عید کا دن - عظمیٰ ظفر

میں روشنی کی ایک کرن ہوں۔

ماہ رمضان میں بہت سے گھروں میں وقت گزارا۔ کہیں اچھا لگا، کہیں بہت اچھا اور کہیں دل چاہا کہ کاش کوئی ان نادانوں کو سمجھا دے۔ رمضان سے بڑا موقع اور کوئی نہیں رب کو منانے کا۔

آج چاند رات میرا قیام فیاض صاحب کے گھر تھا۔ چونکہ ان کے گھر رنگ و روغن بھی ہوا تھا اس لیے صاف ستھرا گھر دور سے چمک رہا تھا۔ میں بھی ایک دیوار پر بیٹھ گئی، مجھے لگا ایسی ہی روشنی اہل خانہ کے وجود سے بھی پھوٹ رہی ہوگی۔ مگر کاش! وہ اپنے دلوں کو بھی نیا رنگ کرتے۔

ایک کمرے سے بے ہنگم موسیقی کا شور و غلغہ تھا جوان بیٹیاں چاند رات کو انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے چہرے کی نوک پلک بھی سنوار رہیں تھیں۔

دوسرے کمرے میں بیگم فیاض کپڑوں کا ڈھیر استری کر رہی تھیں ساتھ ساتھ کچن کے چکر بھی لگا لیتیں۔

ڈرائنگ روم میں صوفے پر دراز فیاض صاحب کا بڑا بیٹا موبائل میں مصروف تھا۔ تیزی سے چلتے ہاتھ طرح طرح کے کمنٹس پاس کر رہے تھے دوستوں کے ساتھ۔ آنکھوں اور لبوں کی مسکراہٹ بھی عام نہیں تھی، خباثت مں ڈوبی ہوئی مکروہ مسکراہٹ۔

تیسرے کمرے میں ایک کمزور وجود فیاض صاحب کی ماں کا تھا جو اپنی بوڑھی ہتھیلیوں کو جوڑے دعا مانگ رہی تھیں اپنے بچوں کی سلامتی کی، گناہوں سے بخشش کی۔ اسی کمرے میں دور بیٹھے فیاض صاحب پیسوں کا حساب کتاب کر رہے تھے۔

عید کی تیاری اتنی مصروف کر دینے والی تھی کہ تقریباً سب کی عشاء کی نماز رہ گئی۔

(مجھے ماں جی کی پاس بیٹھنا اچھا لگا میں ان کے پھیلے ہاتھوں میں سما گئی۔ ناتواں وجود لرز رہا تھا رب کے خوف سے۔ اور جوان وجود تِھرک رہا تھا۔)

رات گہری ہوگئی۔ جو جب تھک گیا، تب سو گیا۔ جوان بیٹا صبح ہونے کے قریب بازار سے لوٹا اور نیند کی وادی میں کھو گیا۔

مؤذن کی آواز اس گھر میں صرف ماں جی نے سنی۔ وہ گرتی پڑتی نماز کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

چند آوازیں بہو، بیٹا، پوتے اور پوتیوں کو بھی دے ڈالیں جبکہ پتہ تھا صبح ڈانٹ پڑے گی نئی نسل سے کہ آوازیں دے کر نیند خراب کرتی ہیں۔

(میں نے گھر والوں کو دیکھا، سب کہ سب محِو خواب تھے )

فیاض صاحب کی آنکھ کھلی تو گھر میں ہنگامہ جاگ اٹھا۔ فجر تو کب کی قضا ہوگئی تھی۔ عید کی نماز کا وقت بھی کم رہ گیا تھا۔ بیگم نے بچوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے خوب غصہ کیا۔

بیٹا عید کے دن غصہ مت کرو، ماں جی نے دھیرے سے کہا۔

آپ تو کچھ مت بولیں، بیگم فیاض کو بھی غصہ آگیا۔ روز صبح شور مچاتی ہیں، آج جان بوجھ کر نہیں اٹھایا ہوگا۔

چلو جلدی کرو، بچوں کو جگاؤ۔ فیاض صاحب تیار تھے عید گاہ کے لیے۔ بڑے بیٹے کو اللہ کے واسطے اور باپ کا خوف دے کر بیگم فیاض نے عید کی نماز ادا کرنے کے لیے آمادہ کیا۔

فطرانے کے پیسے یہاں رکھے تھے کہاں گئے؟ فیاض صاحب چِلائے!

جس نے لیے تھے وہ رات کو موج مستی میں اڑا چکا تھا، اس لیے خاموشی سے تیار ہوکر باپ کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔

مجھے کیا پتہ؟ بیگم فیاض نے بھی تڑک کے جواب دیا اور لڑکیوں کو کوسنے لگیں کہ مجال ہے جلدی اٹھ کر ماں کا ہاتھ بٹائیں۔

شیر خورمہ لا کر سامنے رکھا۔ تھوڑا تھوڑا سا باپ بیٹوں نے چکھا۔

بکتے جھکتے فیاض صاحب نے دوباری رقم نکالی اور نماز کی طرف گامزن ہوئے۔

بیگم فیاض نے خود ہی ناشتے کی تیاری شروع کر دی۔

ماں جی بھی عید کا جوڑا تبدیل کر چکی تھیں۔

(مجھے تو عید کے صبح روشنی کی چمک کہیں نظر نہیں آئی)

نا تکبیرات کی صدائیں، نا عید کا اہتمام۔ مرد واپس آئے تب تک لڑکیاں اٹھ چکیں تھیں مگر ناشتے کا موڈ نہیں تھا۔

بیگم فیاض سر جھاڑ منہ پھاڑ ماں جی کو عید مبارک کہنے سلام کرنے آگئیں۔ فیاض صاحب بھی ماں جی سے دعائیں سمیٹتے ہوئے محلہ کمیٹی کی طرف چلے گئے۔ لڑکوں نے باقی نیند پوری کرنی تھی۔ بیگم فیاض بھی سستانے لیٹ گئیں۔

لڑکیوں کو بھی کچھ خاص عید کا مزہ نہیں آرہا تھا۔ عید کا جوڑا رات کو گھومنے جائیں گے تب بدلیں گے لہذا ٹی وی کھول کر بیٹھ گئیں۔

ماں جی کو انتظار ہی رہ گیا کہ پوتے پوتیاں تیار ہو کر دادی سے ملنے آئیں گے، عیدی لیں گے۔

کوئی انھیں سال بھر کے بعد ہی سہی کسی عزیز و اقارب کے گھر ملوانے لے جائے گا۔

مگر یہاں عید کی ایسی کوئی رمق موجود نا تھی۔

میں نے بھی مزید یہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا اور گھر سے نکل آئی۔

Comments

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.