میں کیا کروں؟ - محمد عرفان ندیم

اس کی پریشانی بجا تھی اور وہی اسے میرے پاس لائی تھی۔ یہ نوجوان ماسٹر آف فلاسفی تھا اور آنے والے خزاں سمسٹر میں اس نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لینا تھا لیکن اس سے پہلے ہی مایوس ہو گیا تھا اور اس کی مایوسی بے جا نہیں تھی۔ میں اپنے سامنے بیٹھے اس نوجوان کے چہرے اور سراپے سے عیاں دکھ اور درد محسوس کر سکتا تھا۔

وہ چہرے مہرے سے کافی سنجیدہ اور باشعور دکھائی دیتا تھا اور اس کی آنکھوں میں علم کی چمک تھی۔ میں نے اس سے تفصیل چاہی تو اس نے موبائل میز پر رکھا اور متوجہ ہو کر بولا’’ سر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں پی ایچ ڈی نہیں کروں گا اور اب واپس اپنے گاؤں چلا جاؤں گا ‘‘ مجھے اس نوجوان سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ وجہ پوچھی تو وہ بولا ’’ سر میں اور میرا کزن بچپن میں اکٹھے پڑھتے تھے، میں کلاس میں ہمیشہ اول آتا تھا لیکن میرا یہ کزن بمشکل پاس ہوتا تھا۔ میٹرک تک ہم نے اکٹھے پڑھا لیکن میٹرک کے بعد وہ ہیومینیٹیز اور میں سائنس کی طرف چلا گیا۔ اس نے سادہ ایف اے کیااور میں ایف ایس سی میں اے پلس گریڈ کے ساتھ کامیاب ہوا۔ ایف کے بعد اس نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور اپنے چچا کے ساتھ انڈسٹریل ایریا میں انٹرن شپ شروع کر دی اور میں گریجویشن کی تعلیم کے لیے اسلام آباد آ گیا۔ میں ہر کلاس میں اے گریڈ حاصل کرتا رہااور ابھی ایم فل میں بھی میں نے 3.8 جی پی اے حاصل کیا لیکن مجھے اس کا صلہ کیا ملا؟ میں چودھویں اسکیل کی ایک ملازمت کرتا ہوں اور میری تنخواہ صرف تیس ہزار ہے جبکہ میرا وہ کزن صرف ایف اے پاس ہے اور مختلف فیکٹریوں میں جا کر ان کی مشینری ٹھیک کرتا ہے اور اس کی مہینے کی بچت لاکھوں روپے ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ مجھ سے اچھا تو میرا کزن ہے جو کند ذہن بھی تھا، نالائق اور کام چور بھی لیکن آج وہ زندگی کی دوڑ میں مجھے سے کہیں آگے ہے اور میں اپنی زندگی کا بہترین حصہ پڑھائی پر خرچ کرنے کے باجودہ تقریبا بے روز گار ہوں، اس لیے میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے پڑھائی پراب مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھیں:   آخر معاشرہ اتنا بے لگام کیوں؟ راحیلہ چوہدری

وہ بات کر کے خاموش ہوا تو میں نے عرض کیا ’’آپ علم کو دولت کے ترازو میں کیوں ناپتے ہیں؟ ساری دنیا کی دولت بھی اکٹھی کرلی جائے تووہ علم کی عین کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ انسان کی عزت اور قدر کا اندازہ دولت سے نہیں بلکہ سوشل اسٹیٹس یعنی سماجی مرتبے سے ہوتا ہے کہ معاشرہ اس فرد کو کیا مقام دیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ دولت ہمارے سیاستدانوں کے پاس ہے لیکن ان بیچاروں کا سوشل اسٹیٹس کیا ہے؟ یہ آپ بھی جانتے ہیں۔ دولت تو گامے اور شیدے کے پاس بھی ہوتی ہے۔ بتائیں سوسائٹی اور رشتہ داروں میں جو عزت و احترام آپ کو ملتا ہے، کیا وہ وہ آپ کے کزن کو نصب ہوتا ہے ہے ؟ بتائیے جو علم کا نور اور روشنی آپ پھیلا رہے ہیں اور آپ کے اسٹوڈنٹس میں سے کل کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر اور وکیل یا صحافی بنے گا تو آپ کے لیے تو یہی اعزاز بہت ہے۔ آپ ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس نے مستقبل میں اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ اس پر تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہئے۔ ‘‘

کچھ سانس لینے کے بعد دوبارہ عرض کیا ’’ انسانی تاریخ میں آج جتنے بھی کردار اور نام زندہ ہیں وہ سب صاحب علم تھے۔ آپ مجھے تاریخ میں کسی دولت والے کردار یا نام کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ ‘‘جواب نفی میں تھا، میں نے عرض کیا ’’ کامیابی اور دولت دو ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انسان جلد بازی کر جاتا ہے جبکہ یہ دونوں چیزیں انسان کو اپنے وقت پر ملتی ہیں۔ کسی کے حق میں دولت اور کامیابی جلدی لکھ دی جاتی ہیں اور کسی کے لیے تاخیر کے ساتھ۔ اگر آپ کے کزن کو یہ دونوں چیزیں پہلے مل گئیں تو پریشان نہیں ہونا چاہے۔ اللہ نے جو دیا ہے اس پر فخر بصورت شکر ادا کریں اور دولت اور کامیابی کے لیے اپنے وقت کا انتظار کریں۔ علم کا موازنہ دولت کے ساتھ نہیں بلکہ عمل کے ساتھ کریں۔ علم علم ہے اور اس نے سقراط، ارسطو، ہیروڈوٹس، عبد اللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابو حنیفہ، امام غزالی، ابن خلدون، شاہ ولی اللہ، انور شاہ کشمیری، آئن اسٹائن، میڈم کیوری اور نیوٹن کے ناموں کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے جبکہ دولت فرعون، قارون اور شداد کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھی ‘‘ نوجوان کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی شاید اس نے اپنا فیصلہ بدل لیا تھا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.