کامیابی کی سورت - امام کعبہ

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

فضیلۃ الشیخ صالح بن محمد آل طالب ﷾ نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا عنوان تھا: ’’سورہ مؤمنون کی چند آیات‘‘، جس میں آپ نے کامیابی کے ان راستوں کا ذکر کیا جو سورہ مؤمنون میں آئے ہیں۔ اس عظیم سورت کی بعض آیات پر بات کی جن پر تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کے طریقوں پر زور دیا۔ چند عبرتناک آیات کا ذکر کیا اور چند نصیحت پر مشتمل آیات اور پھر چند واقعات پر مشتمل آیات پر بات کی۔

پہلا خطبہ

یقینًا! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور بے انتہا سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں!
اللہ تعالیٰ نے اگلوں اور پچھلوں کو پرہیز گاری ہی کی نصیحت فرمائی ہے۔ ’’پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو‘‘ [النساء: 131]۔
بے وقوف وہ ہے کہ جو خواہشات نفس کی پیروی بھی کرتا رہے اور اللہ سے امیدیں بھی لگائے رکھے، جبکہ سمجھدار وہ ہے جو نفس كو قابو کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کرے۔
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا ہے اور آخرت ہمیشہ رہنی کی جگہ ہے۔ ’’جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا‘‘ [غافر: 40]۔
اے مسلمانوں:
اعمال اور اعمال کے نتائج میں بڑا گھرا ربط ہے۔ بھلائی کا انجام بڑا ہی اچھا ہوتا ہے چاہے اس کا حاضر کتنا ہی سنگین ہو اور برائی کا انجام بڑا ہی برا ہوتا ہے چاہے اس کا حاضر کتنا ہی پر فریب ہو۔ لیکن لوگ عام طور پر اپنے حاضر ہی میں مصروف رہتے ہیں اور تمام تر توانائیاں اسی میں صرف دیتے ہیں۔ یوں وہ حق کو نہیں پہچان پاتے۔ غافل ہی اس برائی کے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔
کتاب اللہ میں ایک سورت ہے جس کا نام ’’کامیابی کی سورت‘‘ ہے۔ مصحف میں اس کا نام سورہ المؤمنون لکھا ہوا ہے۔ یہ سورت دلوں کو آخرت سے جوڑتی ہے اور اہل ایمان کو بہترین انجام کی خوش خبری دیتی ہے۔ کافروں کے لیے تو بڑی تباہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا کامیابی سے کی ہے اور کامیابی پر اسے ختم بھی فرمایا ہے۔ شروع پر اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر کیا، فرمایا: ’’یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے‘‘ [المؤمنون:1]، اور آخر میں یہ بتایا کہ کافر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ فرمایا: ’’کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے‘‘ [المؤمنون:117]، پہلی اور آخری آیت کے درمیان آنے والی آیات میں کامیاب لوگوں کی صفات کا، چند انبیا اور ان کی قوموں کا ذکر کیا اور بتایا کہ کامیاب وہی ہوا جس نے ایمان قبول کیا۔
اسی طرح اس سورت کی آیات میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں اور اس کے آخر میں کامیاب ہونے والوں اور جھٹلانے والوں، دونوں کا انجام بتایا گیا ہے۔ ’’پھر جوں ہی صور پھونک دیا گیا، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [المؤمنون: -101 103]۔
اے مسلمانوں:
’’یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ لغویات سے دور رہتے ہیں۔ زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [المؤمنون: -1 11]۔
اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی صفات بیان فرمائیں، جن میں سب سے پہلے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا ذکر کیا۔ یہ ایسی جوڑی ہے کہ جو کبھی نہیں کھل سکتی۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے‘‘ [البینۃ: 5]۔
حدیث میں آتا ہے: ’’اسلام کو پانچ ستونوں پر قائم کیا گیا ہے: اس گواہی پر کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت پر، زکوٰۃ کی ادائیگی پر...‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی صفات میں یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ اپنی زبانوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک جوڑی ہے۔
امام بخاری ﷫ سیدنا سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو مجھے اس چیز کی ضمانت دے دے جو اس کے منہ میں ہے اور اس چیز کی کہ جو اس کی ٹانگوں میں ہے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘
آیات میں فضول باتوں سے گریز کرنے کا ذکر آیا ہے جس سے مرا ہر بے فائدہ کلام ہے کہ جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ ذرا غور کیجیے کہ لوگوں کی باتوں میں فضول باتوں کی مقدار کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں کہ جب جدید سوشل میڈیا میں بغیر کسی قاعدے یا ضابطے کے، جو جی میں آئے وہ بیان کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس سے فضول باتیں عام ہو گئیں، انہیں پھیلانا اور انہیں عام کرنا آسان ہو گیا۔ اس طرح وہ گناہ کہ جو ایک دائرے کے اندر اندر رہتے تھے، اب سب لوگوں کےسامنے آ گئے ہیں اور بہت پھیل گئے ہیں۔ غلطیاں چار دیواری کے اندر ہی رہ جاتی تھیں لیکن غلطیاں اس جگہ ہوتی ہیں کہ جہاں کی چھت اتنی بلند ہے جتنا آسمان! اور اس سے گناہ کرنے والوں کا گناہ بڑھ گیا ہے اور سزائیں سنگین ہو جاتی ہے۔
احادیث میں اُس جھوٹ پر خاص وعید آئی ہے کہ جو لوگوں میں پھیل جاتا ہے۔
امام بخاری ﷫ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کہ جس کے منہ پر کلہاڑی مار کر اس منہ سے کے پیچھے تک پھاڑا جا رہا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جو ایسا جھوٹ بولتا ہے جو لوگوں میں تیزی سے پھیل جاتا ہے۔
جو شخص اس دنیا میں فضول کاموں سے گریز کرتا ہے، وہ جنت کے وارثوں میں شامل ہو جاتا ہے، وہ جنت کہ جس کی نعمتوں کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا: ’’وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے‘‘ [مریم: 62]۔’’کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے‘‘ [الغاشیۃ: 11]۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی صفات میں یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ امانت کی پاسداری کرتے ہیں اور معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ منافق نہیں ہوتے کہ کسی سے معاہدہ کر کے غداری کرنے لگیں، لڑائی کریں تو کالیاں بکنے لگیں اور منہ کھولیں تو جھوٹ بکنے لگیں، وعدہ کریں تو توڑ ڈالیں اور امانت ملے تو خیانت کریں۔
کامیاب لوگوں کی جو صفات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں ان میں عقیدہ، اخلاق، عبادات اور معاملات، سب چیزیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان صفات کے حامل لوگوں ہی سے کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے: ’’یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [المؤمنون: 10 ، 11]۔
ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو، یہ جنت کی بلند ترین اور درمیانی جگہ ہے۔ اسی سے جنت کی نہریں بہتی ہیں اور اسی پر رحمٰن کا عرش ہے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اس سورت کے بیچ میں اللہ تعالیٰ ان ہی صفات کا دوبارہ تذکرہ کیا ہے، اور ان کی ایک اور جزا بتائی ہے۔ فرمایا: ’’جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں۔ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں‘‘ [المؤمنون: -57 61]۔
یہ بات تو واضح ہے کہ یہاں بھی ان ہی لوگوں کی بات ہو رہی ہے جن کا ذکر سورت کے شروع میں ہوا تھا، جن سے کامیابی، فردوس اور ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
امام ترمذی ﷫ نے سیدہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں‘‘ [المؤمنون:60] کہ اے اللہ کے رسول! یہ اس آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو شراب نوشی اور چوری کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں! اے بنت صدیق! یہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو نمازی، روزہ دار اور صدقے دینے والے ہیں، لیکن وہ ڈرتے کہ ان کی یہ عبادتیں قبول نہ ہوں‘‘’’بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں‘‘ [المؤمنون:61]‘‘.
اے مسلمانوں:
اللہ تعالیٰ کامیابی کی سورت، سورۃ المؤمنون میں سب سے پہلے نوح کا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے صرف لوگوں کی پیدائش اور تخلیق کا ذکر فرمایا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوح سے پہلے لوگ توحید ہی پر قائم تھے اور سب سے پہلا شرک نوح کی قوم میں شروع ہوا۔
ابن جریر ﷫ اور دیگر مصنفین نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ’’آدم اور نوح کے درمیان دس صدیاں تھیں۔ ان صدیوں میں لوگ حق کی شریعت پر ہی قائم تھے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کے واقعے سے آغاز اس لیے کیا کیونکہ اس میں ان تمام تمام لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو ان کے بعد آئے تھے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں‘‘ [المؤمنون:30]۔
امام ابن مالک ﷫ بیان کرتے ہیں: ’’سنت رسول، نوح کی کشتی کی طرح ہے۔ جو اس میں سوار ہو جاتا ہے، وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو اس میں نہیں بیٹھتا، وہ غرق ہو جاتا ہے۔‘‘
اللہ کے بندو:
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نوح کے واقعے کے بعد ایک اور قوم کا ذکر فرماتا ہے، جن کا نام نہیں لیا جاتا۔ اس کی تشریح میں مفسرین مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا وہ ہود کی قوم عاد تھے، یا صالح کی قوم ثمود تھے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی۔ پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟‘‘ [المؤمنون: 31 ، 32]۔
یوں لگتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اس لیے نہیں لیا کہ نام کے بغیر ہی عبرت تو حاصل کی جا سکتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انبیاء کی پیروی کرنے والے کامیاب لوگوں کا اور انبیاء کو جھٹلانے والوں کا انجام بتایا جائے۔
’’رسول نے کہا: پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما۔ جواب میں ارشاد ہوا قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے۔ آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آ لیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دُور ہو ظالم قوم! پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی۔ پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اُسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!‘‘ [المؤمنون: -39 44]۔
اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک فرمایا، تو وہ بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت بن گئے اور ان کے واقعات لوگوں میں عام ہو گئے۔’’چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!‘‘
’’پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا‘‘ [المؤمنون:45]، تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی امت پر ایسا عام عذاب نازل نہیں کیا جس سے سارے لوگ ہی ہلاک ہو جائیں یا پوری قوم ہی ختم ہو جائے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی‘‘ [القصص: 43].
اسی لیے آج ہمیں بنی اسرائیل کی نسل بھی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ کو ایسی نشانیوں سے نوازا تھا کہ جن کا تذکرہ آج بھی موجود ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ’’موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ [المؤمنون: 49 ، 50]۔
اے اللہ! ہمیں اپنے کامیاب بندے بنا، ان اولیا میں شامل فرما کہ جنہیں کوئی خوف یا خطرہ نہیں اور جن کے لیے کوئی غم یا پریشانی نہیں۔
اللہ ہمارے لیے قرآن کریم کو برکت کا باعث بنائے۔ سیدھے راستے پر چلائے۔ میں اسی اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔

دوسرا خطبہ

تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ وہی رحمٰن ورحیم ہے اور وہی یوم جزا کا مالک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی باشاہ، حق اور ہر شے واضح کرنے والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے امانت دار بندے اور سچے رسول ہیں، اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔
اے مسلمانوں:
سورہ مؤمنون کی آیات میں فلاح کا راستہ دکھایا گیا ہے اور اس میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازیاں نظر آتی ہیں۔
اس سورت میں ذکر ہونے والے اسباب فلاح میں سے ایک حلال کمائی بھی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:’’اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں‘‘ [المؤمنون:51]۔
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا ہے۔ فرمایا: ’’اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں‘‘اسی طرح فرمایا: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں اُنہیں بے تکلف کھاؤ‘‘ [البقرة: 172]‘‘۔پھر آپ ﷺ نے اس شخص کا ذکر کیا ’’جو طویل سفر پر روانہ ہے، بال گرد آلودہ اور کپڑے گدلے ہو چکے ہیں۔ وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا ہے کہ اے رب، اے رب! جبکہ اس کا کھانا بھی حرام میں سے ہے، پینا بھی حرام میں سے ہے، کپڑے بھی حرام کے ہیں، غذا بھی حرام کی ہے۔ تو بھلا ایسے شخص کی دعا کسے قبول ہو؟!‘‘ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
کامیابی کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کی آیات پر غور وفکر کیا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔ اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔’’تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟‘‘ [المؤمنون:68]۔
تو اللہ کی کتاب ہی نور، ہدایت اور رحمت ہے۔’’اے نبیؐ، کہو کہ: یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘ [يونس: 58]۔’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے‘‘ [الاسراء:9]۔
کامیابی کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہچانا جائے، ان پر ایمان لایا جائے، ان کی سنت پر قائم رہا جائے اور سیرت کے واقعات سے سبق حاصل کیا جائے۔ ’’یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟ یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے‘‘ [المؤمنون: 69 ، 70]۔
یہی دو چیزیں وہ اساس ہیں کہ جن سے پھرنا درست نہیں ہے۔ جن کے بغیر کوئی ہدایت یا فلاح یا کامیابی نہیں۔ کامیابی اور نجات انہیں کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔ نبی کریم ﷺ اس حدیث میں ان دنوں چیزوں کا ذکر فرماتے ہیں: فرمایا: ’’میں تمہارے درمیان وہ دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جن کے ساتھ تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔‘‘
صحیح مسلم میں سیدنا جابر کی روایت آتی کہ آپ ﷺ نے حجت الوداع کے موقع پر فرمایا: ’’میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ جسے اگر تم تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اللہ کی کتاب‘‘
اس سورت میں ذکر ہونے والے کامیابی کے اسباب میں ایک دعا بھی ہے۔’’تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے‘‘ [المؤمنون:109]۔
میں خشوع والے دل سے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے والی زبان سے اور آنسو بھری آنکھوں سے، آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو کامیابی کے راستے پر چلائے اور قیامت تک دین اسلام پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔
سیدنا حذیفہ ﷺ فرماتے ہں: ’’لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا جب صرف وہ محفوظ رہے گا جو ویسی دعا کرے گا جیسی دعا ڈوبتا شخص کرتا ہے‘‘ اسے امام ابن ابی شیبہ ﷫ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نبی ﷺ کی دعاؤں میں ایک یہ بھی ہے کہ ’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔‘‘
دل کی استقامت کی ضرورت فتنوں کے اوقات میں اور حالات کی تبدیلی کے وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اس سورت میں ذکر ہونے والے کامیابی کے اسباب میں ایک صبر بھی ہے۔’’آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں‘‘ [المؤمنون:111]۔
کسی شخص کو توفیق الٰہی اور صبر کے بغیر دنیا وآخرت میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ صبر اور پختہ ایمان ہی سے دین میں بلند مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
اسی لیے عرب کی کہاوتوں میں یہ کہاوت بھی پائی جاتی ہیں کہ: ’’جو صبر کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے‘‘
صبر پر مدد کرنے والی چیزوں ایک چیز یہ بھی ہے کہ عاقبت کو مد نظر رکھا جائے اور یہ یقین کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے میں صبر کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب پر صبر کرنے سے آسان ہے۔ ’’اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا‘‘ [هود: 115]۔’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پا مردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے‘‘ [آل عمران: 200]۔
اے اللہ! ہمیں اپنی کتاب پر غور وفکر کرنے کی توفیق عطا فرما! اپنے کلام کو سمجھنے، اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوتا ہے۔

بشکریہ: پیغام ٹی وی

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.