قائداعظم کے آخری لمحات - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

قائداعظم علیہ الرحمۃ کے شخصی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائداعظم کے آخری لمحات کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک روز آپ باتوں باتوں میں فرمانے لگے:
’’پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس کا دوست اور دشمن ، سب ہی اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان بن چکا ہے۔ پاکستان کا مستقبل درخشندہ ہے۔ میری روح کو تسکین ہے۔ میرے دل کو اطمینان ہے کہ برعظیم ہند میں مسلمان غلام ہند نہیں بلکہ ایک آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد مملکت کے مالک ہیں۔ آج وہ ایک ایسی مملکت کے مالک ہیں جس کے وسائل و ذرائع لامحدود ہیں۔ آج اُن کا اپنا وطن ہے۔ آزاد اور خود مختار وطن جس کی ترقی کی شاہراہیں وسیع ہیں۔ جس کا مسقتبل روشن ہے۔ ان شاء اللہ۔ مستقبل قریب میں پاکستان دنیا کا ایک عظیم ترین ملک بن جائے گا۔‘‘
کسی قدر توقف کے بعد ﴿قائد اعظم﴾ فرمانے لگے :
’’جب میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میری قوم آج آزاد ہے تو میرا سر عجز و نیاز کے جذبات کی فراوانی سے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لانے کے لیے فرط انبساط سے جھک جاتا ہے‘‘۔

قائداعظم کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ چہرہ سرخ ہو گیا۔ آواز بلند ہوتی گئی۔
’’یہ مشیت ایزدی ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا روحانی فیضان ہے کہ جس قوم کو برطانوی سامراج اور ہندو سرمایہ دار نے قرطاس ہند سے حرف غلط کی طرح مٹانے کی سازش کر رکھی تھی، آج وہ قوم آزاد ہے، اس کا اپنا ملک ہے، اپنا جھنڈا ہے، کیا کسی قوم پر اس سے بڑھ کر خدا کا اور کوئی انعام ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خلافت ہے جس کا وعدہ خداوند تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ سے کیا تھا کہ اگر تیری امت صراط مستقیم کو اپنے لیے منتخب کر لیا تو ہم اسے زمین کی بادشاہت دیں گے۔ خدا کے اس انعام عظیم کی حفاظت اب مسلمانوں کا فرض ہے۔ پاکستان خداوندی تحفہ ہے اور اس تحفہ کی حفاظت ہر پاکستانی مرد و زن، بچے، بوڑھے اور جوان کا فرض ہے۔ اگر مسلمان نیک نیتی، دیانت داری، خلوص، نظم و ضبط اور اعمال و افعال صالح سے دن رات کام کرتے رہے، ان میں بدی، نفاق، جاہ طلبی اور ذاتی مفاد کا جذبہ پیدا نہ ہوا تو ان شاء اللہ وہ چند سالوں میں ہی دنیا کی بڑی قوموں میں شمار ہونے لگیں گے۔ ان کا ملک امن وآشتی، تہذیب و تمدن، ثقافت و شرافت کا مرکز ہوگا اور اس کی حدود سے ترقی کی شعاعیں نکل کر سارے ایشیا کی رہبری کریں گی اور ایشیا کو امن و آشتی اور ترقی کا راستہ دکھائیں گی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں قائداعظم - احسان کوہاٹی

قائد اعظم بڑی تیزی سے جیسے کسی دریا کا بند ٹوٹ گیا ہو اور پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہو، فرما رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فصاحت و بلاغت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ یہ پہلا دن تھا کہ انہوں نے پاکستان کے متعلق اس قدر تفصیل کے ساتھ بات چیت کی۔ دیر تک بولتے رہنے کی وجہ سے وہ تھک گئے تھے، اس لیے لیٹ گئے اور ہم کمرے سے باہر نکل آئے۔ (ڈاکٹر ریاض علی شاہ، قائد اعظم کے آخری لمحات)

قائداعظم علیہ الرحمۃ کے وقت وصال کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے مادر ملت فرماتی ہیں:
He slept for about two hours, undisturbed. And then he opened his eyes, saw me, and signalled with his head and eyes for me to come near him. He made one last attempt and whispered, "Fati, Khuda Hafiz. ...... La Ilaha Il Allah ...... Mohammad ...... Rasul ...... Allah." His head dropped slightly to his right, his eyes closed.
آپ تقریباًدو گھنٹوں کے لیے پر سکون طور پر سوگئے۔ پھر آپ نے اپنی آنکھیں کھولیں، مجھے دیکھا اور اپنے سر اور آنکھوں سے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ آپ نے اپنی آخری کوشش کی اور سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا:
فاطی! خدا حافظ!
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
آپ کا سر آہستگی سے سیدھی جانب ڈھلک گیا ۔آپ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

جو شخص وقت وصال کلمہ طیبہ پڑھ کر دنیا سے رخصت ہو، نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ِ نے فرمایا:
’’من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ‘‘
’’جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘

قائد اعظم رحمہ اللہ کے بارے میں ان تمام حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد یہ انتہائی ظلم ہوگا کہ آپ کو لا دین، ملحد، کافر اعظم، سیکولر اور ایسی ریاست کا حامی کہا جائے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.