کتابتِ وحی کا عظیم کارنامہ!…(2) حافظ محمد ادریس

گیارہ کاتبین صحابہؓ کے نام اور مختصر تعارف اس سے پہلے روزنامہ''دنیا‘‘میں چھپ چکا۔ باقی بائیس صحابہؓ کے نام اورتعارف آج کی اشاعت میں پیش خدمت ہے: ۔
حضرت عامر بن فہیرہؓ
آپ‘ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے غلام تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں صحابہ کے لیے تدریس شروع کرنے سے قبل ہی یہ مسلمان ہوچکے تھے۔ حضرت عامرؓ کو بھی جملہ ضعفا صحابہ کی طرح مکہ میں عذاب دیا جاتا تھا‘ لیکن آپ ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓنے ہجرت کی تو آپؓ ان کے ساتھ ردیف تھے۔ حضرت عامر بن فہیرہؓکو بیئرمعونہ کے روز بنی کلاب کے ایک آدمی نے نیزہ مار کر شہید کردیا تھا۔ جب آپ کو نیزہ مارا گیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: فزت برب الکعبۃ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد آپ کا جسم آسمان کی طرف اٹھ گیا۔ جب اس بات کی خبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا کہ اسے ملائکہ نے دفن کیا ہے اور علییّن میں اتارا ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ‘ امام ابن کثیر‘ المجلد الاول‘ مطبوعہ دارِ ابن حزم‘ بیروت‘ الطبعۃ الاولیٰ‘ ص۱۱۱۶)

حضرت زید بن ثابتؓ
جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت آپ کی عمر گیارہ سال تھی۔ آپ صغیرسنی کی وجہ سے غزوۂ بدر اور احد میں شریک نہیں ہوئے۔ آپ نے سب سے پہلے غزوۂ خندق میں شرکت کی‘ پھر اس کے بعد تمام معرکوں میں شریک رہے۔ دانا‘ عقل مند‘ عالم اور حافظِ قرآن تھے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حکم دیا کہ آپ یہود کی تحریر اور ان کی عبرانی زبان کو سیکھیں ‘تاکہ جب بھی ان کی کوئی تحریر آئے تو آپ پڑھ کر سنائیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے بارے میں ارشاد ہے کہ میری امت میں فرائض کے سب سے بڑے عالم زیدبن ثابتؓ ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے حکم پر ان کے دورِ خلافت میں آپؓ ہی نے قرآن کریم جمع کیا اور حضرت عمرفاروقؓکے دور خلافت میں حج کے دوران آپ کو دومرتبہ مدینہ کا امیر مقرر کیا گیا۔ ۵۴ھ میں آپ نے وفات پائی۔ (البدایۃ والنہایۃ‘ محولہ بالا‘ ص۱۱۱۴-۱۱۱۵)
حضرت السجّلؓ

سنن ابوداؤد کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت السجل‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔زیادہ معروف نہیں ہیں۔ ابوالجوزاء نے ابن عباسؓ سے آیت یوم نطوٰی السماء کطی السجل للکتب (الانبیاء ۲۱: ۱۰۴) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ سجل‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔ نافع نے ابن عمرؓسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاتب کا نام سجل تھا۔ (اُسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ اردوترجمہ‘ ج۲‘ مطبع مکتبہ خلیل‘ لاہور‘ ص۸۰۸)
حضرت سعد بن ابی سرحؓ
حضرت سعد بن ابی سرحؓ آپؐ کے صحابی ہیںاور کاتبین ِوحی میں شمار ہوتے ہیں۔عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ان کے بیٹے ہیں۔ ان کو بھی صحابیت کا درجہ حاصل ہے۔
حضرت عبداللہ بن ارقمؓ
آپ فتح مکہ کے سال مسلمان ہوئے۔ کتابت جانتے تھے۔ قبول اسلام کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا اور کاتب وحی بنے۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ آپ جو کام کرتے اس کا حق ادا کرتے اور سب سے آگے بڑھ جاتے۔ پوری محنت اور مکمل یکسوئی سے ہر کام کرتے تھے۔ آپ ‘ حضور نبیﷺ کے بادشاہوں کی طرف بھیجے گئے خطوط کو تحریر کرتے تھے اور آپؐ کی طرف سے ان پر مہرنبوت لگا دیتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور میں بھی آپ ان کے کاتب رہے اور حضرت عمرؓبھی بطور امیرالمومنین آپ سے سرکاری خطوط کی کتابت کرواتے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۶-۱۱۱۷)
حضرت عبداللہ بن زیدؓ

پورا نام عبداللہ بن زید بن عبدربہ الانصاری ہے۔ آپ کی آواز خوب صورت اور بلند تھی۔ آپ مؤذن بھی تھے۔ابتدائی دور میں مسلمان ہوچکے تھے۔ عقبہ اولیٰ کے ستر آدمیوں میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بدر اور احد کے معرکوں میں شرکت کی۔ آپ کی سب سے بڑی منقبت وفضیلت یہ ہے کہ آپ نے خواب میں اذان اور اقامت کے الفاظ وکلمات سنے اور اپنا خواب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ اذان پڑھیں؛ چنانچہ اولین موذن وہی تھے۔ بعد میں حضرت بلالؓ اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ اور دیگر صحابہؓ کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ان کا خواب سننے کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ یہ خواب سچا ہے۔ یہ بلال کو لکھوا دو‘ بلاشبہ وہ تم سے زیادہ دل پسند اور بلند آواز ہیں۔ آپ نے ۶۴سال کی عمر میں ۲۳ھ میں وفات پائی اور حضرت عثمان بن عفانؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔(البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۷) [حضرت عمرؓ نے بھی خواب میں یہی الفاظ سنے تھے۔ یہ خوب صورت حسنِ اتفاق تھا]۔

حضرت خالد بن ولیدؓ
حضرت خالد بن ولیدؓ بھی آنحضورؐ کے کاتبین میں شمار ہوتے ہیں۔ صائب الرائے‘ بڑے دلیر اور قابل تعریف خصائل کے حامل تھے۔ خالد بن ولیدؓ خود فرماتے ہیں کہ میں نے جاہلیت اور اسلام میں کبھی شکست نہیں کھائی۔ حدیبیہ کے بعد مدینہ آکر داخلِ اسلام ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ اور بعد میں خلفیۂ رسول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دور میں جس فوج میں بھی آپ کو بھیجا‘ ہمیشہ سپہ سالار بنا کربھیجا۔ حمص کے قریب دثرت نام کی ایک بستی میں آپ نے بستر مرگ پر وفات پائی اور حسرت سے کہا کہ ہرجنگ میں شہادت کی تمنا تھی‘ مگر شہادت نصیب نہ ہوسکی۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۳)
حضرت عبداللہ بن سعدؓ(ابی السرّح)

حضرت عثمانؓ کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت عثمانؓ کی والدہ نے آپ کو دودھ پلایا تھا۔ آپ بھی کاتب وحی تھے۔ بدقسمتی سے اسلام سے ارتداد اختیار کرکے مشرکین مکہ کے ساتھ مل گئے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ نے جن لوگوں کے قتل کا حکم دیا تھا‘ ان میں یہ بھی شامل تھے‘ پھرحضرت عثمانؓنے ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ طلب کی تھی۔ اس کے بعد پھر یہ مسلمان ہوگئے اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔ ۳۶ھ میں نماز پڑھتے ہوئے آپ کی وفات ہوئی۔(البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۷)
حضرت العلاء بن الحضرمیؓ
حضرت العلاء بن الحضرمیؓ کا نام عباد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین وحی میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو شاہ منذر بن ساوی کے پاس بھیجاتھا‘ پھر جب بحرین فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بحرین کا امیر مقرر کیا۔ وصال النبیؐ کے بعد حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بھی آپ کو اس علاقے کی امارت پر قائم رکھا‘ لیکن حضرت عمرؓنے آپ کو بحرین کی امارت سے ہٹا کر بصرہ کا امیر مقرر کردیا‘ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ یہ ۲۱ھ کا واقعہ ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۸)

حضرت العلاء بن عقبہؓ
حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ حضرت العلاء بن عقبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کرتے تھے۔ واقدی کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی شاخ بنی سیح کو جاگیر دی اور اس کے متعلق آپؐ کے حکم سے حضرت العلاء بن عقبہؓ نے تحریر لکھی اور اس دستاویز پر اپنی گواہی بھی ثبت کی۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۸-۱۱۱۹)
حضرت محمد بن مسلمہؓ
حضرت محمد بن مسلمہؓ انصار کے مشہور صحابہ میں سے تھے۔ انھوں نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کے اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کے درمیان مواخاۃ قائم کی۔ بدر اور بعد کی تمام جنگوں میں آپ شریک رہے۔ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام امیر مقرر کیا۔ نبی کریمﷺ کے حکم سے آپ نے مختلف وفود کیلئے تحریریں لکھیں۔ ۴۳ھ میں وفات پائی۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۹)
حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ

احادیث میں آپ کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین میں کیا گیا ہے۔ آپؓ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کے بھائی تھے۔ امام مسلم نے حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابوسفیانؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میرے بیٹے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: بہت اچھا۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۹)
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ
آپ کا تفصیلی تذکرہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں بھی ہے۔ ابن عساکر اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے ہی حصین بن نضلہ اسدی کی جاگیروں کی کتابت کی تھی‘ جنہیں رسول کریمﷺ نے ان کے قبولِ اسلام کے وقت اپنے حکم سے جاگیر دی تھی۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ کاتب ہیں‘ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے سامنے بیٹھ کر کتابت کرتے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ‘محولہ بالا‘ ص۱۱۱۹)