مدرسہ ڈسکورس ان قطر! - محمد عرفان ندیم

یہ ہمارا پہلا دن تھا ، قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز میں پاکستان، انڈیا اور امریکا سے تعلق رکھنے والے طلباء اور فیکلٹی موجود تھی۔ یہ ایک ہفتے کی ورکشاپ تھی اور اس کا فارمیٹ لیکچرز کی بجائے پریزنٹیشنز پر مشتمل تھا۔ پچھلے سال جولائی میں نیپال میں ہونے والی ورکشاپ میں جن طلباء کو ریسرچ ٹاپک دیے گئے تھے، اس ورکشاپ میں انہوں نے اپنے پیپر پیش کرنے تھے۔ یہ ورکشاپ مدرسہ ڈسکورس پروگرام کے تحت منعقد کی گئی۔

پہلی پریزنٹیشن کلامی مسائل میں تاویل کے اصول و مناہج پر تھی، علم الکلام کو آج کی جدید اصطلاح میں تھیالوجی کہا جاتا ہے ، اسلامی علمی روایت میں علم الکلام کا ارتقاء ایک خاص تناظر میں ہو ا تھا، اسلامی فتوحات کے نتیجے میں اسلام جب عجمی علاقوں میں پہنچا اور وہاں کے مقامی فلسفوں سے اس کا واسطہ پڑا تو اس کے نتیجے میں علم الکلام کی بنیاد پڑی۔ عباسی عہد میں یونانی علوم کے تراجم ہوئے تو علم الکلام ایک چیلنج کے طور پر مزید نکھر کر سامنے آیا ۔ یہ دور اسلامی علمی روایت اور علم الکلام کے عروج کا دور تھا ، بعد میں جب اسلامی تہذیب اور مختلف خطوں سے مسلمان حکومتوں کا خاتمہ ہوا تو ہماری علمی روایت بھی کمزور پڑ گئی ۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں نوآبادیاتی دور کے نتیجے میں ہم اپنی روایت سے کٹ گئے اور اسے آگے نہیں بڑھا سکے ۔ اب ہم دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں اور تہذیب ، روایت اور تراث میں جو باقی بچا ہے صرف اسی کی حفاظت کو اپنی زندگی کا وظیفہ سمجھتے ہیں ۔ یہ رویہ بیک وقت صحیح بھی ہے اور غلط بھی مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب ، روایت اور تراث کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامی پوزیشن اختیار کرنی پڑے گی ۔ صرف علم الکلام کو دیکھ لیں ،مغربی دنیا کی ہر نامور یونیورسٹی میں تھیالوجی کے نام سے ماسٹر سے لے کر پی ایچ ڈی تک کورس پڑھایا جا رہا ہے اور پاکستان کی کسی ایک یونیورسٹی میں بھی اس طرح کا کوئی کورس شامل نصاب نہیں ۔ پڑھانا تو دور کسی یونیورسٹی میں تھیالوجی کے نام سے کوئی ڈیپارٹمنٹ ہی موجود نہیں ۔ اور مدارس میں جو علم الکلام پڑھایا جا رہا ہے وہ وہی ہے جو یونانی فلسفے کے رد کے لیے مرتب کیا گیا تھا جبکہ دنیا آج ایک ہزار سال آگے بڑھ چکی ہے ۔ جدید سائنس نے بہت ساری نئی حقیقتو ں کو آشکار کر دیا ہے اور آج ہمیں یونانی فلسفے نہیں بلکہ جدید سائنس اور جدید مغربی فلسفے کو مد نظر رکھ کر نیا علم الکلام ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ضرورت کہاں سے پوری ہو گی ،مدرسہ یا یونیورسٹی ؟ دونوں کی صورتحال میں آپ کے سامنے واضح کر چکا ہوں۔

دوسری پریزنٹیشن شاہ ولی اللہ کے افکار کی روشنی میں شریعت اور تمدن کے باہمی تعلق کے حوالے سے تھی ، اس حوالے سے شاہ صاحب کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کی کچھ مباحث کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔شاہ صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شریعت اور تمدن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور شریعت کی تنزیل و تکمیل تمدنی ضروریات کو مد نظر رکھ کرکی جاتی ہے ۔ شاہ صاحب تمدنی علوم ،عقائد و افکاراور عادات کو تکمیل شریعت کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ یہ سوال کہ اگر تمدن ہی شریعت کی بنیاد ہے تو انبیاء کی بعثت کا کیا مقصد باقی بچتا ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ دین ایک ہی ہے البتہ شرائع مختلف ہیں اور شرائع کے مختلف ہونے کی وجہ ان کا وہ خاص تمدن ہے جس دور میں وہ نازل ہو رہی ہیں ۔ جب کسی تمدن میں ایسی رسوم جڑ پکڑنے لگیں جو اصل دین، انسانی فطرت اور مشترکہ انسانی قدروں کے خلاف ہوں تو ایسی صورت میں اللہ کسی نبی یا مجدد کو مبعوث فرماتے ہیں جو دین کو اپنی اصل حالت ، فطرت انسانی کے خلاف رسوم اور مشترکہ اخلاقی اقدار کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھتے ہیں اور اس اصلاح میں بھی اس خاص تمدن کی ضروریات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

تیسری پریزنٹیشن میں حدود و تعزیرات کی ابدیت اور بدلتے حالات میں اس کی عملی صورتوں کے حوالے سے مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر اور ان کے رجحان کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مولانا سندھی کے نزدیک اسلامی شریعت میں سزاؤں کا بنیادی مقصد انسانی اقدار اور مصالح اجتماعیہ کی حفاظت ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت میں خصوصا ان جرائم کی روک تھام کے حوالے سے کافی سختی کی گئی ہے جن کا تعلق فطرت انسانی، اعلیٰ اخلاق ،مشترکہ انسانی اقدار، امن عامہ اور نظم مملکت سے ہے اورسلام کا بنیادی مقصد ہی امن و سلامتی ہے ۔ مولانا کے نزدیک بنیادی طور پر قرآن کی دو حیثیتیں ہیں ، پہلی یہ کہ اپنی روح کے اعتبار سے قرآن ایک ابدی، عالمگیر اور دائمی ضابطہ حیات ہے اور دوسری یہ کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب تھے لہذاقرآن نے بیان احکام اور تکمیل شریعت میں عرب تمدن کو بنیاد بنایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف زمانوں میں قرآن کی جو تفاسیر لکھی گئی ان کی تفسیر و تشریح میں ہے ہر زمانے کے لحاظ سے ہمیں مختلف نتائج نظر آتے ہیں ۔مولانا کے نزدیک قرآن نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی خاص عرب تمدن کو مد نظر رکھ کر اپنائی گئی ہیں ۔ مثلا عرب ایک خشک اور گرم ملک تھا جس میں صاف پانی اور دودھ اللہ کی بڑی نعمتیں شمار ہوتی تھیں، عرب کے صحرا میں شہد اور میٹھے پھلوں کا مل جانا بھی ایک بڑی نعمت تھی اس لیے اللہ نے قرآن میں ایسی مثالیں پیش کی ، حالانکہ زرعی زمینوں میں صاف پانی ، دودھ ، شہد اور پھلوں کا مل جانا ایک معمول کی بات تھی۔ اسی طرح جہنم کی دہشت اور خوفناکی کے بیان کے لیے بھی عرب تمدن کی مثالوں کا سہارا لیا گیا ، عرب کے صحراؤں سے ملنے والے گرم پانی سے جہنم کی شناخت کروائی گئی۔ مولانا کے نزدیک کوئی غیر عرب داعی یا واعظ اسے اپنے تمدن اور اپنی قوم کی ذہنیت اور نفسیات کے مطابق بیان کر ے گا۔ حدودو تعزیرات کو بھی وہ اسی اصول کے ضمن میں دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جرائم اور حدود کے حوالے سے قرآن نے اصولی نوعیت کے احکام بیان فرما دیئے ہیں مگر ان سزاؤں کا نفاذ کب ، کیسے اور کن شرائط کے ساتھ ہوگا اس کا فیصلہ ہر علاقے کے اہل علم اور ارباب اختیار کو خود کرنا ہو گا ۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے رسول اللہ کو تعلیم کتاب کے ساتھ تعلیم حکمت کی ذمہ داری بھی سونپی ہے اور حکمت سے مراد فطرت انسانی اور اس کے طبعی تقاضوں کو سمجھنا ہے ۔ قرآن کے اصولی احکام کو سمجھتے ہوئے ذیلی قوانین بنانا اور انہیں اپنے ماحول اور زمانے کے مطابق نافذ کرنے کی سعی کرنا ہی حکمت ہے ۔ مولانا حدود کو آخری درجے کی سزائیں سمجھتے ہیں یعنی جب مجرم ہر طرح کی چھوٹی سزاؤں کے باجود باز نہ آئے تو اسی یہ انتہائی سزا دی جائے گی اور ایسی سزاؤں کا اطلاق آخری درجے کی عدالت عالیہ ہی کر ے گی ،نیز ایسی سزاؤں کے نفاذ میں مجرم کے معاشی و معاشرتی حالات اور ا س کے ذاتی احوال و اوصاف کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورس، دینی مدارس، اسکولز اور ہمارا مؤقف - مفتی منیب الرحمن

ایک اہم سوال اسلامی ممالک میں بسنے والے غیر مسلم باشندوں کے بارے میں تھا ،ان کے بارے میں کلاسیکی فقہی تصور یہ تھا کہ وہ ’’اہل ذمہ‘‘ ہیں اور ان کی حیثیت ایسے شہریوں کی ہے جنہیں ایک معاہدے کے تحت جان ومال کا تحفظ اور مذہبی آذادی حاصل ہے لیکن شہری وسیاسی حقوق میں انہیں برابری حاصل نہیں۔ لیکن جدید جمہوری ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد یہ تصور پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ نئے تصورات نے لے لی۔ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اہم حکومتی مناصب اور ذمہ داریاں تفویض کی جا سکتی ہیں ۔ کلاسیکی فقہی روایت میں اس کی گنجائش نہیں ملتی البتہ موجودہ دور میں کہ جب قانون اور نظام کی بالادستی مسلم ہے اورہر صاحب منصب جواب دہ ہے تو ایسی صورت میں قانونی نقطہ نظر سے کسی غیر مسلم کو انتظامی ذمہ داری سونپنے میں بظاہر کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا اور پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں عملا اسے قبول بھی کیا گیا ہے ۔ ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ غیر مسلموں کی اسلام دشمنی کے بارے میں جو نصوص وارد ہوئی ہیں ان کا اصل منشاء کیا ہے او ر ان نصوص کی موجودگی میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی ، دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی ممانعت علی الاطلاق نہیں بلکہ کسی غیر مسلم گروہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کیا جائے گا۔

ایک سوال یہ تھا کہ مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں پر شرعی قوانین کا نفاذ ہو گا یا نہیں ، جدید مسلم مفکرین نے پرسنل لازکو یعنی نکاح و طلاق وغیرہ کے علاوہ تعزیری قوانین کو پبلک لاء کے طور پر ان پر بھی قابل تنفیذ قرار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ جن جرائم کی اخلاقی قباحت مسلم اور ان کا تعلق مشترکہ انسانی اقدار اور جان و مال کے تحفظ سے ہے ان کا نفاذ بلاامتیاز مذہب ہر ایک پر کیا جائے گا اورجن جرائم کی اخلاقی قباحت مختلف فیہ ہے ان میں اس شرط کے ساتھ نرمی برتی جائے گی کہ وہ متعدی اثرات کا موجب نہ ہوں ۔ایک سوال قادیانیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا ، اس ضمن میں بھی روایتی فقہی تصور اور مذہبی تعبیرات میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص قصدا دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے تو پہلے تو اسے توبہ کا موقعہ دیا جائے گا، پھر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن پچھلی صدی میں برصغیر میں جب قادیانیت کے فتنے نے سر اٹھایا اس وقت مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی لہذا اس فقہی تعبیر پر عمل ممکن نہیں تھا۔ لہذا علامہ اقبال کی اس تجویز پر عمل کیا گیا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قراد دیا جائے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اسی تجویز پر اتفاق رائے کر لیا گیا اور آئین میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ علماء نے نتیجے کے طور پر علامہ اقبال کی تجویزکو قبو ل تو کر لیا مگر اس کے پیچھے جو نظریہ کار فرما تھا اس پر غور نہیں کر سکے جس کی وجہ سے قادیانیت کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورس، دینی مدارس، اسکولز اور ہمارا مؤقف - مفتی منیب الرحمن

ایک پریزنٹیشن مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق اور علماء دیوبند کے نظریہ ارتقاء کے تناظر میں پیش کی گئی تھی ۔اس مقالے میں ڈارون کے نظریہ ارتقا ء کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ ایک پریزنٹیشن میں تاریخ عظیم کا تعارف کرایا گیا اور بتایاگیا کہ کس طرح اس سے پورا ورلڈویو تبدیل ہوکررہ جاتا ہے اورمذہب کے سامنے کیسے سوالات کھڑ ے ہوتے ہیں۔ ایک پیپرسائنسی دوراورمذہبی بیانیے کے عنوان سے پیش کیا گیاجس میں اب تک پیش کیے گئے مذہبی بیانیوں اوران پر وارد ہونے والے اشکالات کا جائزہ لیاگیا۔ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ کیا اسلامی قانون میں تبدیلی اور continiuty برابرجاری رہ سکتے ہیں۔ایک پیپر میںقرآنی نصوص کی تاویل کے مسئلہ کاابن رشدکے حوالہ سے جائزہ لیا گیا۔

اگلی پریزنٹیشن میں احترام انسانی کے تصورکا جائزہ لیاگیا۔ایک سوال پاکستان میں حنفی فقہ کے پس منظرمیں بلاسفیمی لاء کے حوالے سے سامنے آیا۔ایک پیپر میں مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے بعض نظریات کا جائزہ لیا گیا۔ اگلی پریزنٹیشن میں ارتدادکی سزاپرنئے سرے سے غوروفکرکی ضرورت پر نتائج فکر پیش کیے گئے۔ ایک پیپر میں شان نزول کی روایتوں کا سہارا لے کر فہم قرآن میں تاریخی تناظرکے کردارپربات کی گئی۔ایک سوال اسلام اور انسانی حریت کے حوالے سے اٹھایا گیا اور اس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔آخری پیپر میں دل ودماغ کے بارے میں جدید میڈیکل تحقیقات اوران کے اطلاقات کے فکری وفقہی نتائج سے بحث کی گئی۔مزید یہ کہ ہمیں تحقیق و جستجو کے نتیجے میںاپنی تھیالوجی کو موجودہ دور کی علمیات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے رہنا چاہیے۔

مذکورہ بالا جتنے بھی سوالات اس ورکشاپ میں ڈسکس ہوئے اور جتنی بھی پریزنٹیشنز دی گئی، ان کا بنیادی مقصد ان مسائل پر آذادانہ غور و فکر اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ان کا حل پیش کرنا تھا ۔ مدرسہ ڈسکورس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ کلاسیکی اسلامی علمی روایت کے احیاء کی کوشش کی جائے ۔ ایک اہم بات جو میں نے ورکشاپ میں بھی عرض کی تھی کہ کورس کے بعض شرکاء اور عمومی طور پر سوسائٹی میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ہمارے دینی ادارے اور علماء دور جدید کے ان سوالات کو رسپانڈکیوں نہیں کر رہے اور اس اعتراض کو بنیاد بنا کر بعض اوقات مدارس اور علماء کے بارے میں غیر مناسب اور ناشائستہ رویہ اپنایا جا تا ہے ، تو میں نے عرض کیا تھا کہ ہر کام کو مدارس اور علماء کے کھاتے میں ڈال دینا مناسب نہیں ۔ مدارس اور علماء کا دائرہ کار محدود اور وسائل بہت کم ہیں اور اتنے محدود وسائل کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھنا اور معاشرے کو دینی راہنمائی فراہم کرتے رہنا ہی بڑی بات ہے ۔ نظریہ ارتقاء اور اس جیسے دیگر سائنسی و فکری مسائل پر غور و فکر اور ریسرچ کے لیے وقت اور سرمایہ دونوں درکار ہیں ۔بذات خود مغرب میں اگران سوالات پر ریسرچ ہو رہی ہے تو یہ کام کلیسا یا کوئی مذہبی ادارہ نہیں کر رہا بلکہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں ہو رہے ہیں اس لیے کچھ کام ہماری یونیورسٹیوں کو بھی کرنا چاہیے اور ہمارے عصری تعلیمی اداروں اور ماہرین تعلیم و تحقیق کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

خود اسلامی علمی روایت جب اپنے عروج پر تھی تب یہ کام کسی مذہبی ادارے میں نہیں بلکہ عام تعلیمی اداروں میں ہوا تھا۔ ایک اور اہم بات کہ اپنی علمی روایت کے احیاء کے لیے ایسے افراد ناگزیر ہیں جو پختہ ذہن کے حامل ، اپنی علمی روایت کا گہرا ادارک ، بڑوں پر کامل اعتماد ، وسیع مطالعہ اور تنقیدی نقطہ نظر کے حامل ہوں ۔ ایسے لوگ جن کا ذہن ناپختہ ، مطالعہ محدود ، تنقیدی ذہن سے عاری ، ہر کس و ناکس سے متاثر اور ہر علمی و فکری مسئلے پرفورا ایمان لانے والے ہوں ان سے علمی روایت کے احیاء کی امید نہیں لگائی جا سکتی اورایسے لوگ بجائے فائدے کے الٹا نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے اور کم از کم ایسے لوگوں سے کسی بہتری کی امیدنہیں کی جا سکتی ۔ علمی روایت کا احیاء بڑا اہم کام ہے کہ اس میں مختلف ذہن کھپانے پڑتے ہیں اور ہر ذہن اپنی استعداد کے مطابق غور فکر اور تحقیق و جستجو کرتا اور کسی نتیجہ فکر تک پہنچتا ہے ۔یہ تحقیق و جستجو اور نتائج غلط بھی ہو سکتے ہیں لہذا صحیح نتائج کے ساتھ بعضوں کے گمراہ ہونے کا خدشہ بھی بدستور موجود رہتا ہے ۔ اس لیے اس کام کے لیے ایسے افراد کا چناؤ ناگزیرہے جو غیر معمولی صلاحیت کے حامل اورکامل درجے کا تنقیدی شعور رکھتے ہوں بصورت دیگر بجائے فائدے کے الٹا نقصان کا خدشہ ہے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.