مرد قوام تو کیا عورت باندی ہے؟ - عاصمہ شفیع

اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میں سے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔ اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتا ہے۔

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف زمانوں کے ساتھ پڑ جاتا ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت کے ان ادوار میں خواتین کو کیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہو رہا تھا، اِس کو دیکھ کر درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔ بچیوں کی پیدائش کو سرے سے ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعداد ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی ، فحاشی و عریانی کے عجیب و غریب طور طریقے رائج تھے، معاشرے میں کمزور و زیر دست ظلم کی چکی میںپسے جاتے تھے، غرض اُس دور میں سب سے زیادہ مظلومیت عورت کے حصے میں آتی تھی ، عورت ذات مجموعی طور پستی، ذلت، رسوائی اور اذیت میں مبتلا تھی۔ اُس بگڑے اور جاہل معاشرے میں اللہ نے عورت ذات پر خصوصاً اورپوری انسانیت پر عموماًاسلام کی صورت میں رحمت کی بارش برسائی۔اسلام جہاں پوری نسلِ انسانی کے لیے سراپارحمت بن کر آیاوہی عورت ذات کے لیے اس دین مبین میں عزت اورفلاح و کامیابی کا راز بھی مضمر ہے۔ اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے ایک عظیم درجے پر فائز کیا ہے۔ ماں ہونے کی صورت میں انسان کے لیے جنت اُن کی خدمت سے مشروط کردی گئی ہے۔

بیوی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ اچھے برتاؤ اور حسن سلوک کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے، اور بیٹی کی حیثیت میں اُن کی دیکھ بال، اچھی تربیت اور پرورش کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔غرض دین حق نے خاتون کو فرش سے اُٹھا کر عرش پر بیٹھا دیا ہے۔ اسلام کی جانب سے عزت افزائی اور اونچا مقام فراہم کیے جانے کے باوجود اس وقت دنیا میں بنت حوّا کی جو حالت بنی ہوئی ہے وہ زمانہ جاہلیت والے حالات سے کسی بھی صورت میں کم نہیں ہے ۔ غیر اقوام کا گلہ ہی کیا کرنا جب اُمت مسلمہ کی خواتین بھی مظلومیت ،ظلم و زیادتی اور پریشانیوں کا شکار بنی ہوئی ہوں۔ ابھی اُمت مسلمہ کو جو مسائل درپیش ہیں اُن میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری خواتین مغرب سے مرعوبیت کی بیماری کا شکار ہیں۔وہ مغرب کی ایجاد کردہ کھوکھلی اصطلاحات جیسے لبرلزازم، فیمینزم ، سیکولرازم ، مساوات ، وومنز امپاور منٹ کے دام فریب میں آکر اپنی زندگیوں کو مزید پریشانیوں میں مبتلا کررہی ہیں۔ہمارے علمائے کرام ، دانشور اور ذی حس لوگ اس بات کا رونا تو رو رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ بیماری کی اصل جڑ کی نشان دہی اور پھر اُس کے علاج پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتے ہیں۔ ابتر حالت کے لیے عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراناسراسر ناانصافی کہلائی جائے گی،. ہمیں اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو اسلام کی تعلیمات ہیں کیا ہم اُن پر عمل پیرا ہیں؟

دینداری کا دعویٰ تو ہمارا خوب ہے لیکن کیا ہم اپنے گھر کی خواتین کو وہ سارے حقوق فراہم کرتے ہیں جن کی ضمانت اُنہیں اللہ اور اُن کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فراہم کی ہے؟کیا ہم ماؤں کو وہ درجہ دے پاتے ہیں جس کی وہ حقدار ہیں؟ کیا بیویوں کو وہ سارے حقوق حاصل ہو پاتے ہیں جو اُنہیں اللہ کے رسولؐ نے فراہم کیے ہیں؟ کیا بیٹیوں کو برابری کا وہ حق مل رہا ہے جو اُنہیں اسلام نے فراہم کیا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ملت کی عزت مآب بیٹیاں مغربیت کی جانب مائل ہورہی ہیں، حالانکہ دین مبین نے اِن کے حقوق میں جو کچھ رکھا ہے اُس کے ہوتے ہوئے اُنہیں کسی اور جانب دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ضمیر سے کرنے چاہیے اور ان کے جوابات ڈھونڈناہرگز مشکل نہیں ہے۔دراصل ہم دینداری کا دعویٰ کرتے ہیں، دین کہتے ہیں، دینی تعلیمات کا ورد کرتے ہیں، دین اسلام کے طرز زندگی اور مختلف طبقات کو اس میں فراہم کیے گئے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن ہم سماجی سطح پرعملاً دین کا نمونہ پیش کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ہم نے دین اسلام کو کتابی باتیں سمجھ رکھا ہے اور عملی زندگی میں اِس کے نفاذ کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں اپنی ہی ریاست جموں وکشمیر کی بات کریں تو کتنے گھر یہاں ایسے ہوں گے جہاں خواتین کو اسلام کی جانب سے عطا کردہ حقوق فراہم کیے جاتے ہیں؟ کتنے لوگ بیٹیوں کو وراثت میں اپنا حصہ نکال کر دیتے ہیں، عام لوگوں کی بات ہی نہیں مسجد کے منبروں پر کھڑا ہونے والے واعظین میں کتنے ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ دینے کے لیے اپنے لواحقین کو وصیت کی ہوتی ہے یا کتنے دین دار بھائی والد کی وفات کے بعد اپنی بہنوں کو سامنے لاکر اُن کو اپنا حصہ سونپ دیتے ہیں۔

ہمارے یہاں شہر و دیہات میں خاتون خانہ کسی نہ کسی صورت میں ظلم و جبر اور ناانصافیوں کی چکی میں ضرور پستی رہتی ہیں۔ اکثر گھروں میں عورت پورا دن گھر کے کام کاج میں مزدور کی طرح باگ دوڑ کرتی رہتی ہے، حتیٰ کہ یہ نازک جان کھیت کھلیانوں میں تپتی دھوپ میں دن بھرمردوںکے شانہ بشانہ مزدوروں کی طرح وہ کام کرتی رہتی ہیں جو اُن کے کرنے کا نہیں ہوتا ہے۔ ایسی ہی عورت سے پھر اُن کے مرد اپنے حقوق پورا کرنے کی بھی تواقع رکھتے ہیں۔اس تھکی ماندی کمزور جان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ یہ مردوں کے سارے حقوق ادا کرے اور اگر جسمانی تھکن کی وجہ سے یہ اپنے اصل حقوق ادا کرنے میں کبھی کوئی کوتاہی کرجاتی ہیں تو پھر ہمارے سماج کے مردوں کو دین کی تعلیمات اور عورت کی ذمہ داریاں یا د آجاتی ہیں۔ جس مخلوق کی ساخت ہی نرم و نازک انداز میں اللہ رب العزت نے بنائی ہے اُن سے سخت جاں کام کروانا فطرت کے خلاف ہے اور بدقسمتی سے ہمارے سماج میں یہ سب ہورہا ہے۔

حالانکہ خواتین کی نزاکت اور نازک جان ہونا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے بھی واضح ہوجاتاہے جس میں آپ ؐ نے اُنہیں’’آئینہ‘‘ اور’’ آبگینہ‘‘ قرار دیا ہے۔ایک سفر میں خواتین اونٹوںپر سوار تھیں۔ حدی خوانوں نے جب حدی میں تیزی پیدا کی تو اونٹوں کی رفتار غیرمعمولی انداز میں تیز ہونے لگی، اس موقعے پر آپ ؐ نے ہدایت فرمائی کہ اونٹوں کو آرام سے چلاؤ اِن پر آئینے و آبگینے ہیں۔ عورت کو اسلام نے چار دیواری کے اندر پسند فرمایا ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ گھر کی چار دیواری کو اُن کے لیے قید خانہ بنایا جائے۔ یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھرکی ذمہ داریاں سنبھالے خاتون کے لیے اپنے گھر کو اُن کے لیے پوری کائنات بنانے کے لیے اسباب پیدا کرے۔ اُن کی ہر جائز خواہش کا احترام کرے، اُن کی عزت و تکریم کرے، اُنہیں گھر کی ملکہ ہونے کا احساس دلادے، اُن کے شعور میں یہ بات بٹھا دے کہ گھر میں رہ کر جو ذمہ داریاں وہ انجام دے رہی ہیں اُن کا کوئی مول نہیں ۔لیکن اس کے برعکس کیا ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی عورت ذات کوغیر محسوس طریقوں سے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں کمتر ہیں اور یہ احساس کمتری پھرزندگی بھر اُن کے ذہن پر سوار رہتی ہے ، نتیجتاً اللہ کی یہ مخلوق اپنی شناخت اور اپنی نسوانیت کھو دیتی ہے۔یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کچھ معاملات میں مرد کو عورت پر فوقیت دی گئی ہے۔

بے شک مرد کو قوّام کہا گیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر مرد حضرات قوّامیت کا یہ معانیٰ سمجھ بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہ عورت پر کبھی بھی کوئی بھی ظلم روا رکھ سکتے ہیں، اُسے مار سکتے ہیں اُن کی کھال اُڈھیڑ سکتے ہیں ۔ قوّامیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کی جسمانی ساخت یعنی اُن کے نازک پن کا احترام کرے، اُنہیں بازاروں، دفاتر اور سرد و گرم موسم میں حالات کے بے رحم تھپیڑوں کے سپرد نہ ہونے دیں بلکہ اُنہیں گھر میں بٹھا کر خود زندگی کی ہر مشکل کا سامنا کرے اور اپنی بیوی کو ہر طرح کا آرام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کو تحفظ بھی فراہم کرے۔کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ اللہ نے مرد کے ذمہ رکھا ہے، وہ عورت کا محافظ ہوتا ہے،مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ وہ قوّامیت کو ایک آمرانہ ہتھیار کی حیثیت سے استعمال کررہے ہیں۔ہمارے یہاں گھر کے اہم مشوروں اور فیصلوں میں عورت کو خاطر میںلانا ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے حتیٰ کہ ابھی بھی شادی بیاہ کے موقعوں پر لڑکی کی مرضی کو ثانوی حیثیت حاصل رہتی ہے۔گھریلو تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، نئی نویلی دلہن کے ہاتھوں کی مہندی ابھی سوکھی نہیں ہوتی ہے کہ اُن کے جسم کو مار پیٹ اور تشدد سے لہو لہاں کردیا جاتا ہے، خود کشی اور خودسوزی کے ساتھ ساتھ آئے روز ایسے سانحات بھی سامنے آتے رہتے ہیں جہاں سسرال والوں نے یا پھر شوہر نے اپنی بیوی کو موت کی گھاٹ اُتار دیا ہوتا تھا۔

حد تو یہ ہے کہ بازوں میں، صبح سویرے سبزی فرشوں اور نانوائیوں کے پاس خواتین سبزی اور روٹی لینے کے لیے لائن میں لگی اجنبی نظروں کی مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں اور اُن کے ’’محافظ‘‘ مرد گھر میں آرام دہ بستر پر سوئے پڑے رہتے ہیں۔ یہ بے شرمی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم زمانۂ جاہلیت کے جاہل معاشرے میں بچیوں کو درگور کرنے پر ہمیشہ تلملا اُٹھ کر اُن کی سوچ پر لعنت ملامت کرتے ہیں۔مگر جو ہمارے معاشرے میں بچیوں کی پیدائش پر افسوس و ماتم کیا جاتا ہے کیا وہ اُس پرانی جاہلیت کا جدید روپ نہیں ہے؟ ہمارے ہاں ہسپتالوں اور گھروں میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اہل خانہ سوگوار ہوجاتے ہیں اور بیٹے کی پیدائش ہوتو مٹھایاں بانٹ کر خوشیوں کا برملا اظہار کیا جاتا ہے، نذر و نیاز چڑھائے جاتے ہیں ۔ غور کرنے کی بات ہے کہ جو عورت اپنی اولاد کو نو مہینے اپنے کوکھ میں پال کر تکلیف پر تکلیف برداشت کرتی ہیں اوریہ تکلیف کتنی شدید ہوتی ہے اُس کا اندازہ صرف ایک ہی ماں ہی لگا سکتی ہے۔ اُسی ماں کے سامنے جب لڑکی کی پیدائش پر ناگواری اور ماتم کا اظہار کیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُس بے چاری کے دل پر کیا بیتتی ہوگی، کیسے نشتر چلتے ہوں گے اور اُن کا سینہ کس قدر چھلنی ہوجاتا ہوگا ۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے سماج میں بھی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کے ذریعے سے پہلے ہی ماں کی کوکھ میں پلنے والے بچے کا جنس معلوم کیا جاتا ہے ۔ لڑکی ہونے کی صورت میں بدنصیب ماؤں کو اپنا حمل ضائع کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔

یہ سب اپنے آپ کو مہذب اور پڑھا لکھاکہنے اور زمانۂ جاہلیت کے عربوں پر لعنت ملامت کرنے والے کررہے ہیں۔ یہ دوغلاپن نہیں تو اورکیا ہے؟؟ بعض دفعہ پھر یوں بھی ہوتا کہ ایسے حالات سے گزرنے والی عورتیں ذہنی طور اس حد تک پریشان ہوجاتی ہیں کہ وہ کوئی بھی انتہائی اقدام کرنے سے گریز نہیں کرتی ہیں اور یوں یہ مظلوم جرم بے گناہی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔حالانکہ بیٹیوں کے بارے میں حد سے زیادہ محبت ااور شفقت کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہمارے پیرکامل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ’’ جو شخص ان لڑکیوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ اُن سے نیک سلوک کرے تو یہ اُس کے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔ جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئیں گے۔ یہ فرماکر پیرکاملؐ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی کو جوڑ کر دکھایا۔‘‘(بخاری ومسلم) دنیا بھر میں ہر سال ماہِ مئی کی دوسری اتوار کو ماؤں کے عالمی دن (Mothers Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہماری ریاست میں بھی اس دن لوگ بالخصوص نوجوان سوشل میڈیا پر اپنی ماؤں کے تئیں پیار محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ جو نوجوان عام دنوں میں اپنی ماؤں سے سیدھے منہ بات کرنا پسند نہیں کرتے ،جو بات بات پر اپنی ماؤں کی دلآزاری کرتے رہتے ہیں .

اُن میں اکثر و بیشتر صبح سے ہی اس فکر میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کون سا ایسا پوسٹ اپلوڈ کریں جس پر زیادہ سے زیادہ Likes اور Comments اُنہیں موصول ہوں،اس کے لیے کوئی اپنی ماں کو گلے لگا کر ، کوئی اُن کے منہ میں کھانے کا نوالہ ڈال کر اُن کے ساتھ فوٹوز لیتے دیکھے جاتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر پوسٹس کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، اِسی کو وہ اپنی حق ادائی تصور کرتے ہیں ۔ حالانکہ ہماری شریعت میں سال بھر میں صرف ایک دن نہیں بلکہ ہماری زندگی کی ہر گھڑی،ہر پل ،ہر لمحہ اور ہر سانس ہمارے والدین بالخصوص ماؤں کے ساتھ منسوب ہے، ہمیں اپنے والدین کی ایک ایک’’ آہ‘‘ اورایک ایک’’ اُف‘‘ پر لپکنے کی تلقین کی گئی ہے، ہمارے لیے ہماری اطاعت کا ، ہماری دعاؤں کا، ہماری فکر کا ، ہمارے ایمان کا اور ہماری ہر سانس میں اپنے ماؤں کو مرکزی مقام پر فائز رکھنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ ہم قرآن کو اپنا لائحہ عمل بنائیں تو ہمیں Mothers day یا Women Empowerment کے موضوعات پر سمینارز اور سپوزیمز منعقد کرکے لوگوں کے سامنے صنف نازک کے حقوق کی اہمیت چیخ چیخ کر اُجاگر کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں پڑتی بلکہ دین کا صحیح فہم حاصل ہوتو وہ معاشرہ خود بخود معرض وجود آجاتا ہے جہاں کوئی مظلوم نہیں رہتا۔جہاں یتیموں ، بیواؤں ، کمزور و بے نواؤں اور مظلوموں کے حقوق کی پاسداری ہوتی ہے۔

جہاں خواتین اپنے گھروں کی رانیاں ہوتی ہیں، جہاں بیٹیاں بوجھ نہیں سمجھی جاتی ہیں بلکہ اُنہیں سرآنکھوں پر لاڈ اور پیار کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔جہاں صالح معاشرے کی تعمیر میں پھر مرد اور عورت دونوں برابر اپنا حصہ ڈال کر دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی فلاح و کامرانی کو بھی یقینی بنا لیتے ہیں۔ ہم جب اس موضوع پر غیر جانبدار ہوکر غور کریں گے تو یہ بات از خود اپنے سامنے عیاں ہوجائے گی کہ عورتوں کی اس حالت زار کے لیے غیر اقوام بالخصوص مغرب کو مو ردِ الزام ٹھہراکر ہم اپنی ذاتی خامیوں، کوتاہیوں اور بے حسی کو پردوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔عورتوں کے حقوق پر کانفرنسیں اور سپوزیم منعقد کر کے حق ادائی کا دعویٰ کرنے کے بجائے ہمیں اپنے گھروں میں اُن کے حقوق کی پاسداری کرنی چاہیے اور اُنہیں وہ مقام عطاکرنا چاہئے جو اسلام نے اُنہیں دیا ہے، کیونکہ اسلام کی ہی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ اسلام تھیوری کا نام نہیں ہے بلکہ اسلام عمل کا نام ہے، ہر واعظ، دانشور، عالم اور عام شخص اگر دین مبین کو عملاً اپنی زندگی میں اور اپنے معاملات میں شامل کرے تو پھر نہ ہی لوگوں کو حقوق سمجھانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی مسلم خواتین ظلم و جبر کی بھٹی میں پس جائیں گی اور نہ ہی اُنہیں کوئی اور نظریہ و فکر اپنی جانب راغب کرسکے گی۔