حکومت آرمی چیف کے معاملے میں غلطیاں کیوں کر رہی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بہت سے دوست یہ سوال کررہے ہیں۔ یہ سوال واقعی قابلِ غور ہے اور اس لحاظ سے اور بھی قابل توجہ ہوجاتا ہے کہ سیاسی حکومتیں تو آتی جاتی ہیں، صدر، وزیر اعظم اور وزیر قانون کے دفاتر میں موجود بیوروکریٹس تو سالہا سال روٹین کا کام کرتے رہتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ کسی اوپر والے افسر کا تبادلہ ہوجاتا ہے اور مرضی کا افسر یا پی اے وغیرہ لایا جاتا ہے۔ باقی تو وہی بابو صاحبان ہوتے ہیں۔ سمری بنانا، قانونی تقاضے پورے کرنا وغیرہ ان کےلیے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے۔ پھر ایسا کیوں ہورہا ہے؟

کسی سازشی نظریے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سوال کا بڑا سیدھا سادہ جواب ہے اور کسی بھی سرکاری دفتر میں کام کرنے والے کو اس سوال کا جواب معلوم ہونا چاہیے۔ وہ سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس معاملے کی قانونی حیثیت کا سوال ہی نہیں اٹھایا تھا۔ کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا کہ توسیع یا دوبارہ تعیناتی کس قانون کے تحت ہوتی ہے؟ بس وزیراعظم نے مشورہ دیا اور صدر نے آمنا و صدقنا کہہ کر سٹاف سے نوٹیفائی کرنے کا کہہ دیا۔ بات ختم ہوگئی۔ باقی رہی فوج، تو کور کمانڈرز کی بغاوت کے خواب دکھانے والے بزرگ باراں دیدہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ فوج کا اصلِ اصول "سمع و طاعت" ہے۔ اس لیے اگر کسی سینیئر کو سپرسیڈ کرکے جونیئر کو چیف بنادیا گیا تو سینئر خاموشی سے گھر چلا گیا، یا کسی چیف کو دوبارہ تعینات کیا گیا تو باقی سب نے سمع و طاعت کی بیعت کی تجدید کرلی۔

چنانچہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ سارا کچھ "محض پریکٹس" پر چلتا رہا۔ قانونی جواز یا اختیار کا کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا۔ اب پوچھ لیا تو معلوم ہوا کہ قانونی جواز تو کہیں ہے ہی نہیں۔

یونی ورسٹی میں بھی بارہا اسی نوعیت کا تجربہ ہمیں ہوا ہے کہ کوئی کام برسہا برس سے چل رہا ہوتا ہے۔ اس کی قانونی سند کا پوچھ لیں تو سب کی دوڑیں لگ جاتی ہیں اور پھر تکے لگانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جب کچھ باقی نہیں بچتا تو آخری جواب یہ ہوتا ہے کہ "ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے!"

حل کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔ اب تک جو کچھ ہوا، اس کی روشنی میں میری راے یہ ہے کہ پہلے نوٹی فیکیشن کی طرح دوسرا نوٹی فیکیشن بھی عدالت کی نظر میں بے فائدہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کل رات کابینہ نے ذیلی قواعد میں جو تبدیلی کی، عدالت کی نظر میں اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل فوکس دستور کی دفعہ 243 پر ہے اور اس پر دلائل ابھی تک عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔

خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں فیصلہ دیا جاتا تو توسیع یا دوبارہ تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جانا تھا۔ سپریم کورٹ نے کل تک سماعت ملتوی کرکے حکومت اور جنرل باجوہ دونوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ حکومت چاہے تو قانونی سقم دور کرنے کی ایک اور کوشش کرلے اور جنرل صاحب چاہیں تو خود ہی توسیع یا دوبارہ تعیناتی سے انکار کرلیں۔

قانونی سقم دور کرنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اس لیے میرے نزدیک اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ جنرل صاحب آرام سے گھر جانے کا فیصلہ کرلیں۔

اور ہاں، فوجی مہم جوئی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کسی نے ایسا سوچا تو یہ انتہائی افسوسناک امر ہوگا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.