اصل حکمران - کفیل اسلم

خلیفہ نے عیاض بن غنم کو شام کے علاقے کا عامل بنا کر روانہ کیا اور ضروری نصیحتیں بھی کیں۔ کچھ عرصے بعد خلیفہ کو خبر ملی کہ وہ شخص بہت آرام پسند ہو چکا ہے، اپنے لیے عیش و عشرت کی زندگی کو پسند کرلیا ہے اور رعایا پر ہو توجہ نہیں دے رہا، جس طرح دینے کا حق ہے۔ خلیفہ نے مقرر کیے گئے حاکم کو فوراً طلب کیا۔ وہ حاضر ہوا، تین بار اجازت طلب کی لیکن اجازت نہیں ملی۔ پھر اس کے لیے کسی کھردرے کپڑے کا جبہ منگوایا اور حکم جاری کیا کہ اسے پہنا دو۔ پھر بکریاں سونپ کر ہاتھ میں چرواہے والا عصا پکڑایا اور حکم دیا کہ بکریاں ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ کچھ دور چلا گیا تو آواز دی۔ وہ بھاگتا ہوا واپس لوٹا، آپ نے ایک اور کام سونپا اور فرمایا اب جاؤ۔ حاکم چل پڑا، ابھی کچھ دور گیا تھا کہ خلیفہ نے پھر آواز دی۔ الغرض عیاض کے ساتھ کئی بار ایسا کیا گیا۔ وہ آتا، خلیفہ وقت اسے کوئی کام دیتے، روانہ کرتے اور پھر واپس بلاتے۔ حتیٰ کہ عیاض پسینے سے شرابور ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا "بکرے لے جاؤ اور فلاں دن لے آنا۔ مقررہ تاریخ کو عیاض بن غنم بکریاں لے کر آیا تو آپ نے فرمایا۔ ان بکریوں کے لیے کنویں سے پانی نکالو اور سب بکریوں کو پلاؤ۔ پھر حکم دیا بکریوں کو لے جاؤ اور فلاں دن میرے پاس آنا۔ خلیفہ نے عیاض کے ساتھ دو، تین ماہ تک ایسا کیا اور پھر ایک دن فرمایا "کیا اب ویسی زندگی گزارو گے؟ اپنے لیے الگ سہولیات کا بندوبست کروگے؟ اپنی خاص مجلس قائم کروگے؟" عیاض بولا: "ہر گز نہیں" خلیفہ نے فرمان جاری کیا "جاؤ، اب تم اپنی پرانی ڈیوٹی پر واپس لوٹ جاؤ" اس سزا کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شخص ہمیشہ کے لیے بدل گیا اور وقت کے بہترین عمال میں شمار ہونے لگا۔

جانتے ہیں یہ زیرک اور رعایا کے لیے اتنے فکر مند خلیفہ کون تھے؟ یہ تھے فاتحِ رُوم و فارس، خلیفہ ثانی سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ!

آپ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ سیدنا عمرؓ رعایا کے معاملے میں کسی سرکاری حاکم کی زرا کوتاہی بھی برداشت نہیں فرماتے تھے۔ جہاں یہ خبر ملتی کہ فلاں علاقے میں تعینات سرکاری عامل آرام و سکون کی طرف مائل ہوکر رعایا سے غافل ہوگیا ہے، فوراً اُس کی طلبی ہوتی اور اگر خبر میں صداقت ہوتی تو موقع پر سزا دی جاتی۔

آج مسلم دنیا میں جتنی بے امنی اور قتل و غارت گری ہے، ان کی بڑی وجوہات میں سرِ فہرست مسلم حکمرانوں کی آرام پسندی اور رعایا اور اپنے لیے دہرے معیارات ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلم امت کو ایسے حکمران ملے جنہوں نے دین کو اپنی حکومت کی اساس بنایا، اپنا آرام رعایا کے لیے تج دیا اور انصاف کا بول بالا کیا، اُن ادوار میں ان کا سکہ چلا اور دُور دوُر تک دھاک بیٹھی۔

آپ ذرا اُن خطوط کا جائزہ لیجئے جو سیدنا عمر ِ فاروقؓ نے اپنے ماتحت مختلف گورنروں اور عاملین کو لکھے۔ آپ کو ان میں انصاف کی بالادستی اور رعایاکے لیے امن و امان اولین ترجیحات کے طور پر نظر آئیں گے۔

مثلاً ایک بار آپ نےابو عبیدہ بن جراحؓ کو خط لکھا اور نصیحت فرمائی کہ "یہ عادتیں مضبوطی سے اپنا لو۔ جب دو جھگڑنے والے آئیں تو ان کا فیصلہ انصاف پر کرنا۔کمزور کو اتنا قریب کرلینا کہ وہ ہمت پائے اور وہ سب کچھ جو اُس پر گزرا ہے، باآسانی کہہ سکے۔ اجنبی کا خیال رکھو، یہ نہ ہو وہ مقدمے کی طوالت سے تنگ آکر مقدمہ ہی واپس لے لے۔ اگر مقدمے میں کسی فیصلے تک نہ پہنچ پاؤ تو فریقین میں صلح کروانے کی کوشش کرو۔"

یہی نہیں بلکہ سیدنا عمر فاروقؓ رعایا کی عزت کا بھی بے حد خیال رکھتے۔ ایک دفعہ آپؓ نے ایک انصاری شخص کو حیرہ کا گورنر بنا کر روانہ فرمایا۔ گورنر وہاں ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا۔ میزبان نے اپنی استطاعت کے مطابق گورنر کی خوب تواضع کی۔ جب کھانے سے فراغت ہوئی تو اُس نے میزبان کا مذاق اڑایا اور اُس کی داڑھی سے اپنے ہاتھ صاف کیے۔ میزبان نے یہ واقعہ سیدنا عمرؓ کے پاس حاضر ہو کر سنادیا اور عرض کی کہ "اے خلیفۃ المسلمین! جنتی بے عزتی میری آپ کی خلافت میں ہوئی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔" سیدنا عمرؓ نے فی الفور حیرہ کے گورنر کو طلب کیا اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ جب معاملہ ثابت ہوگیا تو آپ نے گورنر کی طرف دیکھ کر سخت غصے کے عالم میں فرمایا "اللہ کی قسم! اگر یہ داڑھی سنت نہ ہوتی تو میں تیری داڑھی کو اکھاڑ پھینکتا اور ایک بال بھی نا چھوڑتا۔ لیکن اب چلا جا! اللہ کی قسم تو اب کبھی بھی میرا عامل (سرکاری عہدے دار) نہیں بن سکے گا۔" اور اُس گورنر کو معزول کردیا۔

سیدنا عمرؓ نے اپنی زندگی میں چند ایسے کارنامے سرانجام دیے جن کا ذکر کرنا لازم ہے:

1-پوری سلطنت میں مساجد کا جال بچھایا گیا۔

2-حج کے لیے منظم سسٹم قائم کیا تاکہ حجاج کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔

3-شرعی حدود کا باقاعدہ آرڈینینس جاری کیا۔

4-قلعوں کی تعمیر کیا جن سے شہروں کی حفاظت ممکن ہوپائی۔

5-دشمن کی جاسوسی کے لیے باقاعدہ ایک ڈپارٹمنٹ قائم ہوا جو ہمہ وقت مخالف چالوں پر نظر رکھتا۔

6-بہت بڑی اراضی گھوڑوں کی افزائش کے لیے مختص کی جہاں سے جنگ کے لیے گھوڑے بھجوائے جاتے۔

7-بچوں کی تعلیم اور جہادی تربیت کے لیے باقاعدہ نظام قائم کیا جہاں انہیں گھڑسواری، تیراکی اور تیر اندازی سکھائی جاتی۔

8-افواج کے شعبے کو سسٹمائز کیا۔ فوجیوں کی رجسٹریشن کا مربوط نظام قائم کیا۔

9-کئی لاکھ مربع میل پر پھیلی اسلامی سلطنت پر سرکاری حاکم اور عاملین کی تقرریاں کیا۔

10-اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے گورنر کے ذمے خصوصی ڈیوٹی لگائی۔

11-گورنروں اور حکمرانوں کے لیے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ اُن کی ڈیوٹی کا کوئی وقت نہیں۔ وہ 24 گھنٹے رعایا کی دیکھ بھال میں مصروف رہیں گے۔ خود سیدنا عمرؓدن کے علاوہ راتوں کو بھی عوام کے لیے گلیوں میں گشت کرتے رہتے۔

12-مساجد میں قاری، موذن اور اماموں کا باقاعدہ وظیفہ مقرر فرمایا۔

اگرچہ ان کے سب کارناموں کی فہرست کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں مگر یہ سب اختصار کے ساتھ صرف وہ لکھی گئی ہیں جن کا تعلق آج کی جدید ریاست کے انتظامی امور سے بہت گہرا تعلق ہے۔

یہاں یہ بات بتانا بھی ازحد ضروری ہے کہ وہ خود کو بھی انصاف سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔ جب بھی خود اُن کی ذات پر بات آئی، چشمِ فلک نے دیکھا کہ انہوں نے خود کے لیے بھی وہی پیمانہ قائم کیا، جو رعایا کے لیے تھا۔ مثلاً ایک بار سیدنا ابو عبیدہؓ کے مدِ مقابل ایک باغ کے تنازع کے سلسلے میں حضرت عمرؓ کا مقدمہ ثالث کے سامنے پیش ہوا۔ ثالث سیدنا زیدؓ تھے اور فیصلہ بھی انہی کے گھر پر ہونا تھا۔ جب سیدنا عمرؓ اور ابو عبیدہؓ پیش ہوئے تو زیدؓ نے سیدنا عمرؓ کے بیٹھنے کے لیے تکیہ پیش کیا۔ سیدنا عمرؓ نے زیدؓ سے فرمایا " زید، آپ نے تو پہلے ہی مرحلے میں ظلم کردیا، مجھے میرے مدِمقابل فریق کے ساتھ بٹھائیے" اور پھر وہ زیدؓ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

یہ تھے عمر، میرے عمر، ہم سب کے عمر رضی اللہ تعالی عنہ!

Comments

Avatar

کفیل اسلم

کفیل اسلم شعبہ ِ تدریس سے وابستہ ہیں۔ معاشیات میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر چکے ہیں۔ بنیادی تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور ہر کشمیری کی طرح پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ شاعری اور کامیابی لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */