ایک عظیم لیڈر - محمد عنصر عثمانی

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

مصور پاکستان علامہ اقبالؒ نے اس شعر میں جس ہستی کی ہو بہو تصویر پیش کی، قوم اس عظیم لیڈر کی 141 ویں سال گرہ منا رہی ہے ۔وہ گریٹ لیڈر کہ جن کی زندگی اصول پسندی، انصاف، رواداری، راست بازی، ایمان داری، لگن، جہد مسلسل اور حصولِ مقصد کا سر چشمہ تھی ۔وہ محمد علی جناح کہ جن کا طرز عمل اور طرز سیاست ہی تھا جس سے ایک قوم بنی، ایک وطن معرض وجود میں آیا اور انہوں نے دنیا کے نقشے میں ترمیم کرکے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

قائد اعظم کوئی انقلابی رہنما نہیں تھے، مگر اپنے اسلوب سیاست کی وجہ سے ایک بڑے ملک کے بانی کی حیثیت سے انقلابی رہنماء کے طور پر ابھرے۔ فرنگیوں نے جب مغلیہ حکومت کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور طوائف الملوکی کے آثاردیکھے تو سازشیں کیں اور ضمیر فروش ہندستانیوں کی ساز باز سے سلطنت پر قبضہ کرلیا ۔ مسلمان انگریز حکومت کے لیے روز اول سے اصلی حریف تھے۔ آزادی کی جدوجہد ہو یا تحریک تقسیم ہند، مسلمان ہی تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ وجود پاکستان ناگزیر ٹھہرا ۔پھر ایک دانائے روزگار ملا جس نے ذلت و بربادی کی انتہاء کو پہنچی قوم کی زباں بندی کے تالے کھولے۔ قوم کے منجمد خوں کو گرمایا۔ قائد نے نو کروڑ مسلمانوں کے منتشر، غریب، ناخواندہ، بے بس اور بے نظم غول کو ایک قوم بنانے، منوانے، سرفراز و سر بفلک کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ سنبھالی۔

زندہ قومیں اپنے اسلاف کو یاد رکھتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے طرز عمل کو اپنا کر اپنا رخ درست کرتی ہیں۔ ہم ہر سال 25 دسمبر قائد کی سال گرہ منا کر قائد کو خراج تحسین پیش کرکے ان کے افکار، وژن، طرز سیاست، اور احسان عظیم سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ قائد قانون دان تھے اور قانون کی بالادستی کا نظریہ رکھتے تھے۔ سیاست میں تشدد کے قائل نہیں تھے۔ خود بھی جمہوری دائرے میں رہ کر قیام پاکستان کی جد وجہد کی۔ قائد کی زندگی میں انقلابات کو اپنی رو میں بہانے والوں میں سرِ فہرست حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس تھی۔ تب ہی غیر بھی قائد کے دامن پر کبھی داغ نہ نکال سکے اور تا دم مرگ معترف رہے کہ ’’ یہ رتبہ بلند جس کو ملا، مل گیا۔ ‘‘

1930ء الہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے خطبہ میں فرمایا تھا :’’ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، یہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان پر مشتمل ایک آزاد ریاست تشکیل دی جائے۔” اسی نظریے کو دو قومی نظریہ کا نام دیا گیا، اور اسی نظریے کی بنا پر 23 مارچ 1940 میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی۔ بالآخر قائد اعظم کی پر خلوص قیادت، اور بے مثال جدوجہد سے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کر لیا۔ قائد اعظم نے اپنی فہم و فراست سے دنیا کی تاریخ میں ایک نئی سلطنت کا وجود حاصل کرکے، ماضی و حال کے لیڈروں کو گنگ کر دیا۔ ایک ایسی ریاست کہ جس کا دنیا کے نقشے پر وجود ہی نہیں تھا۔

اخلاص جو قائد کی شخصیت کا خاصہ تھا، آج کا پاکستان اس سے محروم ہے۔ قائد کے احسانات اور اثاثہ جات کو ہم نے سنبھالا ہی نہیں۔ قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، اس میں بد دیانتی، رشوت خوری، ہوس زر، مفاد پرستی کے سائے بھی نہیں تھے، لیکن آج کے پاکستان میں یہ عفریت گھر گھر ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ ان تمام خرابیوں سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ہم قائد کے اس فرمان کہ ’’ جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا، اسی دن پاکستان بن گیا تھا” کو بھول گئے ہیں۔ ہم حصولِ پاکستان کے لیے متعدد لیڈروں، بے شمار گمنام مجاہدوں کی قربانی کو فراموش کرچکے ہیں اور کیا تاریخ کا کوئی طالب علم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا تاریخی جملہ بھول سکتا ہے ’’ میری آدھی عمر ریل میں گزری، آدھی جیل میں۔‘‘ انتقالِ اقتدار کی تقریب میں قائد نے خوبصورت جملہ فرمایا تھا ’’اقلیتوں سے حسن سلوک میں پاکستان کا محور جناب نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہوگی، جو زبانی نہیں عملاََ بھی یہود و نصاریٰ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد بھی حسن سلوک کیا کرتے تھے۔ ‘‘

اس قوم کے پاس پر امن اسلامی تعلیمات ہیں اور قائد اعظم کی پر امن آئیڈیالوجی بھی۔ ایسے میں اس قوم کو دنیا کی کوئی سازشی طاقت نہیں مٹا سکتی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */