بےحسی آدھی موت ہے - قدسیہ ملک

''ارے کیا بتاؤں سارے لوگ دیکھ رہے تھے، مگر مجال ہے جو کسی نے کچھ کہا ہو۔'' کسی نے کچھ نہیں کہا، میں نے حیرانی سے پوچھا۔ "ارے کہنا تو دور کی بات لوگ مجھے دیکھ بھی نہیں رہے تھے۔ اور ان کے جانے کے بعد مجھے دیکھ دیکھ کر ہنس بھی رہے تھے۔" وہ تاسف سے بولیں۔

واقعہ یوں ہے کہ ایک خاتون کے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ وہ ابھی اپنی گلی میں پہنچی ہی تھیں کہ راہزنوں نے ان کا پیچھا کرتے کرتے ان کے گھرکے قریب گن پوائنٹ پر ان سے تمام نقدی زیورات چھین لیے اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کا پرس بھی لے کر چلتے بنے۔ واقعے کے بعد اہل محلہ جمع ہوئےاور ہر ایک کا یہی کہنا تھا کہ اتنا روپیہ لے کر ہی کیوں گئیں، آپ ہی کا قصور ہے۔ مطلب بندہ ایک تو نقصان برداشت کرے، ڈکیتی کے بعد جان بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کرے یا لوگوں کو اپنی صفائیاں پیش کرتا رہے، یا پھر اس بے حس معاشرے پر روتا رہے۔

دنیا نیوز میں عمارہ گوندل لکھتی ہیں "روزانہ ہمارے سامنے کتنے ہی حادثات ہو کر گزرتے ہیں۔ ٹی وی پہ مسلسل بریکنگ نیوز چلتی ہیں۔ مگر ہم تو ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ ہم سوائے اپنے چند لمحے سوگ کی نظر کرنے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ہم میں کوئی قائد کی روح تھوڑی بستی ہے۔ ہم کسی نیلسن منڈیلا کے علاقے کے باسی نہیں ہیں۔ ہم حسین ابن علی جتنے بہادر نہیں کہ ظالم کے سامنے سر اٹھا سکیں۔ یاد رکھیں اپنے اردگرد اپنے ہم جنسوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لیے کسی بہت بڑے عزم یا بڑی بہادری کی ضرورت نہیں ہے، صرف احساس کی ضرورت ہے۔ آج جو آگ ہمارے پڑوس میں ہمارے ہم جنسوں کو جھلسا رہی ہے وہ ضرور کل کو ہمارے تک بھی پہنچے گی، اگر ہم اسی طرح خواب غفلت میں کھوئے کسی اقبال کے انتظار میں بیٹھے رہے تو نقصان ہمیں ہی ہوگا۔ اگر آج ہم اپنے راحت کدے سے نکل کر دوسروں کیلۓ نا لڑے تو کل کو ہماری التجائیں بھی بے سود جائیں گی"۔


بے حسی آدھی موت ہے

یعنی ہم لوگ نیم زندہ ہیں

ڈاکٹراظہر وحید لکھتے ہیں "بےحسی کا زہر ایک نشے کی طرح بتدریج رگ و پے میں اُتر جاتا ہے اور بالآخر فناکے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ ہر خود غرض بے حس ہوتا ہے اور ہر درد مند ایک حساس دل کا مالک ہوتا ہے۔ بے حسی یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری اور باطنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائے۔ ظا ہری ذمہ داریاں حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہیں اور باطنی ذمہ داریا ں حقوق اللہ کا زمرہ ہیں۔ ظاہر اور باطن میں فرق بغرضِ تفہیم ہے۔ جب تفہیم مکمل ہوجاتی ہے تو فرق نکل جاتا ہے۔ تفریق ختم ہو جاتی ہے۔ظاہر اور باطن میں ثنویت کا ایک ربط ضرورہے لیکن اس ربط میں ہمیشگی نہیں ہے ۔ ثنویت کا تعلق صرف انسانی شعور کے ساتھ ہے،وگرنہ حق اور مظاہرِ حق سب لباسِ حقیقت میں ہیں۔ اور حقیقت میں دوئی کا شائبہ نہیں۔اس طرح حقوق العبادسب کے سب حقوق اللہ ہی ہوتے ہیں، کیونکہ بندے سارے کے سارے اللہ کے بندے ہی تو ہوتے ہیں۔ بےحسی حقوق کا نعرہ بلندکرتی ہے لیکن اپنے فرائض کی آواز پر کان نہیں دھرتی۔ ایک حساس دل اپنے فرائض تو کیا‘ نوافل تک ادا کرنے میں منہمک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے اکثر محلِ قرب میں پایا جاتا ہے"۔

ہم سب نے شاید بنی اسرائیل کا وہ واقعہ پڑھا ہو جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کے دور میں ایک بستی پر عذاب کا فرمان جاری کیا۔ فرشتون نے عرض کی یا الٰہ بے شک وہ بستی ظلم و زیادتی، ناانصافی بےحیائی اور تمام گناہوں کا مرکز بن چکی ہے لیکن وہاں آپ کا ایک نیک بندہ موجود ہے جو دن رات آپ کی عبادات مین مصروف رہتا ہے۔ دن میں طویل قیام اور راتوں میں طویل سجدے اس کا محبوب مشغلہ ہیں۔ اللہ تعالٰی فرماتاہے "عذاب اسی کے گھر سے شروع کرو۔اس نے میری اتنی نافرمانی ہونے کے باوجود خاموشی و بے حسی اختیار کیے رکھی۔ کسی کو کبھی معروف کا حکم دیا نہ منکر سے روکا۔ وہی سب سے زیادہ نافرمان ہے۔ عذاب کا سب سے بڑامحرک وہی ہے"۔ ہم معاشرے کو ٹھیک نہیں کر سکتے مگر کم از کم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح تو کہہ سکتے ہیں۔ ہمارا ایمان بھی ہم سے یہی تقاضہ کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: تم میں سےجوبھی برائی دیکھے تووہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تودل سے روکے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ صحیح مسلم حدیث نمبر (49)۔

مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی برائی جو آپ کے سامنے ہو رہی ہے، وہ برائی ختم ہونی چاہیے، چاہے وہ آپ کے ہاتھ سے ختم ہو یا کسی اور کے ہاتھ سے، تو اگر اپنے ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو پھرزبان سے روکیں، آپ کو یہ نہيں سوچنا چاہیے کہ وہ سنتے ہیں یا آپ سے اعراض کرتے ہیں بلکہ آپ پر تو صرف اس کی تبلیغ ہے۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالی آپ کے کلام کی بنا پر ان میں سے کسی ایک کے دل میں ہدایت ڈال دے، اگر آپ نہ روکیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان آپ کے ذہن میں یہ دلیل ڈالے کہ وہ تو آپ کی بات ہی نہیں سنیں گے، اس لیے آپ برائی کو نہ روکیں۔ اردو ویب پر مشہور محقق متلاشی بےحسی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں "ہماری نوجوان نسل اس بات سے بےخبر ہے کہ وہ سائنس جس کی بناپر آج کفار ہم پر مسلط اور حاوی ہیں، اُس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی تھی۔ ہمیں وہ منظر بھلا دیا جاتا ہے، جب بغداد میں ہلاکو خان نے نہ صرف لاکھوں مسلمانوں کو خون میں نہلایا بلکہ اُن کی متاع، ان کی کئی قیمتی کتابوں کو دریا میں بہا دیا گیا، اور بقیہ اہم کتابیں وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ اسی درد کو دل میں لیے اقبال کہتا ہے


غرض وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھیں اُن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ


دشمن ہم پر ہر طرف سے وار کیے جا رہا ہے۔ مگر افسوس ہم ہیں کہ دشمن کے وار روکنے کے بجائے، اُسے اپنا دوست اور ہمدرد سمجھ کر اس دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہم قرآنِ مجید کے ان کھلے اور واضح ارشادات کو بھول بیٹھے ہیں۔ جن میں سے ایک جگہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔ اور یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں۔