ہماری چلبلی جماعت - اسوہ بتول

کہنے کو تو ہماری جماعت میں پندرہ ہی لڑکیاں تھیں لیکن شور مچانے میں ہم پورے سکول پہ بھاری تھے۔ چلتے چلتے کسی کو چھیڑنا ہم اپنا فریضہ اولین سمجھتے تھے۔ بڑے اور چھوٹے غرض سب ہی ہماری شرارتوں کا نشانہ بنے رہتے تھے۔ چلیں میں آپ کے سامنے اپنی کلاس کی اس وقت کی منظر کشی کرتی ہوں جبکہ ہماری کلاس میں ٹیچر نہ ہوں۔

ایک لڑکی نے دوسری کے بال کھینچے یوں ایک آگے آگے اور دوسری پیچھے پیچھے ،ایک لڑکی ٹیچرز ٹیبل پر بیٹھی دو چار لڑکیوں کو کہانی سنا رہی ،دو لڑکیاں اسی چھوٹی سی کلاس میں ہی بیڈمنٹن کھیل رہیں ،ایک لڑکی چیخ چیخ کر کلاس کے دوسرے کونے میں موجود لڑکی سے باتیں کر رہی ،ایک لڑکی دیوار پر بال مار کر کیچ کر رہی، ایک لڑکی اپنی بے سری آواز میں نغمہ گار ہی۔غرض یہ کہ ہماری جماعت ہر طرح سے شور مچانے اور ہنگامہ کرنے والی کلاس ہے۔

اسی ہنگامے میں مزاحیہ شعر بھی گونج رہے جیسا کہ۔

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

اور ہم نے دروازہ کھولا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو ،آپ کے چہرے پہ ہنسی اور آپ کے دل میں بے بسی تھی۔پہلے کیوں نہیں بتایا آپ کی انگلی دروازے میں پھنسی تھی۔ اسی شور کی وجہ سے پڑوس کمرے میں موجود ٹیچرز کے سوئے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچے بیدار ہو کر رونے لگتے تھے۔جب بھی ہمارا سٹاف روم کے پاس سے گزر ہوتا تو وہاں ہماری ہی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے ہوتے تھے ۔جب کبھی ہماری کلاس کی لڑکیوں میں شرارت کی رگ پھڑک رہی ہوتی، تو جاکر بجلی کا مین سوئچ بند کر آتیں۔ہماری کلاس میں ہونے والے مزاحیہ واقعات میں سے چند آپ کے سامنے پیش کرتی ہوں ۔

ایک چھوٹے قد کی لڑکی ایک بڑے قد کی لڑکی سے پوچھتی ہے ،" اوپر موسم کیسا ہے؟"ایک دن ہماری اردو کی ٹیچر نے ہمیں سراب کا جملہ بنانے کو کہا ۔ پوچھنے پر بتایا کہ سراب کا مطلب" دھوکہ" ہوتا ہے، تو ایک لڑکی نے جملہ بنایا ،"میری بہن نے مجھے سراب دیا۔"ایک دن ہماری کلاس نے انگریزی کی ٹیچر سے پوچھا،"اخلاقیات کیا ہوتی ہیں؟"۔
ٹیچر نے جواب دیا" اخلاقیات وہ ہوتی ہیں جو آپ میں نہیں ہوتیں ۔"جب فزکس کی ٹیچر آتیں اور لیکچر دینا شروع ہوتیں تو کچھ لڑکیاں نیم باز آنکھوں سے ٹیچر کی طرف دیکھ رہی ہوتیں (نیند کی وجہ سے )،کچھ نیند کی وجہ سے جھٹکے لے رہی ہوتیں اور باقی دوسروں کو تنگ کرنے کے لئے ان کو پنسلیں چبھو رہی ہوتیں اور چٹکیاں کاٹ رہی ہوتیں ۔

کمال کی بات یہ ہے کہ کلاس میں یہ حال ہونے کے باوجود گزشتہ سال ہماری نہم کلاس نے پچھلی ساری کلاسز کو اچھے نتیجے میں پیچھے چھوڑ دیا اور اوسطا سب کے بہترین مارکس تھے۔
میری جماعت جتنی بھی شرارتیں کر لے اور جتنی مرتبہ بھی چلبلی کہلائے ،مجھے برا نہیں لگتا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ایسی جماعت اور ایسی سہیلیاں مجھے کہیں بھی نہیں ملیں گی۔

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا

جہاں بھی گئے، داستاں چھوڑ آئے