سانحۂ مردان اور تحفظِ ناموسِ رسالتؐ؛ چند گزارشات - حافظ طاہر اسلام عسکری

عبدالولی خان یونیورسٹی، مردان میں توہینِ رسالتؐ کے الزام پرایک طالب علم مشعل خان کی ہلاکت سے ناموسِ رسالت کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کا مسئلہ پھر سے بحث و نظر کا موضوع بن چکا ہے۔ اس ضمن میں چند گزارشات اربابِ فکر و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں، امید ہے ان پر توجہ کی جائے گی۔

مجھے اس سانحے کی وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس نے دہلا کر رکھ دیا ہے۔ بپھرا ہوا ہجوم بھاری پتھر سے مقتول کے سر کو کچل رہا ہے؛ اس پر اینٹیں اور ڈنڈے برسا رہا ہے؛ لاتیں اور ٹھڈے مار رہا ہے اور وحشت و بربریت کا یہ کھیل نعرہ ہاے تکبیر کی گونج میں سرانجام دیا جا رہا ہے.

پہلا سوال تو یہ ہے کہ تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا یہ کون اسلوب ہے؟ اور کیا یہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے؟! کیا صحابہؓ و تابعین نے کسی گستاخ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو برہنہ کر کےگھسیٹا اور اسے جلانے کی کوشش کی؟ رسول رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نے تو لاشوں کا مثلہ کرنے (انھیں چیرنے پھاڑنے) سے سختی سے منع فرمایا ہے اور آج انھی کی ناموس کا نعرہ لگا کر یہ ظالمانہ اقدام کیا جا رہا ہے.

یہ درست ہے کہ ایک صحابیؓ نے اپنی ام ولد کوگستاخیِ رسولؐ کے جرم میں از خود قتل کر دیا تھا لیکن اس باب میں قابل غور بات یہ ہے کہ صحابہ کرام سبھی عادل تھے؛ پھر اس کی توثیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی۔ آج عدالت و ثقاہت اور زہد و ورع کا وہ معیار نہیں رہا، اس لیے لوگوں کو اس کی کھلی چھوٹ نہیں دینا چاہیے کہ وہ از خود گستاخوں کو قتل کرتے پھریں۔ فقہا کے یہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انھوں نے عدالت اور تقویٰ میں کمزوری کو بنیاد بنا کر مدعی کا قول یا دعویٰ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
پھر اس واقعے میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ اس عورت نے متعدد مرتبہ بےادبی کا ارتکاب کیا تھا اور سمجھانے کے باوجود باز نہیں آئی تھی جس پر اسے قتل کر دیا گیا۔ کیا حالیہ واقعے میں بھی ایسا کیا گیا کہ پہلے اسے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہو اور پھر اسے موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کیا گیا ہو؟

اس سانحے میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ اس شخص کا واقعہ ایک انکوائری کمیٹی کے سپرد کیا جا چکا تھا جو سارے معاملے کا جائزہ لے رہی تھی؛ اس کے فیصلے یا رپورٹ کا انتظار کیوں نہ کیا گیا اور خود ہی ایکشن لینے کی نوبت کیوں پیش آ گئی؟

کسی بھی اقدام سے پہلے اس کے نتائج و عواقب کو ملحوظ رکھنا بھی از حد ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور سے جبکہ کوئی چیز واجب یا فرض درجے کی نہ ہو اور اس سے منفی نتائج متوقع ہوں تو اس سےگریز ہی حکمت کا تقاضا ہوا کرتا ہے۔ توہین رسالت کے مجرم کو ماوراے قتل کرنا فرض یا واجب نہیں ہے بلکہ اسے محض گوارا کر لیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر اس سے کسی بڑے شر یا نقصان کا اندیشہ ہو تو اس سے گریز ہی لازم ہوتا ہے۔ اب حالیہ سانحے کو لیجیے تو دیکھیے کہ اس سے مذہب کا مقدمہ مضبوط ہوا یا کم زور؟ ہمارے خیال میں اس سے نہ صرف یہ کہ اہل مذہب کی اخلاقی پوزیشن کو دھچکا پہنچا ہے بلکہ خود اصل مسئلے ہی سے توجہ ہٹ گئی ہے اور حقیقی کیس کم زور ہو گیا ہے۔ مذہب مخالف لابی کو واویلا مچانے کا موقع ہاتھ آ گیا ہے اور وہ توہین رسالت کے قانون ہی کو ختم کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں.

سیرت طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرمؐ اس رخ کو خاص طور سے مدنظر رکھتے تھے اور کئی اقدامات کو اس لیے مؤخر فرما دیتے تھے کہ لوگ اس کی اصل معنویت کو سمجھنے کے بجاے مزید شبہات کا شکار ہو جائیں گے۔ مثلاً روایتوں میں آتا ہے کہ آں حضورؐ خانہ کعبہ کو سیدنا ابراہیمؑ کی اصل بِنا کے مطابق از سرِ نو تعمیر کرنا چاہتے تھے لیکن محض اس وجہ سے ایسا نہیں کیا کہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، وہ مغالطوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اسی طرح بعض منافقین کی ریشہ دوانیوں اور صحابہ کرامؓ کے مطالبوں کے باوجود انھیں قتل نہیں کیا کہ لوگ یہ پراپیگنڈا کریں گے کہ آپؐ اپنے ہی ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

اب بتلائیے کیا حالیہ سانحے نے لبرل اور سیکولر لوگوں کو یہ موقع فراہم نہیں کیا کہ وہ خود مذہب ہی کے خلاف زہر اگلتے پھریں اور اہل مذہب کو مجموعی اعتبار سے تشدد پسند اور ظالم باور کراتے پھریں؟ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگرد رشید علامہ حافظ ابن قیم نے لکھا ہے کہ نہی عن المنکر سے اگر اس سے بھی بڑا منکر پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اس حکیمانہ نکتے کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور حکمت و بصیرت سے اس قضیے کے متعلق نقشہ عمل مرتب کرنا چاہیے۔ اس سے کہیں بہتر تھا کہ اس کی گستاخیوں کے ثبوت پیش کیے جاتے اور اسے شرعی قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے بھرپور مہم چلائی جاتی جس سے اس کاز کی اخلاقی حمایت میں اضافہ ہوتا، قانونی اداروں پر دباؤ بڑھتا اور کسی کو شرعی ضابطوں کے خلاف زبان طعن دراز کرنے کا موقع نہ ملتا۔

ان حالات میں اس بہیمانہ قتل کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے اربابِ اقتدار اور مجاز اتھارٹیز کو اس پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ اس نوع کے توہین آمیز واقعات پر فوری ایکشن لیں اور قانونی ضابطوں کا صحیح صحیح اطلاق کریں تاکہ ایسے المناک سانحات رونما نہ ہوں۔ اہل منبر و محراب کی ذمہ داریاں ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہیں، کاش وہ اس کا ادراک کریں.

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.