اللہ سبحان وتعالی کے اپنے بندے پر بے شمار احسانات - نیاز فاطمہ

اللہ سبحان وتعالی کے اپنے بندے پر بے شمار احسانات ہے جس میں سب سے بڑا احسان ہدایت کی نعمت کا ملنا ہے اللہ نے ہدایت کے حصول کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کرام مبعوث فرمائیں اور یہ سلسلہ حضرت محمدﷺ کی ذات اقدس پر ختم فرما کر انسانیت پر اپنی نعمت تمام کردی۔

اور نبی کریمﷺ کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مبعوث فر مایا اسی لیےان کی شریعت کے احکامات ابدی ،دائمی،جامع، اور اکمل ہے اسی لیے نبی کریمﷺ کی شریعت ہر طرح سے ہر دور میں قابل اطلاق رہی ہے اور نبی کریم ﷺ چونکہ خاتم النبین و خاتم المعصومین ہے اس لیے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس بھی ہر طرح سے کامل ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کی آپﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے اگر کسی باپ نے بحثیت رول ماڈل باپ دیکھنا ہے۔

تو وہ حضورﷺ کی سیرت کی طرف دیکھے کسی نے مثالی شوہر کو دیکھنا ہے تو محمد مصطفی ﷺ کو دیکھے نیز بہترین تاجر بھی نبی ﷺ کے نقش قدم پر چل کر ہی دادین کی فلاح پاسکتا ہے اس کے علاوہ حضور ﷺکوقائدانہ صلاحیتیں بھی اللہ سبحان وتعالی نے بے شمار عطا کی تھی یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺمیں اوائل بچپن سے ہی ایک لیڈرورہنما پنہا نظر آتا تھا لیڈر کی سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے کردار کو اتنا پاکیزہ ہونا چاہیے کہ کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے آپﷺ نے اپنا اتنا خوبصورت کردار پیش کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی کہ آپﷺ کا لقب ہی صادق اور امین تھا۔

مکہ میں جہاں آپﷺ کے ایام طفولیت گزرے تھے آپﷺ بچپن ہی سے ممتاز نظر آتے تھے اسکے بعد اگر ہم ہجراسود کونصب کرنے والے واقعہ کو اگر یاد کرے تو کس قدر کمال مہارت اور ذہانت سے اس مسئلے کو رفع کیا اسلام سے قبل حلف الفضول میں شرکت فرمائی جو کہ قبائل کے درمیان امن سے رہنے کا معائدہ تھا نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ فرماتے ہے کہ یہ معاہدہ مجھے اتنا پسند ہے کہ اس کے بدلے اگر مجھے سو سرخ اونٹ دیے جاتے تو میں وہ بھی قبول نہ کرتا یہ بات ایک عظیم رہنما ہی کرسکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر یہ اللہ کی مرضی ہوئی - شیخ خالد زاہد

جس کے پیش نظر معاملات میں سب سے اہم امن ہو اس کے لیے چاہے اسے اپنے نظریہ کے مخالف لوگوں سے بھی میٹنگ کرنی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔آپﷺ کی ہجرت کے بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جس میں آپﷺ نے مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی آپﷺ نے مدینہ میں سب سے پہلے میثاق مدینہ کا چارٹر پیش کیا جو کہ پہلا بین الاقوامی تحریری معاہدہ ہے نبی کریمﷺ نے ہرمعاملے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے چاہے وہ غزوہ بدر کا معاملہ ہو غزوہ خندق کا نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں سے ضرور مشورہ فرماتے اس کے علاوہ آپﷺ نے ٹیم ورک پر زور دیا نبی کریمﷺ ہر کام میں تعاون فرماتے جس طرح غزوہ خندق کے موقع پر نبی ﷺ نے خندق کے موقع پر بنفس نفیس خود چٹان کو پاش پاش کیا تھا۔

آج سیاسی لیڈرز ہو یا دینی لیڈرز مزاج یہ بن چکا ہے کہ اگر ہم لیڈر ہے تو یہ بڑی عیب کی بات ہے کہ ہم کوئی چھوٹا موٹا کام کرہں بلکہ اگر ہم رہنما کی حیثیت سے جانے چاہتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ اب بہت ضروری ہے کہ ہمارت پاس بڑی سی گاڑی ہو اور ہم پانچ دس گارڈ رکھیں اور اپنا ذاتی سے بھی ذاتی کام خود نہ کریں بلکہ اس کے لیے ملازم رکھیں ہو جبکہ حضور کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حضور صحابہ کے ساتھ ہوتے تو خود کو کھبی ممتاز نہیں رکھتے بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرواتے جیساکہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حضورﷺ اپنے دست مبارک سے اینٹے ڈھو ڈھو کر لارہے تھے۔

ترقی پسند رہنما کوئی تب ہی بن سکتا ہے جب وہ کسی معاشرے کے کمزوروں کے حقوق دلاۓ عرب معاشرے میں عورتیں اور غلام وہ پسا ہوا طبقہ تھا جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم تھا ان کے لیے آپﷺ نے بےشمار حقوق متعین کیے کے اس سے پہلے کھبی اتنے حقوق نہ ملے تھے آپﷺ عورتوں کو ماں بہن بیٹی اور بیوی کے روپ میں بےشمار حقوق دیے اور غلاموں کے بارے میں ہدایت فرمائی نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کو ایسی عظیم ریاست بناکر دکھایا کہ اس کی مثال آج تک نہیں ملتی ۔

یہ بھی پڑھیں:   بات تو سمجھنے کی ہے - نائلہ شاہد

آپ ﷺ نے انصاف کے سنہری مثال قائم کی جب ان کے پاس ایک خاتون کی سفارش کی گئی کہ ان کو سزا نہ دی جائے اس آپﷺ نے عظیم الشان جملہ فرمایا:تم سے پہلی قومیں اسی لیے ہلاک ہوئی تھی کہ جب ان کا کوئی بڑاآدمی جرم کرتا تو اسکو چھوڑ دیتے جبکہ چھوٹے آدمی کع سزا دی جاتی۔

نبی ﷺنے مدینہ کی ریاست میں ریس ازم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی امریکہ جیسی ریاست جو مساوات انسانیت کی علمبردار بنی پھرتی ہے اس ریاست میں ایک عرصے تک ہوٹلز پر یہ عبارت لکھی جاتی تھی بلیک مینس اینڈ دا ڈوگس آر ناٹ الاؤڈ یعنی انسانیت کی اس درجہ توہین ہوتی تھی یہ نبی ﷺ ک ہستی ہے جنہوں انسانیت کواس ریس ازم سے نکالا اور فرمادیا کسی کالے کو گورے پرکسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں نہ کسی عربی کو عجمی پر اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی یہ فرما کر تمام کاسٹ سسٹم اور نسل پسندی کا انکار کردیا گیا ۔

جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہی دکھائی نہیں دیتی نبی کریمﷺ نے ایسے اصول ونظریات پیش کیے جس پر چل کر انسان آخرت کی فلاح پاسکتا ہے اور دنیا میں بھی اس کو نیک نامی وعزت ملتی ہے اس کی بہترین مثال حضرت عمرؓ کے دور میں پیش آئی جب آپ کے پاس مصر کے حکمران کا خط آیا جسے پڑھ کر عمر فاروق زارو قطار رونے لگے حضرت علیؓ کے استسفار ہر آپؓ نے فرمایاکہ اس میں لکھا ہے کہ آپ کے مجاہدین اتنے امانت دار ہیں کے انھیں سونے کی پوٹلی ملے یا پھر ایک اشرفی آکر بیت المال میں جمع کرواتے ہیں۔

آج بھی ترقی ہمارے قدم چوم سکتی ہے ہمیں بھی اپنا کھویا ہوا مقام واپس مل سکتا ہے ہماری بھی نیک نامی ہو سکتی ہے ہمیں بھی دارین کی کامیابی مل سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے نقش قدم کو فالو کریں