اسلاموفوبیا - عبداللہ صدیقی

اسلاموفوبیا (اسلام ہراسی) لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’ اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’ نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا ‘ مطلب لیتے ہیں۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بڑھکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔

اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے دشمنی جس کی انگریزی (Islamophobia) ہے یا اسلام کا خوف۔ یہ نسبتا ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جس کا مفہوم بے جا طرفداری، نسلی امتیاز اور لڑائی کی آگ بھڑکانا طئے کیا گیا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے اس کی شناخت یہ بھی کرائی ہے کہ یہ لفظ مسلمان یا پھر ان کی شدت پسندی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے آغاز ہوا لیکن بیسویں صدی کی اسی اور نوے کے ابتدائی دہائیوں میں اس کا استعمال بہت ہی کم رہا۔ 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔

تاریخ و ارتقا
انگریزی زبان میں مستعمل یہ لفظ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اسلام سے خوف و دہشت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اس لفظ کی ایجاد کی 1987ء سے ہوتی ہے۔ جبکہ 1997 ء میں اس اصطلاح کی تعریف کرنے کی کوشش کی گئی جب برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ نے " Islamophobia: A Challenge for Us All" کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتا ایک ایسا ڈر جو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے اور فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے "ثقافت اور وحشیت" کے عنوان پر مقالہ میں کیا جس کو 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا۔

جس میں اس نے اسلامو فوبیا کی صنف رواں کے تعلق سے بیان کیا۔ اور 1998 ء میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتابMarianne et le Prophète(ص:171)میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا۔ عالمی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا خصوصا 11 ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا۔

کچھ اسلامی جماعتیں خصوصا جہادی اور سلف کی طرف دعوت کا کام انجام دینے والی جماعتیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھوکنے اور لوگوں کو یہ تاثر دلانے کے لیے کہ اسلام کے کیمپ میں رہ کر کی جانے والی کوششوں سے خوف و دہشت کا کوئی واسطہ نہیں اس لفظ کی عمومی اصطلاح کو بدلنے لگیں اور آخر کار ان جماعتوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ گویا ان کے نزدیک ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ کا موقف اس تعلق سے مختلف الآراء ہے۔ جس کا اظہار اس نے اس انداز میں کیا ہے ۔اسلام ایک متحدہ گوشہ نشین بے حس و حرکت گروہ ہے جو ترقی و تبدیلی جو قبول نہیں کرتا۔اسلام ایک الگ اور اجنبی دین ہے جس کے اور دیگر ثقافتوں کے درمیان میں کوئی مشترک اقدار اور مقاصد نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ ان میں اثر ڈال دیتا ہے۔اسلام مغرب سے بھی زیادہ گھٹیا دین ہے جو شدت پسند، بے تکی باتیں کرنے والا اور خواتین کے تئیں سخت ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو سختی اور دشمنی کی صفات سے متصف ہے جو خطرے میں دالنے والا ہے اور دہشت پسندوں کو مضبوط بناتا ہے اور مختلف ثقافتوں سے لڑنے میں طاق ہے۔
اسلام ایک ایسی سیاسی آئیڈیا لوجی ہے جو سیاسی یا جنگی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔درحقیقت مغرب دینِ محمد ﷺ کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے اسلاموفوبیا میں مبتلا ہے۔ انہیں ڈر اس بات کی ہے کہ ان کا نوجوان طبقہ تیزی سے ہاتھ سے نکل کر دائرہ اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔ اسی لئے وہ کسی نہ کسی طرح اسلام کے اس سیلاب کو روکنا چاہ رہے تھے لیکن جب اسے روکنا ممکن نہ ہوا تو انہوں نے اسلام کا ایک خوفناک اور ہیبت ناک تصور اپنے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

خونخوار مرد، پردے میں لپٹی ہوئی عورتیں، زنا پر سنگسار، چوری پر ہاتھ کاٹنے اور بے رحم معاشرے کی منظر کشی کی گئی. جعلی ویڈیوز بنا کر دنیا بھر میں اتنی بار دہرا دہرا کر جھوٹ بول کر ایک وحشت ناک سماں برپا کیا گیا، جس میں آخری کیل 11 ستمبر کی ڈھونک کر اسلاموفوبیا کی بھیانک عمارت کھڑی کر دی گئی۔

اسلام، نیشن اسٹیٹ کے نظریے کے برعکس ایک کُل ارضی امت کا نام ہے جس سے مغربی تہذیب کو خطرہ ہے۔ مغرب اسلام کو اپنے سودی بینکاری نظام اور مادر پدر آزاد معاشرے کے لئے بھی خطرہ تصور کرتا ہے۔ لہذا یہ طاغوتی طاقتیں جہاں اسلامی نظام کو پنپتا دیکھتی ہیں، پوری قوت سے اس ملک پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ اسلامی دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جو مغربی دہشت گردی کا نشانہ نہ بنا ہو۔ افغانستان پر حملے کا جواز گھڑنا اسی سلسلے میں تھا. اس کے بعد عراق اور پھر 2010ء میں افریقہ کے ملک مالی پر فرانس کے ذریعے حملہ کروانا اسی لئے تھا کہ %90 مسلمان آبادی والے اس ملک میں عوام نے اسلام کے نفاذ کی حمایت کر دی تھی۔

اسلاموفوبیا کی اصطلاح مسلمانوں کی بجائے خود غیر مسلموں کی دی ہوئی ہے۔ فوبیا ظاہری طور پر کسی بھی قسم کے ذہنی عارضے میں مبتلا شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا اسلام کے خلاف ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی نفرت کے سبب انھوں نے خود اسے یہ نام دیا۔

مغرب میں مسلمانوں کے ساتھ ناصرف نوکریوں میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے بلکہ تعلیمی اور معاشی ترقی کے مواقع بھی انتہائی کم ہیں۔ نیز مسلمانوں پر مغرب میں اپنی ثقافتی اور شخصی اظہار کے حوالے سے مزید سے مزید قدغنیں لگائی گئیں۔مغرب نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی اسلاموفوبیا کے لیے استعمال کیا جنھوں نے دینِ اسلام سے بغاوت کی. ان لوگوں نے جس طرح سے اسلام اور شعائرِ اسلام کو نشانہ بنایا، نعوذباللہ توہین آمیز خاکے بنائے اور قرآن کی توہین کی، اس سے بھی اسلاموفوبیا کو تقویت ملی۔

پچھلے کئی سالوں سے انٹرنیٹ پر بھی جس طرح اسلام، مسلمانوں کی توہین، قرآن اور صاحبِ قرآن ﷺ کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے، مسلم میڈیا اس حوالے سے ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کی خبریں صرف سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائیٹس سے ملتی ہیں جن میں اسلاموفوبیا واچ، اسلاموفوبیا ڈے اور کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن قابلِ ذکر ہیں۔

مختصراً یہ کہ صلیبی اور صہیونی قوتوں کو اپنی مادر پدر آزاد بد تہذیبی کے مقابلے میں جس اسلامی تہذیب سے خطرہ ہے، اسے انہوں نے اسلاموفوبیا کے نام سے عوام الناس کے دماغوں میں بٹھا دیا ہے ۔ اب جب کوئی اسلام اور شعائرِ اسلام کے خلاف نفرت کے اظہار کے لیے کسی مسلمان پر بڑے سے بڑا حملہ بھی کرتا ہے تو اسے (اسلاموفوبیا کا) ذہنی مریض کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مغرب میں ایسے واقعات تقریباََ روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

حجاب پر پابندی:
مغربی ممالک میں حجاب کو شدید مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ ان کی نظر میں پردہ کرنے والی خواتین انتہا پسند اور تنگ نظر ہیں۔ برقع استعمال کرنے والی خواتین پر جملے کسے جاتے ہیں، اور انھیں دہشت گردوں کے قبیلے سے جوڑا جاتا ہے۔ 2004ء میں فرانس میں اسکولوں میں مسلم لڑکیوں کو سکارف کے ساتھ سکول میں داخلے کو ممنوع قرار دیا گیا۔ پھر 10 جنوری 2010ء کو ایک بل پیش کیا گیا جس میں ایک قانون بنانے کی سفارش پیش کی گئی کہ برقع پہن کر باہر نکلنے والی خواتین کو 750 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

جرمنی کی حکومت نے بھی ایسے قوانین بنانے کی کوشش کی جس سے کسی بھی مذہبی علامت کا تدارک ہوتا ہے۔ ایک عرصے تک جرمن میں یہی تاثر دیا گیا کہ اس ملک کی اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے مگر عملاً اسلامی آئین و قوانین کے استثنیٰ کے ساتھ، یعنی مسلمانوں کو اپنی روایات یا اصول و ضوابط پر عمل کرنے کا حق نہیں۔

یکم جولائی 2009ء کو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مصری خاتون مروۃ الشربینی کو جرمن عدالت میں مقدمہ کی سماعت سے پہلے ہی ایک روسی نژاذ جرمن نے چاقو کے 16 وار کر کے شہید کر دیا۔ اس وحشیانہ قتل کے دو ماہ بعد تحقیق کاروں نے بتایا کہ قاتل کو اس بنا پر رہا کر دیا گیا کہ اس نے یہ فعل Xenophobia کی وجہ سے کیا اور وہ غیر یورپی اور مسلمانوں سے نفرت کرتا تھا اور مروہ کے حجاب نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

جرمن جیسی معروفِ زمانہ منصف عدالت میں پولیس اور عملے کی موجودگی میں چاقو کے وار کرنا، مغرب کی اسلام دشمنی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ اپنی بیوی کو بچانے کے جرم میں شوہر پر پولیس نے فائرنگ کر دی۔ اس واقعے پر مسلم دنیا کے بڑے احتجاج کے باوجود مغربی میڈیا نے اس خبر کو نظر انداز کر دیا۔

داڑھی پر پابندی:
2009ء میں ایک 16 سالہ انڈین مسلمان طالب علم محمد سلیم کو اس کے مشنری اسکول سے صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ اس نے داڑھی رکھ لی تھی۔ جب یہ مقدمہ عدالت میں لے جایا گیا تو سپریم کورٹ کے جج نے یہ فیصلہ سنایا کہ "ہم اس ملک میں طالبان نہیں چاہتے، کل کو اگر کوئی طالبہ یہ کہے کہ وہ برقع پہننا چاہتی ہے تو کیا ہم اس کو اجازت دے سکتے ہیں--؟؟ "
انڈین ائیر فورس کے انصاری آفتاب احمد نے عدالت میں 24 فروری سے یکم اپریل 2003ء تک اپنے مقدمے کی پیروی کی لیکن عدالت کی طرف سے اسے داڑھی رکھ کر ملازمت کرنے کی اجازت نہ مل سکی۔

انڈین ائیر فورس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ "ملک کی پالیسی بنیادی طور پر سیکولر ہے اور صرف ان لوگوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے جن کے مذہب میں واضح طور پر بالوں کو کاٹنا منع کیا گیا ہو۔ جبکہ اسلام میں یہ ایک اضافی معاملہ ہے اور دنیا کے اکثریتی مسلمان داڑھی نہیں رکھتے۔"اسی طرح امریکہ کی ریاست ٹیکسس میں چار مسلمان پولیس آفیسرز نے ایک مقدمہ دائر کیا کہ داڑھی پر پابندی قابلِ توہین قانون ہے۔ محکمے نے 2005ء میں اس پر ماسک فٹ نہ ہو سکنے کی بھونڈی دلیل بنا کر داڑھی پر پابندی لگا دی اور کہا کہ انسانوں کو اپنی ڈیوٹی کے لحاظ سے پہچانا جانا چاہئے نہ کہ مذہب سے۔"

مغربی پالسیوں کی زیرِاثر اکثر مسلم ممالک میں بھی بری، بحری اور فضائی فوج میں داڑھی رکھنے کی پابندی لگائی گئی، سوائے سکھ مذہب کے ماننے والوں کے۔ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے دوران کئی پولیس آفیسرز کو داڑھی رکھنے پر ڈیوٹی سے نکال دیا گیا جس پر انھوں نے احتجاج بھی کیا۔

پاکستان میں بھی مغربی دباؤ کی وجہ سے فوج میں داڑھی ممنوع ہے جبکہ ایک سینئر جنرل جاوید ناصر کو داڑھی رکھنے کی وجہ سے سفید داڑھی والا جنرل مشہور کیا گیا۔ اس اسلامی شعار پر اسکولوں اور کھیل کے میدانوں میں بھی پابندی لگائی گئی۔ 13 جنوری 2012ء کو ایک نوجوان مسلم کھلاڑی نے BBC کو بتایا کہ ہم کھیل میں حصہ صرف اس وجہ سے نہیں لے سکتے کہ ہم داڑھی رکھتے ہیں،،،؟؟پاکستان کے کرکٹ ٹیم کے نامور سابق کھلاڑی انضمام الحق کو سخت تنقید کا سامنا صرف اس وجہ سے کرنا پڑا کہ انھوں نے داڑھی رکھ لی اور دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے لگے۔

مسجد کے میناروں پر پابندی:
مسلمانوں کے خلاف صف آراء سوئٹزرلینڈ کے معروف سیاست دان ڈینئل اسٹریچ نے ایک عرصہ لوگوں کو اسلام کے خلاف ابھارا اور مساجد کے گنبد و میناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی۔ اس طرح مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی لگوانے کی مہم کا آغاز بھی اسی نے کیا۔ یہ سوئس پیپلز پارٹی کا ایک بڑا لیڈر تھا جس کا پالیسی سازی میں گہرا اثر رسوخ تھا۔میناروں کے خلاف تحریک چلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا شوشہ چھوڑا اور پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر ووٹنگ کروا کر قانون پاس کروایا۔

ڈینئل نے پیدائشی طور پر عیسائی ہونے کے باوجود مخالفت کرنے کے لئے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور شعائرِ اسلامی کی کھل کر مخالفت کی. یہ الگ بات ہے کہ تقدیر کے فیصلے میں اس کے لئے ہدایت لکھی جا چکی تھی اور اسلامی تعلیمات کی حقانیت واضح ہونے پر اس نے بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ پھر مغرب میں مسجدوں کے میناروں کے حق میں تحریک چلانے کا آغاز قدرت نے اسی ڈینئل سے لیا۔

اصطلاحات کے ذریعے اسلامی شعائر کی توہین:
9/11 سے پہلے دجل اور فریب سے کام لیتے ہوئے ایسی علمی بحثیں چھڑوائیں گئیں جن سے عوام اکثر لاعلم ہوتے تھے۔ پھر اپنے پیدا کردہ علماء کے ذریعے ان اصطلاحات کو مَن چاہے مطلب دیتے ہوئے اسلام اور شعائرِ اسلام کی توہین کی جاتی رہی۔ 9/11 کے بعد اصطلاحات کی یہ جنگ عالمی سطح پر شدید صورت اختیار کر گئی۔ دین و مذہب سے توجہ ہٹا کر بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا معاہدوں کی اہمیت کو دماغوں پر سوار کیا گیا۔

ان کے علاوہ چیختے چلاتے میڈیا کے ذریعے مزید اصطلاحات ہمارے ذہنوں میں بسائی گئیں، جن میں بین الاقوامی اتحاد برائے انسدادِ دہشت گردی، بنیاد پرستی، انتہا پرستی، قدامت پرستی، عسکریت پسندی، روشن خیالی، اعتدال پسندی اور گوریلا وار وغیرہ شامل ہیں۔مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کے لئے بھی نت نئی اصطلاحات ایجاد کی گئیں، مثلاً معتدل اسلام، شدت پسند اسلام، لبرل اسلام. اور جہاد کو دہشت گردی کہنا،،،، جہادیوں کو عسکریت پسند کا لقب دینا۔

اسلام پر مکمل عمل کرنے والوں کو ملّا و مولوی سے بڑھ کر بنیاد پرست اور انتہا پسند کا نام دیا گیا۔ کفریہ تہذیب کو سٹیٹس سے تعبیر کیا گیا۔ اور اس رو میں بہہ جانے والوں کو ترقی پسند اور روشن خیال کہا گیا، جبکہ اپنی مرضی کے اسلام پر عمل کرنے والے اعتدال پسند قرار دیے گئے۔اصطلاحات ہی کی بدولت دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے کہہ کر بڑے پیمانے پر ان کے خلاف مختلف ایکشن لیے گئے۔

اسلاموفوبیا کا انسداد
26 ستمبر 2018ء کو یورپی پارلیمان نے برسلز میں انسداد اسلاموفوبیا ٹول کٹ کا اجرا کیا اور مختلف حکومتوں، سماجی تنظیموں، میڈیا اور دیگر قانون بنانے والوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس قدم کا مقصد اسلاموفوبیا سے لڑنا اور اسے بڑھتے اثرات کو ختم کرنا تھا۔