عہد فاروقی کا نظام حکومت - ملک رضا علی

نبی کریم ﷺ کے رحلت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں اسلامی نظام عملاً قائم ہو چکا تھا۔ قرآن واحادیث پر مبنی اصول وضوابط صحابہ کی زندگی میں راسخ ہو ئے جس کی بناء پر ایک مستحکم نظام حکومت قائم ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد تمام عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ اب اسلام اور مسلمانوں کا کیا حال ہو گا؟ اس نازک دور میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امّت کو دوبارہ جمع کیا اور تمام داخلی وخارجی انتشار کو رفع کیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے اور صرف دو سال میں ہی دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ خلیفہ اول کی وصیت کے مطابق اگلے خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ مقرر ہوئے جس پر تمام صحابہ کرامؓ نے اتفاق کیا۔

حضرت عمرؓ نے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتوحات کا سلسلہ شروع فرمایا۔ ان فتوحات کے نتیجے میں عراق، جنگ جسر، جنگ بویب اور جنگ قادسیہ کے معرکوں کے بعد ایران فتح ہوا۔ پھر ملک شام میں دمشق، حمص اور معرکۂ یرموک کے ذریعے فتوحات حاصل ہوئیں۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد سب سے آخری فتح قیساریہ کی ہوئی جس کے ساتھ ہی ملک شام مکمل طور پر تسخیر ہو گیا۔ ملک شام کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے مصر کا رُخ کیا مقام عریش، فسطاط اور اسکندریہ فتح ہوتے ہی مصر بھی مفتوحہ علاقوں میں شامل ہو گیا۔

چونکہ نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلامی حکومت کا مدار محض مدینہ منورہ اور جزیرہ عرب تک محدود تھا اس لیے اسلامی ریاست کے مسائل بھی محدود اور کم تھے کسی تفصیلی نظام کی ضرورت نہ تھی۔ صدیق اکبرؓ کے دور خلافت میں انتشار کے باعث تفصیلی ڈھانچہ تشکیل دینا ناممکن تھا۔ اس لیے حضرت عمرؓ جب مسند خلافت پر آئے تو انہوں نے اسلامی نظام حکومت کے لیے مفصل نظام مدوّن کیا۔ فتوحات کا سلسلہ زوروں سے جاری وساری تھا۔ مفتوحہ علاقوں پر نہ صرف نظام حکومت قائم کرنا بڑا مسئلہ تھا بلکہ ان کو بغاوت اور انتشار سے بچانے کے لیے کسی سربراہ کے ماتحت کرنا بھی ضروری تھا۔ اس لیے آپ نے صحابہ کرامؓ سے مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جو شریعت مطہرہ اور معقول نظام کے تمام تقاضے پورے کرتا تھا گویا اس نظام کی تشکیل میں اجماع امت ہو گیا تھا۔ اسی بناء پر عوام الناس کے ہاں یہ نظام قابل اعتماد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عہد فاروقی میں تشکیل دیا گیا نظام عہد عثمانیؓ اور عہد علیؓ میں برابر نافذ رہا۔

حضرت عمرؓنے جو نظام حکومت تشکیل دیا تھا اس کے خدّوخال کچھ اس طرح سے تھے کہ خلیفہ در حقیقت باری تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کا جانشین ہوتا ہے، وہ زمین پر خدا کے احکامات کو نافذ کرے گا۔ خلافت نسل در نسل منتقل ہونے والی چیز نہیں ہو گی بلکہ خلیفہ عوام الناس کی رائے سے منتخب ہو گا۔ خلیفہ کو از خود فیصلے کا اختیار حاصل نہ ہو گا بلکہ شوریٰ کے فیصلے کے بعد احکامات نافذ العمل ہوں گے۔ اس قید سے خلافت اور بادشاہت میں فرق ہو گیا۔ خلیفہ کے احکامات شوریٰ کے مشوروں کے محتاج ہوں گے۔ شوریٰ میں عام اور خاص دو درجے تھے۔ خاص شوریٰ کبار صحابہ کرامؓ پر مشتمل تھی اور عمومی شوریٰ میں مدینہ کے تمام افراد شامل تھے۔ جب کوئی ایسا معاملہ ہوتا کہ جس میں عوامی رائے کا لینا ضروری ہوتا تو مسجد میں منادی کرا دی جاتی اور کثرت رائے سے معاملہ طے ہوتا۔

حضرت عمر فاروقؓ نے مفتوحہ علاقوں کے انتظامی کاموں کو دیکھنے کے لیے ہر علاقے میں ایک والی (گورنر) مقرر کیا۔ اس گورنر کے ماتحت کاتب (سیکرٹری)، کاتب دیوان (اکاؤنٹنٹ جنرل)، صاحب الخراج (ناظم مالیات)، احداث (پولیس) اور قاضی (جسٹس) کام کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ پہلے حکمران تھے جنہوں نے عدلیہ کا مستقل شعبہ قائم کیا۔ آپ ہی نے جرائم کی روک تھام کے لیے(شرطہ) پولیس کا شعبہ قائم کیا اور اس کے ساتھ ہی جیل خانہ جات بھی تعمیر کیے۔ آپؓ نے پہلی مرتبہ محکمۃ البرید (ڈاک خانے) کا نظام متعارف کروایا جس کا مقصد فوجی اور سرکاری مراسلات کو برق رفتاری سے پہنچاناتھا۔ آپؓ نے مدینہ منورہ کے لیے مرکزی بیت المال اور ہر صوبے میں صوبائی بیت المال تعمیر کروائے۔ آمدن اور خرچ کے اصول وضوابط مرتب کیے۔

آپ کے دورِ خلافت میں ریاست کے انتظام کو چلانے کے لیے آمدن کے مختلف ذرائع تھے جن میں مال غنیمت کا خُمس(میدان جنگ میں دشمن کے چھوڑے ہوئے سامان کا پانچواں حصہ)، زکوٰۃ، خراج (غیر مسلموں کی اراضی پر ٹیکس)، عشر (مسلمانوں کی زمینوں کا لگان)، مال فئی (سرکاری زمینوں کی آمدن) عشور (غیر ملکی تاجروں سے حاصل شدہ ٹیکس) اور جزیہ (غیر مسلموں کی جان ومال کی حفاظت کے بدلے حاصل شدہ ٹیکس) شامل تھے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے درج ذیل نہریں کھدوائی گئیں نہر ابوموسیٰ، نہر معقل، نہر سعد اور نہر امیر المؤمنین۔ فتوحات کے سلسلے کے باعث لوگ جوق در جوق اسلام میں شامل ہونا شروع ہوئے تو عمر فاروقؓ نے خانہ کعبہ کے اردگرد کی جگہ خرید کر حرم کی توسیع فرمائی۔ مسجد نبوی کی بھی مرمت اور توسیع کروائی گئی۔ آپ کے دور میں مساجد، فوجی چھاؤنیاں، قلعے، بیت المال کی عمارت اور جیل خانہ جات تعمیر کیے گئے۔

آپؓ نے اپنے دس سالہ دور خلافت میں نہ صرف اسلامی ریاست کی بنیاد مستحکم کی بلکہ انتظامی طور پر بھی ریاست کی جڑیں مضبوط کر دیں۔ آپ کے بنائے ہوئے قوانین آج بھی دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */