انسانیت کا کمال اور اس کے کرشمے، امام کعبہ کا خطبہ

تعارف خطیب:

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خالد بن ابراہیم الغامدی حفظہ اللہ حسن بن علی کی اولاد میں سے ہیں ۔ مکرمہ کی بابرکت سرزمین میں پیدا ہوئے۔ 2010ء اور 2011ء میں آپ نے مسجد نبوی میں نماز تراویح کی امامت کرائی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مکہ معظمہ ہی کے سکولوں سے حاصل کی۔

عالم اسلام کی معروف یونیورسٹی جامعہ ام القریٰ سے بیچلرز کیا۔ یہیں سے قراءات کے علم میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی۔ اب اسی یونیورسٹی میں آپ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ شعبہ قراءات کے ہیڈ رہے ہیں۔ ان دنوں دعوہ فیکلٹی کے ڈپٹی ڈین ہیں۔

6 جنوری 2008ء میں آپ حرم مکی کے امام وخطیب متعین ہوئے۔ اس سے پہلے آپ مدینہ کی معروف مسجد، مسجد قبا اور منیٰ کی معرف مسجد، مسجد خیف میں امام رہے ہیں۔ یوں آپ عالم اسلام کی چار معروف مسجدوں کے امام رہ چکے ہیں۔انتہائی متواضع، ہنس مکھ اور علماء کے قدر دان ہیں۔ پاکستان تشریف لا چکے ہیں۔

آپ مستند عالم، جید قاری اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

پہلا خطبہ:

یقینًا! ہر طرح کی حمد وثنا کا اللہ ہی مستحق ہے۔ ہم اسی کی حمدوثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت عطا فرما دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کے اعمال کی پاداش میں، اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعد ازاں!

اللہ کے بندو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو خوف خدا رکھنے، لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے اور تنہائی میں ، ہر موقع پر اس کی موجودگی کا احساس رکھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ بات یہ ہے جو کامیابی چاہتا ہے، وہ بندگی اور ذکر الٰہی کی چوکھٹ کبھی نہ چھوڑے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔ اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو‘‘ (طلاق: 2-3)۔

جن آزمائشوں اور مصیبتوں کا آج ہماری امت کو سامنا ہے، ان میں سے ایک آزمائش اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے عاری ہونے کی آزمائش ہے، حالانکہ ہمارا دین، اعلیٰ ترین اخلاق، بہترین رویوں اور اچھے ترین حسن سلوک کا دین ہے۔

یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کا مقصد بلند ترین آداب اور اعلیٰ ترین اخلاق کے اصولوں کا تکمیل ہے ، ایسے اخلاق فرد اور معاشرے کے لیے عزت وسعادت اور آسودہ وخوشگوار زندگی کے ضامن ہوں۔

دینی اخلاق تو بہت سارے اور تعداد سے زیادہ ہیں، تاہم یہ سارے اخلاق چند عظیم اصولوں کے اندر سما جاتے ہیں۔ اخلاق نبوی اور ساری بھلی عادتیں چند اصولوں کے اندر جمع ہو جاتی ہیں۔

ایسے ہی اصولوں میں سے ایک عظیم اصول، جو اپنے اندر بہت سے اخلاق جمع کر لیتا ہے وہ انسانیت کا کمال ہے اور آپ کو کیا معلوم کہ انسانیت کا شرف کیا ہے؟ انسانیت کا شرف بھلائیوں کا سرچشمہ ، ادب کا جامع اور آزاد اور باوقار زندگی کا ضامن ہے، یہ تمام بھلائیوں اور کمالات کا مجموعہ ہے، یہ انسانیت کی اساس اور مردانگی کی بنیاد ہے۔

اسی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے بہتر ثابت ہوتے ہیں یہاں تک کہ ایک شخص ہزار لوگوں کے برابر ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کے ذخائر کی طرح ہے، یا پھر باڑے میں موجود ان سو اونٹوں کی مانند ہے کہ جن میں سے بمشکل ہی کوئی سواری کے قابل اونٹ نظر آتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو انسانیت کے کمال سے مزین کر لیتا ہے، وہی کمالِ انسانیت کہ جسے بڑے لوگ پسند کرتے ہیں، عظیم اور دانشمند لوگ جس کی قدر کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں گھر کر لیتا ہے چاہے، وہ معاشرتی اعتبار سے ان سے کم ہی کیوں نہ ہو۔

جب بندے میں پرہیزگاری کے ساتھ انسانیت بھی آ جائے اور ادب کے ساتھ حیا بھی اپنا لے تو گویا کہ وہ انسان کامل بن گیا۔

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی فطرت میں کمال انسانیت کی محبت اور قدر رکھی ہے۔ اس اخلاق کو اپنانے والوں کی تعریف فرمائی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے، جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اسی لیے انسان اس اخلاق سے متصف دوسرے لوگوں کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے اور اگر خود اسے اس اخلاق سے متصف کر دیا جائے تو پھر تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔

بھلے اخلاق سے تو مجھے ایسے خوشی ہوتی ہے جیسے کسی بچھڑے دوست کے ملنے پر خوشی ہوتی ہے۔ جب انسانیت کے کمال کا ذکر ہوتا ہے تو وہ مجھے یوں خوشی ہوتی ہے جیسے کسی بہت قریبی بچھڑے ہوئے کے ذکر کے وقت خوشی ہوتی ہے۔

اللہ کے بندو!

شرفِ انسانیت ہر خیر، کامیابی اور عزت کی بنیاد ہے۔ یہ در حقیقت انسانیت کا ایسا جوہر ہے، یا ایسے روحانی آداب ہیں جو انسان کو خوبصورتی وپاکیزگی، پاک دامنی و عفت اور بزرگی وشرافت جیسے اخلاق پر ابھارتے ہیں۔ جو تکبر، غرور، فخر، ظلم، اذیت نائی، فساد، کمزوری، حرص، لالچ اور دوسری چیزوں کے لالچ سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

شرفِ انسانیت ایک اعلیٰ اخلاق ہے، جو دو انتہاؤں کے درمیان رہنے کا نام ہے۔ یہ انسان کو انسانیت کی اعلیٰ اور پاکیزہ پوشاک پہننے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ ہر اس چیز کی تلقین کرتا ہے جو انسان کو خوشنما بنا دیتی ہے چاہے وہ چیز اخلاق کے زمرے میں آئے یا عام عادت کے۔ اسی طرح یہ ہر اس چیز سے روکتا ہے جو انسان کے نفس کو آلودگی کی طرف لیجاتی ہے یا اسے بدنما بنا دیتی ہے یا جس کی وجہ سے اسے شرمندگی، ندامت یا ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اللہ کے بندو! شرف انسانی ہر خود دار اور کریم انسان کا اخلاق ہے، ہر عزت اور شرف والی شخصیت کا عنوان ہے جو کمینگی اور گھٹیا پن سے دور رہتی ہے، جو ذلت اور کمزوری کو ناپسند کرتی ہے اور جو محض کھیل کود کی زندگی میں پڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔

اسی لیے شرفِ انسانیت سے بہرہ مند ہونے والا شخص سمجھ دار ہوتا ہے، ہر طرح کے بھلے اخلاق اپنانے کی کوشش کرتا ہے، چاہے وہ خوبصورتی، پاکیزگی، لباس، شکل وصورت سدھارنے کے اخلاق وآداب ہوں یا آنے جانے کے۔ وہ معاشرے کے تمام طبقوں سے برتاؤ کرتے وقت حیا، عفت، پاکیزگی اور پاک دامنی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے معاملہ کرتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ انہیں گناہ کی حالت میں نہ دیکھ لے، یا ان کے دل میں اللہ کو کوئی دوسرا نظر نہ آ جائے، یا کہیں ان کی جلوت کی عبادتیں تنہائی کی عبادتوں سے بہتر نہ ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے کامل انسانیت کے بہت سے اخلاق چند آیتوں میں اکٹھے فرمائے ہیں۔ فرمایا:

’’اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو‘‘ (اعراف: 199)۔

اسی طرح فرمایا:

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے‘‘ (نحل: 90)۔

اسی طرح سورۂ انعام کی تین آیتوں میں بھی کامل انسانیت کے وہ اخلاق ذکر کیے گئے ہیں کہ جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے، اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو‘‘ (انعام: 1-5-153)۔

اسی طرح سورہ اسرا میں آنے والی آیات کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے کامل انسانیت کے خلاف جانے والی چیزوں سے روکا ہے۔ فرمایا:

’’تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مدد گار بیٹھا رہ جائیگا... یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر‘‘ (اسراء: 22-39)۔

مختصرًا یہی ذکر کیں، وگرنہ ا س حوالے سے قرآن کریم کی آیات تو کئی ایک ہیں۔

شرفِ انسانیت کے تمام اخلاق عظیم ترین شخصیت، ہمارے نبی مکرم ﷺ میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ آپ ﷺ کی ساری زندگی کامل انسانیت اور اعلیٰ اخلاق اور بہترین برتاؤ کا شاندار نمونہ ہے، حتیٰ کہ دشمنانِ اسلام کے ساتھ بھی آپ ﷺ سے بہترین برتاؤ کیا کرتے تھے۔

آپ ﷺ کی یہ حدیث دلکش اور شاندار ہے :

’’اللہ تعالیٰ اخلاقِ عالیہ کو پسند فرماتا ہے اور معمولی قیمت چیزوں میں الجھنے کو ناپسند فرماتا ہے۔‘‘ (طبرانی فی الاوسط: 2943)

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کریم ہے اور وہ کریم صفت لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ وہ بڑا سخی ہے اور وہ اخلاقِ عالیہ کو پسند فرماتا ہے اور وہ لوگوں کے بے فائدہ معاملات میں الجھنے کو ناپسند فرماتا ہے‘‘ (بیہقی: 10840)

اسی طرح فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرماتا ہے جبکہ تین چیزیں ہی ناپسند فرماتا ہے۔ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ تم شرک کیے بغیر یعنی خالص عبادت کرو،متحد ہو کر ، اس کی مضبوط رسی کو تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو اور یہ کہ تم اپنے حکمرانوں کو نصیحت کرتے رہو۔ وہ ناپسند کرتا ہے کہ تم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہو، بکثرت سوال کرتے جاؤ اور اپنے مال ضائع کرنے لگو۔‘‘ (مسلم: 10: 12)

صحابہ کرام بھی اسی اخلاق نبوی پر قائم رہے اور پھر تابعین بھی۔ پھر اس اخلاق عالیہ کی میراث اہل علم، دانشمندوں اور اہل فضل کے ہاتھ آئی کہ جنہوں نے اس اخلاق کے متعلق کتابیں لکھیں اور لوگوں کو اس اخلاق کی تفصیل بتائی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس اخلاق کو نبی ﷺ کی احادیث روایت کرنے والوں اور مقدموں میں گواہی دینے والوں کے حق میں لازمی قرار دیا۔

بلکہ نبی کریم ﷺ نے تو شرف انسانیت کی اقدار اپنانے والوں کے ساتھ نرمی کی تلقین فرمائی ہے، ان کی غلطیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں سے صرف نظر کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:

’’کامل انسانیت اپنانے والوں کو سزا دینے سے گریز کرو ۔‘‘ (طبرانی فی الصغیر: 43)

اسی طرح فرمایا:

’’جب بلند اخلاق والے لوگ کسی معاملے میں پھنس جائیں تو انہیں بچانے کی کوشش کرو، اِلاّ یہ کہ ان پر اللہ کی کوئی حد واجب ہو جائے‘‘ (ابو داؤد: 4375)

شرف انسانیت اپنانے والے حکمرانوں، علما، اہل فضل اور نیک مسلمانوں کی خاص فضیلت اور مقام ومرتبہ ہے۔ کسی غلطی یا لغزش کی وجہ سے ان کے تمام احسانات کا انکار کرنا درست نہیں، کیونکہ شرف انسانیت کا مقام بہت بلند ہے اور یہ تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ پانی زیادہ مقدار میں ہو تو آلودگی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم، موسیٰ کی غلطی کو نظر انداز کر دیا تھا کہ انہوں تورات کی تختیاں پھینک ڈالی تھیں اور اپنے بھائی ہارون کی داڑھی کھینچ ڈالی تھی جبکہ وہ بھی نبی تھے۔

اگر محبوب سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی ہزار خوبیاں اس غلطی کی تلافی کے لیے سامنے آ جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو قرآن مجید کی برکت عطا فرمائے، آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ عظیم وجلیل سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اللہ سے معافی مانگیے۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمد للہ! تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو فرمان برداروں اور پرہیز گاروں کو عزت دینے والا ہے اور ہر تکبر اور خواہش پرستی کرنے والوں کو ذلت سے ہمکنار کرنے والا ہے۔ رحمتیں اور سلامتی ہو، اللہ تعالیٰ کے رسول، خلیل اور چنیدہ نبی پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام پر اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

کامل انسان بہت عظیم اخلاق ہے۔ اگر یہ اخلاق ہمارے مردوں اور عورتوں کے دلوں میں بیٹھ جائے تو اس کے نتائج بہت بھلے ہوتے ہیں اور ان سے زندگی سنور جاتی ہے اور روحیں شاداب ہو جاتی ہیں اور نفس کنجوسی، شہوت اور خود پسندی جیسی برائیوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

جس شخص کے دل میں شرف انسانیت بیٹھ جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بردار، عبادت گزار اور اطاعت شعار بن جاتا ہے، کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ گناہوں کا ارتکاب اور برائیوں کو ہلکا سمجھتے ہوئے ان میں گھس جانا شرف انسانیت کے منافی ہے۔

شرف انسانیت والے لوگ بلند ہمت اور پختہ ارادوں والے وہ ہوتے ہیں، کیونکہ ہمت کی پستی بھلائیوں سے روکتی ہے۔ چنانچہ شرف انسانیت والے خیر کے ہر معاملے میں حصہ دار ہوتے ہیں، احسان کی تمام صورتوں میں وہ مقابلہ کرتے ہیں، تمام لوگوں کے ساتھ بولنے اور برتاؤ کرنے میں ادب اور اخلاق سے پیش آتے ہیں، چاہے وہ سنجیدہ ہوں یا مذاق میں، تنگی میں ہوں یا فراخی میں، سفر میں ہوں یا اقامت میں، من پسند ماحول میں ہوں یا ناپسندیدہ کیفیت میں، بھر حال ان سے خوشگوار کلام اور بھلا کام ہی نظر آتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’ لوگوں سے بھلی بات کرو۔‘‘ (بقرۃ: 83)

ان کے اخلاق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، کیونکہ اپنے ما تحتوں اور آل اولاد کے حقوق ضائع کرنا بھی شرف انسانیت کے خلاف جانتے ہیں ۔ وہ اپنے ما تحتوں کو دوسروں پر بوجھ نہیں بناتے اور نہ انہیں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہونے دیتے ہیں۔

چنانچہ وہ اپنے مال کی حفاظت اور اصلاح کرتے ہیں اور اس حوالے سے وہ نیک نیت ہوتے ہیں۔ وہ پاک دامنی چاہتے ہیں اور لوگوں سے بے نیاز ہونا چاہتے ہیں اور اچھا مال اچھے انسان کے لیے بڑی خیر کا باعث ہوتا ہے۔

شرف انسانیت والوں کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ حلیم اور با وقار ہوتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں تحقیق سے کام لیتے ہیں، سنبھل کے چلتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کر گزرتے ہیں۔ جلد بازی، لا پروائی، حماقت اور مصیبتوں کے وقت بے سمجھی اور عجلت سے دور ہوتے ہیں۔

شرف انسانیت کے خلاف جو چیزیں جاتی ہیں، ان میں برائی، دہشتگردی، انتشار اور لاقانونیت کا علمبردار ہونا ، غیر منظم چرواہوں کی طرح بن جانا کہ جو ہر آواز پر کان لگا بیٹھتے ہیں اور ہر ہوا کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کر لیتے ہیں، جو علم وحکمت کے نور سے خالی ہوتے ہیں، جنہوں نے کسی سمجھ دار حاکم یا عالم سے حکمت سے کام لینا نہیں سیکھا ہوتا، وہ حاکم اور عالم جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم امن یا خوف کے متعلق آنے والی خبریں ان کے سپرد کر دیں۔

شرف انسانیت والوں کی صفات میں یہ بھی ہیں کہ وہ نیک، بااخلاق، عقل مند اور حکمت والے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ خبیث، شریر، گمراہ، فرقہ پرست اور دہشتگردوں سے دور رہتے ہیں۔

اللہ کے بندو!

شرف انسانیت کے اخلاق میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ساتھ سچائی سے، پاکیزہ نفس ہوتے اور منافقت اور دو رنگی سے بچتے ہوئے برتاؤ کیا جائے۔ دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی وہی پسند کیا جائے جو خود اپنے لیے پسند ہو۔ مسلمانوں کے بارے میں حسد، کینہ، بغض اور عداوت سے دور رہا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں توفیق عطا فرماتا ہے اور ملامت، عیب اور برائی کی جگہوں سے محفوظ فرما لیتا ہے۔

شرف انسانیت کے اخلاق کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے محفوظ کر لیتا ہے کہ جو دنیا وآخرت کی رسوائی کا موجب بنتی ہیں۔ چنانچہ اس کی ہمت بلند ہو جاتی ہیں اور ارادہ پختہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ ایمان اور حیا اپنا لیتا ہے اور حقیر اور بے قیمت چیزوں سے دور ہو جاتا ہے۔

علامہ جرجانی ﷫ اپنے اشعار میں فرماتے ہیں:

مجھے لوگ کہتے ہیں کہ تم بڑے گھٹے گھٹے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسا شخص دیکھا ہے جس نے ذلت اپنانے سے انکار کر دیا ہے اور میرے مطابق جو لوگوں سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے وہ اسے کم تر سمجھنے لگتے ہیں اور جس کی عزت نفس ہو وہی بلند ہونے والا ہے۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

شرف انسانیت والے معروف عادتوں اور بھلے رسم ورواج کا خیال کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو مخصوص لباس یا مخصوص شکل وصورت اپنانے سے شہرت نہیں دیتے اور نہ لوگوں کے رسم ورواج کے خلاف جاتے ہیں۔ کیونکہ بھلے رسم ورواج کی اتباع کرنا شرعی طور پر بھلا سمجھا جاتا ہے۔ اس کا اہتمام کرنا چاہیے خاص طور پر اس وقت کہ جب رسم ورواج کے خلاف جانے میں بڑی قباحتیں ہوں یا برائی کا اندیشہ ہو۔ شرف انسانیت والے لوگوں کے دلوں کو جوڑنے والے، ان کے نفس کو بھلا کرنے والے اور ان کے لیے بھائی چارے، محبت اور اخوت کا دامن پھیلانے والے ہوتے ہیں۔ یہی بھلے اخلاق اور شرف انسانیت والوں کا طریقہ ہے۔

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی: حافظ یوسف سراج

بشکریہ پیغام ٹی وی

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں