جماعت اسلامی کا۲۲ دسمبر کو اسلام آباد میں کشمیر مارچ - میر افسر امان

جماعت اسلامی پاکستان نے ۲۲؍ دسمبر کو شہر اقتدار اسلام آبادکے شا ہراہ دستور پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کشمیر مارچ رکھا ہے۔ حکمرانوں کو احساس دلانا ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ کے کشمیریوں کی عملی مدد کریں۔کشمیری بھارتی درندہ صفت فوجیوں کے خلاف ایمان کی قوت سے نبرد آزماہ ہیں۔ اس کشمیرمارچ کی قیادت ان شاء اللہ مردِ مجاہد سراج الحق سینیٹر، امیر جماعت اسلامی پاکستان کریں گے۔ اس سے قبل پاکستان کے سارے بڑے شہروں میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق بڑے بڑے ملین کشمیر مارچ کر چکے -ہیں۔ کچھ دن قبل اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑاکشمیری خواتین کا کشمیر مارچ بھی ہو چکا ہے۔ پاکستانی خواتین کا شکریہ کہ اس اسلامی، قومی اور بین الاقوامی مسئلہ پر جماعت اسلامی کا ساتھ دیا۔

مسئلہ کشمیراسلامی اس لیے ہے کہ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی ماند ہیں۔ جسم کے کسی حصہ کو جب تکلیف ہوتی ہے۔ تو سارے جسم اس تکلیف کو محسوس کرتاہے۔ تکلیف توکیا!پاکستان کی شہ رگ کشمیر کی جنگ آزادی میں کشمیریوں کے تو جسم تک چور چور ہوچکے ہیں۔ کشمیری اپنی شہیدوں کو پاکستان کے سبز پرچم میں لپیٹ کر دفناتے رہے ہیں۔ہر سال بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ اور پاکستان کے یوم آزادی کے دن پاکستان کے سبز پرچم لہرا کر اسے سلامی پیش کرتے رہے ہیں۔

کشمیری کہتے ہیں کہ بھارتی کتوں ہمارے کشمیر سے نکل جائو۔ ہم مشرک بت پرست بھارت کے ساتھ نہیں، توحید پرست پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تقسیم ہند کے بین الالقوامی طور پر منظور شدہ حق آزادی دو کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔تمھارے وزیر اعظم نہرو نے اقوام متحدہ میں ساری دنیا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ بھارت کشمیریوں کو حق خود اد اریت دے گا۔ کہاں گئے وہ تمھارے وعدے؟ تم نے تو اب اعلانیہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا۔ بھارتی آئین کی کشمیر بارے خصوصی شکوں ، ۳۷۰، اور ۳۵؍اے کو غیر قانونی طور پرطور پر ختم کر دیا۔ نہ کشمیر کی پارلیمنٹ سے منظوری لی۔ نہ ہی کشمیری قوم سے معلوم کیا۔بس اپنے گورنر کے ایک خط پر یہ غیر قانونی حرکت کر کے کشمیری قوم کو ہمیشہ کے لیے غلام بنا لیا۔تم کشمیری کی نسل کشی کرنی چاہتے ہوں ۔یاد رکھوں اُوپر ایک اللہ بھی موجودہے۔ اس کے ہاںا نصاف میں دیر تو ہو سکتی ہیں مگر اندھیر نہیں ہو سکتا۔

بھارت۱۹۴۷ء سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو اپنی سفاک درندہ صفت فوجیوں کے ذریعے شہید کر چکا ہے۔دس ہزار سے زاہد عزت مآب کشمیری خواتین کی بھارتی بھیڑیوں نے اجتماہی آبرو زیزی کی۔اسے بیان کرتے ہوئے اقوام متحدہ کا ایک انصاف پسند نمائندہ ،الیکٹرونک میڈیا کے سامنے زر وقطار سے رو پڑا ۔نازی ہٹلر کی طرح قومی برتری میں غرق متعصب بھارتی وزیر اعظم مودی کے ظالم فوجیوں نے کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں قید کیا۔ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کر دیا۔جیلوں میں بند نوجوانوں کوزہریلہ کھانا اوراذیتیں دے دے کر اپائچ کردیا۔ کئی نوجوانوں کو اجتماہی قبروں میں دفن کر دیا۔ کشمیر میں درجوں اجتماہی قبریں دریافت ہوچکی ہیں۔کشمیریوں کی زمینوں پر گن پائوڈر چھڑک کر اس کی پھلوں کی فصلوں کو جلادیا۔ کاروبار ی مارکیٹوں پر گن پائوڈر چھڑک خاکستر کر دیا۔ معاصروں کے دوران مجائدین کے شک میںلاتعداد گھروں کو بارود سے اُڑا دیا۔ معاصرہ کے اذیت ناک عمل میں عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے ۔مکینوں کو تنگ کرنے اور سزا دینے کے لیے سردیوں میں گھروں سے باہر نکال کر گھنٹوں انتظار کرایا جاتا ہے ۔قیمتی سامان لوٹ لیا جاتا ہے۔مقدس مقام مزار حضرت بل کو لاگ لگا دی گئی۔

سری نگر کی جامع مسجد میں مہینوں سے جمعہ کی نماز نہیں ہونے دی۔ سفاک بھارتی فوجی جعلی مقابلہ ظاہر کر کے اور ان کی جیل میں بند کسی کشمیری نوجوان کو اذیتیں دے دے کر شہید کر تے ہیں پھر اس کی لاش کسی ویران علاقے میں پھینک دیتے ہیں۔ کشمیری اپنے بے گناہ شہید کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں ۔ بھارتی سفاک درندہ صفت فوج کشمیریوں کو پر امن احتجاج بھی نہیں کرنے دیتی کہ کہیں ان کے مظالم دنیا کو نہ معلوم ہو جائیں۔ نہتے احتجاجیوں پر ممنوع بلیٹ گن سے فائرنگ کرکے کئی ہزار کشمیریوں کو اندھا کر دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بھارتی فوجی گاڑی کے بونٹ پر کشمیری جوان کو باندھ دیتے ہیں۔ اس لیے جب مظاہرین پتھرائو کریں تو بھارتی فوجی سورمائوں کو پتھر لگنے کے بجائے اس مظلوم کشمیری کو لگیں۔ کالجوں کی بچیوں کو گرفتار کر کے ان کی چوٹیاں کاٹ دیتے ہیں۔ان مظالم کے باوجود بھی شہیدوں کی نماز جنازہ میں لاکھوں کشمیری شریک ہوتے ۔ آزادی کشمیر کی تحریک چلانے والے ۹۰ سالہ سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق، شبیر شاہ اور یاسن ملک کو جیلوں میں بند کر دیا۔

حتہ کے کشمیر کے بھارتی پٹھو سابق حکمرانوں جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ مانتے تھے کو بھی جیلوں میں ڈال دیا۔ اب وہ بھی بول اُٹھے کے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے تقسیم ہندکا صحیح فیصلہ کیا تھا۔ عام کشمیری آبادیوں کو کئی مہینوں سے کرفیو کی سخت پابندیوں میں جھکڑ رکھاہے۔ ذرایع آمدو رفت بند، انٹر نیٹ بند، ٹیلیفوں سروس بند، اخبارات بند،ٹی وی اسٹیشن بند، کیا کھلا ہے ؟صرف سفاک درندہ صفت بھارتی فوج کے ساتھ آر ایس ایس کے غنڈوں کے لیے کشمیرکھلا ہے۔ یہ دہشت گرد ظالم سفاک کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر مردوں کو ایک طرف کر کے عزت مآب کشمیری خواتین سے آبروزیزیاں کر رہے ہیں۔کرفیو کی قید میں بندکشمیری مرد وو خواتین اور بچے صحیح ہر روزاپنے گھروں کے دروزوں سے جھانک کر مہینوں سے انتظار کر رہے ہیں کہ کب پاکستان کی فوج ان مظالم سے نجات دلانے کے لیے کشمیر میں داخل ہوتی ہے؟ان شاء اللہ جلدوہ وقت جلد آنے والا ہے جب پاکستانی فوج بھی مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لیے کشمیر میں میں داخل ہو گی۔

پاکستانیوں!کشمیری اس ظلم و ستم کی آگ میں کیوںجل رہے ہیں؟ اس لیے جل رہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔وہ تحریک تکمیلِ پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی رکن، قومی برتری میںمبتلا نازی ہٹلر صفت، دہشت گرد وزیر اعظم مودی نے کشمیر کو بھارت میںضم کر کے پاکستان کی شہ رگ کاٹ دی ہے۔ دہشت گردمودی کہہ چکا ہے کہ وہ کشمیر کی طرف سے پاکستان کو جانے والے پانیوں کو روک دے گا۔ پاکستانیوں! کیا سسک سسک کر مرنا چاہتے ہوں یا کشمیر کو پاکستان میں ملا کر اپنی زندگی بحال رکھنا چاہتے ہو۔؟ ضرورت تو اس کی تھی کہ جس وقت دہشت گرد مودی نے کشمیر کو بھارت میں ضم کیا تھا۔پاکستان بھارت سے بزور کشمیر آزاد کرانے کے لیے کشمیریوں کی مدد کے لیے کشمیر کی سرحد عبور کر کے عملی مدد کرتا۔ایسا نہ کر کے پاکستان نے بھارت کو موقع فراہم کر دیا ہے ۔ بھارت کسی بھی وقت بھی حماقت کر کے آزادکشمیر پر حملہ کر دے گا۔جنگ تو پھر بھی چھڑنی ہے۔ اسی لیے پہلے سے خبردار کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے پاکستانی قوم کو کشمیر کی جنگ آزادی کی پشتی بانی کے لیے اسلام آباد میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کربھارت سے بر سرے پیکارکشمیریوں کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ غم نہ کرو۔ پاکستان قوم ہر وقت آپ کے ساتھ ہے۔

اسلام آباد اور اس کے اِرد گرد کے علاقے جو ایک صرف ایک دن میں اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ان علاقوں سے تو مرد ،خواتین اور بچوں کے سمندر کے سمندر اسلام آباد پہنچیں۔دُور دراز کے مرد و خواتین گھروں سے نکل کر اپنے دکھیا کشمیریوں کی پشتی بانی کے اتنی زیادہ تعداد میں ۲۲؍ دسمبر کو اسلام آباد پہنچیں کہ حکمران کشمیر کے مظلوموں کی عملی مدد کرنے کے لیے تیار ہو جائیںاور بھارت کے ایوانوں میں کلبلی مچ جائے۔ پاکستان کے سارے صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان کے حضرات ابھی سے اپنے پروگرام ترتیب دے لیں۔ دفتروں سے چھٹیوں لینے کے لیے ابھی سے درخواستیں داہر کردیں۔ اپنے ذاتی کاروباروالے اپنا کاروبارکچھ دنوں کے لیے روک دیں۔ دانشور اپنے کالموں میں ۲۲؍ دسمبر کے کشمیر مارچ کو عوام میں اُجاگر کریں۔ مسجدوں کے ممبروں سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے عوام کو اُبھارا جائے۔خانقائوں سے بھی یہی صدائیں بلند ہونی چائیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں کشمیر مارچ کی آگاہی کے لیے ایڈورٹائز منٹ فلوٹ سے اعلانات کیے جائیں۔ جو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ کیا جائے۔

ہم سب کو اپنی کٹی شہ رگ کو بحال کرنے کے لیے تھوڑی سی قربانی کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ سب ساتھی ابھی سے اپنا اپنا سامان سفر باندھ کر تیارہو جائیں۔ ویسے تو مقامی جماعتوں نے انتظام کر لیا ہوگا پھر بھی کسی ساتھی کے پاس زاد ہ راہ نہیں، توصاحب حیثیت ساتھی ایسے حضرات کی مدد کریں۔ جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں، برادرتنظیموں اور پاکستانی عوام سے مہینوں سے کرفیو کی سختیوں میں مبتلا مظلوم کشمیری عورتوں،مردوں اور بچوں کے لیے قربانی مانگی ہے۔روز روز قربانی نہیں مانگی جاتی۔ اس لیے جماعت اسلامی ، برادر تنظیموں کے کارکنوں اور عوام سے درخواست ہے کہ وہ ۲۲؍ دسمبر کو اسلام آباد ڈی چوک کشمیر مارچ میں شریک ہو کر ایک بار پھر یوم شوکت اسلام کی یادتازہ کر یں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */