لفظ وکیل سے موسم تک معنی کا سفر۔عبدالخالق بٹ

وکیلوں نے لاہورمیں اپنا مقدمہ برسرِمیدان لڑا اور جیت کردکھایا۔ اس مقدمے میں مدعی کا فرض،وکالت کا فریضہ اورجج کے فرائض انہوں نے خود انجام دیے۔ یوں پہلی بارہم پر’خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ‘ کا مفہوم واضح ہوا۔ نیز یہ بھی منکشف ہوا کہ جہاں عدالتی نظائر کام نہ دیں وہاں قوتِ بازوکوبطور’دلیل‘ آزمایا جاسکتا ہے۔
جواحباب ہم سے وکیلوں کی بیجا طرف داری کا شکوہ کرتے ہیں۔ان کی خدمت میں محترمہ سیدہ کوثرمنورشرقپوری کا تصرف شدہ شعرپیش ہے:
وکیلوں کی وکالت کررہا ہوں
سمجھتا ہوں جہالت کررہا ہوں
اکبرالہٰ آبادی جج رہ چکے تھے،اس لیے وکیلوں کے جذبات و نفسیات آشنا تھے۔اس واقفیت کا اظہاراکبؔر نے جس شعرمیں کیا ہے اسے خوفِ فسادِ خلق کی وجہ سے درج نہیں کیاجارہا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ وکیلوں کی عدم سے وجود میں آمد ایک ’راندۂ درگاہ‘ کے لیے مسرت کا باعث بنی اور وہ بے اختیار پکاراٹھا: ’لوآج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے‘۔
لاہورمیں ہوئی ہنگامہ آرائی کوکچھ لوگ’شرانگیزی‘ بتاتے ہیں۔ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑتے۔ ہمیں تو بس یہ معلوم ہے کہ ’شر‘ کو’شرارت‘سے نسبت ہے۔ اردو میں بہت شرارتی بچے کو ’شریر ‘اور ’شیطان‘ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کے تعلق سے جون ایلیا کا ایک شعر ملاحظہ کریں:
کمسنی میں بہت ’شریر‘تھی وہ
اب تو ’شیطان‘ ہو گئی ہو گی
شیطان عربی زبان کا لفظ ہے۔اس کی اصل لفظ ’شطن‘ ہے، جس کے معنی ’دورہونا‘ ہیں۔ بہت گہرے کنوئیں کو’بئرٌ شَطُوْنٌ‘ کہتے ہیں،وہ اس لیے کہ منڈیر سے پانی کافی دور ہوتا ہے۔اسی طرح وطن سے دوری کو ’غُربَۃٌ شَطُوْنٌ‘ کہا جاتا ہے۔ شیطان بھی اس لیے ’شیطان‘ کہلایا کہ اُس نے اللہ کا حکم نہیں مانا اوراُس کی رحمت سے دورہوگیا۔ پھر اس نافرمانی کی وجہ سے خود شیطان کے معنی میں ’شریررُوح، سرکش اور باغی‘ شامل ہوگئے۔اس نسبت سے ہر سرکش کو چاہے وہ جن ہو یا انسان ’شیطان‘ کہا جاتا ہے۔اسی سلسلے میں لفظ ’شاطن‘ بھی ہے جو ’مردِ خبیث‘ کوکہتے ہیں۔
لفظ ’شیطان‘ سے اردو میں فعل اور صفت ’شیطانی‘ بنا لیا گیا ہے۔ دیکھیے کولکتہ (انڈیا) کے ’جعفرساہنی‘ کیا کہہ گئے ہیں:
چھا گئی طوفان کے ہونٹوں پہ ’شیطانی‘ ہنسی
دیکھ کر کشتی شکستہ سی بھنور کے آس پاس
کہتے ہیں کہ ’شیطان‘ نام نہیں صفت ہے۔ اس کا اصل نام ’ابلیس‘ ہے۔ جو لفظ ’بلس‘ سے نکلا ہے۔ ’بلس‘ کے معنی ہیں مایوس ہونا، دلگیر ہونا اور حیران ہونا۔ چونکہ شیطان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا اور دلگیر رہنے لگا اس لیے اس کا نام ’ابلیس‘ ہوگیا۔اقبال کی ایک مشہور نظم کا عنوان ہے: ’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘۔ یہ نظم پڑھنے اورپڑھائے جانے کے لائق ہے۔
کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ لفظ ’شیطان‘ اور’ابلیس‘ دونوں ہی صفات ہیں۔اصل نام ’عزازیل‘ہے۔ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر ہمارا ماننا ہے کہ کردارمیں ٹیڑھ ہو تو نام’مستقیم‘ رکھنے سے بھلا نہیں ہوتا۔
قرآن کے مطابق ’شیطان‘ اپنی اصل کے اعتبار سے ’جِنّ‘ ہے۔ لفظ ’جِنّ‘ کا مادہ ’ج۔ن۔ن‘ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مادے سے بننے والے تمام الفاظ میں پوشیدگی،چھپنے اور نظرنہ آنے کا عنصر مشترک ہے۔ لفظ ’جنّ‘ ہی کو دیکھ لیں،’جنّ‘ انسانی آنکھ سے پوشیدہ رہتا ہے۔لفظ ’جنین‘ پر غورکریں۔ جنین بھی عام انسانی آںکھ سے نظر نہیں آتا۔ ایک لفظ ’جان‘ ہے جو’روح‘ کا مترادف ہے۔ یہ ’جان‘ بھی دکھائی نہیں دیتی کہ کب جان میں جان آئی اورکب جان نکل گئی۔ مجازاً محبوب کو بھی’جان‘ کہا جاتا ہے۔جون ایلیا نے ایک شعر میں ’جان‘ کو دونوں مجازی معنوں کے ساتھ برتا ہے:
جب میری جان ہوگئی ہوگی
جان حیران ہو گئی ہو گی
لفظ ’جنت‘ پرغورکریں۔ ’جنت‘ بھی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اگر’جنّ‘ کی جمع ’جِنّات‘ ہے تواس ’جنت‘ کی جمع ’جَنّات‘ ہے۔ ایک بڑے عالم اور مؤرخ ابن جریر طبری کے مطابق جِنّ اصل میں ’جَنّات‘ کی تزئین و آرائش پر مامور ہونے کی وجہ سے ’جِنّات‘ کہلائے۔ اس کےعلاوہ ایسا باغ جو سرسبز ہونے کی وجہ سے زمین کو’ڈھانپ‘ لے عربی میں اسے بھی ’جنت‘ کہتے ہیں۔
’جنت‘ کا سب سے اعلیٰ مقام ’فردوس‘ہے جوانگریزی میں پیراڈائز(paradise) ہوگیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ لہجے اورتلفظ کے اختلاف کے ساتھ ’فردوس‘ دنیا کی قدیم و جدید بہت سی زبانوں میں موجود ہے۔
’وکیل‘جنتی لوگ ہیں کہ ان کے ذکرنے ہمیں’فردوس‘تک پہنچا دیا۔ تاہم اس ساری گفتگو میں خود لفظ ’وکیل‘کا تعارف بھول گئے۔
عربی میں کسی پر بھروسہ کرنا ’تَوکُل‘ کہلاتا ہے۔ جو کام اللہ کے بھروسے پر کیے جائیں اردو میں اسے ’اللہ توکل‘ کہتے ہیں۔ایک اچھے شاعررفیق رازؔ کا کہنا ہے:
ہم فقیروں کا ’توکل‘ ہی تو سرمایہ ہے
شکوہ کس منہ سے کریں بے سروسامانی کا
اس ’توکل‘ سے ایک لفظ ’توکیل‘ ہے۔عربی زبان میں کسی پراعتماد کرکے اپنا نائب مقررکرنے کو ’اَلتَّوکِیْلُ‘ کہتے ہیں۔ پھر اسی ’توکیل‘ سے لفظ ’وکیل‘ ہے جس پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم اسے عدالت میں اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض صورتوں میں یہ ’بھروسہ‘ مہنگا پڑجاتا ہے۔
جو آدمی اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے وکیل مقررکرتا ہے اسے ’مُوَکِّل‘ کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سے ملتا جلتا ایک لفظ ’مُوَکَّل‘ بھی ہے۔ یعنی پہلے لفظ کے برخلاف اس کے ’کاف‘ پرزبر ہے اور اس کے معنی میں رکھولا،امانت دار،مُحافظ، ذمّہ داراورفرشتہ شامل ہے وہ فرشتہ جو کسی کام پر مقررہو۔ بعض نام نہاد عامل کامل’مُوَکِّل‘ قابو کرنے کے دعویٰ کرتے اور سادہ لوح لوگوں سے مال بٹورتے ہیں۔

وکیلوں کو واسطہ ’عدالت‘ سے پڑتا ہے۔ ’عدالت‘ کا تعلق ’عدل‘ سے ہے۔ دوچیزوں کے برابر ہونے اور کسی چیز کے برابربدلہ دینے کا نام ’عدل‘ ہے۔ اپنے اس مفہوم کے ساتھ ’عدل‘ لفظ ’انصاف‘ کا مترادف ہے۔ ’عدل‘ کرنے والا ’عادل‘ کہلاتا ہے جو ’منصف‘ کا ہم معنی ہے۔ پھر برابری اورتوازن کے تعلق سے لفظ ’معتدل‘ بھی ہے۔ جو موسم اورمزاج وغیرہ کے لیے بولاجاتاہے۔ شاعر ذوالفقارعادل کا کہنا ہے:
شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم
کبھی مِلو کہ اسے ’معتدل‘ بنایا جائے
ہمارا خیال ہے کہ اگر کسی ملاقات کے نتیجے میں موسم کی شدت پر قابو پایا جاسکتا ہے تو ضرور ملنا چاہیے۔
برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جسے ہم ’سین‘ کے زبر کے ساتھ ’موسَم‘ کہتے ہیں وہ عربی میں ’سین‘ کے زیر کے ساتھ ’موسِم‘ ہے۔انگریزی لفظ مون سون (monsoon)کی اصل بھی یہی ’موسم‘ ہے۔ مگر ’مون سون‘ موسمِ برسات کے ساتھ خاص ہے یہ کسی اور موسم کے لیے نہیں بولا جاتا۔
عربی میں ’موسم‘ کے درج ذیل معنی ہیں:
(1) لوگوں کا بڑا مجمع ( 2 ) سالانہ میلا ( 3 ) تہوار ( 4 ) کسی پھل کی فصل کا وقت( 5 ) کسی کا کام کا وقت یا زمانہ، جیسے شکار کا زمانہ، حج کا زمانہ۔
اپنے ان معنوں کے ساتھ ’موسم‘ انگریزی لفظ سیزن (session) کا ہم معنی ہے۔جب کہ انگریزی ویدھر (weather) کے لیے عربی میں ’الجو، الھوائ اورطقس سمیت بہت سے الفاظ آئے ہیں۔
دلچسپ بات یہ کہ عربی ’موسم‘ اردو زبان میں session اورweather دونوں معنوں میں برتا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ موسم بدلے رُت گدرائے ایک شعر ملاحظہ کریں اورہمیں اجازت دیں:
موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.