہر عمل خدا کی محبت کے لیے ہونا چاہیے. مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور اسی بات کو اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا ہے."اور ایمان والے تو اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں"(165:2).

یہ تو تھے تصوف کے اجزائے ترکیبی اب میں تصوف کے دوستور العمل یا تزکیہ نفس کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ کیا ہمارے پاس قرآن سے ایسی دلیلیں موجود ہیں جو تصوف کے دستور العمل کو ثابت کر سکیں تو اس کی سب سے بڑی دلیل قران حکیم کی یہ آیت ہے.
" اللہ ہی کی ذات پاک ہے جس نے امیوں میں ایک عظیم رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ سناتا ہے، ان کے نفوس کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت بھی سکھاتاہے ".اس آیت میں انبیاء کی تعلیمات کے اہم پہلو تزکیہ نفس کا ذکر موجود ہے جو تصوف کا حاصل ہے. سورہ مزمل کی ابتدائی ایات میں تزکیہ نفس کا پورا دستور العمل موجود ہے.اس کے چند اہم اور بنیادی اصول مندرجہ ذیل ہیں.

1)مشائج سالکین کو یہ کہتے ہیں کہ رات کے آخری پہر اٹھو اس کا حکم "قم الیل" کھڑا رہا کر رات کو سے ماخوذ ہے.

2) تہجد پڑھو اس کا حکم سورہ مزمل میں ہے کہ رات کے حصے میں تہجد پڑھا کرو.

3)ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھنے کا حکم بھی اسی سورت میں آیت نمبر 4 میں ہے کہ "قرآن کو آہستہ آہستہ اور ٹھہر کر پڑھا کرو."

4)ذکر وفکر، مراقبہ اور اوراد بھی سورہ مزمل کی آیت نمبر 6 سے ماخوذ ہیں کیونکہ ان سب کا مقصد نفس امارہ کو مغلوب کرنا ہے."بےشک رات کا اٹھنا نفس کو کچلنے میں موثر ہےاور ذکر الہی بھی احسن طریقے سے ادا ہوتا ہے ".خدا کے ذکر کی دوسری دلیل بھی اسی سورت میں وذکراسم ربک میں ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرو.

7)سالک کو" تبتل" کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ اس کے دل میں موجود دنیا کی محبت کو کم کیا جا سکے اور خدا کے ساتھ تعلق کو مضبوط کیا جا سکے. یہ عمل آیت نمبر 8 سے ماخوذہے."اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو اور سب سے الگ ہو کر پورے کے پورے اسی کے ہو کر رہو".اسی طرح سالک کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اسی کو اپنا کارساز بناو اور مشکلات پر صبر کر کے اسی کی رضامیں راضی ہو جاو، انفاق فی سبیل اللہ کرو ان تمام اعمال کا ذکر اور حکم سورہ مزمل میں موجود ہے. الغرض تصوف اپنے مقاصد میں دین کی روح ہے.

صوفیاء نے ہر زمانے میں دین کے اخلاقی اور روحانی پہلو کو زندہ رکھا. یہ محض theoryنہیں تھی بلکہ صوفیاء نے پہلے اپنی ذات اور پھر سالکین کی تربیت کر کے اسے ثابت کیا. صوفیاء نے انسانوں کو الخلق عیال اللہ سمجھتے ہوئے تمام انسانوں کی بلا امتیاز رنگ ونسل اور قوم کے خدمت کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ تمھارا ہر کام صرف خدا کے لیے ہونا چاہیے.

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کہاں سلوک محمدی کے مسنون طریقے اور کہاں عیسائی راہبوں اور ھندو جوگیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نفس کشی اور مجاھدات کےصریحاَ غیرشرعی طریقے اپنا کر، اشراقی، رواقی، زردشتی اور ویدانتی فلسفوں کی آمیزش سے تراشے گئے کشفِ قبور، تصورِشیخ جیسے نجانے کتنے گمراہ کُن عقائد و تخیلات۔مصنف نے کمال معصومیت سے صحابہ کا حوالہ دے کر کلیسائی تصوف کو قرآن سے ثابت کرنے کی جسارت کی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */