ابا جی - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

میں نہایت چھوٹی تھی جب ہم چوبرجی والے گھر میں شفٹ ہوئے۔ اماں کے بہت سے خدشات میں نئی جگہ پر انجانے ہمسایوں کا خوف بھی شامل تھا۔ لیکن جلد ہی ملنسار ہمسایوں نے اجنبیت کی تمام دیواریں گویا مسمار کر دیں۔ کشمیرن آنٹی،گڈی کی اماں، راجا صاحب، زبیر بھائی، اور ابا جی سے سلام دعا ہو گئی۔

مختلف رنگ و نسل اور ذات پات کے اختلاف کے باوجود ایک بات اس محلے کو یکجا کرتی تھی اور وہ تھا انمول خلوص کا رشتہ ۔ سب ایک دوسرے کی تکلیف کے ساتھی۔ آج ہمارے گھر سے متصل دوسرے گھر کے مالک ابا جی یاد آگئے۔ پورے محلے میں ہر چھوٹا بڑا انہیں ابا جی ہی کہتا تھا۔ محلے میں سب سے زیادہ عمر، اولاد اور رعب دبدبے کا تمغہ ان کے پاس تھا۔ سب اولاد شادی شدہ تھی، شاد تھی آباد تھی۔ اور یہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے، بہو اور ان کے بچوں کے ہمراہ رہتے تھے۔ بیٹے کا نچلا دھڑ بیماری کے باعث مفلوج ہو چکا تھا، اور ابا جی اپنی زندگی میں اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتے تھے۔ ابا جی، نہایت متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔ صاف رنگت، طویل قد، ہر موسم میں پینٹ کوٹ میں ملبوس اور بھاری بھر کم آواز۔ سر پر گوربا چوف کی طرح ایک پھلبہری کا نشان تھا۔ ہاتھ میں چھڑی پکڑے، صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس اور سر پر جناح کیپ پہنے وہ آن بان سے محلے میں نکلتے تھے۔ کم ہی لوگ فطری طور پر کلاس کے حامل ہوتے ہیں۔ اور ابا جی ان میں سے ایک تھے۔ راجن پور میں جج رہ چکے تھے اور میرے والد صاحب کو وہاں کے بہت قصے کہانیاں سنایا کرتے تھے۔

میرے والد صاحب نے ایک مرتبہ پوچھا کہ "ابا جی، وکیل کے بعد جب آپ جج بنے تو کیا فرق محسوس کیا " ۔ ابا جی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔ "میرے بس میں ہو تو تمام وکیل جو جج بننے کی دوڑ میں لگے ہیں، انھیں بتاؤں کہ بکواس کرنے سے بکواس سننا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔" امریکی پاسپورٹ کے حامل تھے سو ہر سال امریکہ میں مقیم بچوں سے بھی ملنے جاتے۔ ان کے گھر میں اس زمانے کے لحاظ سے فون، وی سی آر اور امریکہ کی بہت سی چیزوں کی آسائشیں تھیں۔ کسی کا فون ہوتا تو ان کی بہو نصرت آنٹی کی کئی آوازوں کے بدلے ابا جی کی ایک رعب دار صدا، مٹو کی امی، بہاولنگر سے فون آیا ہے۔ ہم سب شوق سے خالہ سے بات کرنے کے لیے بھاگ پڑتے۔ ابا جی کی سب اولاد اونچے عہدوں پر فائز تھی اور وقتا فوقتا ان کو فون کر کے حال پوچھتے رہتے تھے۔ ابا جی جلد بات ختم کر کے محلے کے سب بچوں کو بٹھا کر راجن پور کے قصے سنایا کرتے تھے۔ ابا جی اور میرے والد صاحب کی عمر میں بہت فرق تھا مگر اکٹھے تاش کھیلنا ان دونوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا، اور ہم سب کے لیے بھی ایک اہم شغل۔ کرسیاں اور میز لگایا جاتا۔ چائے مع لوازمات میز پر رکھی جاتی اور دونوں گھر کے بڑے تاش کھیلتے کھیلتے، پتوں پر لڑ پڑتے۔ ابا جی پتہ پھینک کر پھر اٹھا لیتے کہ یہ ان کا غلط فیصلہ تھا،

یہ بھی پڑھیں:   "بازار حسن" کی سیر کریں ۔حکومتی سرپرستی میں - محمد عاصم حفیظ

اور والد صاحب اس حرکت سے نالاں تھے کہ پتہ پھینکنے سے پہلے ہی سوچ لیا کریں۔ ابا جی امریکہ سے لائی تاش سمیٹتے اور چھڑی لے کر واپس گھر چلے جاتے۔ شروع میں اماں خائف ہو کر ابا سے لڑتیں کہ وہ عمر میں اتنے بڑے ہیں، آپ چھوٹ دے دیا کریں جبکہ والد صاحب کی اصول پسندی آڑے آتی تھی۔ دو دنوں کے اندر دونوں کی حالت غیر ہو جاتی۔ ابا جی دیوار کے پار سے آواز لگاتے، مٹو کی امی چائے بنائیں۔ بشیر صاحب سے کہیں میں تاش لے کر آ رہا ہوں۔ اور ابا فورا کام والی کو کرسیاں لگانے کا حکم دیتے۔ بوڑھوں کے اس بچپنے پر ہم خوب ہنسا کرتے۔ کچھ ہی سالوں میں اماں کی جہاں فہمی کے باعث محلے میں اماں کو سب باجی کہنے لگے، اور ابا جی بھی ان کو باجی ہی کہتے۔ سردیوں میں صحن میں بیٹھے آواز لگاتے، "باجی گاجر کا حلوہ نہیں بنانا ۔ امریکہ سے نئی مشین لایا ہوں، کدو کش کی ضرورت نہیں۔" ''باجی سالن کیا بنایا ہے، چیک کروائیں۔'' اب پاکستان جاؤں تو ساتھ کے گھر میں ان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ان کی ذات اس گھر کی گویا روح تھی۔ صحن میں جھولے پر بیٹھی میں نادانستہ طور پر انتظار کر رہی تھی کہ وہی رعب دار آواز آئے۔ باجی! سالن کیا بنایا ہے، مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ۔ اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔آمین۔