عمران خان کا مخمصہ - محمد اشفاق

چند دن پہلے ایک معروف تجزیہ نگار نے لیڈرز اور عوام کے رشتے کے بارے میں لکھا تھا کہ کوئی کوئی لیڈر عوام کے ساتھ click کر جاتے ہیں، مگر کون کیسے اور کب کلک کرتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا. ذوالفقار علی بھٹو جب ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہو کر ایک سوٹ کیس اٹھائے پنڈی ریلوے سٹیشن آئے تو تین چار قریبی دوستوں کے علاوہ انہیں رخصت کرنے بھی کوئی نہ آیا. اخبار میں ان کی کابینہ سے علیحدگی کی دو تین سطری خبر لگی، مگر جب بھٹو لاہور ریلوے سٹیشن پہنچے تو عوام کا ایک جم غفیر ان کا منتظر کھڑا تھا، وہ ان کے کلک کرنے کا لمحہ تھا. بینظیر شہید ضیاء کے دور آمریت میں جب بھٹو کا نام لینا بھی جرم تھا، 1986ء کو لاہور پہنچیں تو قدم رکھنے سے پہلے ہی وہ کلک کر چکی تھیں، جبکہ ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو اور اب بیٹا تمام تر کوششوں کے باوجود کلک نہیں کر پائے. نواز شریف اور عوام کا معاملہ ارینجڈ میرج جیسا تھا، جس میں دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور پسند کرنے میں وقت لگا، تاہم اب وہ بھی مقبول ترین عوامی لیڈر ہیں.

1996ء میں جب عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد ڈالی تو انہیں ملک کے لیے اکلوتا ورلڈکپ جیتے محض چار برس ہوئے تھے، انھی چار برس کے دوران وہ قوم کو شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کینسر ہاسپٹل کا تحفہ بھی دے چکے تھے. ان کا سٹارڈم ابھی تروتازہ تھا، اور ہماری نسل یعنی وہ پاکستانی جنہوں نے اپنے بچپن میں خان صاحب کو کرکٹ کھیلتے دیکھا تھا، اس وقت نوجوان تھے اور خان صاحب ہمارے ہیرو تھے. بطور قومی ہیرو تو خان صاحب بہت پہلے ہی عوام کے ساتھ کلک کر چکے تھے، مگر حیرت انگیز طور پر بطور سیاستدان وہ کلک کرنے میں ناکام رہے. 1997ء کے انتخابات میں انہوں نے بھرپور اور جارحانہ مہم چلائی، نوازشریف صاحب کو اسی طرح کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جیسا وہ آج کل کرتے ہیں، مغربی ذرائع ابلاغ نے انہیں بھرپور کوریج دی، مگر نتیجہ آیا تو خان صاحب خود اپنے حلقے سے بھی ہار چکے تھے. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام نے انہیں بطور ہیرو تو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا مگر بطور لیڈر مسترد کر دیا.

خان صاحب مستقل مزاجی سے مگر سیاست میں موجود رہے، مشرف دور میں 2002ء کے الیکشن میں وہ ایک سیٹ جیت پائے، سیاسی حلقوں میں انہیں ائیر مارشل اصغر خان سے تشبیہ دی جانے لگی مگر خان صاحب نے یہ ثابت کیا کہ وہ اصغر خان نہیں. 2004ء سے خان صاحب نے مشرف اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کی ڈٹ کر مخالفت شروع کی، ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں ان دنوں خان صاحب اسی طرح ایک مستقل مہمان ہوا کرتے تھے جیسے آج کل شیخ رشید. خان صاحب نے دفاع، خارجہ اور معاشی امور، مہنگائی، بدامنی، دہشت گردی غرضیکہ ہر معاملے پر اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف پیش کیا. رفتہ رفتہ انہیں سنا اور پسند کیا جانے لگا. اس دوران اسی کی دہائی کے اواخر اور نوے کے اوائل میں پیدا ہونے والی پاکستانی نسل شعور کی سیڑھیوں پر قدم رکھ رہی تھی، اس نسل نے بینظیر اور نواز شریف کا صرف نام سنا تھا، اسے دیکھا نہیں تھا. دونوں مقبول ترین لیڈروں سے اس نسل کو وہ وابستگی نہیں تھی جو ان کے بڑوں کو تھی، خان صاحب اس نسل کے دل میں گھر کرتے چلے گئے. اسی دوران 2007ء کے انتخابات ہوئے جن کا چند دوسری جماعتوں سمیت تحریک انصاف نے بھی بائیکاٹ کیا اور نقصان اٹھایا، مگر خان صاحب کی جانب اب لوگ متوجہ ہونے لگے تھے، عدلیہ بحالی تحریک میں بھرپور حصہ لے کر اور ڈرون حملوں پر جاندار اور دوٹوک مؤقف اختیار کر کے عمران خان نے اپنی مقبولیت مزید بڑھا لی، وہ ٹاک شوز جن میں عمران مدعو ہوں اب ریٹنگ میں آگے نکلنے لگے، مگر ابھی تک خان صاحب کا وہ لمحہ نہیں آیا تھا، جس کا ہر سیاستدان کو انتظار ہوا کرتا ہے.

یہ بلاشبہ 2011ء کا تاریخی جلسہ تھا جس میں بالآخر خان صاحب عوام کے ساتھ کلک کر گئے. یہاں سے عروج کی جانب ان کا سفر شروع ہوا، یہاں تک کہ 2013ء کے عام انتخابات کا مرحلہ آن پہنچا. نتائج کے مطابق خان صاحب اور ان کی جماعت کو خیرہ کن کامیابی حاصل ہوئی تھی، وہ ملک کی دوسری سب سے زیادہ ووٹ اور تیسری سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت بن گئی تھی، اور عمران خان بلاشبہ ملک کے سب سے مقبول لیڈر، خیبرپختونخواہ کی حکومت اس کے علاوہ تھی، مگر خان صاحب کی توقعات شاید اس سے کہیں زیادہ تھیں، انہوں نے یہ نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا.

2013ء سے 2015ء کا عرصہ خان صاحب نے دھاندلی، دھاندلی اور 2015ء تا 2017ء پانامہ، پانامہ کرتے گزارا۔ مطالبہ صرف ایک رہا، نواز شریف استعفیٰ دیں، گو نواز گو۔ نواز شریف نے استعفیٰ تو نہیں دیا مگر عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں 28 جولائی کو وزیراعظم ہاؤس چھوڑنا پڑا۔ یہ عمران خان کے سیاسی کیرئیر کا اب تک سب سے بڑا کارنامہ ہے، انہوں نے ایک منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دلوا دیا۔ اس "سنہری کارنامے" پر انہوں نے باقاعدہ یوم تشکر بھی منایا اور قوم کو مبارکباد بھی دی۔ 28 جولائی سے آج 27 ستمبر تک مگر ہم نے جو کچھ دیکھا وہ عجیب و غریب اور انوکھا معاملہ ہے-

اٹھائیس جولائی سے اب تک تحریک انصاف کی سیاست جمود کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ یومِ تشکر ریلی تاحال عمران خان کا آخری کامیاب شو رہا ہے۔ اس کے بعد چکوال ریلی، سکھر اور دادو کے جلسے، لاہور میں داتا دربار ریلی اور جہلم میں دینہ اور لدھر کے عوامی اجتماعات کسی بھی طرح ملک کے سب سے کامیاب کراؤڈ پُلر کے پاور شو نہیں لگے۔ سوشل میڈیا پر بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہی ہے۔ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے آفیشل ہینڈل کے چھتیس لاکھ فالوورز ہیں جبکہ پی ایم ایل این کے سات آٹھ لاکھ، مگر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ پر ہو کا عالم طاری دکھائی دیتا ہے، جبکہ پی ایم ایل این پر عوام کی بھرپور موجودگی۔ شاید پہلی بار پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم، نون لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم کے آگے تھکی تھکی، بےجان اور خستہ حال دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کا تمام تر انحصار اب چند چینلز اور ان کے اینکرز کی خبروں اور بیانوں پر رہ گیا ہے۔ بظاہر ہیرو بازی جیت چکا ہے مگر ولن ہر طرف چھایا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اپنے کیرئیر کی سب سے بڑی وکٹ عمران نے خود نہیں گرائی۔ "بالر" نے اوورسٹیپنگ کر کے بال کروائی، "امپائر" نے نوبال کا اشارہ نہیں دیا اور نواز شریف کلین بولڈ ہو گئے۔ عمران خان کا کردار لانگ آن باؤنڈری پہ کھڑے فیلڈر والا تھا جس نے اب تک "بالر" کو کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ بیٹسمین آؤٹ ہو کر بھی پویلین نہیں گیا، وہ بدستور کریز پر موجود ہے اور اس نے امپائر کی بجائے کراؤڈ سے ریویو مانگ لیا ہے۔ اگر عمران کی سرکردگی میں ایک بھرپور عوامی تحریک کے نتیجے میں (جس کی بارہا عمران نے کوشش بھی کی مگر ناکام رہے) نواز شریف کو جانا پڑتا تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔

اس جمود کی دوسری بڑی وجہ بھی پہلی سے منسلک ہے۔ مسلسل چار سال خان صاحب کی زبان پر ایک ہی مطالبہ رہا، اب جبکہ وہ پورا ہوچکا، ان کے بعض سادہ لوح سپورٹر اب تک جشن منانے میں مگن ہیں، کچھ قدرے سمجھدار حیران ہیں کہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں، اور بعض زیادہ سیانے سمجھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کوئی بڑا ہاتھ ہوگیا ہے، اور یہ تاثر کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ 2011ء سے 2017ء تک بلاشبہ پاکستانی سیاست اور معاشرہ پرو عمران اور اینٹی عمران دھڑوں میں تقسیم رہا تھا، اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں یہ تقسیم اب پرو نواز اور اینٹی نواز ہوچکی۔نواز شریف آؤٹ ہو کر بھرپور طریقے سے اِن ہو چکے۔ اب وہ مرکز نگاہ ہیں اور اپنے ووٹر کو پکا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مظلوم بن کر دائیں بائیں سے بھی ووٹ کھسکا رہے ہیں۔ اپنی حکومت کی تمام تر کامیابیوں کا وہ کریڈٹ لینے کے حقدار بن چکے، جبکہ ناکامیوں کو "مجھے کیوں نکالا" کے شور میں دبا دیا گیا۔ وہ مسلسل کریز سے باہر نکل کر کھیل رہے اور داد سمیٹ رہے ہیں، جبکہ خان صاحب کے پاس اب عدلیہ کی ترجمانی کے علاوہ بظاہر کوئی کام باقی نہیں رہ گیا۔ کاش انہوں نے چار سالہ اپوزیشن ایک شخصیت کی بجائے چند اصولوں پر کی ہوتی، تو آج یہ صورتحال نہ بنتی۔

2013ء سے ہم جیسے ان کے سینکڑوں ناقدین اور ہزاروں ہمدرد یہ چاہتے تھے کہ اب وہ خیبر پختونخواہ میں اپنی حکومت پر بھرپور توجہ دیں، الزامات کی بجائے ایشوز پر سیاست کریں، نوجوانوں کو کوئی تعمیری پروگرام دیں، کوئی مثبت نعرہ دیں، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ اب جبکہ اگلے الیکشن میں محض چند ماہ باقی ہیں، بلکہ خان صاحب نے تو ان کے فوری انعقاد کا مطالبہ بھی داغ دیا ہے تو ایسے میں اس جمود کو توڑنے کے لیے اب انہیں غیرمعمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ 2018ء کا الیکشن ان کی زندگی کا اہم ترین مقابلہ ہے۔ 2013ء میں وہ الیکشن میں اس طرح گئے تھے جیسے حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم، یعنی کھونے کو کچھ بھی نہیں تھا اور پانے کو بہت کچھ۔ اس الیکشن میں انہوں نے اپنی صوبائی حکومت بھی بچانی ہے اور دیگر صوبوں اور مرکز میں بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔انتہائی غیرجانبداری سے دیکھتے ہوئے بھی ان کے الیکشن جیتنے کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے، تاوقتیکہ کوئی انہونی نہ ہو جائے، مگر ایسی کارکردگی جس سے وہ تیسرے سے دوسرے نمبر پر آجائیں، ابھی بھی بعید از امکان نہیں، مگر اس کے لیے بھی انہیں اچھی خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ اپنے ووٹ بنک کو متحرک، پارٹی کو فعال اور میڈیا کو متوجہ کرنے کے لیے اگر وہ اگلے ایک دو ماہ میں انتخابی یا رابطہ عوام مہم شروع کر دیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔ محض کرپشن اور احتساب کا نعرہ لگا کر پاکستان میں انتخابات جیتنا ممکن نہیں، اس کا چار سال ضمنی انتخابات لڑ لڑ کر انہیں اندازہ ہو جانا چاہیے۔ اب انہیں عوامی مسائل پر بھرپور فوکس کرنا ہوگا، اپنے منشور کو مناسب ردوبدل کے ساتھ بڑے پیمانے پر مشتہر کرنا ہوگا، مناسب امیدواروں کی ابھی سے تلاش کرنا ہوگی اور اپنے کارکنوں کی انتخابی عمل میں شرکت اور اس کی نگرانی کے لیے ابھی سے تربیت شروع کرنا ہوگی-

ملک کا وزیراعظم بننا شاید وہ واحد ٹارگٹ ہے جسے اب تک عمران حاصل نہیں کر پائے۔ اپنے ہدف تک پہنچنے میں عمران خان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ خود عمران خان ہیں۔ جیتنے کے لیے انہیں پہلے اپنے آپ کو ہرانا ہوگا۔ انہیں خود سے اوپر اٹھنا ہوگا، کچھ سمجھوتوں سے باہر نکلنا ہوگا اور کچھ نئے سمجھوتے کرنے ہوں گے۔

ایک بھرپور عوامی جدوجہد انہوں نے 2013ء میں کر کے دیکھ لی، نتیجہ وہ نہیں نکلا جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ تب سے شاید ان کے ذہن میں یہ راسخ ہو چکا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے محض عوامی حمایت کافی نہیں۔ شاید اسی وجہ سے اب وہ عوام کے بجائے اداروں پر زیادہ تکیہ کرنے لگے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں وہ عوام کی طاقت پر یقین رکھیں یا کسی "اور" کی طاقت پر، یہی عمران خان کا اصل مخمصہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */