روزہ دار کے دو پر، صبر اور شکر – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

پچھلی قسط

رمضانی پرندہ دو پروں سے کبھی بھی غافل نہیں ہو سکتا، وہ ہمیشہ خوشی اور غمی کی حالتوں کے درمیان رہتا ہے،اور بلند فضاؤں میں پرواز کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی چیز پر شکر بجا لائے اور کسی پر صبر کا دامن نہ چھوڑے۔ حدیث مبارکہ میں ہے: ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی کا موجب ہے، اور یہ مومن کے سوا کسی دوسرے شخص کے لیے نہیں ہے: جب اسے خوشی ملتی ہے وہ شکر ادا کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، تو وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتا ہے‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔

کیا ممکن ہے کہ آپ خیر ملنے پر تو شکر کریں، اور تکلیف پہنچنے پر صبر نہ کریں؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مصیبتوں میں تو صبر کریں لیکن نعمتوں پر شکر ادا کرنا بھول جائیں؟ ناممکن ہے کہ پرندہ ایک ’’پر‘‘ پر اڑے!

اے میرے رمضانی بھائی، آپ روزے کو صبر سے مکمل کیجیے اور کھانے پر شکر ادا کیجیے، کیونکہ یہ دونوں اجر باہم جڑے ہوئے ہیں۔

لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو ہر دم رب سے محبت کا دعوی کرتے ہیں، اور جب وہ آزماتا ہے تو اس محبت ہی سے نکل جاتے ہیں۔ اور صابر لوگ ہی اس پر جمے رہتے ہیں۔

اور وہ (پرندہ) آفاق کی بلندیوں میں تیرتا ہوا سمندر کی کشتیوں کو دیکھتا ہے۔ ومن آیاتہ الجوار فی البحر کالاعلام ۰ ان یشأ یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ ان فی ذلک لآیات لکل صبار شکور (الشوری، ۳۲۔۳۳) ﴿اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبر و شکر کرنے والا ہو۔﴾

یعنی چلتی ہوئی کشتیاں (یعنی خوشی میں)، اور رکی ہوئی (یعنی مصیبت میں) دونوں ہی نشانیاں ہیں اس کے لیے جو صبر اور شکر کرے۔ مناسب وقت میں مناسب اخلاق۔

صبر کے بارے میں ابن القیم ’’مدارج السالکین‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ نفس کو جزع فزع اور غصے سے روکنے کا نام ہے، اور زبان کو شکوے سے روکنے کا، اس کی تین اقسام ہیں: ۱۔ اللہ کی اطاعت پر صبر، ۲۔ اللہ کی معصیت نہ کرنے پر صبر، ۳۔ اور اللہ کے امتحان (آزمائش) پر صبر‘‘۔

اور ان کے استاد ’’ابن ِ تیمیہ‘‘ کو یہ کہتے سنا گیا: ’’یوسف کا عزیز کی بیوی کے معاملے میں (نفس کو اس کے حوالے نہ کرنے کا) صبر اپنی شان کے لحاظ سے صبر کی سب سے کامل صورت ہے، اور ان کا اندھے کنویں میں ڈالے جانا، اور ان کا (منڈی میں) بکنا، اور ان کے اور ان کے والد کے درمیان تفریق پیدا ہونا، ان تمام معاملات میں یوسفؑ کے اختیار اور ارادے کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس میں ان کی کوئی محنت شامل نہ تھی، اور بندے کے لیے ایسے حالات میں صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا، رہا معصیت (کے معاملے) پر صبر، تو وہ اختیار، رضا اور نفس سے لڑتے ہوئے صبر کرنا ہے‘‘۔ اور ایسا ہی صبر اسماعیلؑ ذبیح اور ان کے والدؑنے اللہ کا حکم نافذ کرنے کے لیے پیش کیا تھا، اور ان دونوں کا صبر یعقوب ؑ کا اپنے بیٹے یوسفؑ کے کھو جانے کے صبر سے زیادہ کامل تھا۔

اور ابن ِ تیمیہ ہی کا قول ہے: ’’اللہ تعالیٰ سبحانہ نے اپنی کتاب میں بہترین صبر، بہترین درگزر، اور بہترین ھجرت کا ذکر کیا ہے۔ صبر ِ جمیل (الصبر الجمیل) ایسا صبر ہے جس میں شکوئی نہ ہو، بہترین درگزر (الصفح الجمیل) ایسا درگزر ہے جس میں رنج بھری سرزنش نہ ہو، اور بہترین ہجرت (الھجر الجمیل) ایسی ہجرت ہے جس کے ساتھ اذیت نہ ہو‘‘۔

اور اللہ سے شکوئی کرنا صبر کے منافی نہیں، کیونکہ حصرت یعقوبؑ نے صبر ِ جمیل کا وعدہ کیا، اور یہ اللہ سے شکوئی کرنے کی نفی کرتا ہے، اللہ کا شکوہ کرنا صبر کے منافی ہے۔

اللہ سے صبر:

اس سے مدد طلب کرنا، اور اسے ہی صبر دینے والا سمجھنا: واصبر وما صبرک الا باﷲ (النحل، ۱۲۷)

یعنی جب تک وہ آپ کو صبر نہ دے آپ صبر نہیں کر سکتے۔

اللہ کے لیے صبر:

مسلمان کو صبر دینے والی چیز اللہ کی محبت اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی خواہش ہے، نہ کہ اپنی قوت ِ نفس کا اظہار اور بندوں سے تعریف چاہنا۔

اللہ کے ساتھ صبر:

بندے کا اللہ کی جانب سے دیے گئے دینی احکامات کے گرد گھومتے رہنا، اور ان احکام پر اپنے نفس کو صبر کروانا، اور اسی جانب رخ کرنا جس جانب اس کے آگے جھکنے والے رخ کرتے ہیں۔ یعنی بندہ خود کو اس کے اوامر اور خوشنودی کی جانب لگائے رکھے۔ اور یہ صدیقین کا صبر ہے۔

کہا جاتا ہے: ’’اللہ سے صبر بقاء ہے، اور اللہ کے لیے صبر، غناء (سب جانب سے بے پروا بنا دیتا) ہے، اور اللہ کے ساتھ صبر ’’وفا‘‘ کی علامت ہے، اللہ میں صبر آزمائش ہے، اور اللہ پر صبر جفاء ہے‘‘۔

اور لوگوں میں بعض اللہ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں، لیکن جب اللہ کسی مشکل سے ان کی آزمائش کرتا ہے، تو وہ محبت کی حقیقت سے الگ ہو جاتے ہیں، اوراس حال میں بھی جمے رہتے ہیں وہی صابر ہیں۔ اور تجربے سے یہی واضح ہوا ہے کہ جس کی اللہ سے جتنی شدید محبت ہوتی ہے وہ اتنا ہی زیادہ صبر کرتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کی صفت کو اپنے اولیاء، اور محبت کرنے والوں کے لیے خاص کیا ہے، اور وہ اپنے حبیب ایوب ؑ کے بارے میں فرماتا ہے: انا وجدناہ صابراً نعم العبد انہ اوّاب (ص، ۴۴) ﴿ہم نے اسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔ ﴾

وہ ان کی تعریف کرتا ہے، پھر فرماتا ہے: ’’نعم العبد‘‘ (وہ کیا خوب بندہ تھا، وہ واپس پلٹ آنے والا تھا‘‘۔

رہا آزمائشوں اور ظالموں کی اذیتوں پر صبر، اور بلاؤں اور مصیبتوں کے نزول پر، تو بندہ صبر لینا چاہتا ہے، اور مندرجہ چیزوں سے مدد لیتا ہے:

۔ اچھے بدلے کا تصور کر کے۔

۔ کشادگی کے انتظار میں۔

آزمائش میں کمی دو طرح سے: پہلی چیز؛ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو شمار کرے، اور اس کی مدد کو جانے، پھر اگر وہ ان نعمتوں کو گن نہ سکے، اور ان کے شمار سے مایوس ہو جائے، تو اس کی آزمائش اس پر آسان ہو جائے گی، اور وہ اللہ کے عطا کے مقابلے میں اس آزمائش کو سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی مانند پائے گا۔ اور دوسری چیز: وہ گزشتہ نعمتوں کا ذکر کرے (جو اسے ماضی میں دی گئیں)۔

اور امام شافعی سے پوچھا گیا: کونسا صبر افضل ہے؟ آزمائش پر یاتمکین (زمین میں اقتدار حاصل ہونا)؟ تو انہوں نے فرمایا:

’’تمکین انبیاء کا درجہ ہے، اور تمکین آزمائش کے بعد ہی ملتی ہے، کہ جب آزمایا جائے، تو صبر کریں، اور جب صبر کیا تو زمین کے اقتدار کا مالک بنا دیا؛ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا، پھر انہیں اقتدار عطا کیا،موسیؐ علیہ السلام کو آزمائش میں ڈالا، پھر اقتدار بخش دیا، اور ایوب علیہ السلام کو آزمایا، پھر انہیں اقتدار بخشا، اور سلیمان علیہ السلام کو امتحان میں ڈالا، پھر انہیں اقتدار عطا کیا اور (عظیم) مملکت عطا کر دی، اور زمین میں اقتدار کا ملنا اعلیٰ درجے کی تمکین ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وکذلک مکنا لیوسف فی الارض (یوسف، ۵۶) ﴿اسی طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کے لیے اقتدار کی راہ ہموارکی۔ ﴾

اور ایوب علیہ السلام بڑی آزمائش کے بعد سرفراز کیے گئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وآتیناہ واھلہ ومثلھم معھم رحمۃ من عندنا وذکری للعابدین (الانبیاء، ۸۴)﴿اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے، بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔﴾

پانچ قواعد:

اور شکر کا ’’پر‘‘ نصف ایمان ہے۔ پس ایمان کے دو نصف ہیں: نصف شکر، اور نصف صبر۔

بندے پر نعمت کے آثار کچھ یوں ظاہر ہوتے ہیں کہ اس کی زبان پر ثناء اور اعتراف ِ نعمت جاری ہو جاتا ہے، اس کا دل اس کی گواہی دینے لگتا ہے اور محبت سے بھر جاتا ہے، اور اس کے اعضاء اس کے اسیر بن جاتے ہیں اور اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔

اور شکر ابن ِ قیم کے مطابق پانچ بنیادوں پر قائم ہوتا ہے: شاکر کا مشکور کے سامنے خضوع، اور اس سے محبت کرنا، اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، اور ان نعمتوں پر اس کا ثناء خوان بن جانا، اور ان نعمتوں کا ان جگہوں پر ہرگز استعمال نہ کرنا جو اسے ناپسند ہوں۔

اور صحیحین میں ہے، حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اتنی دیر قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے، تو میں نے ان سے کہا: یا رسول اللہ ﷺ، آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں؟! آپ نے فرمایا: ’’کیا میں نہیں چاہتا کہ میں شکر گزار بندہ بنوں؟‘‘ (متفق علیہ اور الفاظ بخاری کے ہیں)

اور جس پر اللہ کی نعمتیں زیادہ ہو جائیں، اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے عظیم شکر کے ساتھ ملے، خواہ وہ انبیاء ہوں، یا وہ اس صف کے لوگ ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے، اور بندوں کا اللہ سے خشوع ان کے علم کے مطابق ہوتا ہے (النووی۔ شرح مسلم)۔

شکر کے سجدے:

کیا آپ نے رسول ﷺ کی تعزیت میں سجدۂ شکر ادا کیا ہے، حدیث میں ہے، ’’نبی اکرم ﷺ کو کوئی ایسا معاملہ پیش آتا جس سے آپ خوش ہوتے، تو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے‘‘، ترمذی کے مطابق یہ حدیث حسن غریب ہے، اور منذری کہتے ہیں: سجدۂ شکر کا ذکر حدیث ِ براء میں موجود ہے، اور اس کی اسناد بھی صحیح ہیں، اور کعب بن مالک کی حدیث میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔

اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ (کذاب) کے قتل پر سجدۂ شکر ادا کیا، (اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے) اور حضرت علی ؓ نے بھی سجدۂ شکر ادا کیا، جب انہوں نے خوارج میں ذا الثدیۃ کو پایا، (اسے احمدنے اپنی مسند میں روایت کیا ہے)، اور عہدِ نبوی ﷺ میں کعب بن مالک ؓ نیاپنی توبہ کی قبولیت کی خبر سن کر سجدہ کیا، اور ان کا قصّہ متفق علیہ ہے۔

’’شوکانی‘‘ نے’’ نیل الاوطار‘‘ میں سجدہ ء شکر کی احادیث درج کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’یہ احادیث ثابت کرتی ہیں کہ سجدۂ شکر ادا کرنا شرعی ہے، اور احمد بن حنبل اور شافعی کا مذہب بھی یہی ہے۔ اور سجدۂ شکر کا ثبوت رسول اللہ ﷺ کی حدیث ِ سجدہ میں بھی ہے، جس میں سورۃ ’’ص‘‘ کے حوالے سے ذکر ہے: ’’یہ ہمارے لیے شکر اور داود کے لیے توبہ ہے‘‘ (تحفۃ الاحوذی)۔

منفعت اور احسان:

اور شکر گزاری میں مسلمان کا اپنا ہی فائدہ ہے، اور شکر گزاری کی منفعت دنیا و آخرت دونوں میں بندے کے لیے ہے، نہ کہ اللہ کے لیے۔ ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ (لقمان، ۱۲) ﴿اور جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے۔﴾

پس انسان کا شکر ادا کرنا اس کا خود پر احسان ہیاس لیے نہیں کہ شکر ادا کر کے وہ رب کی نعمت کا حق ادا کر دیتا ہے، کیونکہ بندہ کبھی بھی اللہ کا حق ادا نہیں کر سکتا، بلکہ اس کا ادنی یا کم ازا کم حق بھی ادا نہیں کر سکتا۔ پس انسان اس کی ثناء کا احاطہ نہیں کر سکتا، اور اللہ نے اپنے بندے پر اپنی نعمت کے ساتھ احسان کیا ہے، اور یہ بھی اس کا شکر ہے کہ اس نے اسے شکر کی توفیق دی، پس شکر کی ادائیگی بھی اللہ کی نعمت ہے، جو ایک اور شکر کی محتاج ہے۔ اور اسی طرح مزید۔

اور عجیب ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تمام نعمتوں، اس کے عظیم جودو کرم، اور اس کی نعمت ِ شکر کہ اس نے ہمیں شکر کی توفیق دی، اور ہم سے راضی ہو گیا، پھر شکر کی منفعت سے ہم پر مزید نعمتوں کے دروازے کھولے، اور اس کے بعد مزید نعمت عطا کی، اور ہمیں اس سے بھی زیادہ عطا کیا، جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وان تشکروا یرضہ لکم (الزمر، ۷) ﴿اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔﴾

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.