کیا ہم اسوہ حسنہ پر عمل کر رہے ہیں؟ ابو عبدالقدوس محمد یحییٰ

ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہم بہت دھوم دھام اور شایان شان طریقے سے اپنے پیار ے آقا علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا جشن ولادت مناتے ہیں۔ اس دن ہم مختلف انداز اور طریقوں سے اپنے آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ اظہار صرف ظاہری مقال اور اس ایک دن تک محدود کر کے ہم اپنے فرض کی مکمل ادائیگی کر رہے ہیں، جس طرح مغربی اقوام پورے سال میں ایک دن مخصوص کرکے فادر ڈے، مدر ڈے اور دیگر مختلف ایام (Days) مناتی ہیں، یا اس محبت کا ہمہ جہت اثر ہماری زندگی کے ہرشعبے میں بھی نظر آنا چاہیے؟

یوں تو کوئی بھی مسلمان ایک لحظہ بھی آپ کی یاد کو دل سے نکال نہیں سکتا ہے اور نہ ہی اس بات کا تصور کر سکتا ہے، اور اگر نکالتا ہے تو یہ اس کی انتہائی بدبختی اور بدقسمتی ہوگی۔ لیکن مقام تاسف ہے کہ تمام تر اظہار عشق و محبت کے دعووں کے باوجود ہمیں اپنی زندگیوں میں اس محبت کا اثر نظر نہیں آ رہا۔ اگر ہم اپنے معاشرے اور اردگرد پر غور کریں تو آج ہمارے نوجوان طبقہ کے لیے بالخصوص اور پورے معاشرے کے لیے بالعموم ہیروز اور آئیڈیل کھلاڑی، اداکار، فنکار، گلوکار، اور دوسرے شعبدہ باز ہیں۔ جن کے متعلق وہ جانناچاہتے ہیں کہ ان کے روز و شب کیسے گزرتے ہیں۔ ان کی عادات و اطوار، پسندیدہ لباس، رنگ، طعام، مشروبات سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ الغرض ان کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے اور ان کی نقالی میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ انہیں یہی جستجو، انہماک، وقت اور توجہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کوجاننے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صرف کرنا چاہیے کیونکہ قرآن کریم نے آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ (Excellent Pattern) کو ہمارے لیے بہترین نمونہ قرارد یا ہے۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب ٣٣:٢١) ''بےشک تمہاری راہنمائی کے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے''۔

قرآن زندہ اور برحق کتاب ہے۔ اب یہ کتاب جو ہمیں حکم دے رہی ہے، ہماری بقا، ترقی اور کامیابی کا راز اس کی کامل اتباع و اطاعت میں ہے۔ جب ہم صورتاً و سیرتاً آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ (Excellent Pattern) کی پیروی کریں گے۔ اپنے کردار کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں گے۔ جن باتوں پر آپ نے عمل کیا اور جو احکامات آپ ﷺ نے اس امت کو دیے، ان احکامات کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کی سعی کریں گے۔ تو ہماری دنیا بھی بقعہ نور بن جائے گی جبکہ آخرت تو ہوگی ہی نورانی، جہاں بلا کسی غم و پریشانی، ملے گی حیات جاودانی، ابدی جوانی اور نعمتوں کی فراوانی (ان شاء اللہ العزیز)۔

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور آپ ﷺ نے ہر لحاظ سے کامل و اکمل نمونہ پیش فرمایا، لیکن ہم نے بدقسمتی سے دین اسلام کو چند مخصوص عبادتوں تک محدود کر لیا ہے۔ یہ عبادات بلا شک و شبہ دین کا ایک بہت بڑا اور اہم حصہ ہیں، تعمیر سیرت کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہیں، لیکن دین صرف انھی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ تمام معاشرت، تمدن، سیاست اور ثقافت کاڈھانچہ اس دین سے قائم ہے، اگر وہ ڈھانچہ قائم نہ ہو تو یہ عبادات محض رسمی کاروائی (Formality) کہلائیں گی۔ مثلاً نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے، اب انسان اگر ایک طرف نماز بھی پابندی سے ادا کرتا ہے اور دوسری طرف بےحیائی اور برے کاموں سے باز نہیں آرہا تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسی بات کو اگر یوں کہاجائے کہ ''رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی'' تو بےجا نہ ہوگا۔ ہماری زندگی لازما مکمل طورپر آپ ﷺ کے احکامات کے تابع ہو کیونکہ ایک مسلمان کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ ہر رشتے اور تعلق سے بڑھ کر آپ سے محبت نہ کرے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے: فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِوَ النَّاسِ اَجْمَعِینْ ''قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص کامل مؤمن نہیں ہوسکتا ہے جب تک میں اس کے والد،بیٹے اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب ترنہ ہوجاؤں۔'' اس حدیث کے منظوم مفہوم کو والد محترم مولانا محمد رمضان صاحب نے اس طرح بیان کیا ہے:


جب حدیث مبارکہ سے یہ بات متحقق ہوگئی کہ ایک مسلمان کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ تمام موجودات (افراد واشیاء) سے بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت نہ کرے تو اس امریعنی محبت کا لازمی تقاضا اور نتیجہ یہی ہے کہ ہم ہر ہر شے میں اپنی پسند کو نبی کی پسند کے تابع کردیں۔ بقول والدمحترم:


اے صاحبان عقل جو ہیں آپ ہوشمند

کیجیے وہی پسند نبی کو جو ہو پسند

جو کچھ نبی نے کر دیا اچھا وہی ہے کام

زیبا نہیں غلام کو اس میں ذراکلام


اب نبی اکرم ﷺ کی پسند ناپسند، محبوب ومذموم، مرغوب و مکروہ ہمیں کس طرح معلوم ہوگا؟ اس کے لیے حیات طیبہ (ﷺ ) کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ اس مطالعہ سے جو ہمیں علم حاصل ہوگا وہ موجب خیر و برکت اور اس پر عمل کرنا دنیا میں ذریعہ ترقی اور آخرت میں باعث نجات اور اس کا پھیلانا کار ثواب، الغرض یہ علم و عمل نہ صرف یہ کہ آج اس جہاں میں بلکہ کل بروز قیامت بھی کام آئے گا۔ بقول والد محترم:


پڑھیے حیات طیبہ اور کیجیے عمل

کام آئے گا یہ علم و عمل آج اور کل


سیرت طیبہ و احادیث مبارکہ کی اہمیت کے حوالے سے تفسیر قرطبی میں سورہ حشر کی اس آیت وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا(الحشر:٧) ''پس جو چیز تمہیں پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔'' کی تفسیر میں بیان کیاگیا ہے کہ امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے، مجھ سے جو سوال کرو میں اس کا قرآن مجید سے جواب دوں گا، پھر سوال پوچھے جانے پر آپ اس آیت کی تلاوت فرما کر مسئلہ کا حل حدیث مبارکہ سے پیش کر دیتے۔

جب ہم آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں رعایا سے حکمران تک، گدا سے بادشاہ تک، سپاہی سے کمانڈر انچیف تک، غریب سے امیر تک، عورت سے مرد تک، بچے سے بوڑھے تک، غلام سے آقا تک، عربی سے عجمی تک، دیہاتی سے شہری تک، چھوٹے سے بڑے تک سب ہی کے لیے آپ کی حیات طیبہ مکمل نمونہ نظر آتی ہے۔ گویا کہ ہر شخص اپنی جگہ یہ سمجھتا ہے کہ حضور ﷺ زندگی کا پیمانہ میرے لیے ہی تراشاگیا ہے۔ آپ کی حیات طیبہ سب کی ضرورتوں کو کفایت کرتی ہے، سب کے لیے سازگار ہے اور اپنا رہنما بنانے پر سب کو زندگی کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہے۔ بحیثیت قانون ساز، جج (منصف)، کمانڈر انچیف، معلم، مصلح معاشرہ غرض انسانی زندگی کے ہر پہلو سے نبی پاک ﷺ کے احکامات اور آپ ﷺ کا اسوہ کمال کی انتہائی بلندیوں پر ہے۔ اور اس میں ایسی لچک (Flexibility)، وسعت (Scope) ، جامعیت (Comprehensiveness)، عملیت (Practicality) ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسان کے لیے ترقی کا دامن کھلا رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   خیبر اور مدائن صالح کا سفر (حصہ دوم) - معظم معین

آج بھی چودہ سو برس سے زائد گزر جانے کے باوجود زمانے کے ہزاروں نشیب و فراز، تغیر و تبدل، دلوں کے مزاج، خطوں کی آب و ہوا، تہذیبوں اور ثقافتوں کے تنوع اور اختلاف، زبانوں کی تفریق، اہلیتوں و صلاحیتوں میں انفرادیت کے باوجود جب بھی کوئی تعلیم یافتہ فرد خواہ اس کا تعلق سائنس و فلسفہ، تعلیم و نفسیات، فلکیات و جغرافیہ، طب و علم تشریح الابدان، الغرض کسی بھی شعبہ کا انتہائی ماہر اور قابل ترین فرد جب تعصب اور مفادات کے دائرے سے باہر آ کر آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف دیکھے گا تو وہ ضرور پکار اٹھے گا۔ بقول جرمن شاعر اور پروفیسرجیمس ہوگ (James Hogg) ''ہر زمانے میں اصلاح معاشرہ کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو رائج کیاجائے''، یا جیسا کہ برنارڈ شا (Bernard Shaw) اپنی کتاب (Genuine Islam) میں لکھتا ہے: Muhammad was a saviour of Humanity, the Mercy for all men and an exemplar in every age ''محمد ﷺ انسانیت کے نجات دہندہ ،تمام لوگوں کے لیے باعث رحمت وبرکت اور تمام زمانوں کے لئے مثالی شخصیت ہیں۔''

ایسا کیوں نہ ہو جب کہ خود آپ سربراہ مملکت ہونے کے باوجود آپ کا کردار اوراخلاق ایسا کہ نہ صرف یہ کہ روزمرہ زندگی کے تمام امور اپنے ہاتھوں سے خود انجام دیتے بلکہ دوسروں کے کام بھی کردیتے، مالک ایسے کہ دونوں جہانوں کے خزانے آپ کے پاس لیکن اس کے باوجود مہینوں آپ کے گھر چولہا نہ جلتا، جرنیل ایسے کہ معمولی سی غیرمسلح فوج کے ساتھ ہزاروں کے کفار کے لشکر کو شکست دے دی اور صلح پسند ایسے کہ سینکڑوں جانثار پروانوں کی موجودگی میں کفار کی شرائط پر صلح کرلی، عادل ایسے کہ فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس کی جگہ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیاجاتا، بہادر ایسے کہ تنہا ہزاروں کے مقابلے میں اور ثابت قدم ایسے تمام مشرکین مکہ کی دشمنی و سخت ایذائیں آپ کو حق کی تبلیغ سے نہ روک سکیں، رحم دل ایسے کہ چڑیا کی بھی اپنے بچوں سے دوری کی تکلیف دیکھی نہ گئی، معاف کرنے والے ایسے کہ اپنے عزیز ترین چچا کا جگر چبانے والی ہندہ کوبھی معاف کردیا، خیرخواہ ایسے کہ اپنی ذات کے دشمنوں کو بھی جہنم سے آزادی دلانے میں اپنی جان مشقت میں ڈال دی (فَلَعَلَّکَ بَاخِع نَّفْسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا الکہف٦)، فصیح اللسان اور بلیغ کلام ایسے کہ آپ کے ایک قول کی تشریح میں جلدوں کی جلدیں لکھ دی جائیں اور پھر بھی تشنگی باقی رہے اور بات کرنے کا انداز ایسا دلنشیں اور دھیما کہ الفاظ تک گنے جا سکتے ہوں اور لاکھوں کے مجمع میں ہر شخص یہ سمجھے گویا اسی سے مخاطب ہیں، معلم ایسے کہ جنھوں نے آپ سے کمزور حفظ کی شکایت کی وہی سب سے زیادہ روایتیں کرنے والے بن گئے۔

یہ شکستہ اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اسوہ حسنہ کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کی اہمیت اور اس کے ثمرات کی معمولی جھلک ہے ورنہ درحقیقت آقائے دوجہاں ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے والا بھی لافانی اور لازوال ہوجاتا ہے، اور اس بات کا حقیقی وصحیح اندازہ تو آخرت میں ہوگا۔ جب انسان سے دنیا کی کثافتیں اورزنگ صاف ہوجائے گا اوراس کے حواس کئی گنا زیادہ قوی ہوجائیں گے۔