اللہ کا صفاتی نام السلام اور اس کے تقاضے - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے23-محرم الحرام-1439  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں"اللہ کا صفاتی نام السلام اور اس کے تقاضے" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے  کہا کہ السلام اللہ تعالی کا نام ہے اور اس میں اللہ تعالی  کی ہمہ قسم کے نقائص ، شرکاء، ہمسر  سے سلامتی  کا معنی ہے، اللہ تعالی سے سلامتی مانگنا اسم مبارک کا تقاضا ہے، اللہ تعالی نے انبیائے کرام سمیت اپنے بندوں پر سلامتی نال فرمائی اور ہم سب نماز میں سب کیلیے سلامتی طلب بھی کرتے ہیں، اسی نام  کی نسبت سے ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں بلکہ سیدہ خدیجہ اور عائشہ کو آسمانوں سے سلام پیش ہوا، سلام عام کرنا شریعت میں خصوصی درجہ  اور ثواب رکھتا ہے، اور حقیقت میں یہ دوسروں کیلیے عہد امان  اور باعث محبت ہے چنانچہ گھر، مجلس، راستے ، قبرستان ہر جگہ پر سلام کرنے کی تعلیم دی گئی؛ کیونکہ یہ ہر مسلمان کا حق ہے، پھر انہوں نے کہا کہ: دین اسلام میں دنیاوی اور اخروی ہمہ قسم کی سلامتی سب چیزوں کیلیے موجود ہے، اور یہ سلامتی ہر مسلمان میں ہونا بھی ضروری ہے، پھر مسلمان کو آخرت میں جنت بھی سلامتی والی ملے گی، لوگوں کا    جنت میں استقبال بھی سلام سے ہوگا، بلکہ اللہ تعالی بھی جنتیوں کو سلام کرے گا، آخر میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے اسما و صفات کا  علم جس قدر زیادہ ہوگا اللہ تعالی سے تعلق بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا، پھر سب سے آخر میں انہوں نے جامع دعا فرمائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقّہ ڈور اور خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان جانو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کے نام بہترین ہیں  اور اسی کی صفات اعلی ترین ہیں، کائنات اور شرعی احکام میں موجود نشانیاں اسی بات کی گواہ ہیں، اللہ تعالی کے تمام اسما و صفات مخلوق سے بندگی اور عبادت کا تقاضا بھی بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی کے خالق  ہونے اور پیدا کرنے کے  متقاضی ہیں، نیز ہر نام اور صفت کی مخصوص بندگی  بھی ہے جس پر ایمان رکھنا اور جاننا  لازمی جزو ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان کے ذریعے پکارو اور ان لوگوں کو مسترد کر دو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں، انہیں ان کے عملوں کا عنقریب بدلا دیا جائے گا۔[الأعراف: 180]

اللہ تعالی کے انہی ناموں میں "اَلسَّلَامُ" بھی شامل ہے، یہ ایک ایسا نام ہے جس میں تمام صفات بھی سمو جاتی ہیں، یہ نام اللہ تعالی کے تقدس اور پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے، یہ اللہ تعالی کی بے عیبی ظاہر کرتا ہے،  نیز ہر ایسی بات سے اللہ تعالی کی بلندی عیاں کرتا ہے جو اللہ تعالی کے جلال، کمال اور عظمت کے منافی ہے۔

"اَلسَّلَامُ" یہ بھی بتلاتا ہے کہ اللہ تعالی ہمہ قسم کی معذوری سے سلامت ہے، کسی بھی کمی سے منزّہ ہے، لہذا وہ ہر عیب اور نقص سے سلامت ہے؛ کیونکہ اس کی ذات، اس کے نام ، اس کی صفات اور افعال سب کچھ کمال درجے کے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ}  وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہی بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے سلامت، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زور آور، بڑائی والا ہے، اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ [الحشر: 23]

 ذات باری تعالی اس نام کی کسی بھی دوسرے نام سے زیادہ حقدار ہے، بلکہ اسی نام میں وہ پاکیزگی اور سلامتی بھی موجود ہے  جو اللہ تعالی نے اپنے لیے بیان فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کی بتلائی ۔

لہذا ذات باری تعالی بیوی اور بچوں سے سلامت ہے، وہ کسی بھی قسم کے مماثل، ہم سر، ہم نام اور ہم پلہ سے سلامت ہے،  وہ ہمہ قسم کے شریک اور ساتھی سے سلامت ہے، اللہ سبحانہ و تعالی کی زندگی موت، اونگھ اور نیند سے  سلامت ہے، وہ اپنی مخلوقات کو قائم دائم رکھنے والا ہے، وہ تھکاوٹ، ناچاری اور اکتاہٹ سے بھی سلامت ہے، اس کا علم بھی جہالت  اور بھول چوک سے سلامت ہے، اس کا کلام بھی مبنی بر عدل اور سچ ہے، اس کا کلام جھوٹ اور ظلم سے سلامت ہے، اس کی تمام تر صفات  کسی بھی ایسی چیز سے سلامت ہیں جو کمال کے منافی ہو، یا صفات میں نقص کا شائبہ پیدا کریں۔

تو جس طرح ذات باری تعالی  اور اس کے اسما و صفات سلامت اور سلامتی والے ہیں تو ہمہ قسم کی امن و سلامتی بھی اسی کی جانب سے ہوتی ہے، اسی سے سلامتی مانگی جاتی ہے، اگر کوئی شخص کسی اور سے سلامتی کا طلب گار ہو  تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔

نبی ﷺ اس نام مبارک کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے  تھے جیسے کہ آپ ﷺ  فرض نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے: ( اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ [یا اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی  آتی ہے، اے ذو الجلال والاکرام ! تو ہی بابرکت  ذات ہے]) مسلم

[اس نام مبارک کے تقاضوں کے مطابق]اللہ تعالی نے ہی اپنے اولیا کو عذاب سے سلامتی عطا کی، بلکہ تمام تر مخلوقات کو ظلم سے سلامتی میں رکھا ، اور اللہ تعالی ہمہ قسم کے ظلم سے بری ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ} بیشک اللہ تعالی ذرّے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔[النساء: 40]

پھر چونکہ  اللہ تعالی خود سلامتی والا ہے اور اسی کی جانب سے سلامتی  ملتی ہے تو یہ کہنا جائز نہیں کہ: "اللہ تعالی پر سلامتی ہو"؛ اس لیے کہ: (اللہ تعالی بذات خود سلامتی والا ہے) بخاری

اللہ تعالی نے اپنے انبیائے کرام اور رسولوں کو سلام بھیجا؛ کیونکہ رسولوں کی دعوت ہر قسم کے عیب اور نقص سے سلامت تھی، فرمانِ باری تعالی ہے: {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ} ان کی باتوں سے تیرا رب العزت پروردگار  پاک ہے [180] اور سلام ہو رسولوں پر [الصافات: 180، 181]

اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلیے بھی سلامتی لکھ دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى} آپ کہہ دیں: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اور اللہ کے چنیدہ لوگوں پر سلامتی ہو۔ [النمل: 59]

نیز اللہ تعالی نے فضل کرتے ہوئے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا جہانوں میں سلامتی  کیلیے خاص فرما لیا؛ جیسے کہ نوح علیہ السلام  کے بارے میں فرمایا: {سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ} نوح پر جہانوں میں  سلامتی ہے۔ [الصافات: 79] اسی طرح ابراہیم، موسی، ہارون اور اِلیاسین علیہم السلام  پر سلامتی نازل فرمائی۔

 بلکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی یحیی علیہ السلام کو  تین ایسی جگہوں میں سلامتی عطا فرمائی جہاں انسان سب سے زیادہ دہشت زدہ ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا} اس پر سلامتی ہو جس دن وہ پیدا ہوا، جس دن وہ فوت ہو گا اور جس دن اسے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔[مريم: 15]

اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو ہمارے نبی ﷺ پر سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اے ایمان والو تم اس [نبی ] پر  درود و سلام پڑھو۔[الأحزاب: 56]

اللہ تعالی اور جبریل علیہ السلام نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام بھیجا ؛کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ کی منفرد انداز میں خدمت کی اور آپ کی ڈھارس باندھی، چنانچہ : (ایک بار جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ہیں جو آپ کے پاس آ رہی ہیں، ان کے پاس برتن میں سالن، یا کھانے  پینے کی چیز ہے، جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو انہیں اللہ تعالی اور میری جانب سے سلام  پہنچائیں) متفق علیہ

ایسے ہی جبریل علیہ السلام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ان کے علم اور کمال دانشمندی کے باعث سلام کیا ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (عائش! یہ جبریل  تمہیں سلام کہہ رہے ہیں) متفق علیہ

ہر نمازی بھی اپنے تشہد میں نبی ﷺ سمیت تمام نیک لوگوں پر سلام بھیجتے ہوئے کہتا ہے: ( اَلسَّلَامَ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ  [اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمت اور برکتیں ہوں آپ پر اے نبی، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر])

جو شخص گھر میں داخل ہو تو شرعی طور پر وہ اپنے اہل خانہ کو سلام کرے؛ کیونکہ سلام  پاکیزہ اور بابرکت تحفہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً} جب تم گھروں میں  داخل ہوا کرو تو ایک دوسرے کو سلام کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ [النور: 61]

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی نے سلام کو بابرکت  قرار دیا؛ کیونکہ اس میں دعا  ہے اور یہ مسلمان سے محبت کا ذریعہ ہے، نیز اسے پاکیزہ بھی قرار دیا؛ کیونکہ سننے والے کو یہ جملہ اچھا لگتا ہے۔"

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے دین بھی وہی مقرر فرمایا ہے جس میں ہدایت اور سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین؛ اسلام  ہے[آل عمران: 19]

اسی دین کی اتباع میں دنیا و آخرت کی سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى} اور متبعین ہدایت پر سلامتی ہو ۔[طہ: 47] پھر ا س دین کے پیروکاروں کا آخری ٹھکانہ بھی سلامتی والا گھر ہے یعنی جنت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} اور اللہ تعالی سلامتی والے گھر کی جانب دعوت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے کہ صراط مستقیم  کی رہنمائی کرتا ہے۔[يونس: 25]

جو شخص اپنے لیے اور اہل خانہ سمیت معاشرے کیلیے امن و سلامتی کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ دین اسلام  اپنا لے؛ کیونکہ دین اسلام  کے نظریات اور تعلیمات دونوں ہی امن و خوش حالی کا باعث ہیں، محبت اور دلی اطمینان ہیں؛ اسی لیے جس معاشرے میں بھی اسلام کا نفاذ جس قدر زیادہ ہو گا اس معاشرے میں اسی قدر امن و سلامتی پھیلے گی: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ } جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم [یعنی شرک] کی آمیزش نہیں کی، تو انہی لوگوں کیلیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82]

بلکہ دین اسلام کی سلامتی میں تمام تر مخلوقات پوری شان اور آن کے ساتھ شامل ہیں، اس دین میں ان کے اہل خانہ، مال و جان اور عزت آبرو سب کچھ محفوظ ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ  محمد رسول اللہ کی گواہی نہ دے دیں، نماز قائم کریں، زکاۃ ادا کریں۔ اگر یہ کر لیں تو  وہ مجھ سے اپنے مال و جان کو محفوظ بنا لیں گے، سوائے اسلام  کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا) بخاری

اسلام امان والا دین ہے حتی کہ ان لوگوں کی جان کو بھی اسلام میں تحفظ حاصل ہے جن سے امن معاہدہ ہو، یا وہ ذمی یا امان کے خواہاں ہوں، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص کسی ایسے شخص کو قتل کرے جس کے ساتھ امن معاہدہ ہے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا)بخاری

جس کی جان شرعی طور پر اسلام میں محفوظ ہے اسے اشارے سے ڈرانے پر اللہ تعالی کی طرف سے سخت سرزنش ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص اپنے بھائی کی جانب چاقو سے اشارہ بھی کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں حتی کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آ جائے، چاہے وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہوں) مسلم

اسلام نے جانوروں اور چوپاؤں کے تحفظ اور سلامتی کی ضمانت بھی دی  چنانچہ (ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی) متفق علیہ ۔ اور دوسری طرف : (ایک زانی عورت نے کتے کو پانی پلایا تو اسے بخش دیا گیا) متفق علیہ

مسلمان کو مخلوق میں قولی اور فعلی ہر اعتبار سے سلامتی کا پیغام پھیلانے کا حکم ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان سلامت رہیں) بخاری

سلامتی کیلیے سب سے بڑا عمل اللہ تعالی کی جانب لوگوں کو دعوت دینا ہے؛ کہ لوگوں کو ان کے پروردگار، ان کے نبی اور ان کے دین سے متعارف کروائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ} اور اللہ کی جانب بلانے والے نیکو کار سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو سکتی ہے ؟ جو یہ بھی کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں [فصلت: 33]

اللہ تعالی نے ایسے شخص کی مدح سرائی فرمائی ہے جو جاہلوں کے متھے نہ لگے اور برائی کا بدلہ اچھائی سے دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا} اور جب ان سے جاہل مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلامتی والی بات کہتے ہیں۔[الفرقان: 63]

سلام کرنا بھی اسلام کا شعار ہے، سلام کہتے ہوئے مسلمان اللہ تعالی کا نام ذکر کرتا ہے اور اللہ تعالی سے ہی سلامتی طلب کرتا ہے، ساتھ میں مخاطب کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرتا ہے  اسے کسی قسم کی تکلیف اور اذیت نہیں پہنچائے گا۔

سلام حقیقت میں باہمی الفت اور محبت پیدا کرنے کی کنجی ہے، سلام عام ہونے پر مسلمانوں میں باہمی الفت بڑھے گی، مسلمانوں کا امتیازی شعار ظاہر ہو گا، آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے  گا ، بلکہ سلام کرنے سے ایک دوسرے کی عزت اور تعلق میں بھی مضبوطی آئے گی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (یہودی تم سے اتنا حسد کسی چیز پہ نہیں کرتے جتنا تم سے سلام اور آمین کہنے پر کرتے ہیں) ابن ماجہ

اللہ تعالی نے آدم اور اولادِ آدم کیلیے سلام پسند فرمایا، چنانچہ جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تو اس کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: (جس وقت اللہ تعالی نے آدم کو پیدا فرمایا  تو حکم دیا: جاؤ اور فرشتوں کی بیٹھی ہوئی اس جماعت پر سلام کہو، اور ان کا جواب بھی سنو، یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا، تو آدم نے انہیں کہا: "السلام علیکم" تو فرشتوں نے جوابا کہا: "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ" یعنی فرشتوں نے "ورحمۃ اللہ" کا اضافہ کر دیا) بخاری

اسلام نے سلام میں پہل کرنے کی ترغیب بھی دی : (بیشک اللہ تعالی کے ہاں قریب ترین وہی ہے  جو اسلام میں پہل کرے) ابو داود

لوگوں کو سلام عام کرنے کا حکم بھی دیا گیا: چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں کا حکم دیا، اور ان میں سلام عام کرنے کا حکم بھی تھا) بخاری

سلام؛ اسلام کی نشر و اشاعت کا ذریعہ بھی ہے، جیسے کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: " جس وقت نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو  میں بھی چند لوگوں کے ساتھ آپ کے دیدار کیلیے گیا، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو میں جان گیا یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہو سکتا، اس وقت سب سے پہلے آپ نے فرمایا تھا: (لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم نماز پڑھو تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے)" ترمذی،  نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: " سلام عام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو سلام کریں اور کثرت سے سلام کریں"

اللہ تعالی نے سلام کا جواب انہی الفاظ میں دینے یا ان سے بھی اچھے الفاظ میں دینے کا حکم دیا  اور فرمایا: {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} جب کوئی شخص تمہیں  سلام کہے تو تم اس سے بہتر اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم وہی کلمہ کہہ دو [النساء: 86] ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: " اچھے الفاظ میں جواب دینا مستحب ہے، جبکہ انہی الفاظ میں جواب دینا فرض ہے"

سلام کرنا بہترین اسلامی عمل  اور اسلام کا افضل درجہ ہے، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا: " کون سا عمل اسلام میں بہتر ہے"   تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تم کھانا کھلاؤ، اور تم کسی کو جانتے ہو یا نہیں  اسے سلام کرو) متفق علیہ ،  ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: " یہ سلام عام کرنے کا سب سے افضل ترین طریقہ ہے" اور اسی طرح نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: " سلام عام کرنا اور کھانا کھلانا بہت ہی اہم ہے اور اس کی ضرورت  بھی بہت زیادہ ہے ؛ کیونکہ ان دونوں امور کے متعلق بہت زیادہ سستی اور کوتاہی پائی جاتی ہے"

سلام کرنے والے کیلیے دس تا تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، " ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا" پھر آپ نے فرمایا:   (دس نیکیاں) ، " پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا" اس پر آپ نے فرمایا:   (بیس نیکیاں) ، " پھر تیسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، تو آپ نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ آدمی بھی بیٹھ گیا" اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:   (تیس نیکیاں) ابو داود

سلام کرنا اور پھر سلام کا جواب دینا   مسلمانوں کے باہمی حقوق میں سے ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، انہی میں آپ نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے کو ملے تو سلام کہے) مسلم۔ جبکہ بخاری کی روایت میں ہے کہ: (سلام کا جواب بھی دے)

سلام دو آپس میں جھگڑے ہوئے افراد کے درمیان صلح کا ذریعہ ہے ، نیز ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کسی بھی مسلمان کیلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے کہ جب وہ ملیں تو ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں، ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے  جو سلام میں پہل کرے) متفق علیہ

ایمان کی تکمیل اور حالات کی بہتری  باہمی محبت سے ہو گی[اور باہمی محبت سلام سے پیدا ہوتی ہے]، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور ایمان اس وقت تک نہیں لا سکتے جب تک تم باہمی محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں جب تو اسے کرنے لوگو تو آپس میں محبت بھی کرنے لگے گو؟ تم آپس میں سلام عام کرو) مسلم

صحابہ کرام سلام کرنے کے عمل کو ایمان میں شمار کرتے تھے، چنانچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ :" تین چیزیں جس شخص میں پیدا ہو جائیں تو اس کا ایمان مکمل ہے، اپنے آپ کے ساتھ انصاف کرے، سب کو سلام کرے، تنگ دستی کے باوجود [اللہ کی راہ میں]خرچ کرے"

سلام کرنے سے خیر و برکت حاصل ہوتی ہے: { تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً} یہ اللہ کی طرف سے برکت والا اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ [النور: 61]

اگر کوئی راستے میں بیٹھے تو سلام کا جواب دینا راستے کا حق ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (راستے میں بیٹھنے سے بچو) " تو صحابہ نے کہا: اس کے بغیر تو ہمارا گزارا نہیں، وہاں تو ہماری بیٹھک ہوتی ہے اور ہم اس میں بات چیت کرتے ہیں"   تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اگر تم نے بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق  لازمی ادا کرو)  تو انہوں نے پوچھا" راستے کا حق کیا ہے؟"   تو آپ ﷺ نے فرمایا: (نظریں جھکا کر رکھو، تکلیف دینے سے بچو، سلام کا جواب دو، نیکی کا حکم   کرو اور برائی سے روکو) متفق علیہ

سلام کے آداب میں یہ شامل ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کہے، سوار پیدل کو سلام کہے، پیادہ بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کہے، اسی طرح تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں، ضرورت کے وقت تکرار کے ساتھ بھی سلام کیا جا سکتا ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (نبی ﷺ جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے)   بخاری

بچوں کو سلام کرنا بھی نبی ﷺ کی سنت ہے، اس سے بچوں کے ساتھ شفقت، نرمی اور بچوں کی شرعی آداب پر تربیت ہوتی ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ : " ان کا گزر بچوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے انہیں سلام کیا " اور پھر کہنے لگے  (نبی ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے) متفق علیہ

جس طرح راہ چلتے ہوئے سلام کرنا شرعی عمل ہے بالکل اسی طرح مجلس اور بیٹھک  میں آتے جاتے بھی سلام کرنا شرعی عمل ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کہے، اور جب وہاں سے جانے لگے تو [تب بھی سلام کہے]؛ کیونکہ ابتدا میں سلام کہنا   آخر میں سلام کہنے سے زیادہ ضروری نہیں) ابو داود

سلام کہنے کا عمل مسلمانوں کی امتیازی خوبی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل مت کرو) مسلم، جبکہ ایک اور روایت میں ہے کہ: (جب تمہیں اہل کتاب سلام کریں تو تم انہیں جواب میں کہو: و علیکم) متفق علیہ

اس قدر بلند آواز میں سلام کہنا مستحب ہے  کہ مخاطب  سن لے، چنانچہ ابن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں: " جب تم سلام کرو تو سلام کی آواز [مخاطب کو]سناؤ؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی جانب سے بابرکت اور پاکیزہ  تحفہ ہے"   اسے بخاری نے ادب المفرد میں روایت کیا ہے۔

جب آپ ﷺ : (رات کے وقت [گھر]داخل ہوتے تو ایسے سلام کہتے کہ سویا ہوا شخص بیدار نہ ہو اور بیدار شخص سن لے) مسلم

خطبے کے دوران سلام کرنا اور اس کا جواب دینا منع ہے؛ کیونکہ خطبہ خاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے، نیز قضائے حاجت کے دوران بھی سلام کی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ یہ دعا اور ذکر کا وقت نہیں ۔

سلام اصل میں امان اور دعا ہے، اور یہ اسلام کی خوبی  اور کمال ہے کہ  سلام زندہ اور فوت شدہ سب کیلیے  یکساں مقرر فرمایا؛ کیونکہ فوت شدگان کو دعاؤں کی اشد ضرورت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ جب آپ قبرستان جاتے تو فرماتے: ( اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ [گھروں والے مومنو! تم پر سلامتی ہو]) مسلم

اللہ تعالی کی طرف سے روزِ قیامت مومنین کا شعار بھی سلام ہی ہو گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ} جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا [الأحزاب: 44]

مومنین کا جنت میں گھر بھی سلامتی والا ہوگا، وہاں مومنوں کو موت، غم، پریشانی یا کسی قسم کی بیماری بھی لاحق نہیں ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ} ان کیلیے ان کے پروردگار کے ہاں سلامتی والا گھر ہے۔[الأنعام: 127]

نیز انہیں یہ بھی کہا جائے گا کہ:  {اُدْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ} اس گھر میں سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ [الحجر: 46]

جب مومنوں کیلیے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے  تو جنت کے دربان مومنوں کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ} تم پر سلامتی ہو، خوش ہو جاؤ اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو جاؤ [الزمر: 73]

 پھر جب مومن جنت میں داخل ہو جائیں گے تو: {لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا (25) إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا} وہ وہاں کوئی بیہودہ بات یا گناہ کی بات نہیں سنیں گے  [25] صرف سلام ہی سلام کی بات ہوگی [الواقعہ: 25، 26] ایک اور مقام پر فرمایا: {خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ} وہ اس میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے، وہاں ان کا تحفہ سلام ہو گا۔[إبراهيم: 23] ایسے ہی فرمایا: {وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے۔ [23] اور کہیں گے: تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم صبر کرتے رہے۔ سو یہ آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے [الرعد: 23، 24]

پھر جب اہل جنت اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں مگن ہوں گے تو کامل ترین نعمت  اپنے پروردگار کے دیدار اور اللہ تعالی کی جانب سے سلام کی صورت میں حاصل کریں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام  کہا جائے گا [يس: 58]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

دین اسلام میں زندگی کے تمام گوشوں سے متعلق تعلیمات موجود ہیں، دین اسلام ہی ہر وقت اور ہر  جگہ کیلیے موزوں ترین دین ہے، دین اسلام کے احکامات  میں ہی دین و دنیا  کی فلاح و بہبود ہے، اسی میں پوری انسانیت کیلیے سلامتی کی دعوت ہے، دین اسلام تمام مخلوقات کے ما بین شفقت اور رحمت بھرے تعلق کا ضامن ہے، اسلام ہی  پائیدار امور کی جانب رہنمائی کرتا ہے، دین اسلام پر چلنے والا ہی کامیاب ہے  وہی اپنے مولا کی رضا پائے گا۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ} ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ [البقرة: 208]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل اور  صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی کے اسما و صفات سے متعلق علم اعلی ترین علم ہے، اسی کی بنا پر اللہ تعالی سے محبت، اللہ تعالی کی عظمت، امید اور خشیت پیدا ہوتی ہے، جس قدر انسان کا اللہ تعالی کے بارے میں علم زیادہ  ہو گا وہ اللہ تعالی کی جانب اتنا ہی متوجہ ہو گا، اللہ تعالی کے احکامات اور نواہی کی پاسداری کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ بندگی کی تمام تر صورتیں  اللہ تعالی کے اسما و صفات  کے تقاضے  ہی ہیں۔ انتہا درجے کی سعادت مندی اور راہِ الہی میں بلند مقام پانے کا یہی ذریعہ ہے، اللہ تعالی کو اپنے اسما و صفات بہت پسند ہیں، اللہ تعالی  پسند فرماتا ہے کہ اس کی مخلوق میں اسما و صفات کے اثرات رونما ہوں۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد  یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین:  ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت  بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہماری فوج کی مدد فرما، انہیں ثابت قدم بنا، اور ان کی دشمن کے خلاف مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم  حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت  کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہمیں دنیا  اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کیا  اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والے بن جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں