صحائف اہلِ کتاب کے مطالعہ سے گریز کی نبوی ہدایت اور اس کی حکمت - محمد عبد اللہ شارق

قرآن میں اہلِ کتاب کے صحائف (تورات، انجیل اور زبور وغیرہ) کا حوالہ جس اندازمیں دیا جاتا ہے، اس کے نتیجہ میں ایک مسلمان کے دل میں ان کا احترام پیدا ہونا لازمی چیز ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ ہمیں انبیاءِ سابقین اور صحائفِ سابقہ پر ایمان لانے کا باقاعدہ حکم ہے اور اس کے بغیر ہمارا یمان مکمل نہیں ہوتا۔ لیکن ان صحائف کے ساتھ ایمان واحترام کا تعلق ہونے کے باوجود ان کو عبادت، اطاعت، دینی ترقی اور تقرب الی اللہ کی نیت سے پڑھنا ناجائز ہے جس کی دلیل ہماری نظر میں ایک صحیح السند حدیث ہے کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو تورات کے چند اوراق پڑھتے ہوئے دیکھا تو چہرہ پر ناگواری کے شدید آثار ظاہر ہوئے اور انہیں اس سے منع فرمایا۔ (سنن الدارمی۔ حدیث نمبر 449) بعض ذہنوں میں اشکال پیدا ہوتاہے کہ اس ممانعت کی حکمت کیا رہی ہوگی اور اور آیا ہمارے لیے واقعی اہلِ کتاب کے صحائف کا مطالعہ منع ہے؟ ہم نے یہاں اس حوالہ سے اپنے نتائجِ فکر قارئین کے سامنے رکھے ہیں۔ ہماری نظر میں اس ممانعت کا سبب بالکل واضح ہے اور اس کے لیے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تنبیہی کلمات پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو آپ نے حضرت عمرؓ کو ارشاد فرمائے اور وہ ممانعت والی حدیث ہی کے اندر مذکور ہیں۔

یوں تو اہلِ ایمان کو جس طرح پہلے دن سے صحائفِ مقدسہ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا اور اہلِ ایمان کے دل میں ان صحائف کے بارہ میں جس طرح کا احترام پایا تھا، اس سے ہی بادئ النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ غالبا تورات کو خیر کے کچھ اسباق حاصل کرنے کے لیے اور دینی جذبہ کے زیرِ اثر پڑھ رہے ہوں گے۔ چونکہ اب تک ان کے سامنے ان صحائف کے پڑھنےسے گریز کا کوئی تصریحی حکم نہیں آیا تھا، اس لیے ان کی نگاہ غالبا اس نکتہ کی طرف نہ جاسکی کہ گو ان صحائف پر ہمیں ایمان لانے کا حکم ہے، مگر ایک تو اپنی موجودہ شکل میں یہ غیر محفوظ ہیں جس کی تائید خود ان کے اپنے محققین کرتے ہیں، جبکہ اگر یہ تحریف و تغیر سے محفوط بھی ہوں تو یہ بہرحال منسوخ ہوچکے ہیں اور منسوخ صحائف سے خیر کے اسباق حاصل کرنا یا ان کو تقربِ الہی کے لیے پڑھنا منع ہے۔ خصوصا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جن الفاظ میں تنبیہ فرمائی، وہ اس بات کا صاف قرینہ ہیں کہ حضرت عمرؓ اس وقت تورات کو خیر کے کچھ اسباق حاصل کرنے کے لیے ہی پڑھ رہے تھے اور تورات کی منسوخی کے مذکورہ نکتہ کو یا اس کے تقاضوں کو فراموش کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تنبیہی کلمات یہ تھے:

"والذی نفسی بیدہ لو بدا لکم موسی فاتبعتموہ وترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ولو کان موسی حیا وادرک نبوتی لاتبعنی‌ (سنن الدارمی۔ حدیث نمبر 449) یعنی "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر موسی خود تمہارے سامنے آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرنے لگو تو سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے۔ اگر موسی زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پالیتے تو میری نبوت کی اتباع کرتے۔ "

ایک اور روایت میں ہے: “لما وسعہ الا اتباعی” یعنی میرے اتباع کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ ہوتا۔ یہ بات خود قرآن سے بھی ثابت ہے۔ ارشاد خداوندی ہےکہ وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ . فَمَن تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (آلِ عمران: 81، 82) یعنی "اللہ نے نبیوں سے میثاق لیا تھا کہ اگر میں تمہیں کتاب وحکمت سے نوازوں، پھر تمہارے پاس تمہاری دعوت کی تصدیق کرنے والا ایک اور رسول آجائے تو کیا تم اس پر ایمان لے آکر اس کے مدد گار اور حواری بنو گے؟ فرمایا کہ کیا تم اس میثاق کا اقرار کرتے ہو اور میرے اس امر کا بوجھ اپنے ذمہ لیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اقرار کرتے ہیں۔ رب کریم نے ارشاد فرمایا: پس گواہ رہنا اور میں بھی اس میثاق کا شاہد ہوں۔ جو کوئی بھی اس میثاق کی پیروی سے اعراض کرے گا تو اس اس کا شمار فاسقین میں ہوگا۔ "

آیت میں تصریح ہے کہ بعد میں آنے والا نبی ہی سکہ رائج الوقت ہوتا ہے اور اس کی اتباع سے کسی سابقہ نبی کو بھی مفر نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو جن الفاظ میں متنبہ فرمایا، ان کا مفہوم یہی ہے کہ جب دوسرا نبی آجانے کے بعد خود سابقہ نبی کو اپنا آپ نئے نبی کی تحویل میں دے کر اس کا مدد گار بننے کا حکم ہے اور پہلا نبی خود دوسرے نبی پر ایمان لے آکر اس کا حواری بننے کا مکلف ہے تو عام انسانوں کے لیے اس سابقہ نبی کے صحائف اور تعلیمات میں تقرب الی اللہ کا سامان ڈھونڈنے کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں متنبہ فرمایا کہ منسوخ شدہ صحائف اور شرائع سے رشد وہدایت اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی اور انہوں نے فورا توبہ کی کیونکہ جیساکہ ہم نے عرض کیا، حضرت عمرؓ خود بھی تورات کی منسوخی پر بخوبی ایمان رکھتے تھے، صرف وقتی طور پر وہ نکتہ ان کی نگاہ سے اوجھل ہورہا تھا یا یوں کہہ لیجئے کہ اس منسوخی کے تقاضے ان کے سامنے نہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے ہی منسوخی کےمفہوم اور تقاضوں پر انہیں متنبہ کیا تو انہوں نے فورا توبہ کی اور استغفار کیا۔ بعض لوگ جوآج صحائفِ سابقہ کو رشد وہدایت کا خزینہ سمجھ کر پڑھتے ہیں، ان سے بزعمِ خود خیر کے اجزاء حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں، انہیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ صحائف منسوخ ہوچکے ہیں اور اگر وہ انبیاء جن پر یہ صحائف نازل ہوئے، خود بھی دنیا میں آج ہوتے تو تقرب الی اللہ کے لیے خود کو آخری صحیفہ قرآنی سے وابستہ کرتے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف حضرت عمرؓ کو ٹوکا، بلکہ آپ کے چہرے پر نا گواری کے شدید آثار ظاہر ہوئے۔ اس سے ایک امتی اندازہ کرسکتا ہے کہ صحائفِ سابقہ کو رشد وہدایت کا خزینہ سمجھ کر انہیں روحانی استفادہ کی غرض سے پڑھنا اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینا کتنا ناپسندیدہ اور خطرناک عمل ہے۔ نیز ایک اور حدیث کی رو سے اہلِ کتاب کی روایات کو تصدیق وتکذیب کا موضوع بنانا اور اس غرض سے ان کو پڑھنا بھی منع ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اہلِ کتاب کی روایات کی تصدیق وتکذیب سے پرہیز کرو کیونکہ ان کے ہاں حق و باطل مخلوط ہے اور تصدیق وتکذیب کی صورت میں اندیشہ ہے کہ کہیں تم کسی حق کی تکذیب اور کسی باطل کی تصدیق نہ کر بیٹھو۔ ( ابو داود۔ حدیث نمبر 3646، مسند احمد۔ حدیث نمبر 14631) بس آخر میں ایک درجہ اہلِ کتاب کی ان روایات کا ہے جو دینی اعتبار سے بالکل بے ضرر ہیں اور ان سے قرآنی واقعات ہی کی کچھ تاریخی کڑیوں پر روشنی سی پڑتی ہے یا صحیفہ قرآنی میں بیان کردہ اسباق اور واقعات ہی کی تائید ہوتی ہے، ایسی روایات کے بارہ میں البتہ فرمایا گیا ہے کہ تم انہیں نقل کرسکتے ہو۔ ارشاد ہے: "حدثوا عنہم ولا حرج" یعنی تم ان سے ایسی رویات نقل کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس آخری درجہ کی روایات کے بارہ میں بھی "لا حرج" کا انداز اختیار کیا گیا ہے، یعنی اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ انہیں رشد وہدایت کا خزینہ وگنجینہ قرار دے کر ا ن میں مشغول ہونے کی کوئی ترغیب بالکل نہیں دی گئی۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے صحائفِ سابقہ کے حوالہ سے نبوی قدغنوں کو آج عملا معطل کر رکھا ہے، صحائفِ سابقہ کے حوالہ سے ہاتھ بالکل کھلا رکھا ہوا ہے، ان کے مضامین کو بغیر کسی جینوئن شرعی ضرورت کے تصدیق وتکذیب کا موضوع بناتے ہیں، لوگوں کو کھلے عام ان کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں یا ان کے بارہ میں رشد وہدایت کا خزینہ ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور ان سے باقاعدہ احکامِ الہیہ اخذ کرتے ہیں، وہ کتنے بڑے ایمانی خطرہ سے دوچار ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو جو تنبیہ فرمائی تھی، ان پر زندگی بھر اس کا اثر رہا، چنانچہ علامہ شبلی کے بقول "نہایت کثرت سے روایتیں موجود ہیں کہ شام وعراق وغیرہ میں مسلمانوں کو یہودیوں کی تصنیفات ہاتھ آئیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نہایت سختی سے ان کے پڑھنے سے روکا۔ " (الفاروق، شبلی نعمانی، صفحہ 510، ط: نیشنل بک فاؤنڈیشن )

مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا سبب کیا تھا؟ اول تو اندیشہ تھا کہ لوگ ان کو دینی جوش وجذبہ کے ساتھ پڑھیں گےجوکہ غلط ہے اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عمرؓ کو روکا تھا، دوسرا یہ کہ کہیں وہ ان کی روایات کو ممنوعہ تصدیق وتکذیب کا موضوع نہ بنابیٹھیں کیونکہ عوام کے ہاتھوں میں پہنچنے کے بعد ان کتابوں کا طفلانہ تبصروں سے محفوظ رہنا بہت مشکل تھا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک پرانا عربی مضمون ہماری نظر سے گذرا، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت عمرؓ کو ہونے والی ممانعت اور تنبیہ کا اصل سبب یہ تھاکہ کہیں حضرت عمرؓ تحریف شدہ تورات کی ہر بات کو درست نہ سمجھ لیں (نقد تاریخ التمدن الاسلامی، علامہ شبلی نعمانی، مجلۃ المنار (مصر) جمادی الاولی 1330ھ) لیکن ہماری نظر میں یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ اس صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تنبیہی کلمات وہ کبھی نہ ہوتے جو حدیث میں آتے ہیں، بلکہ آپ انہیں کہتے کہ دیکھو! کہیں حق وباطل میں التباس کا شکار نہ ہوجانا یا آپ فرماتے کہ چونکہ یہ صحائف تحریف شدہ ہیں اس لیے ان سے گریز کرو، مگر آپ نے ایسا کچھ نہیں فرمایا، بلکہ انہیں محض ان صحائف کی منسوخی کے حوالہ سے ہی نہایت قوی الفاظ میں متنبہ کیا اور حضرت عمرؓ نے بھی اس کے جواب میں کوئی وضاحت دینے کی بجائے آمنا و صدقنا کہا۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یقینا اس وقت منسوخی کے نکتہ کو ہی فراموش کر رہے تھے یا پھر منسوخی کے ان تقاضوں کو بھول رہے تھے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں متنبہ کیا۔ بے شک صحائفِ سابقہ کے اندر اپنی موجودہ شکل میں رطب و یابس مخلوط ہے، ان کے کسی مضمون کی صحت کے بارہ میں یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتا اور اسی لیے صحائفِ سابقہ کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے ان کو پڑھنا اور ان سے استفادہ کرنا خطرات سے خالی نہیں تاہم دینی نوعیت کے کسی ریسرچ پرپز کے لیے یا خود اہلِ کتاب کو دعوت دینے کی غرض سے اگر ان کو پڑھا جائے اور پڑھنے والا حق وباطل کی تمیز بھی بخوبی کرسکتا ہو تو گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ٹھوکر لگنے سے بچ سکے گا اور اس طرح کے مطالعہ کی مثالیں امت میں نظر آتی ہیں۔ خود قرآن میں بعض مقامات پر یہود کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ خود اپنی ہی کتاب تورات لے آکر اپنی صداقت کا اثبات کردیں۔ ارشاد ہے:

قُلْ فَأْتُواْ بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (آلِ عمران: 93) یعنی "اے نبی! آپ ان کو کہیں کہ اگر تم سچے ہو تو خود تورات ہی کو لے آؤ اور اس کو پڑھو۔ "

نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خیبر کے یہود کے ساتھ مکالمہ کے دوران تورات منگوائی تھی اور زناء کے ایک مقدمہ میں انہیں ان کی ایک دینی خیانت پر متنبہ فرمایا تھا۔ ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر کسی دینی ضرورت کی وجہ سے خود صحائفِ سابقہ سے رجوع کی ضرورت پیش آتی ہے اور جن علماءِ امت نے صحائفِ سابقہ کے حوالہ سے خصوصی کاوشیں انجام دی ہیں، ان میں ایک بڑا نام ماضی قریب میں ہندوستان کے علامہ رحمت اللہ کیرانوی کا ہے۔ امت کی نظر میں حضرت عمرؓ بڑی سطح کے راسخین فی العلم کے بھی امام ہیں۔ جب ہم علامہ ابنِ حزم اور مولانا رحمت اللہ کیرانوی وغیرہ کے حوالہ سے یہ اندیشہ نہیں کرتے کہ وہ بائبل کا مطالعہ کرتے ہوئے حق و باطل میں التباس کا شکار ہوجائیں گے اور امت اس سلسلہ میں ان کی تحقیقات سے استفادہ کرتی رہی ہے تو حضرت عمرؓ کے بارے میں ہم ایسا تصور کس طرح کر سکتے ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ جب حضرت عمرؓ جیسی شخصیت کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ وہ تورات کا مطالعہ کرتے ہوئے حق وباطل میں التباس کا شکار ہوجائیں گے اور بقول شبلی کے اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے گریزکرنے کا فرمایا تھا تو پھر علمائے امت کی ان تمام تحقیقی کاوشوں کا کیا جواز ہے جو انہوں نے بائبل کے حوالے سے فرمائی ہیں اور وہ کس طرح خطرہ سے پاک ہوسکتی ہیں، جبکہ علمی اور عملی اعتبار سے بعد کے حضرات کا حضرت عمرؓ سے کوئی تقابل ہی نہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ممانعت کی اس توجیہ کا کوئی قرینہ ممانعت والی حدیث میں موجود نہیں ہے جو شبلی نے کی ہے۔ حدیثِ ممانعت کا اصل سبق اور ماحصل صرف یہ ہے کہ دینی ترقی، تقرب الی اللہ یا رشد وہدایت کے اجزاء حاصل کرنے کے لیے صحائفِ سابقہ کا پڑھنا ٹھیک نہیں اور ایسا مطالعہ نہ تو کل کسی کے لیے جائز تھا اور نہ ہی آج، نہ حضرت عمرؓ جیسی کسی قدآور اور راسخ فی العلم شخصیت کے لیے اور نہ ہی کسی اور کے لیے۔ قرآن بتاتا ہے کہ تمام انبیاء کی بنیادی اور جوہری تعلیم ایک جیسی ہی تھی۔ یہ تعلیم قرآن میں اتنی شرح وبسط کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ انسانوں کو سابقہ کتابوں سے مستغنی کردیا گیا ہے۔ اگر سابقہ صحائف میں اپنی موجودہ شکل کے اندر کچھ نیک باتیں موجود بھی ہیں تو قرآن میں وہی باتیں زیادہ تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ اگر کسی کو صحائفِ سابقہ اور انبیاء سابقین کی تعلیمات کا جوہر اور مکھن ملاحظہ کرنا ہے تو وہ قرآن پڑھ لے۔ یوں تو سارا قرآن نبیاء سابقین اور صحائفِ سابقہ کے حوالے دے دے کر ان کا تلخیصی جوہر اپنے قاری کے سامنے رکھتا ہے، مگر بطورِ خاص آپ سورۃ الاعلی پڑھ لیں، سورۃ الشعراء پڑھ لیں، سورہ نمل پڑھ لیں، سورہ ہود پڑھ لیں، سورہ ص پڑھ لیں، سورہ صافات پڑھ لیں، سورہ اعراف پڑھ لیں، سورہ نجم پڑھ لیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس سے آپ کے سامنے انبیاءِ سابقین کی خدا مستی و خدا طلبی، اللہ کے ساتھ ان کے قلبی تعلق، صبر وشکر اور رجوع وانابت کے بیش بہا واقعات آجائیں گے، ان کی زندگی کی طرز سامنے آئے گی، ان کے شب وروز سامنے آئیں گے، رکوع وسجود کا انہماک، ہر ضرورت وحاجت میں اللہ کی طرف رجوع کرنا، مادی منافع کو حقیقی منافع پر قربان کرنا، اللہ کے اوامر کو پورا کرتے ہوئے جان ومال قربان کرنا، خلقِ خدا کے ساتھ انصاف واحسان کا سلوک کرنا، اللہ کے رنگ میں ڈوبا ہونا، اہلِ دنیا کو دن رات دینِ الہی کی طرف دعوت دینا، یہ سب کرکے ان کا کامیاب ہونا اور ابدی نعمتوں سے سرفراز ہونا۔ ۔ ۔ یہ سب آپ کو قرآن میں ملے گا اور انبیاء کے حوالہ سے اصل باتیں یہی پڑھنے اور سننے کی ہیں۔ جو لوگ انبیاء کی اصل تعلیمات کے مرکزی اور دعوتی نکتہ "خدا طلبی و خدامستی" سے واقف ہیں، انہیں انبیاءِ سابقین کی حکایات اور صحائفِ سابقہ کی اصل تعلیمات کا خلاصہ قرآن ہی میں پڑھ کر سکون ملتا ہے، نہ کہ صحائفِ سابقہ میں۔

نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف تو بعض متجددین مسلمانوں کو اہلِ کتاب کے صحائف کے مطالعہ کی دعوتِ عام دے رہے ہیں، ان کے بارہ میں رشد وہدایت کے خزینہ ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور ان سے احکامِ الہیہ اخذ کرتے ہیں، جبکہ کچھ ناعاقبت اندیش یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ خود اہلِ کتاب کے لیے نبوتِ محمدی پر ایمان لانا ضروری نہیں، بلکہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنا ہی ان کی نجات کے لیے کافی ہے (قطع نظر اس بات سے کہ جمیع انبیاء پر بلاتفریق ایمان لائے بغیر آیا یہ ممکن بھی ہے یا نہیں)۔ حالانکہ ان کا فریضہ منصبی یہ تھا کہ وہ اہلِ ایمان کو صحائفِ سابقہ کی طرف دعوت دینے کی بجائے، "اہلِ کتاب" کو اللہ کی آخری کتاب کی اہمیت بتاتے، انہیں اس کی طرف متوجہ کرتے اور بتاتے کہ نجات کے لیے اللہ کے سب نبیوں پر بلاتفریق ایمان لانا اور خود کو خدا کے آخری نبی سے وابستہ اور مربوط رکھنا ضروری ہے۔ ہم نہیں جانتےکہ ان رویوں کو کیا نام دینا چاہیے؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، اب انہی کا صحیفہ، انہی کی حکمت اور انہی کے فرمودات خداکی نظر میں سکہ رائج الوقت ہیں، ان کی آمد کے بعد اب موسی اور عیسی علیہما السلام اگر خود دنیا میں موجود ہوں تو ان کے لیے بھی خود اپنےصحیفہ کی طرف التفات کرنا جائز نہیں، بلکہ وہ بھی خدا کے آخری صحیفہ اور آخری نبی کے ساتھ خود کو مربوط اور وابستہ رکھنے کے پابند ہوں گے۔ اگر کچھ لوگ اس نکتہ کو جان کر فراموش کر رہے ہیں تو انہیں وضاحت بھی خود دینی چاہیے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں نیک سمجھ دیں۔ آمین!