مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا ادبی اسلوب - امتیاز عبدالقادر

۱۵ دسمبر ۱۹۹۷ء کو مولاناامین احسن اصلاحی نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ ورثاء کی خواہش پر سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ؒ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بیسویں صدی کا ایک چراغ پوری طرح اجالا پھیلانے سے قبل ہی بجھ گیا۔ ایک آفتاب چمکا، بیشتر اس کے کہ اس کی شعاعیں پورا نور پھیلائیں، غروب ہو گیا۔ ایک پھول کھلا مگر معاً مرجھا گیا۔ سبزہ لہلہایا مگر فوراً خشک ہو کر زمین کے برابر ہو گیا۔ حق کی پکار بلندہوئی لیکن معاً فضائے لامتناہی میں گم ہو گئی۔ عربی کا فاضل یگانہ، زہد و ورع کی تصویر، فضل و کمال کا مجسمہ، عربی کا سوق عکاظ، ایک شخصیت منفرد لیکن ایک جہانِ دانش، ایک دنیائے معرفت، ایک کائنات علم، ایک گوشہ نشین مجمع کمال، ایک بے نوا سلطانِ ہنر، علوم ادبیہ کا یگانہ، علوم عربیہ کا خزانہ، علوم عقلیہ کا ناقد، علوم دینیہ کا ماہر، علوم القرآن کا واقف اسرار.......

مولانا امین احسن اصلاحی عالم باعمل اور صاحب کردار انسان تھے۔ علمی اختلاف کے باوجود مخالف علماء کی قدر دانی، عام زندگی میں ایک دوسرے سے اخلاق و مروت کاسلوک اور معاشرتی رکھ رکھاؤ، قرون اولیٰ کے علماء کی شان رہی ہے۔ مولانا اصلاحی عصر حاضر میں اس کا عملی نمونہ تھے۔ مولانا مودودی سے شدید اختلاف کے وقت آخری تحریر میں یہ فرمانا: ’’میں جانتا ہوں کہ آپ کی رفاقت سے محروم ہو کر میں کیا کچھ کھو رہا ہوں‘‘، ان کی وسیع الظرفی اور مخالف کے علم و فضل کی قدر دانی کی اعلیٰ مثال ہے۔ خط کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ’’اس (جماعتی) حیثیت سے الگ آپ میرے بڑے بھائی ہیں اور میں ان شاء اللہ آپ کی برابر عزت کرتا رہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ مجھے اپنی شفقتوں سے محروم نہیں فرمائیں گے‘‘۔

پروفسیر خورشید احمد، مولانا اصلاحی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ستمبر ۱۹۷۹ء مولانا مودودی کا انتقال ہوا تو منصورہ تشریف لائے۔ میں مولانا مودودی ؒ کے جسدِ خاکی کے ہمراہ آیا تھا، اس لیے اشک بار آنکھوں کے ساتھ مجھ سے کرید کرید کر سوالات کرتے رہے۔ کئی بار فرمایا ’’آج میرا یار چلا گیا‘‘۔ صحافیوں نے مولانا مودودیؒ کے بارے میں کریدا تو کہا ’’ان کے بارے میں آپ کیا جانیں، ایک مزاج شناسِ رسول ﷺ جدا ہو گیا‘‘۔

علامہ جاوید غامدی بیان کرتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒدنیا سے رخصت ہوئے تو بڑے تأسف کے ساتھ فرمایا: ’’آج وہ شخص دنیاسے چلا گیا، جس سے اتفاق میں بھی لذّت تھی اور اختلاف میں بھی‘‘۔

مولانا اصلاحی کی طبیعت میں بڑی غیرت، وقار، تمکنت اور بےنیازی تھی۔ صدر ایوب خان نے پوچھا: ’’مولانا کوئی خدمت بتائیے‘‘؟ مولانا کا جواب تھا: ’’آپ سے جو کچھ کہنا ہوتا ہے، ’میثاق‘ کے اداریوں میں کہہ دیتا ہوں۔ اس پر عمل کیجیے، یہی سب سے بڑی خدمت ہے‘‘۔ بھٹو نے پیغام بھیجا کہ حکومت آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے، جواب دیا: ’’میں حکومت کے وظیفہ خوروں کو ہمیشہ ملّت فروش کہتا رہا ہوں، کیا اب خود بھی یہی کام کروں گا؟‘‘

مولاناامین احسن اصلاحی نے نہایت سادہ زندگی گزاری۔ ضروریات کو محدود رکھا، جو مل گیا اس پر گزارا کیا۔ رحمان آباد گاؤں میں منتقل ہوئے تو وہاں بجلی کی سہولت بھی نہ تھی، لیکن اسی حالت میں، تدبّر قرآن کی تحریر و تسوید کا بیشتر کام کیا۔ معیار زندگی بڑھانے کا کوئی فتنہ کبھی قریب نہ آیا۔ مولانااصلاحی علمی و تحقیقی شخصیت ہونے کے باوجود خشک مزاج نہ تھے۔ غامدی صاحب کے بقول دورانِ اسیری مولانا مودودی ؒ کی بتیسی غالباً ٹوٹ گئی۔ امین احسن نہیں جانتے تھے کہ مولانا مودودی کے دانت مصنوعی ہیں۔ کسی نے بتایا تو دانتوں کی ’’تعزیت‘‘ کے لیے مولانا کے پاس گئے۔ بظاہر بہت افسردگی کی حالت میں تھوڑی دیر کے لیے کوٹھڑی کے دروازے پر کھڑے رہے، پھر کہا: ’’مولانا! افسوس ہے مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور‘‘۔

مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا امین احسن اصلاحی کی آپس میں بےتکلفّی تھی۔ مولانا ندوی نے مولانا تھانوی ؒ سے بیعت کی تو انہوں نے مولانا اصلاحی سے اصرار کیا کہ آپ بھی سنجیدگی سے بیعت کے بارے میں سوچیں تو مولانا اصلاحی نے کہا: ’’آپ ہاتھ اُٹھائیں اور میں بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتا ہوں کہ اے میرے رب جب میری یہ حالت ہو جائے کہ میں اپنی عقل کی باگیں کسی اور کے ہاتھ میں دے دوں تو اس سے پہلے مجھے اُٹھا لیجیو‘‘۔

مولانا اصلاحی ایک بلند پایہ مقرر اور ایک صاحب طرز ادیب ہی نہیں، ایک شعلہ بیاں مقرر بھی تھے۔ جناب جاوید غامدی لکھتے ہیں: ’’خطابت کیا تھی، معلوم ہوتا تھا، دریا میں ہلکا ہلکا تلاطم آ گیا ہے۔ پہاڑوں میں کوئی چشمہ اُبل رہا ہے۔ ان کی زبان سے جو لفظ نکلتا، دل میں اُتر جاتا۔ وہ پیغمبرانہ اذعان کے ساتھ بولتے تھے اور عہد عتیق کے خطیبوں کی یادتازہ کر دیتے تھے۔ ان کی زبان پر استدلال بولتا اور ایمان نازل ہوتا تھا۔ ۱۹۴۵ء میں ان کی تقریر کا یہ جملہ اسی کیفیت کا آئینہ دار ہے کہ: ’’تم چاہو تو میری گردن پر تلوار رکھ دو لیکن مجھ سے یہ بات کبھی نہ منوا سکو گے کہ تزکیۂ نفس جیسا پاکیزہ کام ان جاہلوں کے سپرد کر دوں جو خانقاہوں میں بیٹھے دین فروشی کرتے ہیں‘‘ (روایتوں کی حقیقت...ماہنامہ اشراق)

پروفیسر خورشید احمد نے ان کی شخصیت کی نقشہ کشی ان الفاظ میں کی ہے: ’’مولانا اصلاحی کی زندگی میں عقل و ارادہ اور خودی و عزت نفس کے باوجود دل اور دماغ کا بڑا حسین امتزاج تھا۔ نہ اتنے روکھے کہ بس عقل ہی کے اشارے پر چلتے رہیں اوردل ِ زندہ کے تقاضوں اور مطالبوں کو یکسر نظر انداز کر دیں۔ نہ اتنے نرم کہ باگ دل کو تھما دیں اور عقل و خرد کے تقاضوں کو فراموش کر دیں۔ نرمی اور سختی، جرات و بے باکی اور رحمت و التفات، احتساب و سرزنش اور عفو و درگزر کے دھارے ساتھ ساتھ بہتے تھے۔ مولانا نے صرف فکر کے چراغ ہی نہیں جلائے بلکہ انہوں نے شفقت و محبت کے دیے بھی روشن کیے‘‘۔

مولانا امین احسن اصلاحی نے جو کچھ لکھا، نفسِ مضمون سے قطع نظر، اسلوب بیان کے اعتبار سے بھی شاہکار ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ اردو نثر کے ارتقا میں ان کا غیر معمولی حصہ ہے’۔ حقیقتِ شرک‘ سے لے کر ’مبادیٔ تدبر قرآن‘ تک مولانا کی تمام تحریروں کو پڑھنے والے کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ تحریر کا علمی پہلو زیادہ وقیع ہے یا ادبی پہلو زیادہ پرکشش۔ کسی بھی اچھے ادیب کی یہ بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو پڑھنے والے کے سامنے اس طرح بیان کر سکے کہ قاری اسے سمجھ بھی رہاہو اور اس کی دلچسپی بھی قائم رہے۔ اس لحاظ سے مولانا اصلاحی ایک کامیاب ادیب قرار پاتے ہیں۔

مرعوب کن علمی وجاہت کے ساتھ مولانا اصلاحی کی عبارت میں دلکشی، خیال میں رعنائی، فکر میں جدّت اور اسلوب میں تحقیقی و تنقیدی سطح پر بھی انشاء پردازی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ نہ عبارت کو بوجھل ہونے دیتے ہیں ،نہ خیال کو پیچیدہ بننے دیتے ہیں۔ مولانا نے جس وقت لکھنے کا آغاز کیا، اس وقت اگرچہ سرسیدؔ و حالیؔ کی تحریک کے زیر اثر سادہ نویسی کو بھی فروغ حاصل ہو رہا تھا، لیکن طبقۂ علماء میں بالعموم پُر پیچ عبارات لکھنے اور بعید از فہم الفاظ و تراکیب کے استعمال ہی کا رواج تھا۔ مولانا اصلاحی کی تحریر عالمانہ شان کے باوجود بہت ہی سادہ، عام فہم اور سلیس ہے۔ لیکن سادہ ہونے کے باوجود سرسیدؔ اور حالی کی تحریر کی طرح بےرنگ اور پھیکی بھی نہیں۔ بلکہ اپنے اندر شگفتگی و دلکشی، رعنائی اور دلآویزی کا پہلو بھی رکھتی ہے۔ ان کی تحریر ہو یا تقریر، صحتِ فکر کے ساتھ حسنِ بیاں بھی اس کا ایک مسحور کن خاصہ ہے۔ پروفیسر خورشید احمد رقم طراز ہیں: ’’ان کی تحریر میں شبلیؒ کی ادبیت، مولانامودودیؒ کی فکری گہرائی اور سلاست اور ابولکلام آزاد کی خطابت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ جہاں وہ ٹھوس دلائل اور محکم تحقیق کے بادشاہ تھے، وہیں وہ ایک اعلیٰ انشاء پرداز اور شگفتہ بیان ادیب اور مقرر تھے۔ ان کے اسلوب میں ایک منفرد شوخی اور بانکپن ہے۔ جس میں قرآن اور بائبل، دونوں کے ادب کا پرتَو نظر آتا ہے‘‘۔

کسی واقعے کی منظر کشی کا مسئلہ ہو یا کسی شخص کے کردار کی تصویر کشی مقصود ہو، مولانا اصلاحی اس عمدگی اور چابک دستی سے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں کہ متعلقہ فرد یا واقعے کی پوری تصویر آنکھوں کے سامنے پھِر جاتی ہے۔ ایک اُجاڑ بستی کی تصویر ملاحظہ ہو: ’’چنانچہ اس طرح کسی ڈھیٔ ہوئی بستی پر اس کا گزر ہو جاتا ہے۔ اس کی منہدم دیواریں، اس کے ٹوٹے ہوئے دَر، اس کی سر بسجود مہرابیں، اس کی پراگندہ اینٹیں اور اس کی وحشت و ویرانی کی خاموشی، اس کے سامنے عبرتوں اور بصیرتوں کا ایک دفتر کھول دیتی ہے‘‘۔ (مبادیٔ تدبّر قرآن:صفحہ۳۹)

مولانا امین اصلاحی کی تحریر و تقریر میں شوخی اور حسب ضرورت طنز کی کاٹ پائی جاتی ہے۔ مولانا منظور نعمانی ؒکے اعتراض کے جواب میں انہوں نے ’’جماعت اسلامی پر الزامات اور ان کا جواب‘‘ اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے ’’حاکمیت الٰہی یا حاکمیت جمہور‘‘ والے مضمون پر تنقید و احتساب صرف علمی مباحث کا مرقع ہی نہیں، ادب، انشاء و طنز کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے۔ علاوہ ازیں ان کے اسلوب میں بلا کی بے ساختگی اور لہجے کی تروتازگی ہے۔

مولانا اصلاحی ایک سچے اور کھرے انسان، قوم کے دردمند مصلح اور مخلص داعی تھے۔ امت اسلامیہ جس طرح دین سے دوری کی وجہ سے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی تھی، اس صورت حال پر وہ بے چین و مضطرب ہی نہیں، عملی طور پر متحرک بھی تھے۔ درد کی یہ کسک ان کی تحریروں میں جابجا محسوس ہوتی ہے۔ ایک سچے داعی و مصلح کی تصویر کشی وہ یوں کرتے ہیں: ’’وہ چیخ چیخ کر پکارے اور لپٹ لپٹ کر سمجھائے اور نوع انسانی کی بیماریاں اس کو اس درجہ بےقرار کر دیں کہ وہ خلوت کے سجدوں میں اس کی نجات کے لیے پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ راتیں نیند کی لذّتوں سے محروم ہو جائیں اور اس کے دن فراغت کی گھڑیوں سے بےنصیب ہو جائیں۔ وہ مخلوق خدا کی گردن میں اتنے بےشمار ارباب و الٰہہ کی غلامی کا بوجھل طوق دیکھ کر اور درد سے بھر جائے اور ہر سننے والے کان اور ہر دیکھنے والی آنکھ تک اللہ کی وہ دعوت قولاً اور عملاً پہنچا دے جو ان تمام مسائل کا واحد علاج ہے‘‘۔ (حقیقتِ شرک و توحید۔ صفحہ ۱۴۷)

مولانا اصلاحیؒ کی علمی پرداخت دبستانِ شبلی کے ماحول میں ہوئی۔ وہ فرقہ وارانہ اور فروعی مسائل میں توسّع کے قائل ہیں۔ اگرچہ مولانا اصلاحی نے اہل حدیث عالم مولانا عبدالرحمٰن محدث مبارکپوری سے علم حدیث میں کسبِ فیض کیا لیکن ان کی علمی و فکری اٹھان میں بنیادی کردار مولانا حمید الدین فراہی ؒ اور مولانا عبد الرحمٰن نگرامی ؒکا تھا، جو دبستانِ شبلی کے وابستگان میں سے تھے۔ مولانا کی تصانیف اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے نئی نسل کے دل و دماغ کو متاثر کرنے والی ہیں۔ جدید طرز تحریر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے وہ عصرحاضر کے عقلیت پسند اور جدّت طلب حلقوں میں بھی اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔

مولانا اصلاحی نے پورے علمی ذخیرہ کو فکری طور پر ہضم کیا۔ قرآن مجید کا گہرا علم، مقاصد شریعت سے گہری واقفیت، اصول فقہ اور اصول تشریح کاملکۂ راسخہ ان کی ہر تصنیف میں ان کا رفیق ہے۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں، اس میں اپنے علم سے جان ڈال دیتے ہیں۔ ان کی کوئی تصنیف ایسی نہ ہوگی جس میں نئے علمی حقائق، علمی نکات، ناقدانہ مباحث اور جدید اصولی بحثیں نہ ملیں اور قرآن مجید کے فہم کی ایک نئی راہ اور شریعت کے مقاصد کے سمجھنے کا نیا دروازہ کشادہ نہ ہو۔ ان کی متعدد تصنیفات، ان کی مجتہدانہ فکرونظر اور قوت ِتنقید کی شاہد ہیں۔ اور ہر دور کے دماغوں کو جدید و صالح علمی و فکری غذا مہیا کرتی رہیں گی۔ روزنامہ ’پاکستان‘ کے مدیر اعلیٰ مجیب الرحمٰن شامی لکھتے ہیں: ’’مولانا اصلاحی نے بڑی سرگرم زندگی گزاری۔ وہ قلم کے بھی دھنی تھے اور زبان کے بھی۔ اردو تو ان کی مادری زبان تھی ہی، عربی کے رموز و اسرار پر بھی وہ ایسی عالمانہ نظر رکھتے تھے کہ ان کا شاید ہی کوئی ہمسر موجود ہو۔ قرآن کی زبان اور زمانہ ٔ جاہلیت کے عربی ادب پر ان کو بےمثال عبور تھا۔ ان کی تفسیر تدبّر قرآن کو تفسیری ذخیرے میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے...... آج ان کامتبادل ہمارے درمیان موجود نہیں ہے۔ اس طرح کی شخصیات کا کوئی متبادل پایا بھی نہیں جاتا۔ جس طرح اقبال ہر روز پیدا نہیں ہوتے، اسی طرح مودودی اور اصلاحی بھی پیدا نہیں ہو سکتے۔ ان کے قدموں کو چھونے کے لیے بھی قطب مینارپر کھڑا ہونا پڑتا ہے‘‘۔

مولانا امین احسن اصلاحی کی تصنیفات میں ان کی تفسیر ’تدبرقرآن‘ بہت ہی مقبول ہے۔ نو جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر استاد علامہ حمیدالدین فراہی کے تفسیری منہج پر لکھی گئی ہے۔ ان کے تفسیری اسلوب کی بنیاد قرآن کے اندرونی نظم اور الفاظ کے عرب کے اندر معروف مفہوم پر ہے۔ مولانا نے قرآن کی تفسیر قرآن سے، اور اس کے معانی کو کتاب کے اندرونی ربط اور الفاظ کے معانی کی صحیح تفہیم کے ذریعے متعین کیا ہے۔ سورتوں اور آیتوں کا نظم اور قرآن کی زبان داخلی وسائل ہے۔ جبکہ روایات و اقوال کو ان کے ہاں خارجی وسائل کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن فہمی کے بیرونی ذرائع سے بھی اگرچہ انہوں نے پورا استفادہ کیا ہے۔ تاہم ان کی منفرد خصوصیت قرآن کے اندرونی ذرائع کی روشنی میں تفسیر کرنا ہے۔ مولانا اصلاحی کے نزدیک ہر سورۃ اپنے داخلی نظم کی وجہ سے ایک مستقل وحدت ہے۔ اس کا ایک مرکزی موضوع ہے جسے سورہ کا ’عمود‘ کہتے ہیں۔ سورہ کے تمام اجزائے کلام اور نکات کا عمود سے گہرا تعلق ہے۔ اس طرح پورے قرآن میں بھی نظم موجود ہے۔ اس اعتبار سے مولانااصلاحی نے پورے قرآن کو سات گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔ ہر گروپ ایک یا ایک سے زیادہ مکّی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک یا ایک سے زائد مدنی سورتوں پر ختم ہوتا ہے۔

قرآن مجیدمیں استعمال ہونے والی اصطلاحات صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم، حج، عمرہ، قربانی وغیرہ کے مفہوم کا تعین سنت متواترہ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اختلافی مقامات پر قرآنی نظائر کو ترجیح دی گئی ہے۔ حسبِ ضرورت روایات و آثار سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ فقہیات میں ان اقوال کو راجح قرار دیا گیا ہے جو قرآن و سنت سے اقرب ہیں۔ کچھ اقوال سلف کو دلائل کی بنیادپر رَد کرتے ہوئے خود بھی اجتہادی رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔ علامہ فراہی کے تفسیری اسلوب سے والہانہ تعلق کے باوجود کئی مقامات پر ان کی آراء سے اختلاف بھی کیا ہے۔ اپنے منفرد تفسیری اسلوب، علمی مواد اور استدلال اور زبان و بیان میں فصاحت و بلاغت کی وجہ سے ’’تدبّرقرآن‘‘ ایک اعلیٰ پایہ کی تفسیر قرار پاتی ہے۔ ترجمہ کی زبان روکھی پھیکی اور بےمزہ نہیں بلکہ دلکش، شگفتہ اور دلپذیر ہے۔ تدبر قرآن کو دوسری تفاسیر کے مقابلے میں اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ وہ بہترین عصری اسلوب میں پیش کی گئی ہے۔ اس طرح مولانا اصلاحی کے ترجمہ قرآن میں بڑی حدتک روانی عبارت، بلاغت زبان اور تاثر کلام جیسی خصوصیات جمع کی گئی ہیں۔ برصغیر میں تفسیر ’تدبرقرآن‘ مسلسل شائع ہو رہی ہے۔ تدبر قرآن کی اشاعت پر مولانا منظور نعمانیؒ نے لکھا: ’’اس کتاب کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو عظیم نعمت بخشی ہے، اس کی عظمت کی تعبیر سے زبان و قلم قاصر ہے‘‘۔ مولانا نعمانی لاہور گئے تو مولانا اصلاحیؒ نے انہیں بتایا: ’’میری اہلیہ کہتی ہیں کہ تمہاری کتابیں تو میری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن مولانا نعمانی کی کتابیں میں خوب سمجھ لیتی ہوں‘‘۔ مولانا نعمانی نے فوراً کہا: ’’مولانا! ہم اُن کے لیے لکھتے ہیں، اور آپ ہمارے لیے لکھتے ہیں‘‘۔ ایک خط میں مولانا منظور نعمانی نے لکھا: ’’اس تفسیر سے میری جتنی قرآنی مشکلات حل ہوئیں، اتنی کسی کتاب سے بھی نہیں ہوئی ہیں‘‘۔

ان تمام خوبیوں اور ممیزات کے باوجود، جو تاریخِ تفسیر میں تدبّر قرآن کو ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کرتے ہیں، دوسری تفاسیر کی طرح تدبّر قرآن بھی کلام الٰہی کو سمجھنے کی ایک انسانی کوشش ہے۔ اور اس میں بھی غلطی کا احتمال و امکان اسی طرح ہے جس طرح بہتر سے بہتر اور کامیاب سے کامیاب انسانی کوششوں میں ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی انسانی کاوش بھی کمیوں اور غلطیوں سے یکسرپاک نہیں ہو سکتی۔

مولانا امین احسن اصلاحی محض ایک مذہبی محقق اور اسلامی مفکّر ہی نہیں بلکہ ایک منفرد صاحب طرز ادیب بھی تھے۔ خیالات و افکارکی ندرت، تحقیق، موادکی ترتیب و پیش کش میں جدّت اور اپنے ادبی اسلوب کی انفرادیت کی وجہ سے انہیں اردو ادب میں روایت شکن و روایت ساز ادیب کہا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ان کی تحریروں کو ایک عظیم ادبی سرمایہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔
٭٭٭