رمضان المبارک اور مطالعہ حدیث (3) - یوسف ثانی

احادیث کی کتب میں موجود اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی کی تیسری قسط پیش ہے۔ دوسری قسط یہاں ملاحظہ کیجیے۔

27۔ حرام اور ناپسندیدہ:

حلال اور حرام دونوں ظاہر ہیں۔ ان دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا (بخاری) چار قسم کے برتنوں میں پانی یا مشروب نہ پینا(1) سبز لاکھی مرتبان (حنتم) (2) کدو کے تونبے (الُّدبَّا) (3) کریدے ہوئے لکڑی کے برتن (4) اور روغنی برتن (بخاری) گھی میں چوہا وغیرہ گر جائے تو چوہا اور اس کے گرنے کی جگہ کے اردگرد کا گھی نکال دو اورباقی گھی کھالو (بخاری) جس نے اس چیز کو ترک کردیا جس میں گناہ کا شبہ ہوتو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف اور کھلا ہوا گناہ ہو- ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس بات کی پرواہ نہ ہوگی کہ مال حلال طریقہ سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے (بخاری) شراب، مردہ جانور اور بتوں کو فروخت کرنا حرام کردیا ہے- کتے کی قیمت، زنا کی اُجرت اور کہانت کی اُجرت لینے سے منع فرمایا گیاہے- کتے اور خون کی قیمت لینا منع ہے (بخاری) نبی ﷺ نے نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اُجرت لینے سے منع فرمایا۔(بخاری) ﷲ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور لڑکیوں کا زندہ درگور کرنا حرام کردیا ہے(بخاری) اور حق ادا نہ کرنا اور ناحق چیز کا لینا بھی حرام کردیا ہے (بخاری)

ناپسندیدہ:

فضول بحث کرنے، کثرت سے سوال کرنے اورمال کے ضائع کرنے کو ناپسند کیا گیاہے (بخاری) اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گذار ہوگے(ترمذی) عجمی لوگوں کی طرح ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے نہ ہو۔ (ابو داؤد) ایسی چھت پر سونا منع ہے جو دیواروں سے گھری ہوئی نہ ہو (ترمذی) آدمی چت لیٹنے کی حالت میں اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کے دوسری ٹانگ پرنہ رکھے (مسلم) پیٹ کے بل اوندھا لیٹنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے(ترمذی) جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سائے میں ہوجائے تو ایسی جگہ سے اُٹھ جاؤ (ابو داؤد) جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والے مداحین کو دیکھو تو ان کے مُنہ پر خاک ڈال دو(مسلم)

حرام:

نجاست کھانے والے جانوروں کا گوشت کھانااور دودھ پینا منع ہے (ترمذی) کسی زندہ جانور میں سے کاٹا گیا گوشت مردار ہے، اس کا کھانا جائز نہیں (ترمذی، ابو داؤد) بلی کا گوشت اور اس کی قیمت کھانا منع ہے (ابو داؤد، ترمذی) اللہ کے رسولﷺ کی حرام کردہ چیزیں بھی انہیں چیزوں کی طرح حرام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے(ابو داؤد، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)

حرمت والے مہینے:

ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ر جب حرمت والے چار مہینے ہیں(بخاری)

28۔ حسن سلوک:

صاحبِ ایمان بندہ اپنے اچھے اخلاق سے رات بھر نفلی نمازیں پڑھنے والے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے لوگوں کا سا درجہ حاصل کرلیتا ہے (ابو داؤد) تم زمین پر رہنے والی مخلوق پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا(ابو داؤد، ترمذی) بلاشبہ ایک سخی آدمی اللہ تعالیٰ کو عبادت گذار کنجوس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے (ترمذی) حسن سلوک کی کسی قسم کو بھی حقیر نہ جانو۔ اِس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملو اور یہ بھی کہ تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دو(ترمذی)

29۔ حیا، بے حیائی،فحاشی اور زنا:

زنا کار مردوں اور عورتوں کو تنور جیسے گڑھے کی آگ میں برہنہ جلا یا جائے گا(بخاری) حدوداللہ پر قائم رہنے والے منحرف ہوجانے والوں کو نہ روکیں تو ساری قوم تباہ ہوجائے گی (بخاری) اللہ سے بڑھ کر غیرت مند کوئی نہیں۔اسی لئے اُس نے ظاہری اور باطنی سب فحش باتوں کو حرام کیا (بخاری) نظر بد آنکھ کا زنا اور زنا کی بات کرنا زبان کا زنا ہے۔ نفس خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے(بخاری) حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اورا یمان کا مقام جنت ہے (مسند احمد، ترمذی) بے حیائی و بے شرمی بدکاری میں سے ہے جو دوزخ میں لے جانے والی ہے (مسند احمد، ترمذی)

30۔ دائیں طرف سے آغاز کرنا

جوتی پہننے، کنگھی کرنے، وضو اور غسل میں دا ہنی جانب سے ابتداءکرنا اچھاہے (بخاری) مجلس میں اشیا کی تقسیم دائیں طرف سے کرو (بخاری) پہلے د ا ہنی طرف کا جوتا پہنیں اور جب اتار یں تو پہلے بائیں طرف کا جوتااتاریں(بخاری) لباس پہننے یا وضو کرنے میں داہنے اعضاءسے ابتداء کرو (مسند احمد، ابو داؤد) بسم اللہ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ (بخاری)

31۔ دعا اور بد دعا:

نبی ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کسی دعا میں نہ اٹھاتے تھے جتنے دعا استسقاء میں- اے اللہ! فائدہ دینے والا پانی برسا (بخاری) ہمارا پروردگار ہر رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کرلوں (بخاری) مظلوم کی بددعا سے بچوکیونکہ اس کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا (بخاری) جب تم اللہ سے دعا مانگو تو اس سے فردوس طلب کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے(بخاری) جب کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو معاف فرما۔ اللہ سے قطعی طور پر مانگنا چاہئے- ہر کسی کی دعاقبول ہوتی ہے اگر وہ جلدی نہ کرے۔ یوں نہ کہو کہ میں نے دعا مانگی تھی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی(بخاری) یا اللہ میرے اگلے پچھلے چھپے اورکھلے سب گناہوں کو معاف فرمادے(بخاری) اے اﷲ! میرا حساب آسان فرما کیونکہ جس کے حساب میں جرح ہوئی وہ ہلاک ہوگیا (مسند احمد) جو اﷲ سے نہ مانگے اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے (ترمذی) عافیت اور خوش حالی کے زمانہ میں زیادہ دعا کیا کرو (ترمذی) اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں کبھی بد دعا نہ کرو۔ مباد اوہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو (مسلم) ہاتھ اُٹھاکے دُعا مانگنے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا مسنون ہے(ابو داؤد)

32۔ دنیا، آ خرت، قیامت اور میزان:

سیاہ اونٹوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتوں میں رہنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے (بخاری)علم اُٹھ جائے، جہالت باقی رہ جائے۔ شراب نوشی کی کثرت اور زنا کا اعلانیہ ہونا(بخاری) قربِ قیامت میں عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت ہوگی۔ پچاس عورتوں پر صرف ایک مرد ہوگا(بخاری) عالم بے عمل کو قیامت تک اس کا سر بار بار پھوڑے جانے کا عذاب دیا جاتا رہے گا (بخاری) تو روزِ قیامت انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے (بخاری) جو شخص دنیا میںجس کی عبادت کرتا ہے، آخرت میں اسی کے ساتھ ہوگا - قیامت کے دن سب سے پہلے خون خرابے کا فیصلہ کیا جائے گا (بخاری) جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا(بخاری) دنیا مومنوں کے لئے قید خانہ اور کافروں کے لئے جنت ہے (مسلم) دنیا کی طرف سے بے رُخی اختیار کرلو تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا(ترمذی وابن ماجہ) جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے پرہیز کراتا ہے (مسند احمد، ترمذی) فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو(مسند احمد،بیہقی) دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تراور خستہ حال بندوں پر نظر رکھواور اللہ کا شکر ادا کرو (ترمذی) دنیا کے ہاتھ نہ آنے میں کوئی مضائقہ ا ور کوئی گھاٹا نہیں۔ اگر امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی، حسن اخلاق اور کھانے میں احتیاط اور پرہیز گاری ہو۔ (مسند احمد، بیہقی)

روز قیامت کے پانچ سوال:

1۔زندگی کن کاموں میں گذاری،2- جوانی کی توانائی کن مشاغل میں خرچ کی، 3- مال کن طریقوں سے حاصل کیا اور 4- کن کاموں میں صرف کیا 5- اور جو کچھ معلوم تھا اُس پرکتنا عمل کیا؟ (ترمذی) دنیا میں اپنے سے نچلے درجہ کے لوگوں پر نظررکھو، اُن پر نظر نہ کرو جو اوپر کے درجہ میں ہیں(مسند احمد) روزِ حشر میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزنی چیزمومن کے اچھے اخلاق ہوں گے (ابو داؤد، ترمذی) قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کو اس کے علم دین نے نفع نہیں پہنچایا یعنی اس نے اپنی عملی زندگی کو علم کے تابع نہیں بنایا۔ (ابو داؤد، بیہقی) میں نے تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔ تم جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ (موطا)

عذاب:

اللہ کے سوا کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دے (ابو داؤد) بوڑھا زانی، جھوٹا فرماں روا اور نادار متکبر کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے(مسلم)

33۔ رزق، اللہ کا فضل؛ مال و دولت اورغربت:

مرغ کو بانگ دیتے سنو تو اللہ سے اس کے فضل کی دعا کرو کیونکہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے- کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاک کھانا نہیں کھایا(بخاری) مالداروں کے پاس نیکیاں بہت کم ہیں سوائے اُس شخص کے جو مال کو فراخدلی سے خرچ کرے (بخاری) کسی امام سے محض مالِ دنیا کے لیے بیعت کرنے والے کو سخت عذاب ملے گا(بخاری) مالداروں کو رزق کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے دی جاتی ہے(بخاری) درہم و دینار کا غلام ہلاک ہو۔ اسے کچھ دیا جائے تو خوش اور اگر نہیں دیا جائے تو ناخوش ہوجاتا ہے- نبی ﷺ نے مالِ غنیمت میں خیانت کو سخت گناہ بتلایا(بخاری) جب کوئی اپنے سے زیادہ امیر کی طرف دیکھے تو پھر اپنے سے غریب کی طرف بھی خیال کرے(بخاری) زیادہ مال والے ہی سب سے زیادہ نامراد ہیں الّا یہ کہ جو اس مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں(بخاری) انسان کا مال صرف وہی ہے جو اُس نے کھا کے ختم کردیا۔ دوسرے وہ جو پہن کر پُرانا کر ڈالا اور تیسرے وہ جو اُس نے راہِ خدا میں دے کر اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کرلیا (مسلم) لوگوں کے مال سے بے رُخی ختیار کرلو تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے(ترمذی وابن ماجہ) میری اُمت کی خاص آزمائش مال ہے (ترمذی) انسان مال کی کمی کو پسند نہیں کرتاحالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو ہلکا کرتی ہے-اللہ کووہ مومن بہت محبوب ہے جو غریب اور عیال دار ہو نے کے باوجود باعفّت ہو (ابن ماجہ) جو اپنی حاجت لوگوں سے چھپائے تو اللہ اس کو حلال طریقے سے ایک سال کا رزق عطا فرماتاہے (بیہقی) اصل زُہد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے تمہارے پاس ہے، اِس سے زیادہ اُس پر بھروسہ جو اللہ کے پا س ہے(ترمذی) جو سوال سے بچنے،اہل و عیال کے لئے رزق و آسائش کا سامان فراہم کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی غرض سے حلال دولت حاصل کرنا چاہے تو روزِقیامت اُس کا چہرہ منور ہوگا (بیہقی) جو حلال دولت اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہوجائے اوردوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھاسکے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہوگا (بیہقی) جن کو ا للہ نے مال کے بغیرصحیح علم دیا ہے اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں کہ ہمیں مال مل جائے۔ تو ہم بھی فلاں نیک بندے کی طرح اس کو کام میں لائیں۔ پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (ترمذی) جو اللہ کے عطا کردہ مال کو نادانی کے ساتھ اور خدا سے بے خوف ہوکر اندھا دُھندغلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں(ترمذی) کسی نعمت یا خوش حالی کی وجہ سے کسی بدکار پر کبھی رشک نہ کرنا (شرح السنة) کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کرلے(بیہقی) تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہّ اختیار کرو(شرح السنة، بیہقی) اللہ تعالیٰ تمہارے مال کو نہیں بلکہ اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم) اللہ کو یہ بات پسند ہے کہ کسی بندے پر اس کی طرف سے جو انعام ہو تو اس کا اثر نظر آئے۔ (ترمذی) حلال روزی حاصل کرنے کی فکر ا ور کوشش فرض (نماز روزہ وغیرہ)کے بعد فریضہ ہے۔ (بیہقی) اللہ کے صالح بندہ کے لئے جائز مال و دولت اچھی چیز ہے۔ (مسند احمد)حرام مال سے کیا گیا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔(مسند احمد) جو مرنے کے بعد حرام مال پیچھے چھوڑ کے جائے گا۔ وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہوگا۔(مسند احمد)

34۔ رشتہ دار، اہل و عیال، والدین، اولاد:

جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب سمجھ کر خرچ کرے تو وہ اس کے حق میں صدقہ کا حکم رکھتا ہے(بخاری) اپنے قرابت داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے (بخاری) مشرک والدین کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو-اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھو(بخاری) خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے (بخاری) اپنے اہل و عیال پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرنے والے کو اس میں صدقہ کا ثواب ملے گا(بخاری) نبی کریم ﷺ اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا سامان لے کر جمع کرلیتے (بخاری) اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرو، قرابتی رشتوں کو جوڑو خواہ وہ تمہارے ساتھ ایسا نہ کریں(مسند احمد) جو اپنے ہاں پیدا ہونے والی لڑکی کی توہین اور ناقدری نہ کرے اور برتاؤ میں لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ لڑکی کے ساتھ اس حسنِ سلوک کے صِلے میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔ (مسند احمد) جس بندے نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کا نکاح بھی کردیا تو اللہ کی طرف سے اُس بندے کے لیے جنت کا فیصلہ ہے(ابو داؤد، ترمذی)ماں کی خدمت کرتے رہو کہ ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔(مسند احمد،نسائی) ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری کروتو تمہاری اولاد تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار ہوگی۔ (طبرانی) قرابت داروں کی حق تلفی سے ڈرواور ہمیشہ سیدھی بات بولو۔ (ابو داؤد،ترمذی نسائی،ابن ماجہ)

35۔ روزہ، اعتکاف، تراویح، لیلةالقدر:

رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں مزید سخی ہو جایا کرتے تھے (بخاری) شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب جان کرعبادت کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں (بخاری) ماہِ رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب سمجھ کر روزے رکھنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں(بخاری) شب قدر کو رمضان کی25ویں،27 ویں اور 29 ویں تاریخوں میں تلاش کرو(بخاری) رمضان کے روزے رکھا کرو (بخاری) ماہِ رمضان میں آسمان یعنی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں رمضان میں شیاطین مضبوط ترین زنجیروں سے جکڑ دیئے جاتے ہیں- رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور عیدا لفطر کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا ترک کردو- روزہ دار بیہودہ بات اور جاہلانہ افعال سے بازرہے- روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے- روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے لہٰذا میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- جنت میں ایک دروازہ ”ریان“ صرف روزہ داروں کے لیے مختص ہے- روزہ میں جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تو اپنا کھانا پینا چھوڑدے- جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو۔ اگر مطلع ابرآلود ہو اور چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو- کوئی شخص رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھے- سحری اور اذان کا درمیانی وقفہ پچاس آیتوں کی تلاوت کے دورانیہ جتنا تھا- روزہ کے لئے سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے - مشرق کی طرف آ ثارِ شب نمودار ہو جائیں تو روزہ افطار کردو- لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک کہ وہ جلدمیں افطار کیا کریں گے- نبیﷺ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ میں نفلی روزے نہ رکھتے تھے(بخاری) رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھو۔ 29 شعبان کو چاند دکھائی نہ دے تو 30 دن کا شمار پورا کرو(ابو داؤد) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے (ترمذی) کھجور سے افطار کرو، کھجور نہ ملے تو پھر پانی ہی سے افطار کرو(مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ) روزہ دار کو افطار کرانے اور مجاہد کو جہادی سامان دینے سے روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا (بیہقی) ہر چیز کی زکوٰة ہے اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے۔(ابن ماجہ)

روزہ نہ رکھنا:

اسی قدر عبادتیں اپنے ذمہ لو جنہیں تم برداشت کرسکو- جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے گویا روزہ رکھا ہی نہیں-صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا منع ہے۔ جمعرات یا سنیچر کا دن ملا کر دو دن روزہ رکھ سکتے ہیں- عید الضحیٰ کے فوراََ بعد اگلے دو تین دن (ایام تشریق) میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے- جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورے کا روزہ چھوڑدیا گیا جس کا جی چاہا اس نے عاشورہ کا روزہ رکھ لیا اور جس نے چاہا اس نے نہ رکھا (بخاری) رسول اللہ ﷺ نے عید ین کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے (بخاری)

سفر میں روزہ:

سفر میں اگر چاہو تو روزہ رکھو اور نہ چاہو تو نہ رکھو- حالت میں سفر میں روزہ رکھ کر تکلیف اٹھانا کوئی نیکی نہیں ہے- سفر میں روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو بُرا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو بُرا نہیں سمجھتا تھا(بخاری)

روزہ نہیں ٹوٹتا:

نبی ﷺ روزہ کی حالت میں ازواجِ مطہرات کے بوسے لے لیا کرتے اور معانقہ بھی کرلیتے تھے- جب کوئی شخص بھول کر کھالے یا پی لے تو وہ اپنے روزہ کو پورا کرلے- کبھی کبھی اس حالت میں صبح ہوجاتی تھی کہ نبی ﷺ جنبی ہوتے تھے حالانکہ آپ روزہ سے ہوتے تھے(بخاری) روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیااپنا روزہ پورا کروکیونکہ اللہ نے کھلایا پلایا ہے (مسلم) پچھنے لگوانے، قے ہوجانے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا(ترمذی) روزہ کی حالت میں سرمہ لگا یا جاسکتا ہے(ترمذی) روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کی و جہ سے نہانا جائز ہے (مو طا، ابو داؤد) روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آئے گا (ابو داؤد)

قضا روزہ:

حیض کے دنوں کے قضا شدہ روزے رکھنے کاحکم ہے لیکن قضا نماز پڑھنے کا حکم نہیں۔ (مسلم)

روزہ کا کفارہ:

روزہ میں بیوی سے ہم بستری کرنے والے کونبی ﷺ نے فرمایا: ایک غلام آزاد کریا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا (بخاری)

نفلی روزہ:

رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے بھی رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (مسلم) عاشورہ، یکم تا نو ذی الحج اور ہر مہینے کے تین روزے نبی ﷺ کا معمول تھا(نسائی) ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (ابو داؤد)

لیلة القدر:

لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو - رمضان کے آخری عشرہ میں نبی ﷺ خود بھی شب بیداری فرماتے اور گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے(بخاری)

اعتکاف:

نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے- جب نبی ﷺ اعتکاف میں ہوتے تو بلا ضرورت گھر میں تشریف نہ لاتے - نبی ﷺ نے فرمایا تم اپنی (جائز) نذر وں کو پورا کرو(بخاری) معتکف نہ تو مریض کی عیادت کو جائے اور نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے(ابو داؤد)- معتکف عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار(ابو داؤد) - رفع حاجت وغیرہ کے علاوہ معتکف اپنی دیگر ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے(ابو داؤد) اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا (ابو داؤد)

36۔ زراعت، کھیتی باڑی

کسی فصل سے اگر کوئی پرندہ، مویشی یا انسان کچھ کھا لے توکاشتکار کو صدقہ دینے کے برابر ثواب ملتا ہے-بیل سواری کرنے کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کیا گیاہے-کسی دوسرے کے باغ میں محنت کر کے پھلوں میں شریک ہونا جائز ہے- کھیت کے کسی متعین حصہ کی پیداوار مالک کے لیے مقرر کرکے کھیت کو کاشتکاری کے لیے دینامنع ہے-نبی ﷺ نے اہل خیبر سے کھیتی اور پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا تھا -نبی ﷺ نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا- لیکن اگر کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت ہی دیدے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر کچھ کرایہ لے۔ جس شخص نے کوئی ایسی زمین آباد کی جس پر کسی کا حق نہیں تھاتو آباد کرنے والا اس کا زیادہ حق دار ہے-کھیتوں کو کرایہ پر نہ دو۔خود زراعت کرویا کسی سے ان کی زراعت کروالو یا ان کو اپنے پاس روک رکھو(بخاری) اپنی ضرورت سے زیادہ پانی نہ روکا جائے کہ گھاس اور دیگر پودوں کی نمو بھی رکی رہے(بخاری)

37۔ زکوٰة صدقات اور ہدیہ:

فرض زکوٰة:

اللہ نے ان کے مال پر زکوٰة فرض کیا ہے-حضرت بو بکر ؓ کا فرمان:اللہ کی قسم میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰة میں فرق سمجھے گا- جو اپنے مال کی زکوٰة نہ دے تو اس کامال روزِ قیامت گنجے سانپ کے ہم شکل کردیا جائے گا (بخاری) زکوٰة کے خوف سے متفرق مال یکجا نہ کیا جائے اور یکجا مال متفرق نہ کیا جائے- جو مال دو شراکت داروں کا ہو وہ دونوں زکوٰة دینے کے بعد آپس میں برابر برابر سمجھ لیں خدمت گزار غلام اور اس کی سواری کے گھوڑے پر زکوٰة فرض نہیں(بخاری) گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰة واجب نہیں ہے (ترمذی، ابو داؤد) صدقہ مال داروں سے لیں اور اسے مستحقین پر تقسیم کریں(بخاری)

نصاب زکوٰة:

پانچ اوقیہ چاندی (مساوی 200 درہم چاندی کے سکے یاساڑھے باون تولے یا 612 گرام چاندی) سے کم پر زکوٰة فرض نہیں ہے (بخاری) ہر بیس دینار سونے کے سکوں(مساوی 7.5 تولہ یا 85 گرام سونا) پر نصف دینار(چالیسواں حصہ یا 2.5 فیصد) زکوٰة ہے (ابن ماجہ) پانچ وسق (ساڑھے چار یا پانچ من) سے کم کھجور پر بھی زکوٰة فرض نہیں ہے- دوسو درہم چاندی کے سکوں(مساوی ساڑھے باون تولے یا 612 گرام چاندی) میں چالیسواں حصہ زکوٰة ہے۔ اگر ایک سونوے درہم ہیں تو اس میں کچھ زکوٰة نہیں(بخاری) دو سودرہم پورے ہوجائیں تو چاندی کی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰةادا کرو (ترمذی، ابو داؤد) ہر اس چیز میں زکوٰة نکالیں جو تجارت کے لئے مہیا ہو(ابو داؤد) زکوٰة اس وقت تک واجب نہ ہوگی جب تک مال پر سال نہ گزر جائے (ترمذی)

مویشیوں کی زکوٰة:

زکوٰة صرف ان ہی اونٹوں، گائے اور بکریوں پر فرض ہے جو چھ ماہ سے زیادہ جنگل میں چرتی ہوں- اگر چھ ماہ سے زیادہ اپنے پاس سے چارہ وغیرہ کھلانا ہوتو ان پر زکوٰة نہیں ہے- ان تین جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور پر زکوٰة فرض نہیں، البتہ بھینس گائے ہی کی ایک قسم ہے -پانچ اونٹ سے کم پر زکوٰة فرض نہیں ہے- چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوٰة ایک بکری ہے (پانچ سے کم پر زکوٰة نہیں)- پچیس سے پینتیس اونٹوں کی زکوٰة ایک برس کی ایک اونٹنی ہے- چھتیس سے پینتالیس اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور چھیالیس سے ساٹھ اونٹوں تک کی زکوٰة میں تین برس کی اونٹنی جفتی کے لائق دینا ہوگی- اکسٹھ سے پچھتر اونٹوں کی زکوٰة میں چار برس کی ایک اونٹنی دینا ہوگی-چھہتر سے نوے اونٹوں کی زکوٰة میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں دینا ہوگی- اکیانوے سے ایک سو بیس اونٹوں کے لئے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جفتی کے لائق دینا ہوں گی-120 سے زیادہ پر ہر 40 اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی ایک اونٹنی دینی ہوگی- جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکوٰة فرض نہیں-

جنگل میں چرنے والی بکریوں کی زکوٰة:

چالیس سے ایک سو بیس بکریوں پر ایک بکری فرض ہے- ایک سو بیس سے دو سو بکریوں تک دو بکریاں فرض ہیں- دو سو سے تین سو بکریوں تک تین بکریاں فرض ہیں- تین سو سے زیادہ پر ہر سو میں ایک بکری فرض ہے-چالیس سے کم چرنے والی بکریوں پر کچھ زکوٰة فرض نہیں، ہاں اگر ان کامالک دینا چاہے تو دیدے- زکوٰة میں بوڑھا، عیب دار اور نر جانور نہ لیا جائے (بخاری)

عشر:

جس چیز کوبارش کا پانی سینچے اور چشمے سینچیں یا خودبخود پیدا ہو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے- جو چیز کنوئیں کے پانی سے سینچی جائے اس میں نصف عُشر ہے (بخاری)

خمس:

معدنیات میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰة ہے (بخاری)

نفلی صدقہ:

اے لوگو! صدقہ دو۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ آگ سے بچے اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے صدقہ دینے سے سہی۔ پھر اگر کھجور کا ٹکڑا بھی میسر نہ ہوتو عمدہ بات کہہ کر- غریب صحابہ ؓمزدوری کرتے اور مزدوری کے عوض ملنے والے غلہ وغیرہ کو صدقہ میں دے دیتے(بخاری)

عورت اور صدقہ:

نبی ﷺ نے عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے صدقہ دینے کا حکم دیا(بخاری) جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تواس کا بھی ثواب ملے گا(بخاری)۔ صدقہ دینے میں اتنی دیر مت کرکہ جان حلق میں پہنچ جائے- گھر کو بگاڑنے کی نیت کے بغیر اگر کوئی عورت گھر کے کھانے میں سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا-

صدقہ اور رشتہ دار:

صدقہ کی ابتداءاہل و عیال اور قریبی رشتہ داروں سے کرو(بخاری) عمدہ صدقہ وہ ہے جو فاضل مال سے دیا جائے۔جو شخص سوال کرنے سے بچے گا تو اللہ بھی اسے سوال کرنے سے بچائے گا- صدقہ دینے والا ہاتھ، صدقہ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے (بخاری)

(جاری ہے)

Comments

یوسف ثانی

یوسف ثانی

یوسف ثانی پیغام قرآن ڈاٹ کام کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ 2008ء سے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں قرآن و حدیث پر مبنی کتب کی تصنیف و تالیف میں مصروف ہیں۔ ان کی کتب "پیغام قرآن، " "پیغام حدیث،" "قرآن جو پیغام،" "اسلامی ضابطہ حیات" اور "اسلامک لائف اسٹائل " کے تا حال پندرہ ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں۔ آپ ایم اے صحافت بھی ہیں اور بطور صحافی خبر رساں ادارے پاکستان پریس انٹرنیشنل اور جنگ لندن سے برسوں وابستہ رہنے کے علاوہ گزشتہ چار دہائیوں سے قومی اخبارات و جرائد میں بھی لکھ رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کیمیکل ٹیکنا لوجسٹ ہیں۔ کیمیکل ٹیکنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے بعد 1981ء سے قومی و کثیر القومی آئل اینڈ گیس فیلڈز سے وابستہ ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.