کلثوم نواز فاتح، یاسمین راشد سرخرو – ڈاکٹر شفق حرا

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد سے این اے 120 کا الیکشن ملک کے طول و عرض میں موضوع بحث تھا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی تھیں۔ کوئی اس کو سپریم کورٹ سے نوازشریف کے خلاف ریفرنڈم قرار دے رہا تھا تو کوئی عدلیہ کی تعظیم سے جوڑنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس ہنگامے میں 17 ستمبر کو الیکشن کا انعقاد ہوا۔ اس دن کارکنوں کے مابین ہاتھا پائی میں جگ، کرسیاں اور گلاس تو ٹکرائے لیکن مجموعی ماحول پرامن رہا۔ الیکشن تمام ہوا تو نتائج دیکھ کر عجب عجب قیاس آرائیاں کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی برتری، کمتری میں کیسے تبدیل ہوگئی؟ کسی نے کہا تحریک انصاف کو اتنے ووٹ کیسے مل گئے؟ کسی نے ن لیگ کی جیت کو نوازشریف کی اہلیت کے تناظر میں پیش کیا تو کسی نے یاسمین راشد کے 47 ہزار ووٹ ہی عدلیہ کی جیت مان لیے۔

تجزیوں اور تبصروں کی یہ دوڑ اپنی جگہ لیکن این اے 120 کا الیکشن جہاں بیگم کلثوم نواز کی جیت کی نوید لایا، وہیں ڈاکٹر یاسمین راشد کو ملنے والی پذیرائی بھی حیران کن ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد پیشے کے اعتبار سے گائناکالوجسٹ ہیں اور حلقے میں اپنی خوش اخلاقی اور خدمت خلق کی بدولت کافی شہرت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے سسر غلام نبی بھی سیاست میں پرانا نام رکھتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیرتعلیم بھی رہے۔ سوشل میڈیا پر یہ لطائف تو گردش کررہے ہیں کہ ڈاکٹر یاسمین راشد ایک ہی حلقے سے میاں اور بیوی دونوں سے الیکشن ہارنے کا ریکارڈ رکھنے والی واحد خاتون ہیں لیکن میرے خیال میں ان کی جانب سے جس طرح کی انتخابی مہم چلائی گئی، اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن میں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑا۔ ایک جانب مسلم لیگ ن تھی جس کی قیادت مریم نوازشریف کررہی تھیں۔ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد اس حلقے کے عوام میں بلاشبہ تشویش پائی جاتی تھی اور مریم نوازشریف نے بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے اس تشویش کو ووٹ بینک میں بدلنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کو پارٹی کے اندر سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک جانب پارٹی کے رہنما علیم خان تھے جن کی کوشش تھی کہ حلقے کا ٹکٹ یاسمین راشد کو نہ ملے۔ واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر علیم خان این اے ایک سو بائیس کے حلقہ میں لگائی گئی آدھی طاقت بھی اس حلقے میں لگا دیتے تو یاسمین راشد کی فتح یقینی تھی۔ دوسری جانب پارٹی میں موجود لاہور کا بااثر طبقہ چودھری سرور سے نجات کے لیے حلقے کا ٹکٹ ان کو دلوانے کی کوشش کررہا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ چودھری سرور کی اس حلقے سے ضمانت ضبط ہونا یقینی ہے اور پھر وہ یا تو کسی اور پارٹی کا رخ کریں گے یا پھر اپنی بقیہ سیاست برطانیہ میں ہی جاکر آزمائیں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹکٹ کے حصول سے لے کر الیکشن کے نتائج تک ان تمام رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ یاسمین راشد کا سامنا مریم نوازشریف کی انتخابی مہم سے تھا لیکن یاسمین راشد کی انتخابی مہم اس لحاظ سے منفرد تھی کہ انہوں نے ایک ایک دروازے پر جاکر دستک دی اور لوگوں کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔

ایک جانب یاسمین راشد گھر گھر جاکر ووٹ کے حصول میں لگی ہوئی تھیں تو دوسری جانب ان کی قیادت الیکشن سے قبل ہی دل ہار چکی تھی۔ عمران خان کئی نجی محفلوں میں یہ کہتے نظر آئے کہ یاسمین راشد شاید 20 ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکیں۔ ہم نے ٹی وی چینلز پر بیٹھے پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماؤں کو الیکشن سے پہلے یہ کہتے سنا کہ ہم جیت نہیں سکتے، لیکن مقابلہ ضرور کریں گے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ عمران خان نے حلقے میں بیٹھ کر انتخابی مہم چلانے کی بجائے صرف چند چند گھنٹے کے دو دوروں پر ہی اکتفا کیا۔ انتخابی نتائج کے بعد عمران خان نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے انتخابی مہم تاخیر سے شروع کی تھی جس کا نقصان براہ راست یاسمین راشد کو ہوا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کی تن تنہا انتخابی مہم کا اثر یہ ہوا کہ 2013ء کے الیکشن میں ان کی شکست کا مارجن 40 ہزار سے زائد تھا جو کہ اب صرف 14 ہزار رہ گیا۔ شکست کا مارجن دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہوکر ڈاکٹر یاسمین راشد ہی کو بطورِ اُمیدوار برقرار رکھتی ہے تو یقیناً اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گی۔

مسلم لیگ ن کی امیدوار بیگم کلثوم نواز اگرچہ خود خرابی صحت کی وجہ سے انتخابی مہم چلانے سے قاصر رہیں لیکن مریم نوازشریف نے ان کی عدم موجودگی میں اس حلقے میں بھرپور انتخابی مہم چلاکر اپنے اندر موجود قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرح مریم نوازشریف کو بھی 60 ہزار سے زائد ووٹ پلیٹ میں رکھے نہیں ملے بلکہ انہیں ان کے حصول کے لیے کڑی محنت کرنا پڑی۔ ایک جانب سپریم کورٹ کا پانامہ لیکس کیس میں نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ تھا تو دوسری جانب وزیراعلی پنجاب شہبازشریف، حمزہ شہباز شریف اور سلمان شہباز شریف کی انتخابی مہم سے پراسرار غیر حاضری تھی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ مریم نوازشریف انتخابی مہم میں شہباز شریف اور ان کے خاندان کی مداخلت نہیں چاہتی تھیں اور اسی وجہ سے شہبازشریف کے خاندان نے انتخابی مہم میں دلچسپی نہیں لی جبکہ حمزہ شہباز شریف انتخابی مہم سے باہر ہونے پر ناراض بھی ہیں۔

اگرچہ مریم نواز شریف کی زیادہ تر انتخابی مہم بڑی ریلیوں تک محدود نظر آئی تاہم انہوں نے اپنے مخالفین اور عدالتی فیصلے پر تابڑ توڑ حملے کرکے ثابت کردیا کہ وہ پارٹی میں اپنے والد کے مقام تک پہنچنے کی اہل ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران سابق وزیرداخلہ چودھری نثار کی جانب سے مریم نوازشریف کو قائد تسلیم کرنے سے انکار اور بچہ قرار دینا مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا اور شاید اسی وجہ سے مسلم لیگ ن کے ووٹ 92 ہزار سے کم ہوکر 61 ہزار 745 رہ گئے۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کے روز اپنے کارکنوں کے غائب ہونے کا بھی معاملہ اٹھایا تاہم ابھی تک مسلم لیگ ن کے اس دعوے کے ناقابل تردید شواہد نہیں ملے۔

اس الیکشن کی اہم بات مذہبی اثر و رسوخ رکھنے والی جماعتوں تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے ووٹ تھے۔ تحریک لبیک کے حمایت یافتہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے شیخ اظہر حسین رضوی نے 7 ہزار 130 ووٹ لیے۔ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ اور اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے محمد یعقوب شیخ نے 5 ہزار 822 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حیران کن طور پر جماعت اسلامی کے امیدوار ضیاء الدین انصاری کو صرف 592 ووٹ مل سکے جو کہ جماعت اسلامی کی سیاسی ساکھ کے لیے مزید خطرے کی نشانی ہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کو صرف چودہ سو چودہ ووٹ ملے اور وہ بھی اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھے۔ حد تو یہ تھی کہ فیصل میر شیخ اظہر حسین رضوی اور یعقوب شیخ سے تو مقابلہ دور کی بات حلقے میں مسترد کیے گئے 1731 ووٹوں سے بھی کم ووٹ حاصل کرپائے۔ ان نتائج سے جہاں پیپلزپارٹی کی جگ ہنسائی ہوئی وہیں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں شاید پنجاب میں اصل مقابلہ صرف مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے مابین ہی ہوگا۔

این اے 120 کا الیکشن ایک جانب پیپلزپارٹی کے گرتے ہوئے گراف کا آئینہ دار تھا تو دوسری جانب اس الیکشن نے ملک میں موجود مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک کا بھی احساس دلایا۔ اس الیکشن کے نتائج کی رو سے بیگم کلثوم نواز فاتح تو رہیں لیکن بلاشبہ 14 ہزار ووٹوں سے شکست کے باوجود یاسمین راشد اس حلقے سے سرخرو قرار دی جاسکتی ہیں۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔