جنس، اشتہارات، تانیثیت، مغرب اور ہم - الیاس بابر اعوان

خود بینی بھلے انفرادی سطح پر ہو یا بطور کلّی سماجی عمل، بہت سی باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جن پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔خود ترحمی نوآبادیاتی اثرپذیری سے ہوتا ہوا ایک عمل جو مابعد نو آبادیاتی سماج میں سرائیت کرچکا ہے اور اس کے زیرِ اثرعمومی طور پر ہم مغرب کے ساتھ سماجی معاشرتی تضاد یا بائنری اختراع کرکے اپنے سماجیات کو حقیر ثابت کرنے کی سعی میں صرف ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ علمی اور خاص کر ڈائے ایس پرا (Diaspora) کی تخلیقات میں عمومی Stereotyping بہت وسیع پیمانے پر دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ کہ ڈائے ایس پرابارے مذکورہ تصور بھی Stereotyping کے زمرے میں آتا ہے تاہم مقامی علمی مباحث اور تخلیقی و بصری بیانیوں میں اس کی شبیہہ نسبتاً مدھم بنتی ہے۔

ہمارے ہاں سوشل میڈیا سمیت بصری میڈیا یعنی ٹی وی چینلز اور سینیما وغیرہ کوئی بہت پرانا قصہ نہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارا ان اظہاری آزادیوں کے ساتھ تعلق ابھی اتنا پیشہ ورانہ نہیں۔ اشتہارات سمیت پیشتر بصری بیانی ہمارے یہاں خواتین کو جس طرح سے Objectify کرتے ہیں یہ کھیل مغرب سے ہی شروع ہوا یعنی ترقی یافتہ اور مراعات یافتہ سماج میں اس کی ابتدا خواتین بارے ان کے تصور واضح کرتا دکھائی دیتا ہے۔ Van Heusen ایک معروف امریکی لباس ساز کمپنی ہے جو آج سے 136 برس قبل قائم کی گئی تھی۔ اپنی معروف نیک ٹائی کے لیے اس کمپنی نے ایک اشتہار بنایا جس میں ایک مرد بستر پر لیٹا ہوا ہے اور اس نے نیک ٹائی گلے میں پہنی ہوئی ہے جبکہ ایک خاتون گٹھنوں کے بل بیٹھی ہوئی ہے اور بستر پر اس نے چائے اور دیگر لوازمات رکھے ہوئے ہیں۔ مرد ایک فاتحانہ مسکراہٹ سے خاتون کی طرف دیکھ رہا ہے جبکہ اشتہار پر جلی حروف میں تحریر ہے۔ " Show her , it is Man's world"، بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس میں نیک ٹائی کی اہمیت کو دکھایا جارہا ہے جبکہ اس میں عورت کو حقیر دکھایا جارہا ہے۔ لفظوں کے دروں معنوی لچک کا 'ناجائز' فائدہ اٹھایا گیا ہے اور عورت کو بطورِ سماجی اکائی کو کم تر دکھایا گیا ہے۔ ایسے ہی ایک اور اشتہار ایک معروف کمپنی Kellogg کا ہے جو وٹامن کی گولیاں بناتی تھی۔ اس اشتہار میں ایک خوبصورت عورت کو دکھایا جاتا ہے جس کے ہاتھ صفائی کرنے والا پونچھنا ہے اور اور اس اشتہار کی سرخی ہے۔ " So the harder a wife works, the cuter she looks" یعنی ایک خاتون جتنا گھر کی صفائی ستھرائی کرے گی وہ خوبصورت دکھائی دے گی۔ ان کی جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے آپ مذکورہ کمپنی کی وٹامن کی گولیاں استعمال کروائیں۔ گویا خواتین ایک مشین سے زیادہ ارفع نہیں۔ ان کا بنیادی کام گھریلو صفائی ستھرائی یعنی گھریلو مزدور ی ہے۔ ایسے ہی 1974ء میں معروف جوتے بنانے والی کمپنی Weyenberg Massagic shoes نے جرائد میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں ایک خاتون فرش پر لیٹی ہے اور ایک جوتا اس کے منہ کے قریب پڑا ہوا ہے، خاتون مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی ہے۔ اشتہار کی پیشانی پر یہ تحریر ہے :" Keep her where she belongs .." اسے وہیں پر رکھو جہاں اس کی جگہ ہے۔

ایسے ہی برطانیہ میں چلنے والے ایک اشتہار میں ایک خاتون کہتی ہے کہ اس نے 56 انچ کی پلازمہ سکرین خریدی ہے تو مرد کہتا ہے کہ اس نے 90 انچ کی اسکرین خریدی ہے چونکہ وہ ایک مرد ہے۔ حالیہ دنوں ایک معروف امریکی بچوں کے لباس کے برینڈ Gap کے ایک اشتہار میں دو بچے دکھائے گئے ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ لڑکے کی تصویر کے ساتھ انگریزی میں تحریر ہے The Little Scholar یعنی چھوٹا اسکالر اور اس کی مزید وضاحت کے لیے شرٹ پر آئن سٹائین کی تصویر چھاپی گئی ہے تفصیلات میں لکھا گیا ہے کہ آپ کا مستقبل شرٹ، اس پر چھپی تصویر اور دانش سے شروع ہوتا ہے جبکہ لڑکی کی تصویر کے ساتھ تحریر تھا The Social Butterfly اور شرٹ پر گلابی رنگ سے G تحریر تھا۔ مزید وضاحت کچھ یوں کی گئی تھی لڑکیاں یعنی شرٹ، لوگو اور کھیل کود کی باتیں۔ ایسے ہی ایک معروف سگریٹ برینڈ TIPALET کے اشتہار میں ایک مرد کو سگریٹ کا دھواں خاتون کے منہ پر چھوڑتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور اشتہار کی پیشانی پر یہ الفاظ تحریر ہیں Blow in her face and she will follow you anywhere.

خواتین کو ان مذکورہ اشتہارات میں جس حقیر سماجی اکائی کی طور پر دکھایا گیا یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں، اور 1970ء کے ایک اشتہار میں تو انتہا ہی ہوگئی۔ ایک معروف لباس ساز برینڈ Mr. Leggs کے ایک اشتہار میں فرش پر شیر کی کھال کو پڑا دکھایا جاتا ہے جس کا سر ایک مسکراتی عورت کا ہے اور ایک مرد نے عورت کے سر پر پاؤں رکھا ہوا ہے (مرد کی شکل نہیں کھائی جاتی محض ٹانگیں دکھائی جاتی ہیں جو Mr. Leggs کے خوبصورت ٹراؤزرز سے مزین ہیں۔ اور اشتہار کا بنیادی متن کچھ یوں ہے " Impress your tiger-rug wife with Mr. Leggs."

عورت مغربی سماج میں اس وقت بھی بیگانہ تھی جب تانیثی مباحث نے علمیاتی دھارے کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔ ان تمام امثال سے ہمارے سامنے ایک سماج تخلیق ہوتا ہے جس کی جمالیات کو سبسکرائب کرنے والی اکائیں بھی دستیاب ہوتی ہیں اور دوسری طرف 1792ء میں میری وول سٹون کرافٹ کی کتاب " خواتین کے حقوق کی حمایت" شائع ہوتی ہے جس میں مرد لکھاریوں جیسے کہ ملٹن، پوپ اور رُوسو کو زیربحث لایا جاتا ہے کہ انہوں نے کیسے خواتین کی ( غلط) نمائندگی کی۔ایسے ہی ورجینیا وولف نے 1929ء میں خواتین کو حصولِ تعلیم اور شادی کے معاملات میں مشکلات پر اپنی پوزیشن کو متن کر رہی تھیں، تو ایک طرف سمن دی بوار کی معروف زمانہ " دوسری جنس" 1949ء میں شائع ہوتی ہے۔

سمن دی بوار بھی ایک بہت دل چسپ کردار ہے سارتر کے ساتھ سمن کا تعلق کسی سے ڈھکاچھپا نہیں۔ ایک طرف سمن دی بوار خواتین کی محکومیت کا رونا روتی تھیں تو دوسری طرف سارتر کے جال میں خواتین کو پھنسانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔ 60ء کی دہائی میں تانیثیت کا بنیادی زور ادبی متون میں خواتین کو مغلوب اور کمزور دکھانے کو چیلنج کرنے پر تھا۔ 70ء کی دہائی میں پدر سری سماج کی سماجی تشکیلیت پر عمومی ذہن سازی اورا اثر پذیری تھا۔ 80ء کی دہائی میں جا کر تانیثی مباحث حجتی لہجے سے نکل کر دیگر عملی رویوں یعنی مارکسیت، ساختیات، اورلسانیات میں بھی انسلاک تلاش کرنا شروع ہوگئے۔ اس تفصیل کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں علمی اور فلسفیانہ مباحث میں تانیثیت کا دھارا شد و مد سے دکھائی دیتا ہے بصری بیانیوں کے خلاف مزاحمت اس شدت سے دکھائی نہیں دیتی۔ اگرچہ کہ مذکورہ بالا اکثر اشتہارات بین ہوگئے تھے لیکن ایسی کوئی قانون سازی آج تک ہر دو سماجوں میں ظہور پذیر نہیں ہو سکی جو خواتین بارے ایسے رویّوں کو زنجیر کرسکے۔

تانیثیت کی دوسری رو کے ساتھ مغرب میں جنس مرکز صنعت میں بہت ترفع ہوا۔ آج کے اس مابعد جدید اور سرمایہ دارانہ عہد میں بھی آپ کسی سابقہ جنسی اداکارہ کا انٹرویو سن لیں تو وہ جنس مرکز صنعت سے ناخوش نظر آتی ہے اور جنسی عمل کے دوران مردوں کی طرف سے غیر انسانی رویے کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں۔ کچھ ایسا رویہ ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور لالی ووڈ کی فلموں میں بھی دکھائی دیتا ہے جہاں خواتین پدر سر ی ترتیب میں بطورِ جنسی حظ بہم کرنے کا آلہ ہیں یا محض گلیمر کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ بالی ووڈ کی تازہ فلموں میں ایک اصطلاح "آئٹم سونگ" خالصتاً معاصر معاشی نظام کی اصطلاح ہے یعنی ان گانوں میں پیش کی جانے والی خاتون ایک قابلِ فروخت جنس ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خواتین بخوشی اور برضا و رغبت ان تمام سرگرمیوں کا حصہ بن کر استعمال ہوتی ہیں۔ فی زمانہ اشتہارات، ادبی متون، مشاعروں، کانفرنسز، سیاسی پارٹیوں اور دفاتر میں خواتین کو کم و بیش ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے اس سے ایک بات تو طے ہوجاتی ہے کہ تانیثیت کی تیسری لہر بھی اپنے ظہور سے قبل ہی فوت ہوچکی ہے۔