طبقوں کی چند ٹیگ شدہ نیکیاں – مدیحی عدن

آج کل معاشرے میں کچھ مخصوص سوچ اور رحجان زیادہ شدومد کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔ ہر طبقے میں کچھ خاص نظریات کلچر بنتے جا رہے ہیں جن میں ایک نیکی بھی ہے۔ ہر طبقہ کچھ خاص نیکیوں کو اپنے ساتھ ٹیگ کرنے میں مصروف عمل ہے۔ نیکی جس پہ بڑی بحث چل نکلتی ہے، اور جس کے معیار کا تعین اب انسانوں نے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ ہر کسی نے نیکی کی اپنی ہی ایک درجہ بندی کر رکھی ہے، اور ہر طبقے کے لوگوں میں نیکی کی اپنی ہی ایک تعریف اور سوچ پائی جانے لگی ہے۔

آپ نے اس معاشر ے میں بہت سے پانچ وقت کے نمازی، روزہ دار اور دیگر فرائض پابندی سے ادا کرتے لوگ دیکھے ہوں گے، لیکن عام دنیاوی معاملات میں انتہا درجے کے جھوٹے، زبان کے انتہائی کڑوے اور بد اخلاق۔ اس طبقے کی نظر میں نیکی صرف نماز، روزہ، حج، ڈاڑھی اور حجاب میں ہی ہے. اگر یہ ظاہری سدباب اختیار کر لیے جائے تو اسلام میں اس سے افصل کام اور کوئی نہیں۔ ان کی نظر میں اصل نیکی ہے ہی فرائض کی ادائیگی میں اور یہ طبقہ خود کو اسلام کا ایسا سفیر مانتا ہے کہ جس کے ذمہ دین کا سارا معاملہ ہے۔

معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے اسلام کی عبادات نماز روزہ سے تو کوئی زیادہ سروکار نہیں ہے، ان کی نظر میں نماز روزہ بندے اور اللہ کا ذاتی معاملہ ہے، اور دین میں کوئی خاص جبر بھی نہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق اسلام دل کا معاملہ ہے، لہذا دل میں ایمان تو ہے، پھر ظاہری تکلفات میں پڑنے کی کیا ضرورت؟ نماز نہ بھی پڑھی، روزے چھوڑ بھی دیے تو کیا۔ اللہ رحمان و رحیم ہے جو معاف کر دے گا۔ معاشرے سے جھوٹ، کرپشن، ظلم و زیادتیاں ختم کرنا، باہمی رواداری کا فروغ، غریبوں سے ہمدردی، دولت کی درست تقسیم، فلاحی کاموں میں حصہ اور انسانیت سے پیار ان کی زندگی میں نیکی کمانے کے بہترین ذریعے ہیں۔

معاشرے میں ایسے طبقات جو اخلاقی اعتبار سے تو کافی پسماندہ تصور کیے جاتے ہیں، لیکن نیکی کا کوئی نہ کوئی تصور ان کے ہاں بھی موجود ہوتا ہے۔ ملک میں کئی ایسے دیہات ہیں جن میں چور ڈاکوؤں کےگروہ ہیں، جن کا کام ہوتا ہے شہر جا کر لوٹ مار کرنا، ڈھیر سارا مال حاصل کرنا اور گاؤں آ کر اسی چوری شدہ مال سے یتیم بچیوں کی شادی کروانا، غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانا اور دیگر خیر کے کاموں میں حصہ لینا۔ ایسے ہی جسم فروش عورتیں سال میں ایک مرتبہ اپنا سارا کاروباری دھندا چھوڑ کے کسی دربار پہ دھمال ڈالتی یا چادر چڑھاتی نظر آئیں گی۔

ہر طبقات میں نیکی کرنے کا کوئی نہ کوئی تصور موجود ضرور ہے جس کے ذریعے انسان اپنے ضمیر کو مطمئن کرتا ہے، خواہ وہ زندگی کے دوسرے معاملات کے لحاظ سے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو۔ اپنی برائی کو justify اور rationalize کرنے کے لیے انسان کچھ نیکیوں کے کام بھی کرتے رہتے ہیں، جس سے وہ اپنی ضمیر کی خلش کو مٹاتے اور مطمئن کرتے نظر آتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے کیوں نہ ہو۔ اوپر بیان کردہ مثالوں میں بحث یہ نہیں کہ آیا یہ تمام عمل نیکی ہے کہ نہیں، یقینا سب عمل نیکیاں ہی ہیں لیکن ادھوری اور نا مکمل نیکیاں۔ نیکیاں کرتے تو سب ہیں لیکن بانٹ بانٹ کے۔ عمل تو سارے ہی نیکیوں کے ہیں لیکن کمی ہیں تو بس کمزور بنیادوں کی جس نے عمارت کو ہی کھوکھلا کر رکھا ہے۔ اپنے قائم کردہ سوچوں کو بنیاد بنا کے جو نیکی کے معیار قائم کیے گئے ہیں، وہ ہر طبقے کی خود ساختہ اور اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہیں۔ ہر کسی نے نیکی کی وہ تعریف کر لی جو اس کے لیے کرنا اور لینا آسان ہے، جو خالی اپنے ضمیر کو تھپکیاں دینے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ یہاں ضرورت ہے اس بات کو سمجھنے کی کہ آیا جس کے لیے نیکی کی جاتی ہے، اس کے معیارات کے مطابق بھی ہے کہ نہیں؟

نیکی کا تعلق عمل اور ایمان دونوں سے ہے۔ قرآن میں آیات اِلبّر کی روشنی میں نیکی کا تعارف کچھ یوں ہے۔
”نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو، بلکہ اصل نیکی اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر، اور یوم آخرت پر، اور فرشتوں پر، اور کتابوں پر، اور انبیاء پر۔ اور دیا اس سے مال( اسکی محبت کے باوجود) رشتے داروں کو، یتیموں کو، محتاجوں کو، مسافروں کو، مانگنے والوں کو۔ اور قائم کی اس نے نماز اور ادا کی زکوۃ۔“

یہاں پہ سب سے پہلےبات ”ایمان“ کی آئی اور ایمان و یقین کو بنیاد بنایا گیا۔ انسانی دل سے معاملہ شروع ہوا، سارا اور دل جو کے بہت بڑا محور ہے، انسانی سوچ اور عمل کا اسی میں ایمان پیدا اور مضبوط کرنے کی بات آئی۔ ایمانیات کے ذکر کے بعد معاشریات پہ بات آئی جس کا تعلق انسانی ہمددری اور خدمت خلق میں اپنے مال کو خرچ کرنے سے ہے۔ اس کے بعد اگے بات نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کی آئی۔

نیکی کا معیار اللہ نے مقرر کیا ہے انسانوں کے لیے، اس میں انسانوں کو الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جب ترجحات اپنی حد بندیاں نہیں بلکہ اللہ کے مقرر کردہ معیارات ہوں گے تو سب کی نیکی ایک جیسی ہو جائے گی۔ وہ ہمارے معاشرے میں مختلف طبقات اپنے اپنے تصورات کے ضمن میں جو نیکیاں کر رہے ہیں، وہ ان کی خود کی قائم کردہ سوچوں کی خوبصورت عمارتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں، جن کی بنیادیں کھوکھلی اور کمزور ہیں۔ ان کھوکھلی بنیادوں والی عمارتوں کو زمین بوس ہوتے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اور اللہ کے مقرر کردہ حقیقی نیکی میں بنیاد ہی سب سے زیادہ مضبوط ہے اور وہ بنیاد ایمان کی ہے۔ پہلے یہ معیار تو بنائیں کہ نیکی کس کے لیے کی جا رہی ہے۔ اور جب معیار سب کا اللہ کے لیے ہوگا تو سب کی نیکی کی سوچ میں اجتماعیت آئے گی۔ پھر لڑائی اور تقسیم اس بات پہ نہیں ہوگی کہ جو میں کر رہا ہوں، وہ ہی تو اصل کرنے کا افضل کام ہے، بلکہ ایک دوسرے کو سہرانے کا جذبہ پیدا ہوگا اور یہ تربیت عام ہوگی کہ جو میں نہیں کر رہا، اپنے سے منسلک مسلمان بھائی کو نیکی کا وہ کام کرتے دیکھ کے اس خلا کو بھی تو پر کرنا ہے۔ معیارات کا بیک وقت سب طبقوں میں ایک ہونا ضروری ہے، تبھی نیکی اپنی تکمیل کو پہنچےگی۔

Comments

FB Login Required

مدیحی عدن

مدیحی عدن ایک سوچ کا نام ہے جو ایک خاص زاویے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشرتی صورت حال کے پیش نظر انھیں مایوسیاں پھلانے سے سخت الرجی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قلم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سوچ اور امید کے ساتھ سمت کا بھی تعین کر دیتی ہے

Protected by WP Anti Spam