مرغے کو کون سمجھائے! مفتی منیب الرحمن

ڈاکٹر انیس احمد ’’مغرب اور اسلام‘‘ کے نام سے ایک علمی اور تحقیقی مجلہ نکالتے ہیں ، انہوں نے ’’اسلاموفوبیا ‘‘کے عنوان پر بعض بڑے فکر انگیز مضامین یکجا کیے ہیں،جسے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کیا ہے ۔’’فوبیا ‘‘ایک نفسیاتی مرض ہے کہ کوئی شخص یا ملّت یا قوم اپنے اوپر کسی چیز یاکسی مذہب کا کوئی خوف مسلّط کرلے کہ وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے اور پھر اس خوف کو اپنے ذہن میں اس طرح پیوست کردے کہ کسی طور پر بھی اس کا ازالہ ممکن نہ رہے‘‘۔

یہ میں نے فوبیا کے مفہوم کو آسان الفاظ میں بیان کیا ہے۔بیسویں صدی کے اواخر یا اکیسویں صدی کے آغاز ہی سے اہلِ مغرب کی اجتماعی سوچ اور ذہنی ساخت میں یہ پیوست ہوگیا ہے کہ اسلام اُن کی بقا ،ان کی تہذیب اور عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ،چنانچہ وہ ہر مسلمان کو خطرے کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس سے بچائو کی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں۔

اس میں انہوں نے ماریطانیہ کے ایک مسلمان محمد اولد صلاحی کا حال بیان کیا ہے : جب افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد اہلِ مغرب کے نزدیک ایک اعلیٰ قدر تھی ،انہوں نے اس کے لیے وسائل فراہم کیے اور دنیا بھر سے لوگوں کو مائل کر کے افغانستان لایا گیا ،انہی میں سے ایک صلاحی بھی تھے ، جہادِ افغانستان کے بعد 2000تک وہ اس خطے میں رہے، پھر جرمنی اور اس کے بعد کینیڈا چلے گئے اوروہاں سے اپنے وطن ماریطانیہ چلے گئے ۔

پھر انہیں ماریطانیہ کی حکومت نے 2002میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا، بعدازاںانہیں بالترتیب اردن اور افغانستان کی جیلوں میں رکھاگیا اوربالآخر ان کو گوانتانا موبے میں منتقل کردیا گیا۔ وہاں انہیں چودہ سال سے زیادہ عرصہ اذیت ناک قید میں رکھا گیا ۔انہوں نے اپنے اوپر بیتے ہوئے اذیت ناک تجربات کی یادداشتیں قلمبند کیں ،پھر ان یادداشتوں کو ایڈٹ کر کے چھاپا گیا۔

جن سطور کو ایڈٹ کیا گیا ،انہیں سیاہ مارکر سے قلم زدکردیا گیا،مصنف اور پبلشرنے ان حصوں کو اُسی حالت میں شائع کردیا۔ گوانتاناموبے میں اذیت اور تفتیش کے مراحل میں کچھ اس طرح کے سوالات کیے جاتے: ’’فلاں دن تم نے اپنے چھوٹے بھائی کو ٹیلی فون پر کہا تھا :’’تعلیم پر توجہ دو ،اس سے تم کیا خفیہ پیغام دینا چاہتے تھے ‘‘،انہوں نے کہا: ’’یہ کوئی خفیہ پیغام نہیں تھا ، میں ہمیشہ اپنے بھائی کو تعلیم پر توجہ دینے کی تاکید کرتا رہا ہوں‘‘۔سوال ہوا:

’’تم نے ایک شخص کو چینی اور پتی خرید کر لانے کے لیے کہا تھا ، اس میں کیا خفیہ پیغام تھا‘‘، انہوں نے کہا: ’’کوئی خفیہ پیغام نہیں تھا، میں نے اس سے چینی اور پتی خرید کر لانے کے لیے کہا تھا‘‘۔ ان پر الزام تھاکہ وہ جرمنی میں القاعدہ کے لیے افراد بھرتی کرنا چاہتے تھے۔اس نے تعصب اور اذیت پسندی پر مبنی اس نامعقول تفتیش کی سائنس سمجھانے کے لیے ماریطانیہ کی ایک کہاوت لکھی :

’’ماہرِ نفسیات ایک ایسے شخص سے ،جو مرغے سے بہت خوف زدہ رہتا تھا، پوچھتا ہے: ’’تم مرغے سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہو‘‘، وہ جواب دیتا ہے :’’مرغا مجھے ترنوالہ سمجھتا ہے اور مکئی کے دانے کی طرح نگل لینا چاہتا ہے‘‘، ماہرِ نفسیات کہتا ہے: ’’تم اشرف المخلوقات انسانوں میں سے ہو، کوئی تمہیں ایسا سمجھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا‘‘، وہ کہتا ہے :’’میں تو یہ بات سمجھتا ہوں ، لیکن مرغا نہیں سمجھتا،جائو مرغے کو سمجھائو کہ میں اس کا ترنوالہ نہیں ہوں ‘‘، اب ماہرِ نفسیات مرغے کو کیسے سمجھائے، وہ تو نہ بات کرتا ہے ،نہ بات سمجھتا ہے‘‘۔

صلاحی کا مطلب یہ ہے کہ ایک بے قصور شخص ایک ضدی ، منتقم مزاج اورمتعصب تفتیش کار کواپنے بے قصور ہونے کا یقین کیسے دلائے ، جبکہ اس نے ایمان کی حد تک یقین کرلیا ہے کہ میرے سامنے جو شخص ہے، وہ یقینا مجرم ہے اور اسے عبرت ناک انجام سے دوچار کرنا اس کا قومی فریضہ ہے‘‘۔

اس کہاوت کو بیان کرنے کا مدّعا یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں اور مرغے میں کوئی فرق نہیں ہے ، سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے حوالے سے اجتماعی سوچ اور ذہنی ساخت کو بدلنا بہت مشکل ہے، لہٰذا وہ ہمیشہ بند گلی میں جاکھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’اے مومنو!بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، (الحجرات:12)‘‘۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’(سوئِ)ظن سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، (صحیح البخاری:5143)‘‘۔

اسلام کا حکم یہ ہے کہ قرائن وشواہد کے بغیر کسی کے بارے میں بدگمانی نہ کرو ،عربی کا مقولہ ہے: ’’مومنوں کے بارے میں اچھا گمان کرو‘‘، بلکہ حدیث پاک میں بندے کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ،حضرت جابر بیان کرتے ہیں:’’میں نے نبی ﷺ کو اپنے وصالِ مبارک سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:

’’تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھے، (صحیح مسلم:2877)‘‘۔حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت پر پورا پورا بھروسا ہونا چاہیے، اُسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہو،قرآنِ کریم میں ہے: (1) ’’آپ کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو!جو( گناہ کر کے) اپنی جانوں پر زیادتی کرچکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،بے شک اللہ تعالیٰ (جس کے لیے چاہے)تمام گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے ،بے شک وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے، (الزمر: 53)‘‘۔

(2 ) حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند یوسف کی تلاش کے حوالے سے اپنے بیٹوں کو نا امیدی سے اجتناب کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے میرے بیٹو! جائو ، یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اوراللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں ، (یوسف:87)‘‘۔

سو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں حسنِ ظن ہی نہیں، بلکہ کامل یقین ہونا چاہیے ، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں بھی حُسنِ ظن سے کام لیں اور بدگمانی سے اجتناب کریں ، سوائے اس کے کہ کسی کے بارے میں ہمارے پاس ایسے قوی قرائن وشواہد ہوں جو غلبۂ ظن یا یقین کا کام دیں ۔ بدقسمتی سے ہمارا سیاسی و سماجی نظام ایسی ہی بدگمانیوں سے آلودہ ہے اور سیاست کے شعبے میں سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تجربات بھی تلخ رہے ہیں۔

ہماری سیاسی جماعتوں نے بڑی فکری ریاضت کے بعد اٹھارہویں آئینی ترمیم تیار کی اور پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے اسے پاس کیا ۔ اس میں ہماری دستوری ساخت میں کافی تبدیلیاں ہوئیں ، بہت سے شعبے اور محکمے مشترکہ فہرست سے نکال کر صوبوں کی تحویل میں دے دیے گئے ، جن میں تعلیم اور صحت بھی شامل ہیں۔ صوبوں کا قومی بجٹ میں حصہ بڑھاکر اٹھاون فیصد کردیا گیا ،مگر ریاستی اداروں کو اس کے بارے میں تحفظات ہیں ۔نیز شفاف انتخابات کے لیے یہ طے کیا گیا تھا :

’’ سابق منتخب حکومت کا دورانیہ ختم ہونے پر وفاق اور صوبوں میں نگراں سیٹ اپ بنایا جائے گا اور نگراں وزیر اعظم کا تقرر موجودہ وزیر اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان بامعنی مشاورت سے ہوگا، اسی طرح ہر صوبے کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان بامعنی مشاورت سے متعلقہ صوبے کے نگراں وزیرِ اعلیٰ کا تقرر کیا جائے گاحتیٰ کہ الیکشن کمیشن اور ادارۂ قومی احتساب کے چیئرمین کے تقررکا طریقۂ کار بھی یہی رکھا گیا‘‘ ۔لیکن ہماری سیاسی جماعتوں نے اپنی اجتماعی دانش سے شفاف انتخابات کے لیے جو طریقۂ کار وضع کیا، اس سے نہ قومی انتخابات غیر جانبدار، آزادانہ ، منصفانہ اور معتبر قرار پائے اورنہ احتساب کا نظام شفاف تسلیم کیا جاسکا۔

تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کی قائدِ حزبِ اختلاف سے بامعنی مشاورت تو دور کی بات ہے، وہ رسمی مشاورت کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں ، اسی بنا پر چیف الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدرِ پاکستان کے نامزد الیکشن کمیشن کے ارکان سے حلف لینے سے انکار کردیا اور بحیثیتِ قوم ہم بند گلی میں جا پہنچے ،سو بند گلی میں جاکھڑے ہونا ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے۔ عملاً ہم یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ہماری اجتماعی سیاسی دانش قومی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہے ،پارلیمنٹ غیر فعال اور غیر سنجیدہ ہے ،صرف احتجاج اور ایک دوسرے پر جارحانہ حملے ہماری پارلیمنٹ کی کارروائی کا طرۂ امتیاز ہے اور اس کھیل میں ہم اخلاقی حدود کو بھی پار کر جاتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر جیسے قومی اہمیت کے انتہائی اہم اور سنگین مسئلے کے بارے میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں دل وجان سے ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہوسکیں ، ہرگروہ بامرِ مجبوری الگ الگ بیان جاری کر کے اپنے فرائض سے سبکدوش ہورہا ہے اور ہماری بے عملی کے سبب ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محصور مسلمانوں کو کوئی ریلیف بھی نہ مل سکا،
5اگست کے اقدام کی واپسی اور استصوابِ رائے کی منزل کا حصول تو بہت دور کی بات ہے۔

سو ہماری مثال ماریطانیہ کی کہاوت کے نفسیاتی مریض کی طرح ہے کہ ’’مرغے کو کون سمجھائے‘‘، نہ ہماری سیاست کامرغا سمجھنے کے لیے تیار ہے ، نہ ہمارا ماہرِ نفسیات اسے سمجھانے پر آمادہ ۔مرغوں کا بے مقصد آپس میں چونچیں لڑاتے لڑاتے زخمی ہوتے رہنا اور پھر رحم طلب نظروں سے ماہرِ نفسیات کی طرف دیکھنا شاید اس کے فائدے میں ہے۔

اس وقت ملک کو جو صورتِ حال درپیش ہے ،اس کے بارے میں اہلِ فکر ونظر متفکر ہیں کہ خدانخواستہ کسی بے تدبیری یا غلط حکمتِ عملی سے کوئی بڑا نقصان نہ ہوجائے ، ہمارا ملک موجودہ حساس صورتِ حال میں کسی بڑے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اہلِ اقتدار کی خود اعتمادی بھی حد درجے کی ہے ، اُنہیں دیکھیں تو لگتا ہے کوئی بات ہی نہیں، سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور معاملات حکومت کی گرفت میں ہیں ۔حکومتی حلقوں سے باہر کسی سے ملیں تو ہر ایک سراپا سوال ہے کہ کیا ہونے جارہا ہے اور کیا ہوسکتا ہے۔

سوال ہر ایک کے چہرے پر لکھا ہے، لبوں کی جنبشوں سے محسوس کیا جاسکتا ہے ، لیکن تسلی بخش جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہم اُن طبقات کی بات کر رہے ہیں جوعملی سیاست سے کوسوں دور ہیں ، اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں ، لیکن ملکی حالات سے تو کوئی لاتعلق نہیں رہ سکتا، پس اندیشے لاحق ہیں۔