دلیل کا پہلا سال - ریاض علی خٹک

انسان کا دوسرے انسان سے تعلق احساسات سے عبارت ہے. یہ چہرے کے تاثرات سے شروع ہوئی تاریخ جلد ہی مشترکہ زبان پر چلی گئی. انسانیت نے ترقی کی اور اس زبان نے نقش ہوکر الفاظ بنا دیے. اور یوں تاثرات سے شروع یہ تعلق لفظوں کی ترتیب پا کر نسل در نسل منتقل ہونا شروع ہوگیا. ہماری تاریخ رقم ہونے لگی. اشرف المخلوقات نے اپنا ورثہ اگلی نسلوں کو منتقل کرنا شروع کردیا.

انسان کا دوسرے انسان سے تعلق سمجھ کا ہے. سمجھ یکساں ہوئی تو ایک ہوگئے. سمجھ میں فرق آیا تو اختلاف بنا. اس اختلاف میں اپنی بات منوانا انسانی سرشت ہے. اس کے لیے کبھی اختلاف نے تعلق توڑ ڈالے، کبھی جنگ کے میدان آباد کیے. کبھی شیطانیت جیتی تو ثابت کرنے کی چاہ نے نسل کشیاں کرائیں. تو کبھی محالف کی آبادیوں کو تاراج کرایا. لیکن جنگ سے کبھی اپنا آپ منوایا نہ جاسکا. اختلاف جتنا بھی طویل ہوا آخر مکالمہ ہوا. اس مکالمہ نے مسائل کا حل نکالا. اس نے انسانیت کو آباد رکھا.

کسی بھی مکالمہ میں مخالف کو جب لفظوں سے قائل کیا جاتا ہے تو ایک ہی چیز اس کی چابی بنتی ہے. یہ دلیل ہے. قدیم فن تعمیر کی معراج محراب تھی. جب نہ سریا ہوتا نہ سیمنٹ نہ کنکریٹ ایجاد ہوا تھا. تب بھی انسان نے اس محراب سے پل بنا کر دریا کے دو کناروں کو ایک کیا. فن تعمیر والے جانتے ہیں کہ یہ محراب توازن کا شاہکار ہوتی تھی. لیکن اس توازن کا جوڑ جب دونوں جانب سے باہم ملتا تو ایک چھوٹا پھتر درمیان میں اس طرح لگایا جاتا کہ جو دونوں جانب کی بتدریج جھکتی تعمیر کو جوڑ دے دیتا. اس پتھر کو چابی کہا جاتا تھا. دلیل بھی مکالمہ کے اس توازن کی چابی ہے.

ہماری دلیل اسلامسٹ ذہن رکھنے والوں کی یہی چابی ہے، جس نے بکھری ہوئی سوچوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا. اس اجتماعیت نے اسے قوت دی. اس قوت نے تحریک دی. اور اس تحریک نے ایک باہمی آواز بنائی. یہ آواز جو پکار پکار کر کہتی ہے، آؤ دلیل سے بات کریں. ہم سب ایک ہیں. سوچوں کے اختلافات سے رشتوں کی ڈور نہ کاٹو. آؤ باہم پل بنائیں. اس پل کی محرابوں میں دلیل کی چابی سے جوڑ بنا کر مسائل کو الفاظ میں حل کرلیں..

یہ بھی پڑھیں:   آج ہماری شادی کی 31 ویں سالگرہ ھے- لالہ شمس

برادرم عامر ہاشم خاکوانی، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش، ڈاکٹر رابعہ خرم درانی اور دلیل ٹیم کے باقی دوستوں کی ان تھک محنت و توجہ نے اسے ایک پہچان دی ہے. یہ پہچان اللہ کے فضل و کرم سے مقبول ہوئی. دلیل کی ابتدا بھی توازن پر تھی. رب العالمین سے دعا ہے کہ اس کا مستقبل بھی مدلل اور متوازن رہے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.