عید قربان آ رہی ہے، " جھوٹی کہانیوں" سے آگاہ رہیں - محمد عاصم حفیظ

میڈیا، لبرل طبقہ، سیکولر دانشور اور "انسانیت'' کے نام نہاد علمبردار اپنے عالیشان بنگلوں میں بیٹھے جذبات بھری کہانیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ اگلے چند روز میں سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور تحریروں کی بھرمار ہونے والی ہے جن میں انسانیت کے دکھ دکھائے جائیں گے۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں غریب نظر آئیں گے، میلا کچیلا دوپٹہ لیے کوئی بچی مانگتی ملے گی، کوئی بوڑھا فریاد کرتا پایا جائے گا، غربت کی تصویر بنا کوئی خاندان ہوگا۔ ایسی تصاویر اکٹھی کر کے پوسٹیں بنائی جا رہی ہیں۔ انھیں جلد سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کا موضوع بنایا جائے گا۔

ایسی جذبات بھری تحریریں سامنے آئیں گی، مثلا ایک غریب ڈرائیور کے بیٹے کے ساتھ حادثہ ہوجاتا ہے، وہ ہسپتال میں زیر علاج ہوتا ہے، ڈرائیور اپنے مالک کے پاس آکر کہتا ہے صاحب میرے بیٹے کی زندگی خطرے میں ہے، علاج کے لیے دس ہزار روپے درکار ہیں۔ مالک اپنے ڈرائیور کو دھتکار دیتا ہے کہ جاؤ میرے پاس کہاں سے آگئے دس ہزار، تجھے پتہ بھی ہے کاروبار کے حالات کیا چل رہے ہیں، تجھے تنخواہ پتہ نہیں کہاں سے پوری کر کے دی ہے۔ اور مالک اگلے دن دو چار لاکھ کا جانور قربانی کے لیے لے آتا ہے۔

اسی طرح کی اور کتنی ہی کہانیاں بنائی جائیں گی۔ مثلا کہ کئی دن فاقوں میں رہنے والے خاندان کے ہمسائے میں سیٹھ صاحب دو لاکھ کا بکرا لے آئے۔ کسی لڑکی کی شادی کے لیے مدد نہ دینے والے حاجی صاحب نے مہنگی قربانی کر دی۔

اسی طرح کچھ کہانیاں حج کے متعلق بھی ہوں گی۔ حاجی صاحب لاکھوں لگا کر حج پر چلے گئے اور ان کے پڑوس میں غریب کی بیٹی بستی تھی جس کے سر پر چاندی اتر آئی، مگر حاجی صاحب کو اپنے نام کے ساتھ الحاج لگوانے کی فکر رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   آج ہماری شادی کی 31 ویں سالگرہ ھے- لالہ شمس

دراصل غریبوں کا یہ درد اور کسی کی جان بچا لینے کے جذبات صرف انھی دنوں میں ابل کر سامنے آتے ہیں۔ بڑی بڑی دلچسپ اور جذباتی کہانیاں بنائی جا تی ہیں۔ سارا سال کسی غریب کا خیال نہیں آتا۔ نہ تو کسی غریب کی بیٹی کی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی ڈرائیور کے بیٹے کو حادثہ پیش آتا ہے۔ یہ سب ایک خاص طبقے کو صرف حج و قربانی کے دنوں میں ہی یاد آتا ہے۔

غریب کی بیٹی کے سر میں چاندی ایک دن میں نہیں اتر آتی، اور نہ حاجی صاحب کے حج پر جانے کے صدمے سے سر میں چاندی آتی ہے۔ لبرل و سیکولر طبقے کو ان سب نیکیوں کا خیال تب ہی آتا ہے جب حج و قربانی کے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں امت مصروف ہوجاتی ہے۔ حج کرنا بھی گناہ بتایا جائے گا اور قربانی بھی حرام قرار دی جائے گی۔ اور اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، اے سی والے کمرے، پرتعیش لوازمات سے بھرے گھر، ہر رات آباد ہوتے مہنگے ترین ہوٹل، صرف ایک پارٹی کے لیے ہزاروں کے خرچے کے میک اپ، جیولری اور کاسمیٹیکس پر لاکھوں کے خرچے، محل جیسے مکانات لاکھوں کی مالیت کے موبائل فون۔ یہ سب حلال ہے، بس گناہ ہے توسال بھر میں ایک بار قربانی اور پورے ملک سے صرف ڈیڑھ لاکھ لوگوں کا حج پر جانا۔

کوئی ان بے چاروں کو بتائے کہ تم تو صرف مہنگے ہوٹلوں میں بیرونی امداد سے غربت کے خاتمے کے سیمینار ہی کرتے ہو، غریبوں کے دکھ درد میں بھی وہی شامل ہوتے ہیں جو کہ حج و قربانی جیسے عبادات کا خیال رکھتے ہیں۔ اس لیے جیسے پورا سال غائب رہتے ہو، اپنی عیاشیوں میں مگن رہتے ہو، اپنے بھاشن اپنے پاس ہی رکھا کرو۔ یہ قربانی بھی دراصل غریبوں کے لیے ہی روزگار پیدا کرتی ہے، انھیں کھانے کو گوشت ملتا ہے، کھالوں سے ایسے ادارے چلتے ہیں جو غریبوں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا پھر ہسپتال اور دیگر فلاحی ادارے۔
عید آ رہی ہے آگاہ رہیں، جلد آپ کے پاس جذبات بھری کہانیاں پہنچنے ہی والی ہیں بس۔