جديد علم حياتيات، تخيلاتي احکامات، وضع کردہ صحيفے؟ عمر ابراہیم

مغرب ارتقا کي گتھي ميں پھر الجھ گيا ہے۔ زندگي کا مستقبل فطرت کے انتخاب پرچھوڑدينا چاہتا ہے۔ مگر ايک سوال ہے جو پريشان کررہا ہے۔ حياتياتي تاريخ Sapiens کے باب There is no justice in history میں پروفيسرنوح ہراري لکھتے ہيں، '' انساني تاريخ کي تفہيم ميں زرعي انقلاب کے بعد کا ہزاريہ ذہن کوايک عجيب سوال سے دوچار کرديتا ہے: انسانوں نے کس طرح بڑے پيمانے پرمعاون نيٹ ورکس منظم کيے؟ جبکہ انسان ايسي حياتياتي جبلتوں سے کسي قدر عاري ہے، جو ايسے معاشرے منظم کرنے کيلئے لازم ہيں؟ اس کا مختصر جواب يہ ہے کہ انسان نے 'تخيلاتي احکامات' اور' صحيفے وضع' کيے۔ يہ وہ دوانساني ايجادات ہيں جنہوں نے حياتياتي ورثے ميں موجود خالي پن کودورکيا ہے(بے روح حياتياتي تسلسل کوتہذيبي معنويت عطاکي ہے)۔ تاہم، انساني معاشروں کا منظم ہونا بہت سوں کيلئے پراسرار سي نعمت ہے۔''

غريب سائنس کا سارا انحصارقياس آرائيوں اور اندازوں پر ہے۔ ہر بار 'کيا' کا جواب پا کر يوں چرچا کيا جاتا ہے جيسے 'کيسے' اور 'کيوں' کا جواب پا ليا ہو۔ ہربار'تخليق' کے جس مرحلے پرپہنچتے ہیں، وہيں خدا تراش ليتے ہیں۔ يہ مسئلہ صرف سائنٹزم ہي کودرپيش نہيں، انساني گروہوں کا اجتماعي فہم جس مقام تک رسائي پاتا ہے، وہيں سجدہ ريز ہوجاتا ہے۔

ماضي قريب کے سب سے بڑے سائنسدان آنجہاني اسٹيفن ہاکنگ نے IS THERE A GOD کا جوجواب ديا ہے، اس ميں فطرت کے قوانين کو ہي اپنا خدا تسليم کيا ہے۔ مگر'انسانوں کے غير فطري منظم معاشروں' کے سوال پر'پراسرا نعمت' کا گمان رکھنے والوں ميں محترم ہاکنگ صاحب بھي شامل ہیں۔ Artificial Intelligence کي اہليت پرجواب ميں انہوں نے انساني دانش کے مستقبل کيلئے نيک خواہش کا اظہارکيا ہے۔

يہ متناقض نقطہ نظروہ فيصلہ کن دوراہا ہے۔ جس کي ايک راہ سائنٹزم اور انفو بائيوٹيکنالوجي ميں گم ہورہي ہے۔ جبکہ دوسري راہ انساني دانش اور روشن روحوں سے منورہے۔ انساني دانش الہياتي اقدار کا وہ فطري نظم ہے، جسے انسان ميں وديعت کيا گيا ہے۔ يہ انساني دانش روح کا وہ کھلا راز ہے، جسے ہرانسان جانتا ہے محسوس کرتا ہے۔

''اور اے نبي لوگوں کو ياد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بني آدم کي پشتوں سے ان کي نسل کو نکالا تھا اور انہيں خود ان کے اوپرگواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا 'کيا ميں تمہارا رب نہيں ہوں؟' انہوں نے کہا 'ضرورآپ ہي ہمارے رب ہيں'ہم اس پر گواہي ديتے ہيں' يہ ہم نے اس ليے کيا کہ کہيں تم قيامت کے روزيہ نہ کہدو کہ 'ہم تو اس بات سے بےخبر تھے'۔ (سورۃ اعراف آيت 172)

جديد سائنس کے غيرمحقق بيانيے ميں الٰہياتي اقدار کا فطري نظم 'تخيلاتي احکامات' اور'وضع کردہ صحيفوں' کے طورپر پيش کيا جاتا ہے۔ جبکہ يہ بھي تسليم کيا جاتا ہے کہ انساني تہذيب وثقافت کي تشکيل وتنظيم ميں ان احکامات اور صحيفوں کا کردارنہ صرف مرکزي ہے بلکہ سکون بخش بھي ہے۔

مگر سوال يہ ہے کہ سائنس کا بيانيہ غير محقق يا تعصب زدہ کيوں ہے؟ يہ 'وضع کردہ احکامات اور صحيفے کہاں سے آئے ہيں؟ سادہ سا جواب ہے۔ جديديت اور سائنٹزم کي دنيا ميں مذاہب پرتمام تحقيق کا انحصارعيسائيت، يہوديت، ہندومت اور بدھ مت وغيرہ پر ہي رہا ہے۔ اسلام کے سوا تمام مذاہب کي تعليمات اور مقدس کتابيں 'وضع کردہ' ہیں۔ يہ سائنٹزم کے بيانيے کوتضحيک وتحقير کا بھرپورسامان فراہم کرتي ہیں۔ اس کي پوري تاريخ ہے۔ قرآن حکيم سے رہنمائي حاصل کرتے ہیں۔

''انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راہ سے روکا بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔''(سورہ توبہ آيت 9)

''بس ہلاکت اور تباہي ہے ان لوگوں کے ليے جواپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہيں پھرلوگوں سے کہتے ہيں کہ يہ اللہ کے پاس سے آيا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے ميں تھوڑا سا فائدہ حاصل کرليں۔ ان کے ہاتھوں کا يہ لکھا بھي ان کے ليے تباہي کا سامان ہے اور ان کي يہ کمائي بھي ان کے ليے موجب ہلاکت۔'' (سورہ بقرہ آيت 79)

''حق يہ ہے کہ جولوگ ان احکام کو چھپاتے ہيں جو اللہ نے اپني کتاب ميں نازل کيے ہيں اور تھوڑے سے دنيوي فائدوں پر انہيں بھينٹ چڑھاتے ہيں، وہ دراصل اپنے پيٹ آگ سے بھررہے ہيں۔ قيامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہيں پاکيزہ ٹھہرائے گا، اور ان کے ليے دردناک سزا ہے۔''(البقرہ آيت 174)

''اور بیشک اہل کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو ان پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔''(سورہ آل عمران 199-200)

يہ آيتيں واضح کر رہي ہيں کہ آسماني صحيفوں اورتعليمات ميں بگاڑلايا گيا۔ ان احکامات کوخواہشات اورمفادات کي نذر کيا گيا۔ بني اسرائيل 'الٰہياتي احکامات' کو'تخيلاتي احکامات' اور'صحيفوں' کو'وضع کردہ صحيفوں' ميں ڈھالنے کا کام مسلسل کرتے رہے ہيں۔ حضرت ابراہيم عليہ سلام، حضرت موسٰي عليہ سلام، حضرت عيسٰي عليہ سلام دين حنيف ليکر آئے تھے۔ مگراسے يہوديت اور عيسائيت بناديا گيا۔ بائبل کے حوالے سے رومن ايمپائر کے يہودي درباري جان پال کي تحريفات اور انحرافات ايک ايسي علامتي مثال ہے، جوآيتيں بيچنے والے تمام کرداروں پرصادق آتي ہے۔ ايسا ہميشہ درباري کاسہ ليس علما سوکے ذريعے کيا گيا۔ انبيا رسل پران احکامات کے ذريعے مفادات کا حصول ثابت نہيں کيا جاسکتا۔ جديد مغرب يہ ثابت کرنے سے يکسر قاصر ہے کہ انبيا ورسل نے ذاتي مفادات يا اقتدار کے لیے کلام اٰلہي وضع کيے اور احکام آسماني اختراع کيے۔

حضرت آدم عليہ سلام سے محمد مصطٖيٰ صلي اللہ عليہ وسلم تک کسي پيغمبرکي زندگي کا کوئي گوشہ 'ذاتي مفاد' سے داغدارنہيں۔ وضع کردہ صحيفے اور تخيلاتي احکامات اقتدار يا ذاتي مفادات کي خاطروجود ميں آئے تھے۔ يہي وہ ايک صورتحال تھي، جس کا تذکرہ پروفيسرنوح ہراري نے جديد حياتياتي تاريخ Sapiens میں دو مثالوں کے ذريعے کيا، ليکن يہ تذکرہ يہاں خالص مذہب کي تحقيق ميں نہيں بلکہ مذہب کي تحقيرکيلئے آيا ہے۔ وہ لکھتے ہيں، ''1776 قبل مسيح ميں بے بي لون دنيا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ يہ غالبا اپنے وقت کي سب سے بڑي ايمپائر تھي، جس ميں دس لاکھ سے زائد لوگ آباد تھے۔ ميسوپوٹيميا کے بيشتر حصے پراس کي حکومت قائم تھي، اس ميں جديد عراق، شام کے کچھ علاقے، اور ايران شامل تھے۔ اس ايمپائر کا سب سے مشہوربادشاہ حمورابي تھا۔ اس کي وجہ شہرت وہ تحريرشدہ قوانين ہيں، جنہيں Code of Hammurabi کہا جاتا ہے۔ يہ قوانين اور عدالتي فيصلوں کا مجموعہ ہے۔۔۔ مستقبل کي نسلوں نے اس کوڈ آف حمورابي کي پيروي کي۔۔۔ غرض يہ ميسوپوٹيميا ايمپائرکے معاشرتي نظم کيلئے آئيڈيل قانوني کوڈ قرار پايا۔ اس کا متن کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ديوتاؤں انو، انليل، اور مردوخ نے حمورابي کوزمين پرانصاف کے نفاذ کاکام سونپا ہے-

قوانين کي تفصيل لکھنے کے بعد، جوعدم مساوات اور نا انصافي پرمبني تھے- حمورابي اعلان کرتا ہے کہ يہ قوانين اور فيصلے ايک ايسے بادشاہ کے نافذ کردہ ہيں، جس نے انصاف کا بول بالا اور زمين پردرست طرز زندگي کارخ متعين کيا۔۔۔۔ اور يہ سب ديوتا انليل اور مردوخ کي بخشش ہے۔ حمورابي کي موت کے ساڑھے تين ہزار سال بعد شمالي امريکا کي تيرہ برطانوي کالونيوں نے محسوس کيا کہ انگلينڈ کا بادشاہ ان کے ساتھ انصاف نہيں کررہا۔ ان کالونيوں کے ترجمان شہر فلاڈيلفيا ميں جمع ہوئے، اور چار جولائي 1776کواعلان کيا کہ وہ اب برطانوي شاہي حکومت کے تابع نہيں۔ انصاف کے کائناتي، ابدي، اوررباني اصولوں پرمبني اعلان آزادي ہوا،کہ ہم ان تسليم شدہ سچائيوں کے ساتھ ہيں، جن کے مطابق تمام انسان برابرہيں۔ اور انہيں ان کے رب کي جانب سے حقوق عطا کيے گئے ہيں۔ ان حقوق ميں زندگي، آزادي، اور خوشي کا حصول ہے۔۔۔ حمورابي کوڈ کي طرح امريکا کا اعلان آزادي بھي آنے والي نسلوں کيلئے مثال بن گيا۔ دوسو سال سے اسکول کے بچے يہ اعلان آزادي لکھ رہے ہيں پڑھ رہے ہيں، زباني ياد کررہے ہيں۔'' ان دو مثالوں کے بعد پروفيسر ہراري لکھتے ہيں کہ قديم اور جديد دنيا کے دونوں ہي قوانين اور اصول انصاف غلط ہيں، مگرانہيں رباني اور آسماني قرارديکرجواز مہيا کيا گيا۔ مذہب کے سہارے استعماري معاشروں کا غير فطري انتظام کيا گيا۔

ان دومثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ وقت کي مقتدرقوتوں نے خود ساختہ اور وضع کردہ احکامات اپنے مفادات کيلئے استعمال کيے۔ مذاہب کے نام پراپنا نظام مستحکم کيا۔ يہ صورتحال محض تاريخ ماضي نہيں، بلکہ آج بھي موجود ہے۔ صہيوني اورپروٹيسٹنٹ عيسائي مذہب کي جس وضع قطع پر عامل ہيں، وہ فتنہ وفساد ہے۔

مشرق کے مذاہب کي مثال لے ليجئے۔ ہندو تہذيب، چيني تہذيب، فارسي تہذيب، اور ديگرتہذيبوں کي بنياديں ان ہي 'مسخ شدہ' تعليمات سے بگاڑي گئیں۔ مسخ شدہ صحيفوں اور غصب شدہ احکامات کے باوجود انساني دانش کا سفر تعظيم وتکريم کے ساتھ جاري رہا۔ کيا جديد سائنس ثابت کرسکتي ہے کہ حضرت عيسٰي عليہ سلام يا موسٰي عليہ سلام يا ابراہيم عليہ سلام جوتعليمات لائے تھے، وہي مغربي مذاہب کي بنياد ہيں؟ يقينا يہ مسخ شدہ مواد ہي ہے جو'وضع کردہ' 'ديو مالائي' محسوس ہوتا ہے، اس کا ايسا ہي تعارف ممکن ہے۔ مگر قرآن حکيم کي آيات اوراسلام کے الٰہياتي احکامات کا رد ممکن نہیں۔

صورتحال يہ ہے، کہ آج علم حياتيات اور ٹيکنالوجي وہاں پہنچ گئے ہيں، جہاں زمين پرانسان کي بقا دشوار نظر آرہي ہے۔ سائنسدان اسٹيفن ہاکنگ Will we survive on earth? کے جواب ميں مکمل مايوس نظر آتے ہيں، کہتے ہيں بلاشک وشبہ يہ واضح ہے کہ دنيا بدترين سياسي بحران سے گزر رہي ہے۔

لوگ بڑي تعداد ميں معاشي اور معاشرتي طور پرديوار سے لگے نظر آرہے ہيں۔ نتيجتا وہ پاپولسٹ ہوتے جارہے ہيں، ايسے سياستدان ابھررہے ہيں جنہيں حکومت چلانے کا بہت محدود تجربہ ہے۔ جن ميں فيصلہ سازي کي صلاحيت نہيں۔ لگتا ہے قيامت کي گھڑي قريب آلگي ہے۔ دنيا کئي حوالوں سے خطرے ميں ہے۔ ميرے ليے بہت مشکل ہے کہ دنيا کے مستقبل کے معاملے ميں مثبت بات کرسکوں۔ خطرات بہت ہولناک اور بہت زيادہ ہيں۔ ہمارے مادي وسائل تيز رفتاري سے ختم ہورہے ہيں۔۔۔ اس پر ہم نے دنيا کو موسمي تبديلي جيسي تباہي کا تحفہ عنايت کيا ہے۔ عالمي حدت کے ذمے دار ہم انسان ہيں۔ ہم گاڑيوں اور پرتعيش زندگي کي دوڑ ميں لگے رہے ہيں۔ ہميں اندازہ ہي نہيں ہوا کہ تباہي سر پہ آکھڑي ہوئي ہے۔ زندگي کيلئے زمين پر جگہ کم ہورہي ہے۔۔۔ ہميں دوسري دنياؤں کي جانب ديکھنا ہوگا۔

بلا شبہ اسٹيفن ہاکنگ کے خدشات اس بات کا اعتراف ہيں کہ جديد سائنس انسانوں کيلئے کسي بہتر مستقبل کا پيغام نہيں ہے۔ يہ صرف عالمي اشرافيہ کيلئے مصنوعي ذہانت اور ڈيجيٹل طرز زندگي کا انتظام کررہي ہے، اورجينياتي انجينئرنگ کے ذريعے موت کوشکست دينے کي راہ ڈھونڈ رہي ہے۔ اب انسانوں کا معاشرہ کہاں جائے؟ تہذيب کا مستقبل کہاں تلاش کرے؟ الٰہياتي اقدار کا فطري نظم ہي وہ انساني دانش ہے، جس کا انحصار 'احکام الٰہي' اور 'قرآن فرقان' پر ہے۔ انسانوں کوخالص احکامات پرعمل کرنا ہوگا۔ اسي ميں انساني تہذيب کي بقا ہے۔