مسلم خواتین میدانِ علم میں - محمد رضی الاسلام ندوی

اسلام میں خواتین کا مقام و مرتبہ واضح ہے۔ انہیں علمی اور عملی ہرطرح کی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت ہے۔ ان کے حقوق اور فرائض سب متعین کردیے گئے ہیں۔ لیکن مقامِ حیرت و افسوس ہے کہ ان کے بارے میں اپنے اور پرائے سب غلط بیانی اور غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایک طرف اسلام کے مخالفین اور بدخواہ طرح طرح کے اعتراضات اور الزامات عائد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو پست درجہ دیا ہے۔ انہیں گھر کی چہار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا ہے۔ ان پر حجاب کی بندشیں عائد کر کے انھیں سماج سے بالکلیہ کاٹ دیا ہے، اور کسی کو ان کی علمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اور اس طرح کے دیگر اعتراضات اسلام کی صحیح تعلیمات سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام کے نام لیواؤں نے اسلام میں خواتین کے مقام و مرتبہ کا صحیح تعارف نہیں کرایا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ان کا عملی رویّہ مخالفینِ اسلام کے مذکورہ بالا اعتراضات کی تائید و توثیق کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ مسلمانوں کے دورِ زوال میں مسلم خواتین کو ان کا صحیح مقام نہیں دیا گیا۔ علم کے دروازے ان پر بند رکھے گئے اور تحصیلِ علم کے مواقع سے محرومی ان کا مقدّر ٹھہری۔ جبکہ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سماج کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار بڑا درخشاں اور مثالی نظر آتا ہے۔ ان کی خدمات ہمہ جہت ہیں۔ خاص طور سے علوم و فنون کی اشاعت کے میدان میں انھوں نے بہت سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ان کا یہ کردار بہت نمایاں نظر آتا ہے۔

علم کی نسل در نسل منتقلی میں خواتین نے اہم کردار نبھایا ہے۔ انہوں نے قرآن کریم حفظ کیا ہے اور حفظ کرایا ہے، تجوید اور علم قرات میں مہارت حاصل کی ہے اور دوسروں کو یہ فن سکھایا ہے، اپنے شیوخ سے احادیث ِنبوی کا سرمایہ حاصل کیا ہے اور پوری حفاظت کے ساتھ اسے دوسروں تک پہنچایا ہے، فقہ سے اشتغال رکھا ہے اور اپنے فتاویٰ کے ذریعہ عوام کی رہ نمائی کی ہے، زہد وتصوف میں شہرت حاصل کی ہے اور وعظ وارشاد کی محفلیں سجائی ہیں۔ الغرض علوم و فنون اور خاص طور پر اسلامی علوم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو خواتین کا مرہونِ منت نہ ہو۔ البتہ جہاں تک علوم اسلامیہ میں تصنیف و تالیف کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں خواتین بہت پیچھے رہی ہیں۔ شیخ محمد خیر رمضان یوسف نے تذکرہ و تراجم کی کتابوں میں بہت غائرانہ انداز سے تفتیش و تفحّص کے بعد اپنی کتاب ’المؤلِّفات من النساء ومؤلَّفاتھن في التاریخ الإسلامي‘ میں ۱۲۰۰ھ تک چھتیس ( 36 ) مؤلِّفات کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کی کتابوں کی تعداد عربی زبان میں سو (۱۰۰) سے زیادہ نہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب عورت کا محافظ ہے - نگہت فرمان

یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں تعلیم ِنسواں کو فروغ ملا ہے اور خواتین کے لیے تحصیلِ علم کے مواقع بڑھے ہیں ۔ دینی و عصری تعلیم کے مراکز، مدارس اور جامعات قائم ہوئے ہیں، جن میں طالبات کو داخلہ ملا ہے اور ان کے لیے مخصوص درس گاہیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ اس طرح خواتین کو اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور اپنے جوہر دکھانے کے لیے وسیع میدان ہاتھ آیا ہے ، زیورِ علم سے آراستہ ہوکر انھوں نے درس و تدریس کا کام بھی سنبھالا ہے، اس طرح ان کا علمی فیض عام ہوا ہے اور امت کو ان سے فائدہ پہنچا ہے۔

گزشتہ صدی کے اوائل سے لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان بڑھا، ان کے لیے مخصوص تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور عصری جامعات میں بھی انھیں داخلہ کے مواقع ملے تو ان کی علمی صلاحیتوں کو جلا ملی اور انھوں نے اسلامیات کے مختلف میدانوں میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات تحریر کیے۔ یہ مقالات علوم اسلامیہ کے تمام موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں ۔ ان سے خواتین کے تخلیقی کمالات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں قدیم و جدید مفسرین کے مناہجِ تفسیر کا تعارف کرایا گیا اور ان کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کیا ہے، سماجی، معاشی اور سیاسی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے، سیرت ِنبوی کے مختلف پہلوؤں پر عصر حاضر کے تناظر میں تحقیق کی گئی ہے، نئے پیش آمدہ سماجی اور فقہی مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔

عصری جامعات کا قیام عرب اور مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ ان میں سے بعض مخلوط تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ ان میں طلبہ کے ساتھ طالبات داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرتی ہیں اور بعض تعلیم ِ نسواں کے لیے خاص ہیں ۔ ان اداروں میں طالبات کے ذریعے اسلامیات پر خاصا کام ہوا ہے اور بڑی تعداد میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مقالے تیار ہوئے ہیں۔ بر صغیر ہند وپاک میں بھی طالبات میں اعلیٰ تعلیم کے تحصیل کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور وہ عصری جامعات میں داخلہ لے کر ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں جگہوں پر عصری جامعات میں دینیات (Theology) اور اسلامیات (Islamic Studies) کی فیکلٹیز قائم ہوئی ہیں اور ان کے تحت قرآن، حدیث، سیرت، اسلامی تاریخ اور دیگر مضامین کے الگ الگ شعبے قائم ہوئے ہیں اور ان کے تحت طالبات نے تحقیقی مقالات لکھے ہیں۔ خاص طور سے پاکستان کی عصری جامعات میں طالبات کے ذریعہ علوم اسلامیہ پر خاصا کام ہوا ہے۔ [ جناب محمد عاصم شہباز نے پاکستان کی بیس (۲۰) جامعات میں اسلامیات میں کی گئی پی ایچ ڈیز کی فہرست تیار کی ہے۔ اس کے مطابق کل آٹھ سو سڑسٹھ (867) میں سے ایک سو تیرہ (113) مقالات خواتین کے ہیں۔] کسی قدر کام ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ ان تحقیقی مقالات میں سے صرف چند ہی زیور ِطبع سے آراستہ ہو سکے ہیں۔ اس بنا پر عصری جامعات میں خواتین کے ذریعہ انجام پانے والے علمی کاموں کا نہ کما حقّہ تعارف ہو سکا ہے اور نہ ان سے استفادہ کی کوئی سبیل نکل سکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف خواتین کے لیے، تم عورت ہو - ہما فلک

واقعہ یہ ہے کہ اسلامی علوم میں خواتین کی خدمات کا کما حقہ تعارف اب تک نہیں کرایا جا سکا ہے اور نہ ان کے بارے میں عموماً لوگوں کو کچھ معلومات ہیں۔ تذکرہ و تراجم کی کتابیں بھی ان کے ذکر سے تقریباً خاموش ہیں۔ مثال کے طور پر ابن الجزری المقریؒ (م ۸۳۳ھ) نے اپنی کتاب ’غایۃ النھایۃ في طبقات القرّاء‘ میں تین ہزار نوسو پچپن (3955) قاریوں کا تذکرہ جمع کیا ہے، جن میں سے قاریات صرف تین (3) ہیں۔ اسماعیل بغدادی نے اپنی کتاب ’ھدیۃ العارفین في أسماء المؤلّفین وآثار المصنفین‘ میں صرف دو (2) صاحبِ تصنیف خواتین کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح زرکلی کی الأعلام میں تیرہ (13 )اور عمر رضا کحالہ کی أعلام النساء میں صرف دس (10) ایسی خواتین کا تذکرہ ہے جنہوں نے کسی موضوع پر تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ خواتین کے علمی کاموں کے تعارف کی طرف توجہ دی جائے ، انھیں تحقیق کا موضوع بنایاجائے اور ان کو نمایاں کیا جائے۔

مجھے امید ہے کہ یہ کتاب خواتین کے علمی کاموں کو نمایاں کرنے کے سلسلے میں تحریک فراہم کرے گی اور اسلامیات کے دیگر میدانوں میں بھی ان کی خدمات کے سلسلے میں اسی طرح کے تحقیقی کام سامنے آئیں گے۔ میں عزیزہ عنبرین کو اس کتاب کی تالیف پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے مزید علمی و دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

[ ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین کی کتاب ’خواتین اور خدمتِ قرآن‘، ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس نئی دہلی، صفحات :376، قیمت :350 روپے پر لکھی گئی تعارفی تحریر]

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.