بارش کا ساکن پانی اور بلدیاتی اداروں کی غفلت - محمد عثمان

3500 کلومیٹر اور 13210 مربع میل پر پھیلا شہر کراچی مملکت خدادا کا معاشی حب کہلاتا ہے۔ بڑے معاشی ، تعلیمی اور انڈسٹریل ادارے اس شہر کی پہچان ہیں، لیکن اس شہر سے لاپرواہی کی انتہاء ہوگئی ہے۔ موجودہ بارشوں کے سسٹم سے زیادہ متعلقہ اداروں کی غفلت سے ہونے والی تباہ کاریوں پر کراچی کی عوام سخت نالاں ہے، اداروں کو کوسا جا رہا ہے اور عملہ کو ہٹ دھرمی اور لاپرواہی پر سخت سست کہا جا رہا ہے، جو درست بھی ہے۔ بھاری بھرکم ٹیکسز کا بوجھ عوام انہی سہولیات کے پیش نظر اٹھاتی ہے، جو ان کو بہم نہیں پہنچائی جارہیں، جس سے عوام کو قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

متعلقہ اداروں میں اس وقت تین بڑے اور نمایاں ادارے ہیں کراچی الیکٹرک، واٹر & سیوریج بورڈ اور بلدیاتی ادارے۔

کراچی الیکٹرک سفید ہاتھی، اور کراچی کی پسی ہوئی عوام پر تن تنہا بلا شرکت غیرے قابض مافیا ہے، جس پر اب کرنٹ سے ہلاکت کی صورت میں ایف آئی آر بھی درج نہیں کروائی جاسکتی۔ اس کا حل فی الحال ندارد، اگرچہ LetsCleanKE# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مقتدر اداروں کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مکمل خلاصی اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب آئی ایم ایف پروگرام سے جان چھوٹے پھر سرکاری تحویل میں لے کر اصلاحات کی جاسکتی ہیں۔

دوسرا ذمہ دار ادارہ "واٹر & سیوریج بورڈ" ہے۔ یہ ادارہ سندھ میں سیاست کی نظر ہورہا ہے۔ سندھی مہاجر لسانی انتشار، لاکھوں گیلن میٹھا اور ڈیمز میں اسٹاک پانی سمندر برد کروا دیتے ہیں ، عوام کو بوند بوند ترسا کر مہنگا ترین پانی فروخت کرتے ہیں اور K3, K4 سنتے سنتے نسلیں جوان ہوگئی ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی یہ سیاست زدہ ادارہ سیاست بھی کرتا ہے۔ سیوریج کا نظام بلدیاتی اداروں کی ماتحتی میں نہیں آتا۔ بلدیاتی اداروں کا کام بارشوں کے سیلابی ریلوں کو عوام کی املاک اور قیمتی جانوں کی حفاظت کرتے ہوئے سمندر میں گرانا ہے۔ لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب نکاسی آب کا نظام درست ہو۔ حال تو یہ ہے کہ نکاسی آب کا نظام انتہائی بوسیدہ اور قدیم ہے۔ چند بڑے برساتی نالے جو شہر کے وسط میں ہیں کچروں کا انبار خود میں لیے ہوئے ہیں۔ برساتی نالوں سے زیادہ لنک اور چھوٹے نالے ہیں جن کی صفائی کا کام واٹر & سیوریج بورڈ کا ہے، لیکن اس کی حالت باسیان شہر بخوبی جانتے ہیں۔ چھوٹے نالے صاف ہوں گے تو ہی پانی کی درست نکاسی بڑے برساتی نالوں تک ہوسکے گی، لیکن یہ چیپٹر، سیاست نے عوام کی نظروں سے دور رکھا ہے۔ یہ ہنگامی بنیادوں پر حل طلب مسئلہ ہے لیکن سندھ کی سیاست، برائے سیاست، بقصد سیاست ہوتی ہے، جس کا کوئی حاصل نہیں، لہذا جلد درستی کی امید نہ رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کا کچرا اور عوام کی بے بسی - ڈاکٹر راحت جبین

اب آتے ہیں تیسرے بڑے ادارے کراچی بلدیہ عظمیٰ کی طرف۔ بارشوں اور عید الاضحیٰ کے ایام سے فراغت پر بلدیہ عظمیٰ کا موجودہ نظام فی الفور تبدیلی کا مقتضی ہے۔ بلدیاتی سسٹم کراچی کے لیے ناکارہ اور سخت اذیت رساں ہے۔ کوئی ذمہ دار نہیں، کوئی سنوائی نہیں۔ روڈز ایسے کہ ناشتہ کرکے جاب پہنچنے پر دوبارہ ناشتہ کی حاجت، کچرے کے بلند ہوتے انبار، سڑکیں گھٹا ٹوپ اندھیرے کا مرکز، اس ناکارہ نظام نے کام کرنے والے افراد کو بھی زنگ لگا دیا ہے۔

سنا ہے تین کٹگیریاں ملازمین میں بن چکی ہیں، 1 وہ ملازمین جو تنخواہیں گھر بیٹھ کر لیتے ہیں، اور اس میں بھتہ کی صورت افسران نے اپنا حصہ مقرر کررکھا ہے۔ 2 وہ ملازمین ہیں جو نا اہل بھرتی ہیں، کام کرنا چاہیں بھی تو اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے غلط ہی کریں گے۔ 3 وہ ملازمین جو وقت اور ذمہ داری سے زیادہ کام کرتے ہیں ، اور ان کی یہ کوششیں ہی اس نظام کو اب تک بچارہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ درست نظام میں اہل سربراہان کا تقرر ہو ، ٹاؤن سسٹم ازحد بہتر اور درست نظام تھا ( اچھائی اور بہتری کی گنجائش بہرحال ہر نظام رکھتا ہے) جس نظام میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم دونوں نے کام کرکے دکھایا۔ جب ایک شخص ذمہ داری کا بوجھ محسوس کرتا ہے تو اپنے ماتحتوں سے درست انداز پر کام لے پاتا ہے ، بصورت دیگر اداروں میں صرف الزام تراشی کلچر رواج پاتا ہے۔ بلدیاتی سسٹم میں ذمہ داریاں اتنی منقسم ہیں کہ کسی کو بھی مکمل طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (اور شاید مل کر کھانے کی یہ سب سے کامیاب پالیسی ہے) ۔

2 اور 3 نمبر کے ملازمین کو کام میں لاکر بہترین کام لیا جاسکتا ہے، اور شہر کراچی اس بات کا گواہ رہا ہے۔ پہلے درجے کے ملازمین کا حل بہترین بیوروکریٹ لابیز کا تقرر ہے، جو ان کے حقوق بہم دلوا کر ان کو کام کیلئے مجبور کریں۔ (گھر کا جلتا چولہا کوئی بھی بجھا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا ) یہ بھی کام میں لائے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کراچی، جائزہ لینے میں کیا حرج ہے - حبیب الرحمن

حقیقت یہ ہے کہ کارگر اور ٹیلینٹڈ افراد کی قلت ان اداروں میں اب بھی نہیں، درست رہنمائی سے یہ کراچی کو پھر روشنیاں دے سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ازحد ضروری ہے کہ بلدیاتی سسٹم سے جان چھڑائی جائے، اور متبادل خود مختار سسٹم لایا جائے۔ کرایہ کے مزدورں (چائینیز) سے کام لینا اپنے ادارے کمزور اور مزدور کو بدحالی سے خودکشیوں کی جانب گامزن کرنا ہے۔ جو پہلے ہی انتہائی مختصر اور لگی بندھی تنخواہ پر کام کررہے ہیں، اور بعض ڈسٹرکٹس میں تو امسال کا اضافہ ایک طرف۔ سال گزشتہ کی اعلان کردہ تنخواہوں میں اضافہ تاحال شامل نہیں کیا گیا۔

یہ تاثر بھی درست نہیں ہوگا کہ میں ٹاؤن سسٹم کے لئے لابنگ کررہا ہوں۔ میں ہرگز ٹاؤن سسٹم کی لابنگ نہیں کررہا بلکہ اس کو بلدیاتی نظام کے ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کررہا ہوں۔ دنیا میں اور بھی کامیاب نظام چل رہے ہیں۔ (ان کی طرف کوئی میری بھی رہنمائی کردے تو شکر گزار رہوں گا ) ان نظاموں سے رہنمائی لیکر کوئی نظام لایا جائے جو ازسرنو کراچی کے انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ کرے، E گورننس فراہم کرے، مسائل کا حل نکال کر عوام کی داد رسی کرے ، ناکارہ اور زنگ آلود ہو جانے والے ملازمین کو ازسرنو منظم کرے، اور باسیان کراچی کو سکھ کا سانس ملے۔ اس کی بنیاد اہل اور دیانتدار افسران کا تقرر ہے۔ بچہ ماں کے پیٹ سے کرپٹ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ نظام ہی اسے کرپٹ بناتا ہے، لہذا نوجوان اور اہل سربراہانِ محکمہ کا تقرر کیا جائے اور ان کی کارکردگی سوشلائز کی جائے۔