مسلمانوں کا عروج: عوامل کونسے تھے - پروفیسر جمیل چودھری

یہ تحریر 2 ۔حصوں پر مشتمل ہوگی۔پہلا حصہ آج پیش کیاجارہا ہے۔جزیرۃ العرب کے بعد اسلام کی دعوت خلفاء راشدین کے زمانے میںرومی اور ایرانی علاقوں تک پہنچنے لگی۔معاشرے میں تبدیلیاں شروع ہوئیں۔زندگی کے تمام شعبوں میںپرانے قوانین کی جگہ اسلامی قوانین اور اقتدار کا اطلاق شروع ہوا۔

اسلام کے نفاذ نے اہم ترین کام یہ کیاکہ ہروہ عامل جو ترقی میں معاون ہوسکتاتھا۔اسے ایک مثبت رخ پر متحرک کردیا۔اور سب سے زیادہ توجہ فرد کو دی۔جوکسی بھی سوسائٹی کے ارتقاء یاانحطاط میں اہم ترین مقام کاحامل ہے۔انہیں اخلاقی ارتقاء کے ساتھ ساتھ مادی استحکام کی طرف گامزن کیا۔ایک اچھا اور کارآمد فرد بنانے کے ساتھ ساتھ ہر اس ریت اور قاعدہ میں اصلاح کی جو انسان کی زندگی میں اہم تھا۔اور متاثر کرتاتھا۔کائنات کے بارے اس کے انقلابی تصورنے زندگی کے متعلق انسان کے نقطہ نظر کو یکسر بدل دیا اور اسے نئے فہم سے متعارف کرادیا۔یہ بات بڑی اہم تھی۔کہ اس کائنات اور تمام افراد کا خالق ایک ہی ہے۔اور یہ کہ انسان اس کا خلیفہ ہے۔اس نے مساوات انسانی کے عظیم تصور سے انسانوں کو آشناء کیا۔اس کے ذریعہ انہیں وقارواحترام کے ساتھ برابری اور خود داری حاصل ہوئی جس میں نسلی امتیاز،صنف،دولت وغیرہ میں کسی مرتبہ کودخل نہ تھا۔

اور یہ محض کوئی تصوراتی چیز نہ تھی۔بلکہ ایساکرکے دکھایاگیا۔چنانچہ نئے نظام میں وہ لوگ سربراہی کے درجہ پر فائز ہوئے جو اس سے قبل ظلم وستم کانشانہ بنے تھے۔اور حقارت کی نظر سے دیکھے جانے تھے۔جان ومال کو تحفظ اور فرد کے احترام کے ساتھ علم کو وہ مقام بلند ملا کہ خود اولین وحی میں اس کی اہمیت بتائی گئی۔معاشرہ میں عورت کواﷲ کی امانت اور مرد کے برابر حیثیت دی گئی۔اس کی توقیر میںزبردست اضافہ کیا اور مرد کو حکم دیاکہ وہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔بچوں کی صحیح تربیت اور نشوونما کو شریعت کے ممتاز مقاصد میں شامل کیا۔تاکہ مستقبل کی نسلیں اورتقاء کے عمل کومعیاری انداز میں جاری رکھ سکیں۔زندگی کے مادی اور روحانی پہلوؤں میں باہمی توازن قائم کرکے ارتقاء کے لئے ان دونوں کو ضروری اور اہم قرار دیا۔چنانچہ انسانوں،فنکاروں،تاجروں ،دستکاروں وغیرہ کو دوسرے معاشروں مثلاًمزدکی اور اس وقت کے عیسائی معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ عزت واحترام عطاکیا۔اب وفاداری قبیلہ سے نہیں بلکہ خداسے تھی۔چنانچہ فردکا ذہنی افق وسیع ہوکر امت تک پھیل گیا۔جس کی بنیاد بھی عقائد کی یکسانیت میں پیوست تھی۔

اور امت کے افراد آپس میں بھائی بھائی قرارپائے۔کہ وہ اﷲ کے خلیفہ بھی تھے اور اس خاندان کے افراد بھی دانشور Cahenنے بجاطور پر محسوس کیا ہے۔کہ قرآن قانون سازی کے دوران کمزوروں اور مظلوموں کا بالخصوص خیال رکھتا ہے۔چنانچہ اسلام کا سب سے بڑاکارنامہ ان طبقات کی ترقی اور انہیں اوپر اٹھانے کا ہے۔قرآن نے یہ کام رؤسااور دولت مندوں کو ختم کرکے یانجی ملکیت کے حق پر پابندی لگاکر نہیںکیا۔بلکہ اس امرکو یقینی بناکرانجام دیا۔کہ عدل،معاشرتی استحکام اور فلاح انسانی ہرفرد بشمول خواتین واطفال سب ہی کو حاصل ہوا۔اور اس میں اولین کام ان اخلاقی قوتوں کی بیداری تھا۔جنکی بدولت انفرادی ضمیراپنے مفادات کے حصول اور انکی حفاظت کے دوران دوسروںکے مفادات کانگران اور انکے تئیں خود بھی ذمہ داری محسوس کرنے لگا۔اسلامی تعلیمات کے لئے غیر معمولی وفاداری اور ان پر عمل کرنے کے لئے ایک اندرونی جذبہ ہمہ وقت بیدار رہنے لگا۔

لیکن ان جذبوں کو مستقل بیداررکھنے اور عمل پر کمربستہ رکھنے کے لئے محض نفس انسانی پر انحصار کافی نہ تھا۔چنانچہ اس کویقینی بنانے کے لئے اسلام نے ایک قوت کا تصور دیکر اس کو حکومت کی شکل میں قائم کرکے ایک نمونہ بھی پیش کیا اور اس طرح قانون کی سربراہی ار معاشی و معاشرتی قوانین کی پابندی کے ذریعے ارتقاء بھی یقینی ہوگیا۔اس کے ساتھ فرد کی آزادی کو یقینی بناکر اسے اخلاقی قیود کا پابند کرتے ہوئے،فساد،غیر یقینیت اور ظلم سے فرد اور معاشرہ کو آزاد کردیا۔ایک ایسا نظام عدل قائم کیا جس میں قانون کی نظرمیں سب برابر تھے۔کوئی چھوٹا بڑا نہ تھا۔اسلام کے سیاسی اور اخلاقی نظام کی کامیابی کا راز اصل میں رسول اﷲ کے عطاء کئے ہوئے اخلاقی انقلاب میں پوشیدہ تھا۔جو لوگ بھی ذمہ داریوں پر فائز تھے وہ نہ صرف قابل ترین افراد تھے بلکہ اخلاقی طورپر مضبوط اور بدعنوانی سے ماوراء تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم تہذیب،انحطاط کے عوامل - پروفیسر جمیل چودھری

مسلمانوں نے جتنے بھی علاقے فتح کئے تھے وہ ایک مشترکہ مارکیٹ کی شکل اختیار کرگئے تھے۔اس میں ایک طرف تو پوری معیشت میں سکون کارواج بڑھتا جارہاتھا۔اوردوسری طرف اشیاء کی خرید وفروخت ،ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے،رقومات کاتبادلہ اور خود افراد کا تحفظ اب یقینی ہوتاجارہاتھا۔اس کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح بہت ہی کم تھی۔ان تمام عوامل نے ہمہ پہلو ترقی میں اہم ترین رول اداکیا۔اس طرح زراعت،دستکاری،اور تجارت نے ہرہر فرد کی آمدنی میں اضافہ کیا۔اس ترقی کے فائدے ہر ایک کو پہنچے۔گوکہ منافع کی تقسیم مساویانہ نہ تھی۔جتنی اسلام کو مطلوب تھی۔لیکن معاشرہ میں قائم انصاف کی فضا نے،ایمانداری،محنت،باہمی اعتماد،بچت اور اس ٹیکنالوجیکل ترقی کی حوصلہ افزائی کی۔سوسائٹی میں تعلیم اور تربیت کے ذریعے وسائل موجود ہونے کے نتیجہ میں انسانی صلاحیتوں میں تو اضافہ ہوا ہی،ٹیکنالوجیکل اور فکری ترقی بھی ہوئی۔انسانوں میں نئی روح کی بیداری جو ابن خلدون کے مطابق اسلام کے نظریہ مساوات انسانی اور اس سے وابستہ اقدار کی بدولت ہوئی جب سیاسی اقتدار کے ذریعے یہ یقینی ہوگیا۔

کہ عدل کے لئے سوسائٹی کاہرفرد اور ہرطبقہ قانون کی نظر میں برابر ہے تو اس کے نتیجہ میں نہ صرف باہمی یگانگت میں اضافہ ہوابلکہ زندگی کے ہر شعبہ بشمول معیشت مسلم تہذیب کو پھلنے پھولنے کے بھرپور مواقع ملے۔اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ معاشرہ میں مثالی حالت قائم ہوگئی تھی۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے معاشرے میں منفی قوتوں پر وہ قوتیں غالب ہوگئیں تھیں۔جومسلم معاشرہ کی ترقی کی ضمانت دینے والی تھیں۔اس دورکے بدوی اور دیہاتی معاشرہ میں اسلام کی پیروی کے اثرات کااولین فائدہ زرعی میدان میں پہنچا۔تیز رفتار زراعت اور بہتری کی طرف گامزن دیہی ترقی نے ارتقاء کو اسی طرح مہمیز کیاجس طرح عملاً دوسرے معاشروں میں ہواتھا۔زراعت کی ترقی کو خلیفہ معتصم نے اس طرح بیان کیا۔''زراعت کے بہت سے فائدے ہیں۔اس سے ایک تو زمین کا معیار بلند ہوتا ہے اور انسانوں کوغذافراہم ہوتی ہے۔

اس سے ٹیکس میں اضافہ ہوتا اور اس طرح دولت بڑھتی ہے۔گھریلو جانوروں کو غذا کی فراہمی کے ساتھ قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے اور ذرائع آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں معیشت مستحکم ہوتی ہے''زراعت اور دیہی سرگرمیاں گویا سوئی ہوئی تھیں اسلام کے پھیلنے کے نتیجہ میں جیسے انہیں یکایک زندگی مل گئی۔اور مزید یہ کہ کاشتکار کو کھپت کے لئے ایسا وسیع مارکیٹ مل گیا۔جس میں راستے بالکل محفوظ تھے۔اور تجارتی کاروانوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہیں تھا۔اور نہ ہی کمرتوڑ ٹیکس نافذ کئے جاتے تھے۔اس طرح جہاں فرد کی ترقی ہوئی وہیں معاشرہ کا بھی ارتقاء ہوا۔اسلام کے اساسی پیغام عدل کی روح کے عین مطابق بنی کریمﷺ اور آپ کے بعد چاروں خلفائے راشدین نے جو پالیسیاں طے کیں اور عمل پیرا ہوئے ان کے نتیجے میں زراعت اور زرعی سرگرمیوں کو مددملی۔نئے علاقوں کی فتوحات کے علاقوں میں بازنطینی اور ایرانی پالیسیاں یہ تھیں کہ تمام زمینیں ان کے مالکوں سے چھین کر فاتح سپاہیوں اور فوجی افسروں میں تقسیم کردی جاتی تھیں۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں نے ان کے پرانے مالکوں کے پاس رہنے دیں۔

ان زمینوں سے جوبطور تحفہ دی بھی گئیں۔ وہ یا توبہت چھوٹی تھیں یاناقابل کاشت زمینیں تھیں یا ان کا کوئی مالک ہی نہ تھا۔بلکہ مسلمانوں کو یہ بھی اجازت نہ تھی کہ وہ مقامی مالکوں سے زمینیں خریدیں۔ان انتہائی انسان دوست پالیسیوں کی بناء پر کوئی بھی فاتح مسلمان نہ توجاگیر داربن سکا اور مفتوح علاقوں کا نظم وانصرام اور معاشی زندگی جاری رہی۔بلکہ اس طرح محض افراد کے درمیان ہی نہیں بلکہ مختلف نسلوں کے بیچ بھی عدل قائم ہوا۔اور یوں اسلام کانظریہ مساوات انسانی اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوا۔مفتوحہ علاقوں کی زرعی زمینوں پر اصول فئے کے نفاذ کے نتیجہ میں کسانوں کو زرعی پیداوار کاایک حصہ حکومت کو اداکرنا ہوتاتھا۔جوایک قسم کا ٹیکس تھا۔جسے خراج کہاجاتا تھا۔وہ زمانہ جب اسلام کو زبردست غلبہ حاصل تھا۔اس وقت اسکی شرح5سے10فیصد سے زیادہ نہ تھی۔اور بالکل وہی تھی جو عشری زمینوں پرتھی۔کیونکہ ٹیکس متعین نہ تھا بلکہ پیداوار کی نست کے اعتبار سے تھا۔اس لئے یہ کسانوں کے لئے تکلیف دہ نہ تھا۔جب پیداوار کم ہوتی تو بھی اس کی ادائیگی آسان تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم تہذیب،انحطاط کے عوامل - پروفیسر جمیل چودھری

طوفان،قحط یادوسری قدرتی آفات کی بناء پر اگر پیداوار متاثر ہوجاتی یا تباہ ہوجاتی تو اسلامی تعلیمات کے مطابق خراج کی وصولی روک دی جاتی۔یہ پالیسیاں اور رویے ایک طویل عرصے تک جاری رہے۔خراج حاصل شدہ رقومات عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جاتی تھیں۔ٹیکسوں کاعادلانہ نظام اور حاصل شدہ دولت کوعوام الناس کے فائدے کے لئے استعمال کرنے کی پالیسی ایک اہم ترین وجہ تھی کہ کسان رومی اور ایرانی حکمرانوں پر مسلمانوں کی حکمرانی کو ترجیح دیتے تھے۔اسلام کی یہ انسان دوست پالیسیاں اس زرعی انقلاب کی غالباً اولین وجہ تھیں۔جو دولت اسلامیہ میں آیا۔پیداوار کے نئے طریقے رائج ہوئے اور نئی نئی فصلیں بھی پیداہونی شروع ہوئیں۔اہم ترین ترقی پانی کے استعمال میں ہوئی۔واٹسن کے مطابق "زرعی انقلاب کی بدولت پیداوار میں اتنا زبردست اضافہ ہوا کہ یہ صرف بہت بڑی زرعی آبادی کے لئے کافی تھا۔بلکہ شہری آبادی کی ضرورت بھی پوری کرتاتھا۔دیہی علاقوں کی ترقی نے پورے معاشرے کو متاثر کیا۔اور معیشت کی ہرشکل اس ترقی سے متاثر ہوئی۔

فنکاری اور دستکاریوں کو بھی فروغ حاصل ہوا۔دیہی اور شہری علاقوں کی ترقی کے نتیجہ میں مختلف الجہات شہری کلچر کو پھلنے اور پھولنے کے لئے مواقع فراہم ہوئے۔طلباء اور علماء کوحصول علم کے لئے ضروری مالی وسائل کے علاوہ سہولیات بھی مہیا ہوئیں۔اورایسا ماحول بھی پنپنے لگاجس میںبڑی علمی سرگرمیوں کافروغ ممکن تھا۔محض اتنا ہی نہیں بلکہ آزادی فکرواظہار کے ساتھ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا ایسا ماحول پیدا ہوگیا۔جودنیا کے کسی اور حصے بشمول یورپ میں نہ تھا"برداشت کے ماحول کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ یہودی،عیسائی،زرتشی اور صائبین سب ہی موجودتھے۔جہاں آزادانہ مباحثہ ہوتا تھا۔اس کے نتیجہ میں بے مثال علمی،فکری ارتقاء وجود میں آیا۔مورخین کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کا25سالہ دور عظیم الشان فکری بیداری کادورہے۔

بغداد دولت وعلم کاعالمی مرکز بن گیا۔یہ اسلام کا کلاسیک زمانہ ہے۔جس میں ایک نئی بہت توانا بالکل Originalتہذیب مختلف نسلوں کے اتصال سے پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔تیز رفتار ترقی اوروسعت پزیر معاشرہ کی قانونی اور معاشرتی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک متحرک نظام عدل قائم تھا۔جس کی بنیادیں قرآن وسنت میں قائم تھیں۔ریاضی،سائنس،طب فلسفہ،کلام،علم فلکیات،ادب اور آرٹ میں معرکتہ الارا کام ہوئے۔اور عالم اسلام کو 7صدیوں تک ان علوم میں امامت کادرجہ حاصل رہا۔اگراسلام کی قوت متحرکہ کارفرمانہ ہوتی توعرب کی بدوی سوسائٹی اول تو اس مقام تک پہنچتی ہی نہیں اگرپہنچ بھی جاتی خلفاء راشدین کے دور کے بعد یہ قائم نہ رہتی۔اس قوت متحرکہ نے صلیبی جنگوں کے جھٹکے بھی برداشت کئے۔بلکہ حملہ آوروں کے بڑے حصے کو اسلام میں شامل کرلیا۔مسلم سلطنت چین کی سرحدوں کے اندر بھی پہنچ گئی۔

ہم آخر میں جارج سارٹن کے الفاظ پربات ختم کرتے ہیں۔"مسلمانوں کی زندگی میں دینی عقائد کو بے مثال اہمیت حاصل تھی۔اپنے مذہب کی جو اہمیت مسلمانوں نے دی کسی اور قوم نے نہ دی۔اسلام ہی ان کے لئے اتحاد اور طاقت کا سرچشمہ تھا۔دشمن غیرمتحد تھے اور جوش وخروش سے خالی۔"اس مختصر سی تحریر میںوہ سارے عوامل آگئے ہیںجو مسلمانوں کے ابتدائی عروج کا سبب بنے تھے۔