اخوان المسلمون کی خطا کیا تھی؟ محمد عامر خاکوانی

سابق مصری صدر ڈاکٹر مرسی کی المناک موت کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اخوان المسلمین ایک بار پھر سے زیربحث آ رہی ہے۔ اخوان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ غیروں نے تو ظلم کرنا ہی تھا، اپنوں نے بھی قیامت ڈھائی ۔ مغربی میڈیا میں اخوان المسلمین کے موقف کو کبھی درست انداز سے سمجھا یا پیش ہی نہیں کیا گیا۔” پولیٹیکل اسلام“ کی اصطلاح تخلیق کر کے اخوان کو مغربی تہذیب کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا۔ عرب میڈیا (انگریزی، عربی دونوں طرح کے اخبارات، چینلز) نے مغربی میڈیا سے بھی زیادہ منفی رویہ اپنایا۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین وغیرہ ایک زمانے تک اخوان المسلمین کے حامی اور طرف دار رہے، فلسطین کے معاملے پر جن کا مضبوط مؤقف تھا، کئی ممتاز اخوانی لیڈر اپنے جلاوطنی کے ایام سعودی عرب اور دبئی وغیرہ میں گزارتے رہے۔ سعودی عرب اور ان کے حامی ممالک نے اچانک ہی اپنا نقطہ نظر مکمل طور سے بدل لیا۔ فلسطین خاص کر غزہ والوں کو انہوں نے بےسہارا چھوڑ دیا، حماس کو بے یارومددگار کر دیا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کی باتیں ہونے لگیں۔ سب سے بڑھ کر کہ مصرمیں اخوانی حکومت کو ناکام بنانے کی باقاعدہ منظم کوشش میں یہ عرب حکومتیں شامل رہیں۔ اخوان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے جنرل سیسی کی نہ صرف بھرپور حمایت کی بلکہ اربوں ڈالر کی مدد بھی فراہم کی۔

اخوان المسلمین سے غلطیاں ہوئی ہوں گی۔ کون سی جماعت، تنظیم یا تحریکیں غلطی نہیں کرتی۔ ان غلطیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مگر اخوان کے پس منظر، مصری معاشرے کی تقسیم کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ کئی برسوں بعد کوئی حکمت عملی یا سوچ غلط لگتی ہے، مگر برسوں پہلے جنہوں نے فیصلے کیے، انہوں نے لمحہ موجود میں رہتے ہوئے اپنے کارکنوں کی سوچ، داخلی دباؤ، ووٹرز کی خواہشات وغیرہ کو بھی سامنے رکھا ہوگا۔ ایک فیکٹر یہ بھی ہوتا ہے کہ تنظیمیں یا تحریکیں بسا اوقات مخالف کے سفاکی، جبر اور بے رحمی کا ادراک نہیں کر پاتیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے اخوانی رہنماؤں اور کارکنوں کو شاید اندازہ نہ ہو کہ یوں ان سب پر فائر کھول کر سینکڑوں لوگ بھون ڈالے جائیں گے، مسجدوں پر ٹینک چڑھا دیے جائیں گے اور مغربی دنیا سمیت پورا عالم اسلام انتہائی بےشرمی، ڈھٹائی اور سنگدلی کے ساتھ تماشا دیکھتا رہے گا۔ عالمی میڈیا کو سانپ سونگھ جائے گا۔ عرب حکمران قتل عام پر کچھ کہنے کے بجائے مصری حکمرانوں کی پیٹھ ٹھونکیں گے، واہ واہ کریں گے۔ یہاں اخوان کے بارے میں چند اہم مغالطے دور کرنے بھی ضروری ہیں۔

کیااخوان نے اپنی عجلت سے نقصان اٹھایا؟
یہ غلط الزام ہے کہ اخوان نے عجلت کی۔ عدلیہ، فوج، میڈیا، اپوزیشن سب سے بیک وقت جنگ چھیڑ دی، یوں حکومت ختم ہوگئی۔ اخوان نے فوج کے ساتھ بطور ادارہ کوئی تصادم برپا نہیں کیا۔ فوج کے سربراہ کو ضرور ہٹایا، مگر اس لیے کہ فیلڈ مارشل جنرل طنطاوی کی عمر اٹھہتر سال تھی اور وہ پندرہ سال کی ایکسٹینشن حاصل کر چکے تھے۔ ڈاکٹر مرسی نے انہیں مجبوراً ہٹایا۔ جنرل سیسی کو سربراہ بنایا، جو مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے جنرل سمجھے جاتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی یہ تاثر نہ لے کہ اخوان مغرب مخالف فوجی قیادت لا کر مشرق وسطیٰ میں کوئی نیا بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اخوان یا کسی بھی اسلامسٹ لیڈر کی سوچ واضح ہے، لیکن صدر مرسی نے اعلان کیا تھا کہ وہ مصر کے تمام عالمی معاہدوں کا احترام کریں گے۔ یہ اشارہ اسرائیل مصر تعلقات اور معاہدوں کی طرف تھا۔ اسرائیل کو ناپسند کرنے کے باوجود ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر مرسی نے اپنی کابینہ میں معتدل سیکولر اپوزیشن جماعتوں کے کئی وزرا کو شامل کیا تھا۔ مصر میں قبطی عیسائیوں کے ہمیشہ مذہبی عناصر کے ساتھ مسائل رہے ہیں۔ پاکستان میں قادیانی ایشو کی طرح مصر میں قبطی عیسائی کمیونٹی کے ساتھ ڈیل کرنا بڑا حساس مسئلہ رہا ہے۔ کئی شدت پسند مذہبی گروپ قبطی عیسائیوں اور خواتین کو ووٹ کا حق دینے کو تیار نہیں۔ ڈاکٹر مرسی نے اپنے سخت گیر رجحان رکھنے والے ووٹروں کی ناراضی کی پروا کیے بغیر کابینہ میں قبطی عیسائیوں اور خواتین کو نمائندگی دی تھی۔ اخوان پر یہ الزام بھی غلط ہے کہ عرب سپرنگ انہوں نے شروع کیا جس نے مشرق وسطیٰ میں تباہی مچائی۔ عرب سپرنگ کا ہراول دستہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا تھا، جو اپنی لبرل، سیکولر سوچ کی بنا پر اخوان مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   موقف دوسروں کا اور تعبیر ہماری - مفتی منیب الرحمن

اخوان نے مصر کو بنیاد پرست مذہبی ملک بنا دیا؟
یہ بھی غلط الزام ہے۔ مصر میں اسلامائزیشن اخوان کا ایجنڈا ہی نہیں تھا۔ عرب سپرنگ سے دو سال پہلے جب میں وہاں گیا تو یہی سوال مہدی عاکف اور دیگر اخوانی لیڈروں سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصرکوئی سیکولر ملک نہیں بلکہ مصری آئین کے مطابق ملک میں غیر اسلامی قانون نہیں بن سکتا۔ ہمارے ہاں لوگ ترکی کے کمالسٹوں کو حسنی مبارک کی حکومت سے ملا دیتے ہیں۔ دونوں میں فرق ہے۔ ترکی میں مذہب بیزارسخت گیر سیکولر حکمران رہے جو مذہبی علامات جیسے پردہ، سکارف وغیرہ تک سے نفرت کرتے تھے۔ اس کے برعکس مصری معاشرے میں جامعہ ازہر جیسی عظیم دینی جامعہ موجود ہے، مصری معاشرہ غیر مذہبی نہیں۔ مصر میں نوے فیصد سے زیادہ خواتین سر پر سکارف لیتی ہیں۔ قاہرہ میں ہم نے جگہ جگہ خواتین کو مصری عبایہ کے ساتھ دیکھا، ماڈرن لباس میں لڑکیاں بھی سر پر سکارف لیے نظر آتیں۔ اخوان کا کہنا تھا کہ ہمیں حسنی مبارک سے یہ شکوہ نہیں کہ ملک غیر اسلامی ہے، بلکہ ہم کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس چاہتے ہیں۔ مصر کا نیا آئین بنانا بھی تکنیکی مجبوری تھی کہ حسنی مبارک کا آئین منسوخ ہوچکا تھا، ا س کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا، جس میں ڈاکٹر مرسی کی حکومت نے دو تہائی کے قریب ووٹ لیے تھے۔ اس آئین میں بھی شہری آزادی، خواتین اور اقلیتیوں کے لیے حقوق کی ضمانت تھی، البتہ توہین رسالت کا قانون ضرور اس میں شامل کیا گیا تھا، اس پر مغرب نواز حلقے ضرور چیں بہ چیں ہوئے۔

اخوان کو طیب اردوان کے ماڈل پر چلنا چاہیے تھا؟
یہ بات کہی جاتی ہے کہ اردوان نے جس تبدیلی میں دس سال لگائے، اخوان نے وہ ایک سال میں کرنا چاہی۔ دراصل ترکی کو مصر پر محمول کرنا ہی غلطی ہے۔ ترکی کی سرحد اسرائیل سے نہیں ملتی، جس میں امریکہ کی جان ہے۔ اسرائیل کی عربوں سے دو جنگیں ہوئیں، دونوں میں مصر کا کلیدی کردار تھا۔ اس لیے امریکی مصر میں اپنی مرضی کی حکومت رکھنا چاہتے ہیں۔ پھر ترکی میں کمالسٹ سیکولر حکومت نے کنٹرولڈ اکانومی رکھی تھی، ہر چیز نیشنلائز کر رکھی تھی۔ اردوان نے فری مارکیٹ اکانومی، نجکاری کو فروغ دیا جو مغربی اکانومی ماڈل کو سوٹ کرتا تھا۔ مغربی کارپوریٹ ورلڈ نے اس لئے ترکی میں تبدیلیوں کی حمایت کی۔ مصر میں ویسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔ وہاں امریکہ اور مغرب کا مفاد ایک خالصتاً پروامریکہ کمزور حکومت برقرار رکھنے میں تھا۔ اخوان جیسی مضبوط نظریہ رکھنے والی تحریک کی کامیابی پورے مشرق وسطیٰ کو تبدیل کر دیتی۔ یہی خوف امریکہ اور اس کی پروردہ مصری اسٹیبلشمنٹ کو عجلت میں مرسی حکومت گرانے پر آمادہ کر گیا۔ انہیں خطرہ تھا کہ اگر یہ ڈیلیور کر گئے تو پھر مشکل ہوجائے گی۔ مرسی کے صدر بننے کے صرف چار ماہ بعد ہی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ اتنے کم عرصے میں کوئی حکومت کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ خاص کر وہ جو زندگی میں پہلی بار اقتدار میں آئے ہوں، ابھی تو وہ چیزیں سمجھ ہی رہے تھے کہ ہنگامے شروع کرا دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   موقف دوسروں کا اور تعبیر ہماری - مفتی منیب الرحمن

ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے وقت ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ اخوان کے رویے کی وجہ سے فوج کو مداخلت کرنا پڑی۔ آج وہ تمام مغالطے دور ہوچکے ہیں۔ اس وقت جن قوتوں نے ڈاکٹر مرسی کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا، سیکولر گروپ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، میڈیا کے نمایاں تجزیہ کار، اپوزیشن جماعتوں کے کارکن وغیرہ، وہ تمام جنرل سیسی کی حکومت کے ظلم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بیشتر جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ کئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور صحافی قتل ہوچکے، زنداں میں ہیں یا ملک بدر۔ انہیں ڈاکٹر مرسی کی حکومت گرانے کا ”ثمر“ مل چکا۔ مرسی کے خلاف مظاہروں میں مصر کی سلفی اسلامسٹ پارٹیوں خاص کر النور نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی منافقت حیران کن تھی کیونکہ یہ نئے آئین کی تشکیل کے حامی تھے، جس پر سیکولر اپوزیشن اور لبرل گروپوں نے مظاہرے شروع کیے۔ النور اور دیگر سلفی گروپوں نے سعودی دباؤ پر ڈاکٹر مرسی کے خلاف تحریک کا ساتھ دیا۔ ان میں بعد میں تقسیم ہوئی اور بہت سے لوگ آج جیلوں میں ہیں۔ اب یہ ثابت ہوگیا کہ جنرل سیسی کا مقصد مصر میں سیاسی تصادم روکنا نہیں بلکہ مصرکی جمہوری حکومت کو گرا کر اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا تھا۔ ڈاکٹر مرسی تو اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے۔ اخوان سخت ترین آزمائش سے گزر رہی ہے، ظلم کی سیاہ رات ابھی جاری ہے، مگر جن گروپوں نے ڈاکٹر مرسی حکومت کو گرانے میں ڈیپ سٹیٹ یا مصری اسٹیلشمنٹ کا ساتھ دیا، ان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا۔ مصر میں جمہوریت بحال ہوئی اور نہ ہی ملک کی معیشت سنوری۔ جو اخوان مخالف تھے، آج وہ بھی اخوانیوں کے ساتھ ہی جیلیں کاٹ رہے ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ خطا اخوان کی نہیں بلکہ مصری اقتدار پرست ٹولے کی ہے۔ اخوان کی” غلطی“ ناتجربہ کاری، جوش، جذباتیت نہیں بلکہ حق وسچ کے راستے کا مسافر ہونا ہے۔ یہی ان کی اصل خطاٹھیری۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.