تعلیمی اداروں میں حجاب پر سیکولر طبقے کی چیخ و پکار - محمد عاصم حفیظ

خیبر پختونخوا کے دو اضلاع کی جانب سے گرلز سکولوں میں ڈسپلن اور لڑکیوں کو حجاب کی پابندی کا نوٹیفیکشن کیا جاری ہوا، ملک بھر کے لبرل و سیکولر طبقے کی چیخ و پکار اسی وقت شروع ہو گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم پر خاموش رہنے والا این جی اوز زدہ طبقہ اپنے بلوں سے نکل کر یوں آہ و پکار کرتا نظر آیا جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہو۔ الیکٹرانک میڈیا پر پروگرامز شروع ہو گئے اور حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔ بدقسمتی سے ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار حکومت یہ پریشر چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر سکی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ نے بذات خود مداخلت کرتے ہوئے اس نوٹیفیکشن کو کالعدم کرا دیا۔ وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسف زئی نے رات گئے ہنگامی پریس ریلیز جاری کرکے اس نوٹیفیکشن کو واپس کرنے کا اعلان کیا۔

اس واقعے سے آپ ارض پاک میں لبرل و سیکولر طبقے کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف دو اضلاع میں مقامی سطح پر جاری ہونیوالے ایک نوٹیفیکشن کو کس طرح قومی ایشو بنا دیا اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا کی تیز ترین مہم کے ذریعے اس کو چند گھنٹوں میں واپس بھی کرا دیا۔

سوشل میڈیا پر تو مختلف سیکولر صحافیوں اور شخصیات نے عبایا و چادر اوڑھنے کے اس ہدایت نامے کو آڑے ہاتھوں لیا ہی لیکن الیکٹرانک میڈیا کی چیخ و پکار اس سے کہیں زیادہ تھی۔ جیو ٹی وی نے اپنے مارننگ شو میں اس کا خوب مذاق اڑایا اور شدید تنقید کی۔ اس واضح قرآنی حکم پر خوب رائے زنی کی۔ میڈیا کی پلاننگ کا اندازہ اس بات سے بھی لگا لیں کہ ایک ٹی وی شو میں کسی تجزیہ نگار نے اس کے دفاع کی کوشش کی تو اینکر نے اسے بولنے ہی نہ دیا، بار بار اس کو ٹوکا گیا۔ یوں باقاعدہ پلاننگ اور بھرپور پریشر کی بدولت اس نوٹیفیکشن کو رات گئے واپس کرایا گیا۔ حکومت بھی ایسی گھبرائی کہ صبح دفاتر کھلنے کا انتظار بھی نہ کر سکی اور وزیر اعلیٰ نے فوری مداخلت کرکے لبرل و سیکولر طبقے کو خوش کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   طلبہ سیاست، چند ناخوشگوار مشاہدات - محمد عامر خاکوانی

دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے لڑکیوں کو باحجاب بنانے کے اس ہدایت نامے کو خوب سراہا گیا۔ ٹوئٹر پر "حجاب اسلامی تہذیب کی پہچان" کے عنوان سے ٹاپ ٹرینڈ بنایا گیا۔ ہزاروں صارفین نے اس فیصلے کو شاندار قرار دیتے ہوئے پورے ملک میں عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن بڑے پیمانے پر عوامی حمایت بھی اس نوٹیفیکشن کو نہ بچا سکی اور ریاست مدینہ میں حجاب کی بات کرنا ہی جرم بنا دیا گیا۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اس پردے و حجاب اور اسلامی احکامات کے معاملے پر لبرل و سیکولر طبقے نے اسلام کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیا ہوا۔ چند روز پہلے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور نے کیمپس میں لڑکے لڑکیوں کے اکھٹے بیٹھنے پر پابندی لگائی تو یہ نوٹیفیکشن بھی چند گھنٹوں میں ہی واپس کرا دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔ اگر حجاب کی بات ہو تو لبرل و سیکولر طبقہ شخصی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن یہی اصول تب نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ جب کسی لڑکی کو باحجاب ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں ملتا یا کسی مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جب فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں حجاب پر پابندی لگتی ہے تو تب انہیں انسانی و شخصی حقوق یاد نہیں آتے۔ ٹویٹ نہیں کئے جاتے، پروگرامز کرکے ایشو نہیں بنایا جاتا۔ جب سکولز میں کلرز ڈے اور ہالووین منائے جاتے ہیں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات میں خاص لباس پہن کر شرکت کا پابند بنایا جاتا ہے، تب شخصی آزادی اور مرضی کا لباس پہننے کا اصول یاد نہیں رہتا۔ کئی تعلیمی اداروں میں زبردستی حجاب سے روکا جاتا ہے۔ ایسے واقعات روز بروز ہوتے ہیں کہ جب محض حجاب کی وجہ سے کسی لڑکی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ لیکن افسوس کہ اس معاملے پر کوئی نہیں بولتا اور حکومت کے کان پر بھی جوں تک نہیں رینگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے ہی آئے گا - ڈاکٹر راحت جبین

اگر لڑکوں کو مغربی تہذیب کے تحت سکول میں ٹائی باندھنا سکھایا جائے تو وہ حلال ہے۔ اسے یونیفارم کا باقاعدہ حصہ بنایا جاتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اگر لڑکیوں کو اسلامی تہذیب کے تحت سکول میں حجاب کا بولا جائے تو وہ حرام ہے؟ کلرز ڈے، ہالووین اور ویلنٹائن ڈے کے خاص رنگوں والے لباس بھی جائز، ان پر کوئی شور نہیں، کوئی پوسٹ نہیں لیکن اگر حجاب کی بات ہو جائے تو چیخیں آسمان تک جاتی ہیں۔

اگر فرانس و مغربی ممالک میں حجاب کے خلاف قانون سازی ہو تو کسی کو اعتراض نہیں۔ لباس کی چوائس کا قانون بھی لاگو نہیں ہوتا۔ کوئی سماجی کارکن اس پر آواز نہیں اٹھائے گا لیکن اگر ایک ایسے علاقے کہ جہاں پہلے ہی 80فیصد سے زائد لڑکیاں باحجاب ہوتی ہیں، وہاں ڈسپلن کا حصہ بنایا جائے تو طوفان آ جاتا ہے۔

ٹائی اور حجاب دونوں پہناوے ہیں لیکن مغربی تہذیب کی نقل جائز ہے۔ اپنی اسلامی تہذیب جائز نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لبرل و سیکولر مغرب زدہ گروہ ہی ملک کے طاقتور ترین طبقات بن چکے ہیں کہ جب چاہتے ہیں اپنی مرضی کا حکمنامہ جاری کرالیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں منسوخ کرا لیتے ہیں۔ ملک کے محب وطن اور دیندار طبقات کو سوچنا ہوگا کہ کیوں اسلامی احکامات پر عمل کو ایک جرم بنایا جا رہا ہے ۔ملک میں جاری لادینیت اور سیکولر و لبرل لہر کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کے نام پر بنی اس مملکت خداداد میں اسلامی احکامات کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔