روشنی کا سفر- ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 6

"سر میرا کام ماشاءاللہ اچھا چل پڑا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نہ صرف اپنے لیے کمانے میں کامیاب ہو رہا ہوں بلکہ اپنے گاؤں کے غریب لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چل پڑا ہوں۔"
ماشاءاللہ ۔۔ اللہ تعالی کامیابیاں اور برکتیں عطا فرمائیں۔ آج دانیال بہت دنوں بعد اشرف صاحب سے ملنے کے لیے آیا تھا۔

"لیکن سر ایک بات ہے جو مجھے بہت پریشان کر رہی ہے۔"دانیال کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ "وہ کیا؟ " ، اشرف صاحب نے استفسار کیا۔ " گاؤں میں صرف غربت ہی نہیں جہالت بھی ہے ۔ گاؤں میں کوئی ہسپتال نہیں، بچیوں کے لیے کوئی سکول نہیں،اگرچہ بچوں کا ایک پرائمری سکول ہے۔ ماحول میں بدعات اپنے عروج پر ہیں۔ درست غلط اس طرح گڈ مڈ ہیں کہ اصلاح کہاں سے کی جائے کچھ سمجھ نہیں آتا۔" دانیال نے گہرا سانس لیا۔ " دانیال بیٹے ایک بات کہوں۔ تمہیں اب شادی کر لینی چاہیے۔" اشرف صاحب نے موضوع یکسر بدل دیا تھا ۔ دانیال نے حیرت سے ان کی جانب دیکھا۔ " ہاں بیٹے میں چاہتا ہوں کہ جب جب تم مخلوق خدا کی گمراہی پر کڑھو اور لوگوں کی ہمدردی کے لیے آگے بڑھنے کی سعی کرو۔ جب تم اللہ تعالی کی بڑائی کے نفاذ کے لیے محنت کرتے ہوئے آگے بڑھو تو تمہارا حوصلہ بڑھانے کے لیے کوئی تمہارے ساتھ کھڑا ہو۔ اور یہ ساتھ ایک نیک شریک حیات کے سوا اور کس کا ہو سکتا ہے؟" اشرف صاحب شفقت آمیز نگاہوں سے دانیال کو دیکھ رہے تھے۔ گمراہیوں کی جانب گامزن معاشرہ۔۔ اللہ کی بڑائی کا نفاذ۔۔۔شادی۔۔۔ نیک شریک حیات۔۔۔ دانیال کے دماغ میں دفعتاً کھچڑی سی پک گئی تھی کہ لمحہ بھر کو دماغ پر ابھرنے والی سکرین یکسر شفاف ہو گئی اور اس پر ایک عکس سا لہرا گیا۔

"ام احمد۔۔ کیا مجھے ام احمد سے شادی کر لینی چاہیے؟" اس نے سوچا۔ "سر یہ جو اسلامی نظام معیشت آپ نے پچھلے لیکچر میں ہمیں متعارف کروایا کیا یہ صرف لکھنے اور پڑھنے تک ہی محدود ہے یا اس کا کوئی عملی وجود بھی کہیں پایا جاتا ہے۔؟" طلباء کے لیے اسلامی معاشی نظام ایک بالکل نئی بات تھی۔ وہ تو آج تک اسرائیل اور امریکہ کی معاشی پالیسوں سے مرعوب ہوتے آئے تھے، ان کا اپنا دین انہیں کتنی مکمل اور کامیاب معاشی پالیسی دیتا ہے اس حقیقت سے وہ یکسر نابلد تھے۔ اشرف صاحب سوال سن کر دھیرے سے مسکرا دئیے اور پھر فخر سے اپنے طلباء کو بتانے لگے: "اسلامی نظامِ معیشت کے نفاذ کا آغاز دنیا کے مختلف علاقوں میں ہو چکا ہے۔ سونے کے دینار اور چاندی کے درہم جو اسلامی معیشت میں خون کا کام کرتی ہیں، کا آغاز 1992ء میں ہسپانیہ کے شیخ عمر واڈیلو نے کیا۔ جس نے سنتِ رسول صلی اللہ عليہ وسلم ی کو تقریباً ایک صدی بعد پھر زندہ کیا، جس کو ہماری چار نسلیں بھلا چکی تھیں اور آپ کی محنت سے 2010ء میں ملائیشیاء کے صوبے کیلانتن (Kelantan) نے طلائی دینار اورنقرئی درہم کو قانونی حیثیت دے دیں اور سرکاری ملازمین کی رضاکارانہ طور پر پچیس فیصد (25%) تنخواہیں دینار و درہم میں دینے شروع کی۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 7)

اس کے بعد 2012ء میں ملائیشیاء کے صوبے پیرک (Perak) نے بھی سونے کے دینار اور چاندی کے درہم کو قانونی حیثیت دے دیں۔ ان کی تقلید میں ملائیشیاء، انڈونیشیاء، فلپائن، سنگاپور، عراق وغیرہ میں طلائی دینار اورنقرئی درہم کا آغاز ہوا۔ حال ہی میں شیخ عمر واڈیلو صاحب پاکستان میں "شرعی زر" کو جاری کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ 2014ء میں کابل، افغانستان میں اس علاقے کا پہلا دینار اور درہم جاری کیا گیا۔ سونے کی اہمیت کے پیش نظر امریکا کے ریاست 'یوٹاہ (Utah) نے 2007ء میں سونے کے سکّے جاری کر دیے اور اِسے زر قانونی کی حیثیت دی گئی۔ امریکا کی تقریباً دس ریاستیں اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ وہ سونے اور چاندی کو قانونی زر کی حیثیت دے دیں۔ کاغذی کرنسی کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے مختلف ممالک نے سونے اور چاندی کے سکّے جاری کرنے شروع کر دیے۔ جس میں برطانیہ، جنوبی افریقا، کینیڈا، چین،آسٹریا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملائیشیاء میں اوقاف یعنی آزاد بازار کا قیام عمل میں لایا گیا اور پہلے وادیعہ کا قیام اپریل 2013ء میں ملائیشیاء میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر رقوم (شرعی زر) کی منتقلی کے لیے 1999ء میں ای۔ دینار (e–dinar)کا نظام عمل میں لایا گیا۔

جس کی مدد سے دنیا کے کسی کونے میں کوئی بھی دو اشخاص یا تاجر"شرعی زر"کو ایک حساب سے دوسرے حساب میں آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔ جس میں کوئی بینک ملوث نہیں ہوگا۔ دونوں اشخاص e–dinar میں اپنا حساب (Account) کھلوايے گے اور اس ادارے میں بیٹھے وکیل کے توسط سے آپ ایک حساب سے دوسرے حساب میں آسانی سے رقم منتقل کر سکتے ہیں۔ شیخ عمر واڈیلو کی سربراہی میں 1993ء میں "عالمی اسلامی ٹکسال (World Islamic Mint)" کے ادارے کا قیام وجود میں آیا جو "شرعی زر" کی خالصیت، وزن، حجم وغیرہ کے معیار کے یقین دہانی قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتی ہیں اور اسی معیار کو نظر میں رکھتے ہوئے دنیا کے سارے اسلامی ممالک دینار و درہم کو بناتی ہیں اور ان شاء اللہ اسلامی معیشت کے دوسرے ستون مثلاً خان، حرفۃ، بیت المال، حسبۃ، بیت السلم وغیرہ کو بھی جلد ہی عملی صورت پہنائی جائے گی۔"
دانیال کی ام احمد سے شادی کی خواہش جہاں احمد کے تایا اور تائی جان کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی وہیں دانیال کے اپنے والدین خصوصاً ماں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ پڑھا لکھا خوبرو، کاروبار کرتا جوان بیٹا اپنے سے عمر میں بڑی ایک بچے کی بیوہ ماں سے شادی کا خواہش مند تھا۔ وہ اسے سمجھانے کی اپنے تئیں مکمل کوشش کر رہی تھیں مگر جب اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اماں خدیجہؓ کے نکاح کا حوالہ دیا تو انہوں نے بھی اسے سنت نبویؐ جان کر سر تسلیم خم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   تعمیر سیرت میں مطالعہ سیرت کی اہمیت - راحیلہ چوہدری

جو رب پر بھروسہ کرتے ہیں، اس سے اس کا فضل عظیم مانگتے ہیں وہ انہیں یوں بھی نوازتا ہے۔ ام احمد خوشی، غم، شکر گزاری اور بیتے دنوں کی سختیوں اور آنے والے خوشیوں کی آس لیے احمد کے ہمراہ دانیال کے گھر میں موجود تھیں۔ مریم( ام احمد) میں آپ سے اپنی بات کا آغاز ان مسنون الفاظ کے ساتھ کرتا ہوں: "ساری حمد اللہ کے لیے ہے۔ میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس کی مدد چاہتا ہوں۔ اس پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ آج جبکہ مجھے آپ اور احمد پر نگہبان بنا دیا گیا ہے اور میں قیامت کے دن آپ دونوں سے متعلق جواب دہی پر ڈرتا ہوں تو میں ہر ممکن اپنے فرائض کی مکمل بجا آوری کی کوشش کروں گا۔ ایک خواہش جس کا اظہار میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اپنے لیے تو سب جیتے ہیں مریم، گاڑی بنگلہ بچوں کے بہتر مستقبل کی دوڑ میں تو سب لگے ہیں، آئیے ہم دونوں اس روایتی دوڑ اس سطحی زندگی سے ہٹ کر زندگی میں آگے بڑھیں۔" ام احمد حیرت سے پلکیں جھکائے دانیال کی باتیں سن رہی تھیں۔ " آئیں مریم ہم مل کر ایک ایسی زندگی کا آغاز کریں جس کا مقصد تکبیر کا نفاذ ہو۔ ہمارے دلوں میں ہمارے گھر میں ہمارے محلے ہمارے شہر ہمارے پاکستان میں رب کے بنائے اس سارے جہان میں۔۔۔۔ " دانیال عالم جذب میں بول رہا تھا اور مریم کا لرزتا کانپتا ڈرتا ہوا دل اللہ رب العزت سے اس عظیم مقصد کے لیے توفیق اور استقامت مانگ رہا تھا۔

===================