کیا ریاست اپنے شہریوں کو مخصوص لباس کا پابند بنا سکتی ہے؟ حافظ محمد زبیر

خیبر پختونخوا میں فی۔میل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے آفس، پشاور نے 16 ستمبر 2019 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ جس میں تمام مڈل، اسکینڈری اور ہائر اسکینڈری گرلز اسکولز کے ہیڈز کے لیے یہ ہدایت موجود تھی کہ وہ اپنی طالبات کو کہیں کہ اپنے آپ کو ڈھانپنے کے لیے گاؤن، عبایا یا چادر استعمال کریں تا کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی حرکت سے محفوظ رہ سکیں۔

سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلز پر اس نوٹیفکیشن کے حق اور خلاف میں بہت کچھ ریکارڈ پر آیا۔ اوریا مقبول جان، انصار عباسی اور ہارون رشید وغیرہ نے اس نوٹیفکیشن کی خوب حمایت کی جبکہ شاہ زیب خانزادہ اس کی مخالفت میں پیش پیش رہے۔ ذیل میں اس حوالے سے شاہ زیب خانزادہ صاحب کی ایک دو منٹ کی ٹوئٹر ویڈیو اور اس کا تجزیہ پیش خدمت ہے۔

شاہ زیب خانزادہ صاحب کی کل بحث جس مرکزی نقطے کے گرد گھوم رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کسی مخصوص قسم کے لباس کا پابند بنائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ مذہبی پوزیشن لے لیں یا لبرل، ہر دو اعتبار سے ریاست یہ حق رکھتی ہے اور استعمال بھی کرتی ہے۔ مذہبی پوزیشن لے کر ہم بات کریں تو قرآن مجید نے بالغ بچیوں کو پردے کا حکم دیا ہے جیسا کہ سورۃ الاحزاب کی آیت 59 کا مفہوم ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، آپ مسلمان عورتوں کو کہہ دیں کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے اوپر ایک بڑی چادر اوڑھ لیا کریں۔ اب رہی یہ بات کہ کیا مذہب، ریاست کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو مخصوص لباس کا پابند بنائے؟ تو اس کا جواب "ہاں" میں ہے۔ سورۃ الحج کی آیت 41 میں اللہ عزوجل اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز، زکوۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کریں گے۔

تو مذہبی پوزیشن لینے والے کے لیے تو کوئی اشکال نہیں کہ مذہب کے مطابق ریاست معروف کا حکم دے گی اور منکر سے روکے گی اور یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اور مذہبی بیانیے کے مطابق معروف سے مراد وہ ہے کہ جس کا مذہب نے حکم دیا ہے اور منکر وہ ہے کہ جس سے مذہب نے روکا ہے۔ تو مذہب نے بالغ بچیوں کو پردے کا حکم دیا ہے تو یہ معروف ہے اور اس کا ریاست حکم دے گی۔ اور بے پردگی سے منع کیا ہے تو یہ منکر ہے اور اس سے ریاست روکے گی۔ اب اس نوٹیفکیشن کی عبارت نکال کر اگر آپ دیکھیں تو وہاں دو چیزیں اہم ہیں؛ ایک یہ کہ یہ نوٹیفکیشن مڈل اور اس سے ہائر کلاسز کی بچیوں کے لیے ہے اور مڈل کلاس کی بچی کم از کم گیارہ سال کی ہوتی ہے اور پاکستان میں بچیوں کی بلوغت کی اوسط عمر یہی ہے۔ دوسرا اس نوٹیفکیشن میں بھی ہدایت (instruct) کے الفاظ ہیں کہ ہیڈز اپنی طالبات کو انسٹرکٹ کریں گی۔ تو انسٹرکشن میں آپ کو کیا ایشو ہے؟ یہ وہی تعبیر ہے کہ جسے قرآن مجید نے امر بالمعروف کا نام دیا ہے کہ معروف کا حکم کرنا، یہ ہر صاحب اختیار کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر آپ سیکولر پوزیشن لے لیں تو دنیا میں اس وقت 15 ریاستیں ایسی ہیں کہ جنہوں نے اپنے شہریوں یا سرکاری ملازمین کے لیے عوامی مقامات پر نقاب (face covering) کو بین کیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مظفرآباد ميں پوليس گردی - توقیر ریاض

ان میں فرانس ، جرمنی ، آئر لینڈ ، نیدر لینڈ ، ڈنمارک ، ناروے ، آسٹریا اور بیلجیئم وغیرہ شامل ہیں۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ان ریاستوں نے غلط کیا ہے؟ تو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ کس پوزیشن میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ان ریاستوں نے غلط کیا ہے؟ مذہبی پوزیشن میں کہہ رہے تو مذہبی پوزیشن تو یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ریاست کے لیے اپنے شہریوں کو مخصوص لباس کا پابند بنانا جائز ہے۔ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیکولر پوزیشن لے کر یہ بات کر رہے ہیں تو سیکولر پوزیشن میں فائنل اتھارٹی کون ہے جیسا کہ مذہبی پوزیشن میں تو وہ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ سیکولر پوزیشن میں فائنل اتھارٹی تو عوام ہیں یا دوسرے الفاظ میں عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور انہوں نے ہی تو حجاب کو لاگو کیا تھا۔

اور مذہبی پوزیشن لینے والوں پر رہا یہ اعتراض کہ "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ" کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے تو اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ دین کو اختیار کرنے میں کوئی جبر نہیں ہے یعنی کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا جائے گا۔ تو جس نے آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا ہے یا کیا ہوا ہے تو اس کے لیے تو جبر ہی جبر ہے۔ شریعت تو نام ہی جبر کا ہے۔ جبر کسے کہتے ہیں، پابندی کو؟ اور شریعت کا دوسرا نام پابندی ہی تو ہے کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔

تو شاہ زیب خوانزادہ صاحب نے اپنے حق میں اس آیت کو بھی غلط نقل کیا ہے۔ دوسری طرف شاہ زیب خوانزدہ صاحب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ والدین کو تو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے اولاد کو کچھ پہننے پر مجبور کر سکیں، لیکن ریاست کو نہیں ہے۔ تو یہ تو ان کے موقف میں کھلا تضاد ہے۔ جب دین میں جبر نہیں ہے تو والدین کیسے جبر کر سکتے ہیں؟ اگر والدین جبر کر سکتے ہیں تو مطلب دین میں جبر ہے۔ پھر یہ کہ اگر ریاست کو اپنے شہریوں کو لباس کے حوالے سے پابند کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے تو اسکول کے بچے اور بچیاں اگر مکمل لباس اتار کر اسکول آنا شروع ہو جائیں تو کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ انہیں کچھ پہن کر آنے پر مجبور کرے۔ اگر ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں کچھ نہ کچھ پہننے کا کہے تو آپ نے ریاست کا اختیار تو مان لیا۔ بڑی تعداد میں سیکولر ریاستوں میں مثلا اٹلی، یونان اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں بھی سوشل نیوڈٹی (social nudity) باقاعدہ قانونی اعتبار سے قابل سزا جرم ہے۔ یہ سزا بعض اوقات ہزاروں ڈالرز کی صورت میں اور بعض اوقات قید کی صورت میں ملتی ہے۔ تو سیکولر ریاستیں بھی اس وقت تک یہ پوزیشن پوری طرح سے نہیں لے سکی ہیں کہ لباس انسان کا پرسنل ایشو ہے۔ لباس ایک پہلو سے انسان کا پرسنل ایشو ہے اور ایک پہلو سے پبلک ایشو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

ایک اعتبار سے انسان کو قانونا مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے لیکن دوسرے اعتبار سے اسے قانونا مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان کسی حد تک اپنے لباس میں آزاد ہے اور کہاں تک ریاست اس کو مجبور کر سکتی ہے؟ تو مذہبی پوزیشن لینے والے کے لیے تو اس سوال کا جواب مذہبی حدود ہیں جبکہ سیکولر پوزیشن لینے والے کے لے اس کی حدود عقل اور معاشرہ طے کرتا ہے۔ اور عقل اور معاشرے دونوں ہی یہ کہتے ہیں کہ بالغ بچیوں کو حجاب کرنا چاہیے کہ ایسی بچیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات زیادہ ہوتی ہیں کہ جو حجاب نہ کرتی ہوں۔ اور یہی مذہب میں بھی حجاب کے حکم کی بنیاد ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ حجاب والی لڑکیوں کو بھی تو چھیڑا جاتا ہے لہذا اصل چیز بیمار ذہنیت ہے نہ کہ عورت کا لباس تو یہ ایسی ہی منطق ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ جس گھر پر تالا پڑا ہو تو اس میں بھی چوری تو ہو جاتی ہے لہذا کرنے کام گھر کو تالہ لگانا نہیں ہے بلکہ چور کی ذہنیت درست کریں۔ تو بھئی آپ گھر کو تالا لگانا چھوڑ کر چوروں کی ذہنیت درست کرنا شروع کر دیں لیکن دوسروں کو تو ایسی پٹیاں نہ پڑھائیں کہ ان کا نقصان ہو جائے۔

پھر شاہ زیب خانزادہ نے چلڈرن پروٹیکشن کی ایک این۔جی۔او "ساحل" کی رپورٹ کے حوالے سے ایک فضول بحث شروع کر دی کہ "ساحل" کی رپورٹ کے مطابق 2018ء میں اسکولز میں بچوں کے ساتھ بدکاری کے واقعات 44 ہوئے ہیں جبکہ مدارس میں 46 ہوئے ہیں تو مدارس میں دو زیادہ ہوئے جبکہ وہاں بچوں نے اپنے آپ کو کور کیا ہوتا ہے، مکمل اسلامی لباس میں ہوتے ہیں لہذا مسئلہ لباس کا نہیں بلکہ بیمار ذہنیت کا ہے۔ تو آپ بچوں کی پروٹیکشن چاہتے ہیں تو بیمار ذہنیت کو ختم کریں، نہ کہ مخصوص لباس پر زور دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چائلڈ ایبوز میں دونوں فیکٹرز انوالو ہیں؛ بیمار ذہنیت بھی اور لباس بھی۔ ایک کے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرا فیکٹر موجود نہیں ہے۔ ہم یہ عرض کر چکے کہ عورت کے بے لباس ہو کر گھومنے پھرنے سے ریپ کے کیسز بڑھ جائیں گے اور یہ جامعہ اشرفیہ کے مفتی صاحب نہیں کہہ رہے بلکہ ایک معروف برطانوی اخبار "دی انڈی پینڈنٹ" کی سروے رپورٹ ہے کہ 55 فیصد برطانوی مردوں اور 41 فی صد عورتوں کی رائے ہے: the more revealing the clothes a woman wears, the more likely it is that she will be harassed or assaulted

نوٹ: "ساحل" کی رپورٹ ہم نے حاصل کی ہے، اس کے نمبرز کی روشنی میں کل ان شاء اللہ، ایک جگہ اسی موضوع پر ایک تفصیلی ریکارڈنگ بھی کروانی ہے۔