ووٹ کو۔۔۔ عزت دو - ربیعہ فاطمہ بخاری

پاکستان پر یہ پنج سالہ دور سیاسی لحاظ سے بہت بھاری گزرا۔ اس عرصے میں وطن عزیز کو مسلسل انتشار، بے چینی اور اضطراب سے واسطہ رہا۔ اس اضطراب اور بے چینی کے پیچھے بنیادی محرک عمران خان اور پی ٹی آئی کا تھا۔ عمران خان نے2013 ء سے اب تک، مسلسل ایک حقیقی اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھایا ہے۔ اس عمل میں ان سے جہاں بے پناہ غلطیاں سر زد ہوئیں، وہیں ان کی تحریک نے پاکستان کی رائے عامہ پر بے شمار مثبت نتائج مرتب کئے۔ عمران خان کی تحریک کا سب سے بڑا مثبت نتیجہ عوام کی سیاسی بصیرت میں اضافہ ہے۔ مجھ ایسے بظاہر تعلیم یافتہ لوگوں کو وطنِ عزیز کےانتخابی عمل کی خوبیوں اور خامیوں کا نہ ہونے کے برابر علم تھا اور اب ایک نیم خواندہ انسان بھی ہمارے سیاسی اور انتخابی عمل کی خامیاں بتا سکتا ہے۔

ہر ایک شہری کو علم ہو گیا ہے کہ ہم جو لفظ دھاندلی ہر وقت سنا کرتے تھے وہ عملاً کس کس انداز میں کی جاتی ہے؟کون کون سے ادارے کس کس سطح پر اس عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ موروثی سیاست کے منفی پہلو کچھ اس طرح عوام کے سامنے اجاگر ہوئے کہ انہوں نے لودھراں میں خود عمران خان کو آئینہ دکھا دیا۔ کرپشن کیا ہوتی ہے اور یہ کس کس سطح پر اور کس کس انداز میں کی جاتی ہے، ہر ایک کو علم ہو گیا ہے۔ ان سب اور اسی طرح کے اور بے شمار معاملات سے آگہی اور نئی نسل میں سیاسی شعور اور سیاست میں دلچسپی پیدا کرنے کا کریڈٹ بلاشبہ عمران خان کو جاتا ہے۔

اب کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ عمران خان کے مسلسل اضطراب اور بے چینی کو قرار تب ملا جب میاں محمد نواز شریف کو عمران خان بالآخر عدالتِ عظمٰی کے ذریعے نااہل قرار دلانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی نازک وقت تھا، لیکن اس نازک صورتحال سے بھی اللہ اک نے پاکستان کے عوام کے لیے آگہی اور شعور کے مزید در وا کرنا تھے۔ میاں محمد نواز شریف نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور agitation کی راہ اپنا کر جلسے اور ریلیاں نکالنا شروع کر دیں۔ ان کے ابتدائی چند جلسے، جن میں انہوں نے اپنا دکھڑا رویا اور ''مجھے کیوں نکالا'' کا واویلا کرتے رہے، بری طرح ناکام ہو گئے۔ اب اچانک ہی االلہ جانے ان کے کس ''نو رتن'' نے انہیں '' ووٹ کو۔ ۔ ۔ ۔ عزت دو'' کا نعرہ دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کو جنسی مریض کہنے والے کارٹون - روبینہ فیصل

یہ نعرہ اور یہ بیانیہ حیرت انگیز طور پر عوام میں فی الفور مقبول ہوگیا۔ ووٹ کی پرچی کی حرمت کی مہم میاں محمد نواز شریف کو اور ان کی صاحبزادی کو خوب راس آئی۔ اور ان کے جلسوں کے پنڈال کھچا کھچ بھرنے لگے۔ آپ نواز شریف کو گالیاں دے سکتے ہیں، ان کی مخالفت بھی کر سکتے ہیں لیکن ان کے اس بیانیے سے کسی بھی طرح اختلاف ممکن نہیں۔ ہمارے ملک میں ابتداء سے ہی ووٹ کو وہ حرمت اور عزت کبھی نہیں دی گئی جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں دی جانی چاہیے۔ ہمارا کوئی بھی جمہوری حکمران اپنی مدت پوری نہیں کر پایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران طبقہ خود بہت حد تک اس صورتحال کا ذمہ دار رہا ہے۔ لیکن بہرحال ملکی استحکام اور ترقی کے لیے لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔

عوام الناس میں یہ شعور بیدار ہونا بھی ازحد ضروری ہے کہ جمہوریت کے ساتھ آج تک جو کھلواڑ ہوتا رہا ہے وہ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ ووٹ کو بہر صورت عزت دلوانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ووٹ کی عزت کی پاسداری اگر عوام کے ہاتھ میں آ گئی اور عوام اس حوالے سے با شعور ہو گئے تو وہ ان حکمرانوں کا بھی گریبان پکڑ سکتے ہیں جو ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو اب یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ عوام کی امنگوں کی حتمی اور آخری امید صرف اور صرف جمہوریت ہے۔ اور سیاستدانوں کو بھی اب سمجھ جانا چاہیے کہ آج کا ووٹر 90ء کی دہائی کا ووٹر نہیں ہے۔ آج کا ووٹر زیادہ باشعور اور زیادہ demanding اور زیادہ awareness رکھنے والا ہے۔ اب آپ کو اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے عوام کی مشکلات کو بھی حل کرنا ہوگا، ہر حال میں deliver کرکے دکھانا ہوگا اور صراطِ مستقیم کو بھی اپنانا ہو گا۔ جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے، جمہوری عمل کے ذریعے ہی جمہوری نظام کی خامیاں دور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انتخابی اصلاحات از حد ضروری ہیں۔ عوامی نمائندوں کے کڑے احتساب کی بھی بہت سخت ضرورت ہے، لیکن ووٹ کو بہرحال عزت دینا ہوگی۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.