کرسمس اور شرک کے فتوے - عمران عمر

ایک صاحب جن کا نام مائیکل ہے۔ ان کی سالگرہ کے دن کے موقع پر ان ایک دوست انہیں کچھ تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ وہ تحفے کے سلسلے میں ایک اور مشترکہ دوست سے مشورہ کرتے ہیں تو وہ دوست تحفہ دینے سے منع کرتا ہے۔ پرزور اصرار پر وجہ یہ بتائی کہ لوگ کہتے ہیں کہ مائیکل ولد الحرام ہے۔ اگر ہم اسے اس کی پیدائش کے موقع پر تحفہ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اسے ولد الزنا قرار دے رہے ہیں اور لوگوں کے موقف کو صحیح قرار دے رہے ہیں۔ تحفہ دینے والے دوست نے لاکھ سمجھایا کہ اسے تحفہ دینے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اسے حرامی قرار دے رہے ہیں لیکن مشورہ دینے والے صاحب اپنے موقف سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک دوست کو سالگرہ کا تحفہ دینے کا اس کی پیدائش کے حالات سے کچھ تعلق ہے؟

آئیے "کرسمس مبارکباد" کے مسئلے کو ایک اور انداز سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کہا یہ جاتا ہے کہ چونکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الله کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور الله کے بیٹے کی پیدائش کو مناتے ہیں۔ اب اگر ہم انہیں مبارک دیں گے تو شرک لازم آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم بھی اسے الله کا بیٹا قرار دے رہے ہیں۔ ایک اور بات جو بار بار شدومد سے سامنے آرہی ہے کہ کرسمس کا مطلب ہے کہ "خدا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا"۔ آئیے ان فتووں کا جائزہ لیتے ہیں۔

کیا "ہیپی کرسمس" کہنا شرکیہ کلمہ ہے؟ آپ اوپر دی گئی مائیکل کی مثال کو دوبارہ پڑھیں، اگر مائیکل کی پدائیش کے موقع پر اسے تحفہ دینے کا ہرگز مطلب اسے ولد الزنا قرار دینا نہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر مبارک دینے کا مطلب اسے الله کا بیٹا قرار دینا کیسے ہو سکتا ہے؟

آئیے اب ایک نظر کرسمس کے مطلب اور اس تہوار کی تاریخ پر ڈالتے ہیں:

1- کرسمس کا تہوار ایک اور Saturnalia نام سے حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے سے منایا جا رہا تھا۔ جب روم کے بادشاہ کانسٹنٹائن نے عیسائیت قبول کی تو اس نے قدیم دور سے جاری Saturnalia کے تہوار کے دن کو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش کا دن قرار دیا۔ بعد میں انگریزوں نے اس کا نام کرسمس رکھ دیا۔

2- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ آج تک صحیح طور پر متعین نہیں ہوسکی۔ بائبل کے اشاروں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اپریل سے ستمبر تک کی تاریخوں کے درمیان کہیں ہوئی ہے۔

3- کسی بھی ڈکشنری میں کرسمس کا مطلب الله کے بیٹے کی پیدائش نہیں۔

4- Wikipedia پر کرسمس کی تعریف:

Christmas is an annual festival commemorating the birth of Jesus Christ, observed most commonly on December 25 as a religious and cultural celebration among billions of people around the world.

5- کرسمس دو الفاظ سے مل کر بنا ہے:

* Christ مطلب عیسیٰ

* Mass کا مطلب ہے "The celebration of the Christian Eucharist"

* Eucharist کا مطلب ہے

"The Christian service, ceremony, or sacrament commemorating the Last Supper, in which bread and wine are consecrated and consumed"

The Last Supper کی تقریب میں عیسیٰ کی موت اور تکلیف کو یاد کیا جاتا ہے۔

6- عیسائی کرسمس کو الله کے بیٹے کی پیدائش کے طور پر نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی آمد کے طور پر مناتے ہیں۔ آجکل عیسائیوں کی اکثریت ملحد ہوچکی ہے اور خدا کو بھی نہیں مانتی۔ اس لیے وہ اسے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش یا مریم کے بیٹے کی پیدائش کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک تہوار کے طور پر مناتی ہے۔

7- ایک اہم بات یہ ہے کہ عیسایت میں کچھ فرقے ایسے بھی ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے لیکن وہ بھی کرسمس مناتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے مورمن عیسائیوں کا نام سنا ہوگا۔ وہ کرسمس مناتے ہیں لیکن عیسیٰ کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔

8- ہمارے ایک دوست بغیر کسی دلیل کے مصر تھے کہ "ہیپی کرسمس" کہنا شرکیہ کلمہ ہے۔ ہم نے باتوں باتوں میں پوچھا کہ آپ کس ماہ میں پیدا ہوئے؟ کہا کہ اپریل میں۔ ہم نے دوبارہ پوچھا کہ دن کیا تھا؟ کہنے لگے کہ فرائیڈے کو۔ ہم نے کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو آپ نے ابھی ابھی دو شرک کیے ہیں۔ حیران ہوکر کہنے لگے کہ وہ کیسے؟ بتایا کہ اپریل مہینہ کا نام ایک گریک خدا کے نام پر رکھا گیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ گریک خدا کے مہینے میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح فرائی ڈے کا دن جرمن خدا کے نام پر رکھا گیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ جرمن خدا کے دن میں پیدا ہوئے ہیں۔

مندرجہ بالا بحث کا مقصد یہ بتانا تھا کہ "ہیپی کرسمس" کہنے سے شرک لازم نہیں آتا اور اگر کوئی شخص اپنے کولیگ یا ہمسائے کو "ہیپی کرسمس" کہتا ہے تو اس پر مشرک ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا۔

یہ سب لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئ کہ کچھ عرصے سے مسلمانوں میں اور خاص طور پر سلفی طرز فکر میں ایک خوامخواہ کی شدت پسندی سامنے آرہی ہے اور بات بات پر کفر شرک اور منافقت کے فتوے سامنے آرہے ہیں۔ یہ ایک بہت خطرناک رجحان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات کو ان کی حقیقت تک محدود رکھنا چاہیے اور رد عمل کی کیفیت میں غرق ہوکر عوام کو مزید مشکلات سے سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کہیں آسانی یا اجازت موجود ہے تو احتیاط کے نام پر آسانی یا اجازت کو ختم نہیں کر دینا چاہیے چہ جائیکہ اسلام سے انحراف کے فتوے لگا دیے جائیں۔

چند دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست کے گھر بیٹھے تھے کہ ان کا چھوٹا سا بیٹا ایک چاکلیٹ لیے ہوئے آیا۔ ہمارے دوست نے بچے کو سمجھانے کی غرض سے کہا کہ بیٹا! آپ نے گھر میں موجود چیزیں مما یا بابا کی اجازت سے لینی ہوتی ہیں۔ چپکے چپکے بغیر پوچھے لینا چوری ہوتی ہے۔ ہم نے دوست کو بتایا کہ چوری کا یہ کانسپٹ بچے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ بھلے آپ جتنا بھی سمجھائیں کہ یہ چوری ہے لیکن بچہ تو بچہ ہے، جب اس کا دل کرے گا وہ چیز لے لے گا۔ اس سے ہوگا یہ کہ وہ آہستہ آہستہ چوری کو برا سمجھنا چھوڑ دے گا۔ پھر بڑے ہوکر بھی اس کے لیے چوری کرنا معمول ہی کی بات ہوگی۔

اسی طرح مغرب میں پلنے والا ایک مسلم بچہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناجائز/ حرام اور شرک کے فتوے سنے گا تو وہ جائز، ناجائز اور حلال حرام کی اہمیت کھو بیٹھے گا۔ پھر اس کے لیے ان فتووں کی مستقل طور پر کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ اگر آپ اسے بتائیں گے کہ "ہیپی کرسمس" کہنا شرک/حرام ہے (جو کہ نہیں ہے) اور وہ معاشرے کے پریشر کے زیر اثر یہ الفاظ اس احساس کے ساتھ ادا کرتا ہے کہ حرام ہے لیکن کیا کروں۔ یہ احساس جو آپ کی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا، اب اس بچے سے اور بھی بہت سی غلطیاں کرواۓ گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جہاں رخصت موجود ہو وہاں ان ٹرمز میں بات نہیں کرنی چاہیے۔

کیا کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی جاسکتی ہے؟ یہ بالکل ایک علیحدہ موضوع ہے اور اس پر بات ہونی چاہیے۔

ٹیگز