گھر سے معاشرے تک - طلحہ زبیر بن ضیا

سردیوں کے دن تھے اور ڈائیوو کا بس اسٹیشن تقریباََخالی تھا۔ ہماری بس کو دو گھنٹے باقی تھے، اکا دکا مسافر تھے، ان دنوں ملکی حالات بھی خراب تھے، اور اکثر ہم نے ڈائیوو میں چند مسافروں کے ساتھ سفر کرتے۔ اندر ویٹنگ روم میں چند خواتین بیٹھی تھیں، ایک خاتون مرکز نگاہ تھیں۔ ہم نے غور کیا تو وہ خاتون آنسوؤں سے رو رہی تھیں۔ ان کے بچے ان کے شوہر یعنی اپنے باپ کے خلاف ہو چکے تھے۔ پاس بیٹھے ان کی کہانی سنی تو چند ایک واقعات انہوں نے سنائے کہ والد نے اس بات پر بچے کو مارا، اور ہر واقعے کو معمولی قرار دیتیں اور ان کے الفاظ کے مطابق وہ ہر بار "صرف ایک بار" کا لفظ استعمال کرتیں۔ باپ سے تعلقات خراب ہوں تو لازمی سی بات ہے کہ باپ کے خاندان سے بھی خراب ہوں گے۔ باتوں میں ہمیں سنائی دیا کہ باپ نے بیٹی کی شادی اپنی بہن کی طرف طے کرنے کی کوشش کی تو گھر میں طوفان کھڑا ہوگیا۔ خاتون کے مطابق بچوں کی پھوپھو کا لڑکا بھی اچھا تھا۔ بیٹی نے صاف انکار کیا، باپ نے آگے سے مارنے کی کوشش کی تو بھائیوں نے سینہ تان کر باپ کو جواب دیا۔ باپ پہلی مرتبہ بغاوت دیکھ رہا تھا، اپنا آپا کھو بیٹھا اور بچوں سےگتھم گتھا ہو گیا، جس کے بعد باپ نے ان کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور تینوں بچے گھر سے نکل گئے۔ یہاں پہنچ کر خاتون کی ہچکیاں بندھ گئیں، ہم مزید نہ سن سکے اور اٹھ کر باہر آ گئے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے مجبور کیا کہ دوبارہ واپس جائیں، مگر احساسات نے ہلچل مچا رکھی تھی۔ ہم دوبارہ اندر داخل ہوئے اور بیٹھ گئے۔ سنتے رہے اور خواتین کی تسلیاں اور ان کے قصے بھی جاری تھے۔

آخر میں ہمیں معلوم ہوا کہ خاتون کو جناب نے طلاق دے دی ہے کہ انھوں نے بچوں کی یہ تربیت کی تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم شاید کچھ زیادہ ہی حساس تھے۔ یہاں زبان کنگ تھی کہ ان سے ہمدردی کریں یا ان مسائل کا حل بتائیں۔ سو دوبارہ اٹھ کر باہر آ گئے، ٹھندی ہوا کے تھپرے ہمارے گالوں کو تھپتھپا رہے تھے، شدید دھند نے دنیا پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ آج کل یہ گھر گھر کی کہانی ہے، اور اکثر معاملات میں والد اپنے آپ کو عقل کل سمجھ کر بچوں کو پیٹ دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔ بچے جب تک کمزور رہتے ہیں، جواب دینے کے قابل نہیں ہوتے۔ جیسے جوان ہوتے ہیں باپ سے زبان لڑانا عادت بنتی جاتی ہے، اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ میاں بیوی کا آپس کا رشتہ بھی خراب ہونے لگتا ہے۔ جس کی بنا پر باپ بچوں کی والدہ کو الزام دیتا ہے کہ انہوں نے بچوں کی یہ تربیت کی ہے۔

ان مسائل کا حل تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے رشتے دوبارہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے، جہاں ایک دراڑ آجائے، اس کو بےشک جس مرضی میٹیریل سے بھر دیں، وہ دراڑ قائم رہتی ہے، ایسی فیملی کے ہر فرد کو کاؤنسلنگ کی ضرورت پڑتی ہے، کسی ایک فرد کو نہیں۔ اگر آپ ان مسائل سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو بچوں پر بچپن سے توجہ دینی ہوگی، بچوں پر ضرورت سے زیادہ احسان جتانے سے پرہیز کریں، بچہ اس سے آپ کی محبت کا قائل نہیں ہوتا بلکہ آپ کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس کو احساس دلائیں کہ آپ اس کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ جب آپ اس کو الفاط سے بار بار یاد دلاتے ہیں تو اپ اپنی اہمیت کم کر رہے ہوتے ہیں۔ غیر ضروری لیکچرز سے پرہیز کریں بلکہ اس کے ساتھ وقت گزاریں، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا انتہائی اہم ہے، یہی آپ کے تعقات کامستقبل ہے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کو لے گر کہیں گھنومنے جانا ان کے ساتھ گھل مل کر بات کرنا اور ان کو اہمیت دینا ان کو فیصلہ کرنے کی اجازت دینا ان میں کانفیڈینس لیول بڑھاتا ہے اور تعلقات کو مضبوط کرتا ہے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ماں اور باپ دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اپنے گھر کو خوبصورت بنائیں اور اپنے آس پاس کے رشتہ داروں میں اعتدال (بیلنس) برقرار رکھیں تاکہ یہی آپ کے رشتہ کی مظبوطی کی ضمانت ہے، اگر آپ والد ہیں اور آپ اپنی بہنوں کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھیں گے تو آپ کے بیوی اور بچے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے اور ایک وقت پر بچے آپ کے خلاف جائیں گے۔ آپ اپنی بہنوں کو بھی وقت دیں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی۔

معاشرے میں پھیلنے والی بےحیائی کا تعلق بھی خاندانی مسائل سے ہے، اگر آپ کی اپنے بچوں سے دوستی ہے تو وہ ہر غلط بات بھی دیکھ کر آپ سے شیئر کریں گے۔ آپ کے پاس موقع ہوگا کہ آپ ان کی غلط بات کو صحیح کر سکیں۔ اگر آپ سے دوستی نہیں ہوگی تو وہ اس خلا کو گھر سے باہر پر کریں گے اور جنس مخالف سے دوستی کریں گے اور اس میں سکون تلاش کریں گے۔ اس طرح ہمارے بےشمار بچے اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ معاشرے کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سیدھا اور ڈائریکٹ تعلق خاندانی نظام سے ہے۔ آپ اپنے اس خاندانی نظام اور اس میں موجود خرافاتی رسومات اور عقائد کو ختم کریں تاکہ جنریشن گیپ ختم ہو سکے اور والدین اپنے بچوں کو اچھے سے سمجھ سکیں۔