پاناما کیس اور ووٹ کی حرمت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

نون لیگ کے پاس آخری دلیل یہی رہ گئی ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو صرف عوام کے ووٹ سے ہی نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔
آئیے، اس دلیل کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے تو یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ پاکستان کا دستوری نظام اپنی اساس میں برطانوی دستور کے اصولوں کے بجائے امریکی دستور کے اصولوں پرقائم ہے، اور اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ برطانیہ وحدانی ریاست (unitary state) ہے، جبکہ پاکستان امریکا کی طرح وفاقی ریاست (federal state) ہے۔ اس لیے دستور کی تعبیر و تشریح کے اصول یہاں وہی ہیں جو وفاقی دستور کے لیے ہیں، نہ کہ وحدانی دستور کے لیے۔

2۔ یہ اصولی بات سمجھ میں آگئی ہے تو اب اس کے منطقی نتائج پر غور کریں۔

برطانوی دستور کا اصل الاصول "پارلیمان کی بالادستی" ہے۔ چنانچہ وہاں پارلیمان کے وضع کردہ قانون کو کوئی عدالت ختم نہیں کرسکتی۔ یہاں تک کہ جب برطانیہ نے یورپی میثاق برائے حقوقِ انسانی (European Convention on Human Rights) کی توثیق کی اور اس کے بعد پارلیمان سے قانونِ حقوقِ انسانی (Human Rights Act) منظور کروایا تو اس قانون میں قرار دیا گیا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ برطانوی قانون کی کوئی شق اس حقوقِ انسانی کے میثاق سے متصادم ہے تو وہ اس کے متعلق ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرے گی اور اس کے بعد اس قانون میں تبدیلی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ پارلیمان کرے گی۔

امریکہ میں اس کے برعکس اصل الاصول "دستور کی بالادستی" کا ہے اور چونکہ دستور کی تعبیر و تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، اس لیے یہ متعین کرنا کہ دستور کی کسی شق کا مفہوم کیا ہے، یا دستور نے کسی کام اختیار مقننہ کو (جسے وہاں "کانگریس" کہا جاتا ہے ) دیا ہے یا نہیں، سپریم کورٹ ہی کا کام ہے۔ اس اصول پر امریکی سپریم کورٹ نے دو سو سال قبل اپنے لیے یہ اختیار منوایا ہے کہ وہ مقننہ اور انتظامیہ دونوں کے فیصلوں کی دستوری اور قانونی حیثیت کا تعین کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اسے "عدالتی نظرِثانی" (judicial review) کہتے ہیں۔ اس اختیار کی رو سے سپریم کورٹ نہ صرف امریکی صدر کے فیصلوں کو غیردستوری قرار دے کر کالعدم کرسکتی ہے (یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل ایک وفاقی جج نے، جو سپریم کورٹ سے نچلے درجے کا اور ریاستی سطح کا جج ہوتا ہے، امیگریشن کے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے کو کالعدم کردیا تھا) بلکہ کانگریس کے منظور کردہ قوانین کو بھی دستور سے تصادم کی حد تک کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

3 ۔ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ریاستوں نے، جہاں وفاقی نظام رائج ہے، امریکی دستور کے اس اصول، عدالتی نظرِثانی، کو قبول کیا ہوا ہے اور یہاں کی عدالتوں کے پاس یہ اختیار ہمیشہ سے تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ پارلیمان، یا صوبائی اسمبلیوں، کے منظور کردہ قوانین، یا حکومت کے جاری کردہ احکام کو دستور سے تصادم کی بنا پر کالعدم قرار دیں۔ پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ کے پاس یہ اختیار بھی ہے، جو دیگر وفاقی ریاستوں کی عدلیہ کے پاس نہیں ہے، کہ وہ قوانین یا حکومتی احکام کو شریعت سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن ایکٹ2017ء اور مسئلہ ختم نبوت - مفتی منیب الرحمٰن

4۔ امریکہ میں کانگریس کے منظور کردہ قوانین کو تو سپریم کورٹ ختم کرسکتی ہے لیکن کانگریس اگر دستور میں ترمیم کردے تو سپریم کورٹ اس ترمیم کو ختم نہیں کرسکتی۔ البتہ اس ترمیم کا مفہوم کیا ہے؟ اس ترمیم کے بعد دستور کی دیگر دفعات پر کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں؟ اور اگر پڑا ہے تو کس حد تک؟ تو ان سوالات کا جواب متعین کرنے کا اختیار سپریم کورٹ ہی کے پاس ہے اور کانگریس یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہماری اس ترمیم کا مطلب یہ یا وہ تھا۔ پاکستان اور بھارت کی عدلیہ نے "عدالتی نظرِثانی" کے اختیار کو مزید وسعت دے کر یہ بھی قرار دیا ہے کہ پارلیمان نے اگر دستور میں ایسی ترمیم کی جس سے دستور کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل ہوکر رہ جائے تو ایسی ترمیم کا اختیار پارلیمان کے پاس نہیں ہے۔ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ دستور موجودہ پارلیمان کی تخلیق نہیں ہے بلکہ موجودہ پارلیمان ہی دراصل دستور کی تخلیق ہے۔ یوں ہم "دستور ساز پارلیمان" اور "قانون ساز پارلیمان" میں فرق کرتے ہیں۔ دستور ساز پارلیمان نے دستور بنا دیا۔ پھر دستور کی دفعات کی روشنی میں اور ان کے تحت ہی قانون ساز پارلیمان بنی۔ اب یہ قانون ساز پارلیمان روزمرہ کے امور کے بارے میں تسہیل اور تیسیر کی حد تک تو دستور میں ترمیم کرسکتی ہے، لیکن ایسی ترمیم نہیں کرسکتی جس دستور کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل ہوجائے، کیونکہ یہ فعل نئی دستور سازی کے مترادف ہوگا جس کا اختیار قانون ساز پارلیمان کے پاس نہیں ہے۔

5۔ کیا عدلیہ کے پاس موجود "عدالتی نظرِثانی" کا یہ اختیار "عوام کے ووٹ کی حرمت" کے خلاف ہے؟ اب ہم اس سوال کا جواب بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور پھر اس کی روشنی میں پانامہ کیس میں نوازشریف کے حمایتیوںکی آخری دلیل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ پہلے دستور ساز پارلیمان اور قانون ساز پارلیمان کے فرق پر غور کریں۔ اس فرق کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ عوام کے ووٹ کی حرمت کا تحفظ کیا جائے۔ عوام نے حکومت کو مینڈیٹ دستور بنانے کے لیے نہیں دیا بلکہ دستور کے اندر رہ کر قانون سازی اور حکومت کا کاروبار چلانے کے لیے دیا ہے۔ اگر کوئی پارلیمان دستور کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنا چاہتی ہے، مثال کے طور پر وہ ریاست کی وفاقیت ختم کرکے اسے وحدانی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، یا اس کی اسلامیت ختم کرکے اسے سیکولر ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ حکومت چھوڑ کر انتخابات میں اسی بنیاد پر حصہ لے اور عوام سے واضح مینڈیٹ لے کر آئے کہ وہ دستور تبدیل کرکے نیا دستور دے گی۔ اس صورت میں بے شک اس کے پاس یہ اختیار آجائے گا کہ وہ محض قانون سازی کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ دستور سازی کا کام بھی کرے۔ اسی اصول پر امریکہ سمیت دنیا کی تمام وفاقی ریاستوں میں تسلیم کیا گیا ہے کہ "عدالتی نظرِثانی" کا اختیار عوام کے ووٹ کی نفی نہیں کرتا بلکہ عوام کے ووٹ کے تقدس کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کے ووٹ سے ہی، اور ان کی مرضی سے، دستور بنایا گیا اور اس دستور نے یہ اختیار عدلیہ کو دیا ہے کہ وہ متعین کرے کہ پارلیمان اور انتظامیہ نے دستور کی حدود سے تجاوز کیا ہے یا نہیں، اور اگر کیا ہے تو اس تجاوز کی حد تک ان کے فعل کا قانونی جواز ختم کردے۔ اگر کوئی حکومت اس اختیار کی نفی کرتی ہے، یا اسے عوام کے ووٹ کی حرمت کے خلاف سمجھتی ہے، تو اس کے پاس یہی راستہ ہے کہ وہ حکومت چھوڑ کر عوام کے پاس جائے اور انتخابات میں اس مسئلے میں واضح مینڈیٹ لے کر آجائے کہ عدالت پارلیمان کے منظور کردہ قانون یا حکومت کے جاری کردہ حکم کو ختم نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   کب سے بنجر تھی نظر، خواب تو آیا - عبدالباسط ذوالفقار

6۔ بعینہ اسی اصول پر پانامہ کیس میں عوام کے ووٹ کی حرمت کی دہائی دینے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام کے ووٹ سے جو دستور اور قانونی نظام وجود میں آیا ہے، ان میں عدلیہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ حکمران صادق اور امین نہیں رہا، یا دستور کی دفعات 62-63 کی رو سے وہ مزید حکمران اور ممبر پارلیمان نہیں رہ سکتا، تو وہ اسے نااہل قرار دے کر گھر بھجوا سکتی ہے۔ اگر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ حکمران کی کرپشن کی صورت میں، یا دستور کی دفعات 62-63 کی خلاف ورزی کی صورت میں، عدلیہ اسے نااہل نہ قرار دے، تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے: حکومت چھوڑ کر عوام کے پاس جائیں اور دستور کی دفعات 62 –63 کے خاتمے، دفعہ 184 میں ترمیم اور کثیر تعداد میں موجود عدالتی نظائر کی منسوخی کے لیے عوام سےواضح مینڈیٹ لے کر آئیں۔ عوام نے اپنے ووٹ سے پہلے ہی جو نظام تشکیل دیا ہے، اس میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ آپ عدالت کے فیصلے کی رو سے صادق اور امین بھی نہ رہیں اور پھر عدالت آپ کو نااہل بھی نہ قرار دے سکے۔

تو میاں صاحب! خود ہی سوچیے کہ گھر جانا کب بہتر ہے؟ عدالت کے فیصلے سے پہلے یا اس کے بعد؟ ہمارے ایک بہت ہی محترم مفتی صاحب اور مقاصدی فکر کے علم بردار ایک صاحبِ علم اس موقع پر "اخف الضررین" اور "اھون البلیتین" کے انتخاب میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں