کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا - ربیعہ فاطمہ بخاری

چند دن پہلے معروف گلوکارہ میشا شفیع نے ایک اور نامور اداکار اور گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ پہلے تو میں ایک لمحے کے لیے ششدر رہ گئی اور مجھے دوبارہ بلکہ سہ بارہ سننا پڑاکہ کہیں مجھ سے سننے میں کوئی غلطی تو سرزد نہیں ہو گئی لیکن تیسری دفعہ سننے پر یقین آیا کہ نہیں، میں نے ٹھیک ہی سنا ہے۔

اس سارے قضیے میں بہت سی چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ اولاً تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کسی بھی اداکار کو کسی بھی اداکارہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ وہ تو خود ہی الّا ماشاء اللہ ہر ایک کی بانہوں میں جھول رہی ہوتی ہیں، کبھی ''سین کی ڈیمانڈ" کے نام پر، کبھی تیزی سے ترقی اور اخلاقی تنزلی کی منازل طے کرتی فیشن انڈسٹری کے کسی ایونٹ کے نام پر، کبھی کسی بھی celebrity کی سالگرہ کے موقع پر تو کبھی شادی کی سالگرہ کی تقریب میں، یہ اداکاراور اداکارائیں ایک دوسرے کے ساتھ بوسوں اور معانقوں کا تبادلہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں جیسے کوئی عظیم کارِ ثواب ہے۔ کپڑے ان اداکاراؤں کے فیشن انڈسٹری کے دن بدن عروج کی طرف گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ مختصر سے مختصر ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ وہاں ان اداکاروں کو بطور مرد اپنی نظروں کی اور جسموں کی ہوس پوری کرنے کے بے بہا مواقع میسر ہوتے ہیں اوریہ مواقع بھی انہیں ساتھی اداکارائیں بالکل ہنسی خوشی فراہم کرتی ہیں، پھر انہیں ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زبردستی کریں؟

ثانیاً مجھے کوئی اس انڈسٹری کی خواتین اداکاراؤں کی جنسی ہراسگی کی تعریف بتا دے، میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر ایک تصویر بہت وائرل ہوئی تھی جس میں اداکارہ عروہ حسین اور اس کے شوہر فرحان سعید ایک مشہور ومعروف ڈیزائینر HSY کو دونوں گالوں پر "مشترکہ بوسہ" لے رہے ہیں۔ مجھے عزت اور غیرت والا کوئی بھی شوہر بتا دے کہ اس سے بڑی بے غیرتی کا کوئی عام شوہر تصور بھی کر سکتا ہے؟ مگر وہ شوبز ہے وہاں سب کچھ چلتا ہے، جہاں اس حد تک بلکہ اس حد سے بھی کہیں بڑھ کر آزادی، بے راہ روی، بے باکی اور to be very precise بے غیرتی کا راج ہو وہاں کسی مرد کو ضرورت ہی کیا ہے کسی عورت کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی؟ جب عورت خود اپنی عزت، غیرت، شرم و حیا پسِ پشت ڈال کر غیر مردوں کی جھولی میں خود کو پکے ہوئے پھل کی طرح گرا لے گی تو مرد تو آخر مرد ہے۔ کہتے ہیں نا، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں؟

یہ خبر سننے کے بعد میں نے میشا شفیع اور علی ظفر کو گوگل کیا تو مجھے ان کی ایک ساتھ 5،6 تصاویر نظر آئیں اور ان تصاویر میں میشا حسبِ معمول سلیولیس اور کہیں اس سے بھی مختصر لباس زیبِ تن کیے ہوئے ہیں اور وہ علی ظفر کے ساتھ بالکل چپک کر بہت ہی نارمل انداز میں خوش باش کھڑی ہیں اور مزے سے پوز بنوا کر تصویر بنوا رہی ہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ جب آپ خود ہنسی خوشی علی ظفر کے ساتھ لپٹ چمٹ کر تصویر بنوا سکتی ہیں کہ وہاں آپ کو ایک عورت ہونے کے ناطے ''میرا جسم، میری مرضی" کا "حق" حاصل ہے تو وہ بھی آپ کے "برابر" کا انسان ہے، کیا ہوا کہ "مرد" ہے؟ اس کا بھی اپنا جسم اور اپنی مرضی ہے۔ ایک وقت آپ کا جی چاہا اور آپ اپنی ''مرضی'' سے اس سے لپٹ گئیں تو اگلی دفعہ اس بے چارے کا بھی آپ کو لپٹانے کو جی چاہا ہوگا اور اس نے آپ کو لپٹا لیا تو کیا فرق پڑتا ہے؟ آخر اس کا جسم اس کی مرضی!

عرض یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ایک طرف رکھیں، انسانی فطرت ہے کہ جب جب اور جہاں جہاں مرد اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط بغیر کسی مذہبی، قانونی، یا معاشرتی حدود و قیود کے ہوگا، وہاں یہ اور اس طرح کے واقعات کسی اچھنبے کی بات نہیں کہ کوئلوں کی دلالی میں منہ اور ہاتھ کالے ہو ہی جایا کرتے ہیں!

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • شناور الفاظ ہیں بس انتخاب الفاظ میں ذرا احتیاط کا عنصر کچھ کم ہے، بحیثیت مجموعی اچھی تحریر،، مگرایک بات یاد رکھیں۔۔ استکبارِ تقوی سے استغفار معصیت زیادہ ،بہت زہادہ افضل ہے۔۔ آپ کی تحریر میں زعم پارسائی کی متکبرانہ جھلک ہے۔۔۔زیادہ حد ادب۔۔۔خرم عفی عنہ

    • محتر م خرم راءو صاحب.. اللہ پاک نے معمولی درجے کا عقل اور فہم عطا کیا ہے اور اس سے سب سے پہلے اور سب سے بڑا سبق جوسیکھا وہ یہ ہے کہ تکبر صفتِ کبریائی ہے اور اس کے شایانِ شان صرف اور صرف اسی کی ذاتِ بابرکات ہے ، اور میں کاہے کا تکبر کروں گی نعوذباللہ ثم نعوذباللہ کہ من آنم کہ من دانم۔۔ اس آرٹیکل میں میرے نامناسب الفاظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو میری نظر میں ہمیشہ ایک وقار اور dignity کی علامت ہونا چاہیئے، چاہے وہ اپنی معاش کیلئے جس بھی پیشے کا انتخاب کرے، اسی انڈسٹری میں ثانیہ سعید جیسی اداکاراوءں نے اپنا وقار قائم رکھتے ہوئے اپنا مقام بنایا ہے، یہ جو آج کل کی اداکاراوءں کی lot ہے، انہوں نے الّا ماشااللہ ہمارے اجتماعی اخلاق کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے اور جب عورت خود اپنے آپ کو وقار کی مسند سے گرا دے تو اسے اس طرح کی شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں۔۔