علی رضا عابدی کے قتل پر سوشل میڈیا پر احتجاج

کراچی میں سابق رکنِ قومی اسمبلی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سابق رہنما سید علی رضا عابدی کی ہلاکت کے بعد بھی سوشل میڈیا پر انہی کے بارے میں گفتگو کی جا رہی ہے اور مختلف مکتبہ فکر سے لوگ ان کی دریا دلی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہ رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر ظِلّ الہی کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک صارف نے سید علی رضا عابدی کی موت کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح سے لوگوں نے اپنے غم کا اظہار کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری تھی۔ ہر وہ شخص جس نے ان سے ملاقات کی وہ ان کا دلدادہ تھا۔ چاہے وہ حلیف ہو یا حریف، ہر کسی کے پاس ان کے حوالے سے کوئی کہانی تھی۔ ان کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔‘

‏‎‎‎ظلّ الٰہی
@XilleIlahi
The outpouring of grief and sympathy on my TL is testament to a life well lived. Everyone who met him, friend or rival, seems to have an Abidi Bhai story. He will not be forgotten.

ایک اور صارف سوات سواگ نے بھی اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’عابدی لالہ کی وہ نایاب آواز تھی جو طبقاتی اور علاقائی فرق کے باوجود ہم جیسے نئی نسل کے نوجوانوں سے مطابقت رکھتی تھی۔ ان کی موت سے کراچی اور پاکستان دونوں کی محرومیاں بڑھ گئی ہیں۔‘

Swat Swag
@NaPoha_
Abidi Lala was the rare kind of voice that millennials like us could relate to, despite differences, in a country where politicians come from the unrelatable rural gentry or urban moneyed classes. Sophisticated & educated.
Karachi is poorer today. Pakistan is poorer today.

سید علی رضا عابدی کے والد اخلاق حسین نے بھی رات گئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میرے بیٹے کو سفاکی سے قتل کیا گیا ہے۔ وہ کسی کا دشمن نہیں تھا۔ جس کسی نے بھی اس کے قتل کا حکم دیا ہے وہ زندگی بھر کے لیے پچھتائے گا۔‘
انھوں نے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کے جنازے کی تفصیلات بھی درج کیں اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اس میں شرکت کریں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔

Syed Akhlaq Hussain
@dashtetanhai
My son was murdered in cold blood. He was not enemy of anyone.
Whomsoever has ordered this will be cursed for life for killing a gentleman.
Please pray for him and attend his mamaz at Yusrab phase -4 mosque after zohrain at 1:30 pm

مصنف اور محقق عقیل عباس جعفری نے سید رضا علی عابدی کی ہلاکت پر اپنے فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سال ہونے والے عام انتخابات کا ایک واقعہ درج کیا جس میں انھوں نے بتایا کہ کس طرح دو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کشیدگی کے باوجود مل کر نماز ادا کی۔

Aqeel Abbas Jafri
13 hours ago
اسی برس 16 جولائی کی بات ہے۔
حکیم سعید گراؤنڈ گلشن اقبال کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اچانک آمنے سامنے آگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ ماحول کشیدہ ہوتا جارہا تھا کہ ایسے میں مغرب کی اذان ہوگئی۔ پھر چشم فلک نے کیا منظر دیکھا۔ جماعت اسلامی کے "سنی" امیدوار اسامہ رضی امام بن گئے۔ ایم کیو ایم کے "شیعہ" علی رضا عابدی سمیت تمام پارٹیوں کے کارکنان سب کچھ چھوڑ کر اس کے پیچھے صف میں کھڑے ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے کیمپ کے عین سامنے سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ اس نماز میں 3 مسالک کے ماننے والے اور 6 سے زائد سیاسی جماعتوں کے کارکنان شریک ہوئے۔
یہ تصویر گالم گلوچ اور تفرقہ بازی کے گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا خوشبودار جھونکا اور رواداری کی ایک ناقابل فراموش مثال سمجھی گئی۔ "

آج علی رضا عابدی شہید کردیے ۔

اس سے قبل بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پولیس افسر ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کی سید علی رضا عابدی کے گھر والوں سے ملاقات ہوئی جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول گذشتہ روز اپنے آفس سے معمول سے پہلے نکلے اور اپنے ہوٹل گئے اس کے بعد اپنے گھر روانہ ہوئے جہاں سے انھیں رات کے کھانے پر کہیں جانا تھا۔

ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کے مطابق مقتول کے گھر والوں نے کسی مخصوص قسم کی دھمکی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا البتہ پولیس نے علاقے آس پاس لگے کیمروں کی بھی فوٹیجز حاصل کر لی ہے تاہم ابتدائی رپورٹ میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

علی رضا عابدی نے بنیادی تعلیم سینٹ پیٹرک سکول سے حاصل کی، بی کام ڈفینس کالج اور اور بوسٹن سے بزنس کی تعلیم حاصل کی تھیٔ

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذمت .
وزیر اعظم پاکستان عمران خان، صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری،امیر جماعت اسلامی سراج الحق ، سربراہ پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

@PTIofficial
وزیراعظم عمران خان کا علی رضا عابدی پر حملے کی شدید مذمت، رپورٹ طلب کرلی، وزیراعظم عمران خان نے علی رضا عابدی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔@ImranKhanPTI #AliRazaAbidi

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 'کراچی کے سپوتوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔‘علی رضا عابدی کے گھر کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس بے دردی اور سفاکی کے ساتھ سید علی رضا کو قتل کیا گیا یہ خالصتاً دہشت گردی ہے۔‘
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے علی رضا عابدی کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس سندھ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے قاتلوں کو فوری طورگرفتار کرکے انھیں رپورٹ پیش کریں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے سید علی رضا عابدی کی موت کو ’غیر معمولی نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ ’سیاست میں تشدد ناقابل معافی جرم ہے۔‘

Ahsan Iqbal
@betterpakistan
Very sad on this terrible tragedy. May Allah bless his soul and Grant patience to his family and friends Ameen! Violence in politics is unforgivable crime. We have to collectively counter violent extremism.

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنما بشریٰ گوہر نے علی رضا عابدی کی موت کو ’غیرمعمولی نقصان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’پاکستان کا سب سے ذی شعور سیاستدان تھا۔‘

@BushraGohar
Shocked!!! Gone too soon...#RazaAliAbidi was one of the sanest politicians in #Pakistan - his death is a huge loss. Security failure has become an accepted norm. There will be no accountability-so continue with positive reporting as ordered by #DGISPR #RestInPeace @abidifactor https://twitter.com/ihteshamafghan/status/1077609630514274304 …

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اس قتل کی مذمت کی اور قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ وہ علی رضا عابدی کے اہل خانہ کے غم میں برابر شریک ہیں .
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما علامہ رجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ان کے جماعت علی رضا عابدی کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش: واقعہ کب ہوا؟ منگل کی شب مقامی پولیس کے اہلکار ایس ایچ او گرزی اسد منگی نے بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے خیابانِ غازی کے قریب علی رضا عابدی کے گھر کے باہر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں انھیں کئی گولیاں لگیں اور انھیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال پی این ایس شفا لے جایا گیا۔
ایس ایس سی ساؤتھ پیر محمد شاہ کے مطابق علی رضا عابدی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے جب وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹیگیشن طارق دھاریجو نے بتایا ہے کہ اِس واقعے کی کڑیاں کراچی میں دہشت گردی کے خالیہ واقعات سے جڑی نظر آتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے آس پاس کے گھروں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو حاصل کرنا شروع کردی ہے جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت ہو سکے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ علی رضا عابدی کی نماز جنازہ بدھ کو کراچی ڈی ایچ فیز فور میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

علی رضا عابدی کون تھے؟
48 سالہ علی رضا عابدی ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رکن اسمبلی تھے، سنہ 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں ان کا سخت موقف رہا جس کا اظہار وہ پارٹی کے اندر اور ٹی وی چینلز پر بھی کرتے تھے۔
جولائی 2018 کو منعقدہ گذشتہ عام انتخابات میں انھوں نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا مقابلہ کیا تھا جس میں انھیں شکست ہوئی تھی۔ ان انتخابات میں جب پارٹی قیادت کی دلچسپی کم ہوئی تو اے پی ایم ایس او کے کارکنان نے ان کی مہم چلائی تھی۔
عام انتخابات میں شکست کے بعد ضمنی انتخابات میں انھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے بعد انھوں نے پارٹی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا اور بنیادی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔
علی رضا عابدی کے بارے میں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ الطاف حسین کی سربراہی میں لندن گروپ کے قریب رہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جب پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور مصطفی کمال کے ساتھ ایک منشور کے تحت مشترکہ امیدواروں کو لانے کا اعلان کیا تو علی رضا عابدی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد فاروق ستار اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے۔

Syed Ali Raza Abidi
@abidifactor
The counter press conference by PTI is just repetition of what they have been alleging for the past 5 years on the container. Nothing new nor substantial in reply to PMLN's presser, except that now PTI is officially speaking on behalf of NAB Courts.

علی رضا عابدی کا خاندان ایم کیو ایم کا سپورٹر رہا ہے۔ ان کے والد اخلاق حسین بھی رکن قومی اسمبلی رہے۔
انھوں نے بنیادی تعلیم سینٹ پیٹرک سکول سے حاصل کی، بی کام ڈیفینس کالج اور اور بوسٹن سے بزنس کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے لیے ریسرچ اینڈ ایڈوائیزری کونسل کی بنیاد رکھی اور وہ ایم کیو ایم کے سوشل میڈیا سیل کے بھی سرگرم کارکن رہے۔
اس واقعے سے کچھ گھنٹے پہلے علی رضا عابدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاکستان تحریکِ انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی نیب عدالتوں کے حوالے سے بات کرنے لگی ہے۔