الحاج ملک الشہبازعرف میلکم ایکس - معوذ اسعد صدیقی

صرف 39 سال کئ عمر میں جام شہادت نوش کرنے والے امریکہ کے عظیم سیاہ فام مسلم رہنما میلکم ایکس کی شہادت کو آج 55 سال ہوگے ہیں . یہ وہ تھے جن کی جوانی غنڈہ گردی ۔ منشیات فروشی ،ڈکیتی اور طوائفیں کی دلالی سے شروع ہوئی.اور زندگی کا اختتام ایک عظیم رہنما۔مدبر انسانی حقوق کے چیمپین اور سب سے بڑھ کے اللہ کے ایک اطاعت گزار بہادر بندے کی حثیت سے شہادت کا تمغہ سینے پر سجا کر ہوا .

بظاہر ۲۱ فروری کو اُن کی زندگی کا باب بند ہوا مگر آج بھی وہ امریکہ کے کروڑوں افراد اور تاریخ کے صفحات میں زندہ ہیں. میلکم ایکس جس دور میں پیدا ہوئے وہ امریکہ میں نفرت تعصب اور نسل پرستی کے عروج کا دور تھا (جو آج بھی کہیں موجود ہے جس کا نتجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں نظر آتا ہے ) اس نفرت کا نشانہ ان کے ۴ چچا بنے اور بعد میں والد کا کار کے حادثے میں انتقال ہوا.جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حادثہ نہں تھا .نفرت کا نشان بنے. یہ خاندان اُس وقت اور حالات کا شکار ہوا جب میلکم تیرہ سال کے تھے ۔اُن کئ والدہ حالات کا دباو برداشت نہ کرسکئ اور اُن کا دماغی توازن قائم نہ رہا ۔ماں پاگل خانے میں چلی گئیں اور پھر پورا خاندان ادھر ُادھر تقسیم ہوا. معاشرے سے جو کچھ ملا تھا اسے معاشرے کو واپس کرتے ہوئے ایک ایسا فرد سامنے آیا جس میں ہر وہ برائی موجود تھی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔ مگر اس سے بڑھ کر اَس کو مذہیب سمیت سب سے نفرت تھی ایک خُدا اور ایک نبی (عیسی ع ص )کو مانے کے باجود سفید فام قوم سیاہ فام کو جانور سے بھی غلیظ سمجھتی تھی.

ایک ڈکیتی کے دوران پکڑے جانے والے میلکم ایکس کو جیل میں نیشن آف اسلام کی شکل میں امید کی ایک کرن نظر آئی .نیشن آف اسلام کے رہنما عالی جا محمد کی تعلیمات بہت کنفیوز اور خلاف اسلام تھی مگر سفید فام قوم سے نفرت کی بنیاد پر میلکم ایکس اس سے متاثر ہوئے . نیشنل آف اسلام کا ڈسپلن کمال کا تھا ۔ادھر سے میلم ایکس کو مذئیب سے نفرت کرتے تھے مذئیب کی طرف راغب ہوئے مگر یہ بھی نفرت کی بنیاد پر تھی ۔سفید فام کو شیطان اور خود کو افضل سمجھنا اس تنظیم کے ایمان کا حصہ تھا. جو حق کی تلاش میں ہوتا ہے ایسے حق مل کر رہتا ۔انہوں نے محسوس کیا کہ عالئ جا محمد کی تعلمات میں اور قول فعل میں بہت تضاد ہے ۔جہاں سے ان کے راستے جَدا ہونے شروع ہوا ہے. اس زمانے میں ایک احتجاج ہوا جہاں چار ہزار افراد ایک پولیس اسٹیشن پہنچے مجمع کنٹرول سے باہر ہورہا تھا ۔اس سے پہلے فساد بڑھتا میلکم میکس باہر آئے اور انہوں نے صرف ہاتھ کا اشارہ کیا اور مجمع کو سانپ سونگھ گیا ادھر سے امریکہ کئ ایجنسیوں کو اندازہ ہوا کہ یہ ایک خطرناک شخص تیار ہورہا ہے.

اور اب میلم ایکس اندرونی اور بیرونی خطرے کا شکار بن چکے تھے ۔ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی تبدیلئ حج کے موقع پر جو انہوں نے شہادت سے کچھ عرصے قبل کیا تھا . انہوں نے حج کے بعد جو گفتگو کی اُس پر ہر مسلمان کو فخر ہونا چاہیے . انہوں نے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں میں نے سفید چمڑی اور نیلے آنکھوں والے مسلمان دیکھیں جنہں اپنے رنگ و روپ پر فخر نہں تھا ہم سب ایک ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے . انہوں نے کہا کہ امریکہ کے گوروں کو مسلمانوں سے سیکھنا چاہیے . حج سے واپسی کے بعد وہ ایک عالمی رہنما بن کر آئے انہوں نے نہ صرف امریکہ کی بات کرنا چھوڑ دی بلکہ وہ دنیا بھر کے اور خاص طور پر افریقہ کے مظلوم عوام کی زبان بن گے ۔وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کی . ان کو اندازہ تھاکے اب وہ عالمی استماری قوتوں کے دشمن بن گے ہیں اور اَن کی جان کو خطرات بڑھ گے ہیں ۔کیونکہ کے وہ عیسائیت کی اس تعلمات کے خلاف تھے کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کردو . اُن کو کہنا تھا کہ دوسرا تھپڑ دشمن کے منہ پر پڑنا چاہیے .

۲۱ فروری کو ہارلم نیویارک میں ایک جلسہ عام تھا ۔نیویارک پولیس ۔FBI سمیت سب کو معلوم تھا کہ کہ اَن پر حملہ ہوگا (آج بھی لوگوں کایہ کہنا کہ حملے میں ان کا تعاون شامل تھا )اپنی موت سے آگاہ میلکم ایکس نے مقتل گاہ جاتے وقت گاڑی دو کھڑی کی اور کی بلاک پیدل چل کرائے کہ اگر شہادت ہوتو جلسہ میں کسی کو نقصان نہ مگر اللہ نے شہادت کا مقام طے کر رکھا تھا . ایک دفعہ کسی رپورٹر نے پوچھا کہ اپ کو علم ہے کہ اپ خطرے میں ہیں انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا مجھے معلوم ہے میں ایک ،مردہ (شہید )شخص ہوں. دنیا کی مختلف حکمرانوں سے دوستی کے باجود انہوں نے ہمارے لیڈروں کی طرح راہ فرار اختیار نہں کی بلکہ اپنوں کے ساتھ جینا اور مرنا طے کرلیا. ۲۱ فرروری کو دوران تقریر اُن کو ۲۲ گولیاں مار کے شہید کردیا گیا. مگر آج بھی اُن کی قبر لاکھوں کے لیے معشل راہ ہے ۔اُن کی سوانح حیات پڑھ کو اور اُن پر بنی فلم دیکھ لوگ اسلام قبول کرکے ایک بڑے خاندان کا حصہ بن رہے.. عظیم باکسر محمد علی کو حق کی روشنی ایسی مینار سے ملی .