کچھ تو سوچا ہوتا - خرم علی راؤ

مال حرام میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ جس کے منہ کو ایک دفعہ یہ لگ جاتا ہے بس پھر وہ اس کے بغیر نہیں رہ پاتا۔ جیسے خارش میں ہم جتنا کھجاتے جائیں، اتنا مزہ آتا جاتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ وہ زخم بن جاتا ہے۔ ویسے ہی جیسے جیسے مال حرام ہماری زندگی میں شامل ہوتا جاتا ہے، ہماری اس کے لیے طلب اور تڑپ بڑھتی جاتی ہے،اور پھر جلد ہی وہ وقت بھی آجاتا ہے کہ ہم اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔

ہمارے ایک مذہبی رجحان رکھنے والے دوست شومئی قسمت سے ایک کیس میں پھنس گئے اور عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوگئے۔ ایک مرتبہ اسی سلسلے میں انہیں کورٹ کے ریکارڈ روم سے ایک فائل کی ضرورت پڑی وہ وہاں گئے تو کلرک نے فائل کی نقل دینے کے لیے 500 روپے طلب کیے اورانہوں نے انکار کردیا کہ میں رشوت نہیں دوں گا۔ کلرک نے ریٹ گرا دیے لیکن انہوں نے پھر انکار کیا۔ وہ دوست بتا رہے تھے کہ وہ ریٹ گراتے گراتے پانچ روپے پر آگیا اور جب انہوں نے یہ بھی دینے سے انکار کیا تو اس نے پانچ روپے ادھار مانگ لیے جو انہوں نے چار و ناچار دیے کہ اب رشوت کا عنصر نہیں رہا تھا، تب فائل ملی۔ اس کلرک نے کہا کہ میں نے قسم لی ہوئی ہے کہ بغیر پیسے لیے یہاں کوئی کام نہیں کروں گا، اگر میرا باپ بھی آجائے تو اس سے بھی میں کچھ نہ کچھ وصول ضرور کروں گا۔

یہ حالت بھی ہو جاتی ہے جب مال حرام اور صرف مال حرام ہی کیوں ہر حرام کام میں جب آپ ترقئ معکوس کرتے جاتے ہیں تو پھر اس کے بغیر نہیں رہ پاتے ہیں۔بلاشبہ یہ بہت بڑی آزمائش بہت بڑا امتحان ہوتا ہے کہ آپ کو مال و افعال حرام کے تمام تر مواقع میسر ہوں اور آپ بچ کر رہ سکیں، سوائے نصرتِ الہی کے آپ کو میرا نہیں خیال کہ کوئی بچا سکتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ِکریم ہے" اے دنیا میں تیرا کیا کروں، تیرے حلال میں حساب ہے،تیرے حرام میں عذاب ہے،میری طرف سے تجھے تین طلاق ہے۔"

کرپشن اور بدعنوانی کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو حالات اور ماحول کے جبر سے اس میں ملوث ہوجاتے ہیں، دوسرے وہ جو ایسے حالات اور ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جس میں کرپشن اور بدعنوانی پھلتی پھولتی ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں میں کہیں نہ کہیں احساس ندامت اور اپنے افعال بد پر شرمندگی کی کوئی نہ کوئی رمق ہوتی ہے اور ان کے پلٹ آنے اور توبہ و کفارے کی امید ہوتی ہے مگر دوسری قسم کے لوگ تو اپنے نشے میں اتنا مست ہوتے ہیں کہ انہیں کرپشن میں کمی آجانے کے ماحول کے امکان سے بھی وحشت ہوتی ہے۔ وہ سر تا پاؤں اس میں نہ صرف غرق ہوتے ہیں بلکہ خود لطف اندوز ہورہے اور دوسروں کو اس جانب راغب کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے نظام،ایسے طریقے وضع کرتے ہیں جن سے بد عنوانی میں ترقی ہو اور ان کا نشہ پورا ہوتا رہے۔ ان لوگوں کا پلٹ آنا اور توبہ و کفارے کی راہ اختیار کرنا قریب بہ محال ہے مگر جس پر اللہ کا فضل ہوجائے۔

ہمارے ملک کی اشرافیہ میں معذرت کے ساتھ ایسے ہی یعنی دوسرے قسم کے لوگوں کی اکثریت ہے،جنہوں نے کرپشن کے مضمون میں گویا پی ایچ ڈی سے بھی آگے کی قابلیت حاصل کی ہوئی ہے اور ان کے یہ اعمال عوام الناس اور مجھ جیسے عام لوگوں میں بھی کرپشن کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں۔ جب ہم دنیاوی اعتبار سے اپنے ضابطے کے بڑے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بے دھڑک یہ سب کر رہے ہیں اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں تو پھر وہ بھی اپنی سطح پر اپنی حد تک کرپشن،جھوٹ،دھوکہ دہی اور بد عنوانی کو اختیار کر نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس مشق کے تسلسل سے بڑھتے جانے اور پھیلاؤ سے ہم ایک ایسی خوفناک تباہی کی جانب جارہے ہیں جس کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ کاش ہماری نام نہاد اشرافیہ نے کچھ تو سوچا ہوتا!